فکر ونظر.................................................... حافظ صلاح الدین یوسف
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محرم الحرام غلطی ہائے مضامین مت پوچھ!
(1) سانحہ ٴ کربلا کا محرم کی حرمت سے کوئی تعلق نہیں!
ماہ محرم سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد تو آں حضرت ﷺ کے واقعہ ٴہجرت پر ہے لیکن اس اسلامی سن کا تقرر اورآغاز ِاستعما ل۱۷ ھ میں حضرت عمر فاروق کے عہد ِحکومت سے ہوا ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری یمن کے گورنر تھے ،ان کے پاس حضرت عمر فاروق کے فرمان آتے تھے جن پر تاریخ درج نہ ہوتی تھی ۔ ۱۷ھء میں حضرت ابو موسیٰ کے توجہ دلانے پر حضرت عمر فاروق نے صحابہ کو اپنے ہاں جمع فرمایا او ران کے سامنے یہ مسئلہ رکھا ۔تبادلہ ٴافکارکے بعد قرار پایا کہ اپنے سن تاریخ کی بنیاد واقعہ ٴ ہجرت کو بنایا جائے اور اس کی ابتدا ماہ ِمحرم سے کی جائے کیونکہ ۱۳ نبوت کے ذو الحجہ کے بالکل آخر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کامنصوبہ طے کر لیا گیا تھااور اس کے بعد جو چاند طلوع ہوا وہ محرم کا تھا (فتح الباری ، شرح باب التاریخ ومن أین أرخوا التاریخ ج ۳ ،ص ۳۸۸، دہلی)
مسلمانوں کا یہ اسلامی سن بھی اپنے معنی ومفہوم کے لحاظ سے ایک خاص امتیازی حیثیت کا حامل ہے ۔مذاہب ِعالم میں اس وقت جس قدر سِنین مروّج ہیں وہ عام طور پر یا تو کسی مشہور انسان کے یومِ ولادت کو یاددلاتے ہیں یا کسی قومی واقعہ ٴ مسرت وشادمانی سے وابستہ ہیں کہ جس سے نسل انسانی کو بظاہر کوئی فائدہ نہیں مثلاً مسیحی سن کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ ولادت ہے ۔ یہودی سن فلسطین پر حضرت سلیمان کی تخت نشینی کے ایک پرشوکت واقعے سے وابستہ ہے ۔ بکرمی سن راجہ بکر ماجیت کی پیدائش کی یادگار ہے،رومی سن سکندر فاتح اعظم کی پیدائش کو واضح کرتا ہے لیکن اسلامی سن ہجرت عہد نبوت کے ایسے واقعے سے وابستہ ہے جس میں یہ سبق پنہاں ہے کہ اگر مسلمان اعلائے کلمۃُالحق کے صلے میں تمام اطراف سے مصائب وآلام میں گھر جائے ،بستی کے تمام لوگ اس کے دشمن اور درپے آزار ہو جائیں،قریبی رشتہ دار اورخویش واقارب بھی اس کو ختم کرنے کا عزم کر لیں ،اس کے دوست احباب بھی اسی طرح تکالیف میں مبتلا کر دیئے جائیں ، شہر کے تمام سر برآوردہ لوگ اس کوقتل کرنے کا منصوبہ باندھ لیں ،اس پر عرصہ ٴحیات ہر طرح تنگ کر دیا جائے اور اس کی آواز کوجبراً روکنے کی کوشش کی جائے تو اس وقت وہ مسلمان کیا کرے؟ اس کا حل اسلام نے یہ تجویز نہیں کیا کہ کفر وباطل کے ساتھ مصالحت کر لی جائے،تبلیغ حق میں مداہنت اوررواداری سے کام لیا جائے اوراپنے عقائد ونظریات میں لچک پیدا کر کے اُ ن میں گھل مل جائے تا کہ مخالفت کا زور ٹوٹ جائے ۔بلکہ اس کا حل اسلام نے یہ تجویز کیا ہے کہ ایسی بستی اور شہرپر حجت تمام کر کے وہاں سے ہجرت اختیار کر لی جائے ۔چنانچہ اسی واقعہ ٴہجرت نبوی پرسن ہجری کی بنیاد رکھی گئی ہے جو نہ توکسی انسانی برتری اور تفو ّق کو یاد دلاتا ہے اور نہ شوکت و عظمت کے کسی واقعہ کو ، بلکہ یہ واقعہ ٴہجرت مظلومی اور بیکسی کی ایک ایسی یادگار ہے کہ جو ثبات ِقدم ، صبرواستقامت اورراضی برضائے الٰہی ہونے کی ایک زبردست مثال اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے ۔یہ واقعہ ہجرت بتلاتا ہے کہ ایک مظلوم وبے کس انسان کس طرح اپنے مشن میں کامیاب ہو سکتا ہے اورمصائب وآلام سے نکل کر کس طرح کامرانی وشادمانی کازرّیں تاج اپنے سر پر رکھ سکتا ہے اور پستی وگمنامی سے نکل کر رفعت وشہرت اور عزت وعظمت کے بامِ عروج پر پہنچ سکتا ہے … علاوہ ازیں یہ مہینہ حرمت والا ہے اور اس ماہ میں نفل روزے اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں جیسا کہ حدیث ِنبوی میں ہے ۔
یہ بھی خیال رہے کہ اس مہینے کی حرمت کا سیدنا حضرت حسین کے واقعہ ٴشہادت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مہینہ اس لیے قابل احترام ہے کہ اس میں حضرت حسین کی شہادت کاسانحہ ٴ دل گداز پیش آیا تھا ۔یہ خیال بالکل غلط ہی۔ یہ سانحہ ٴشہادت توحضور ﷺ کی وفات سے ۵۰ سال بعد پیش آیا اوردین کی تکمیل آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی کردی گئی تھی:﴿اَلْيَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْکُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَکُمُ الإسْلاَمَ دِيْنًا﴾ اس لیے یہ تصور اس آیت ِقرآنی کے سرا سر خلاف ہے ۔پھر خود اسی مہینے میں اس سے بڑھ کر ایک اورسانحہ ٴ شہادت اورواقعہ ٴ عظیم پیش آیا تھا یعنی یکم محرم کو عمر فاروق کی شہاد ت کا واقعہ ۔ اگر بعد میں ہونے والی شہادتوں کی شرعاً کوئی حیثیت ہوتی تو حضرت عمر فاروق کی شہادت اس لائق تھی کہ اہل اسلام اس کااعتبار کرتے، حضرت عثمان کی شہادت ایسی تھی کہ اس کی یادگار منائی جاتی اور پھر ان شہادتوں کی بنا پر اگر اسلام میں ماتم وشیون کی اجازت ہوتی تویقینا تاریخ اسلام کی یہ دونوں شہادتیں ایسی تھی کہ اہل اسلام اس پر جتنی بھی سینہ کوبی اور ماتم وگریہ زاری کرتے ،کم ہوتالیکن ایک تو اسلام میں اس ماتم وگریہ زاری کی اجازت نہیں ،دوسرے یہ تمام واقعات تکمیل دین کے بعد پیش آئے ہیں ،اس لیے اِن کی یاد میں مجالس عزا اور محافل ماتم قائم کرنا دین میں اضافہ ہے جس کے ہم قطعاً مجاز نہیں۔
(2)عشرہ محرم اور صحابہ کا احترامِ مطلوب
عشرہ محرم میں عام دستور ورواج ہو گیا ہے کہ شیعی اثرات کے زیر اثر واقعات ِکربلاکو مخصوص رنگ اور افسانوی ودیومالائی انداز میں بیان کیا جاتا ہے ۔شیعی ذاکرین تو اس ضمن میں جو کچھ کرتے ہیں وہ عالم آشکارا ہے لیکن بد قسمتی سے بہت سے اہل سنت کے واعظانِ خوش گفتار اور خطیبانِ سحر بیان بھی
