محدث لائبریری [Mohaddis Library]

قول وفعل میں سچائی سے تمسک اور دھوکے بازی سے اجتناب

خطیب:الدکتور حسین آل الشیخ

مترجم:آصف ہارون

پہلا خطبہ

تمام قسم کی تعریف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لئے ہیں جس نے لوگوں کو ایسے امور سے مأمور کیا جو ان کی زندگی کی اصلاح و صلاح کے لئے ضامن ہیں اور ایسے امور سے منع کیا جو ان کی زندگی کو اجاڑ دے۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ معبود برحق یکتا ہے لا شریک ہے اور میں اس بات کی گواہی بھی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور سچے رسول ہیں اے اللہ! نبی اکرم ﷺ پر، اُن کی آل پر اور اُن کے اصحاب پر درود و سلام اور برکتوں کی بارش نازل فرما۔ آمین۔

حمد و ثناء کے بعد!

اے مسلمانو! اللہ سے ڈر جاؤ، وہ تمہارے حالات درست کر دے گا اور تمہیں دنیا و آخرت کی سعادتوں سے نواز دے گا۔ چنانچہ ارشاد ہے:

یأیھا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ وقولوا قولا سدیدًا۔ یصلح لکم أعمالکم ویغفرلکم ذنوبکم ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزاً عظیماً (الأحزاب، ۸۰-۸۱)

''اے ایمان والو! اللہ سے ڈر جاؤ اور ہمیشہ صاف ستھری بات کیا کرو۔ اللہ تمہارے اعمال کی اصلاح فرما دے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا وہ عظیم الشان کامیابی کو حاصل کر لے گا۔''

اے مسلمانوں کی جماعت! اسلام میں جن اصول و قوانین کا رعایت و لحاظ رکھا گیا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ زندگی کے تمام مراحل اور سارے معاملات میں قول و فعل کی سچائی سے تمسک اختیار کیا جائے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

یا أیھا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ وکونوا مع الصادقین (التوبۃ: ۱۱۹)

''اے ایمان والو! اللہ سے ڈر جاؤ اور سچے لوگوں کی معیت اختیار کر لو۔ ''

اے مسلمان بھائیو! دینِ اسلام نے زندگی کے تمام چھوٹے بڑے معاملات اور ساری چھوٹی بڑی صورتوں میں سچائی اپنانے کی تلقین کی ہے جیسا کہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کا فرمانِ گرامی ہے۔

البیّعان بالخیار ما لم یتفرقا فان صدقا وبیّنا بورک لھما فی بیعھما واِن کذبا وکتما محقت برکۃ بیعھما (بخاری و مسلم)

''خرید و فروخت کرنے والے دونوں فریقوں کو (خرید و فروخت فسخ کرنے کا) اختیار حاصل ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔ پس اگر وہ سچ بولیں گے اور چیز (کے عیوب و نقائص) کو واضح کر دیں گے تو ان کی خرید و فروخت بابرکت ہو گی اور اگر وہ جھوٹ سے کام لیں گے اور چیز (کے عیوب و نقائص) کو چھپائیں گے تو ان کی خرید و فروخت سے برکت کو اُچک لیا جاتا ہے۔''

خبردار! دھوکہ اور خیانت اپنی جمیع صورتوں اور مختلف شکلوں کے ساتھ ایک خطرناک حرکت، قبیح طریقہ اور برائی پر مبنی معاملہ و تعامل ہے۔ چنانچہ جو شخص شخصی اغراض اور ذاتی مفادات کے حصول کے لئے، شیطان کی پیروی کرتے ہوئے اپنے معاملات میں دھوکے، ملمع سازی اور حقائق کی پردہ پوشی سے کام لیتا ہے تو وہ اچھی طرح جان لے کہ وہ عذاب الٰہی کو دعوت دے رہا ہے اور اللہ نے اس کی سزا کیلئے گھات تیار کر رکھی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ویل للمطففین۔ الذین إذا اکتالو علی الناس یستوفون۔ وإذا کالوھم أو وزنوھم یخسرون۔ ألا یظن اولئک أنھم مبعوثون۔ لیوم عظیم۔ یوم یقوم الناس لرب العالمین (المطففین: ۱-۷)

''ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے ہلاکت و بربادی ہے کہ جب لوگوں سے ناپ کرتے ہیں تو پورا پورا ناپ کرتے ہیں لیکن جب لوگوں کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو اس میں کمی کر دیتے ہیں۔ کیا یہ نہیں سمجھتے کہ انہیں ایک بڑے اور عظیم الشان دن میں اُٹھایا جائے گا۔ ایسا دن کہ جس میں سب لوگ جہانوں کے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے۔''......مزید تفصیل

وزٹرز کے اعداد و شمار

آج1249
کل4805
اس ہفتے22087
اس ماہ97266
کل تعداد3367103

رجسٹرڈ اراکین



فیس بک سے لاگ ان کریں

آن لائن مہمان

ہمارے ہاں 1585 مہمان اور 1 رکن آن لائن ہیں
  • salbilasm

dlfont