ہمیں آپ کا تعاون درکار ہے

ہمارے ساتھ تعاون کیجئے

محدث لائبریری [Mohaddis Library]

غیر مسلموں کے تہواروں میں شمولیت

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الْحَمدُ لِلَّهِ حَمدًا كَثيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرضَى ، و افضَلُ الصَّلاۃِ و اَتمُّ السَّلام ِعَلَی رَسُولِہِ الکَریم ، امَّا بَعد ،

ہم پیدائشی ، خاندانی مُسلمانوں کی مُسلمانی میں اِیمان کو قتل کرنے والے امراض کی کثرت ہوتی جا رہی ہے ، اِن اِیمان کے قاتل امراض میں سے ایک مرض غیر مُسلموں کے لیے قلبی لگاؤ بھی ہے ایسا قلبی لگاؤ جو بسا اوقات مُحبت کی صُورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے اور جب یہ مرض شدت اختیار کر جاتا ہے تو ہم اپنوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور کافروں سے مُحبت کا اقرار ،

جی ہاں مُحبت ، اُس مُحبت کے اقرار و اظہار کے انداز و اطوار میں سے ایک انداز اُن کافروں کے تہواروں میں شمولیت بھی ہے ، خواہ وہ تہوار خالصتاً دینی ہوں ، کفریہ عقائد پر مبنی ہوں ، یا محض اُن کافروں کی عادات میں سے ہوں ،

ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں رہی کہ کافروں کے تہوار میں شمولیت کے بارے میں ہمارے دِین میں ہمارے لیے کیا حُکم ہے ؟ ہم اُن میں شامل ہوتے ہیں ، اور کچھ نہ ہو تو انہیں نیک تمنائیں اور مبارک کی دعائیں تو دے ہی دیتے ہیں ،

ہمیں صِرف یہ شوق حُدود جنون میں داخل کر چکا ہے کہ ہمیں کسی طور ہم پر ''تنگ نظر ، یا ، قدامت پرست ، یا ، بنیاد پرست ، یا ، دقیانوسی ''، یا ماضی قریب میں انہی کافروں کی طرف سے ہماری محبتوں کے جواب میں دیے گئے نئے لقب ''دھشت گرد '' وغیرہ میں سے کوئی لقب نہ دے دیا جائے ،

ہم تو فقط اپنے اندر موجود کفار کی محبت اور ان سے مرعوبیت اور کہیں اُن کے خوف کی وجہ سے اُنہیں خوش کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، خواہ اُس میں دُنیا کی ذِلت بھی ملتی رہے اور آخرت بھی تباہ ہوتی رہے۔

جی ہاں ، ایسا ہی ہے ، کیونکہ لوگوں کے أعمال ان کے عقائد اور نیتوںکا نتیجہہوتے ہیں حتیٰ کے وہ أعمال بھی جو لاشعوری طور پر سر زد ہو جاتے ہیں ان کےپیچھے بھی انسان کا کوئی نہ کوئی اِرداہ کارفرما ہوتا ہے جو اُس کے لاشعور میں مُقیم ہونے کی وجہ سے اس کے ادراک سے باہر ہوتا ہے ، پس أعمال کو دیکھ کر ہی عاملین کے عقائد اور نیتوں کا اندازہ کیا جاتا ہے ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘

کافروں کے تہواروں اور اُ ن کی عادات میں شمولیت اور اُن کی عادات کی نقالی کے بارے میں اِسلامی احکام کا ذِکر کرنے سے پہلے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو قران کریم کو اللہ کی آخری ، حتمی ، مکمل اور غیر محرف کتاب نہیں مانتا وہ کافر ہے ، ہر وہ شخص جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جو کہ عبداللہ بن عبدالمطب کے بیٹے تھے ، کو اللہ کا آخری رسول نہیں مانتا وہ کافر ہے ، خواہ وہ اللہ پر اِیمان رکھتا ہو اور بظاہر اُس کے پاس موجود کتابوں یا باتوں کے مطابق اللہ کا عبادت گذار اور تابع فرمان نظر آتا ہو ، وہ مُسلمانوں کی صفوف میں شُمار نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ کافر ہی مانا جائے گا.....مزید تفصیل

 

پے پال ڈونیشن

وزٹرز کے اعداد و شمار

آج206
کل5396
اس ہفتے11394
اس ماہ101855
کل تعداد11589590

آن لائن مہمان

ہمارے ہاں 246 مہمان آن لائن ہیں

dlfont