نواب سید صدیق حسن خان
روزہ اسلام کا دوسرا رکن ہے۔ جس طرح مسلمان اپنی اولاد کو سات برس کی عمر سے نماز کی عادت ڈالتے ہیں، اسی طرح بچوں کو روزہ بھی رکھواتے ہیں۔ اس لئے روزے کا طریقہ معلوم کرنا ہر مسلمان مرد عورت، بوڑھے اور بچے پر ضروری ہے۔ رمضان کے روزے شعبان ۲ ہجری میں فرض ہوئے تھے۔ اس کی فرضیت ویسی ہی ہے جیسے نماز کی۔ جو حکم نماز کے تارک کا ہے وہی حکم تارکِ صوم کا ہے جب بلا عذر نماز کو عمداً ترک کیاجائے ، یا بلا عذر روزہ نہ رکھا جائے۔
فضیلت ِرمضان و صیام:
حدیث ابوہریرہؓ میں فرمایا ہے کہ ’’جب رمضان آتاہے تو بہشت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جہنم کے دوازے بند ہوجاتے ہیں، شیطان کو جکڑ بند کردیا جاتا ہے۔‘‘(متفق علیہ)
جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک کا نام ’ریان‘ ہے۔ روزہ دار اسی دروازے سے بہشت میں جائیں گے۔ جو کوئی رمضان میں روزہ رکھتا ہے، رات کونماز پڑھتا ہے، شب ِقدر کو جاگتا ہے، اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ ہرنیکی کا اجردس گنا سے سات سو گنا تک ہوجاتا ہے۔مگر روزہ، کہ اللہ تعالیٰ نے (حدیث ِقدسی میں) فرمایا: اِلا الصوم فإنه لي وأنا أجزی به (عن ابی ہریرہ)
’’لیکن روزہ چونکہ میرے لئے ہے، اس کا اجر بھی (بلا حساب) میں ہی دوں گا۔‘‘ متفق علیہ
روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک بوئے مشک سے بھی پاکیزہ تر ہوتی ہے۔ روزہ آتش دوزخ سے ڈھال ہے۔ مسلمان کوچاہئے کہ روزے میں گالی نہ بکے، شور نہ کرے بلکہ اس کو کوئی گالی دے توکہہ دے کہ میرا روزہ ہے۔ رمضان میں اللہ ہر رات کچھ مسلمانوں کو جہنم سے آزاد کرتاہے۔ (رواہ الترمذی عن ابی ہریرۃ مرفوعاً)
روزہ اور قرآن:
مسلمان کی قیامت کے دن شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت قبول ہوگی۔ حدیث ِانسؓ میں آیا ہے:’’اس مہینے میںایک رات ہے جو ہزا رمہینے سے بہتر ہے جو کوئی اس رات سے محروم رہا، وہ کل خیر سے محروم رہا۔‘‘ (رواہ ابن ما جہ)
اس مہینے میں جو کوئی نیک کام کرتا ہے وہ اَجر میںفرض ادا کرنے کے برابر ہے، اور جوکوئی فرض بجا لاتا ہے وہ ستر فرض ادا کر نے کے برابر ہے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اورصبر کا ثواب بہشت ہے۔یہ مہینہ مؤاسات (ہمدردی) کا ہے، اس ماہ میں جو کسی کا روزہ افطار کراتا ہے تو اس کا رزق بڑھتا ہے، اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگرچہ دودھ کے ایک گھونٹ سے یا کھجور یا پانی سے افطار کرائے، اور جو کوئی کھانا کھلاتا ہے وہ روزِ قیامت نبی کریم ا کے حوض کا پانی پئے گا، پھر جنت میں جانے تک پیاسا نہ ہوگا۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس کا اوّل عشرہ رحمت ہے اور اوسط مغفرت اور آخر آگ سے آزادی ہے ۔(مشکوٰۃ بحوالہ شعب الایمان، بیہقی عن سلمانؓ)
آنحضرت ﷺ رمضان میں ہر قیدی آزاد کردیتے، ہرسائل کو عطا کرتے (ایضاً بروایت ِابن عباسؓ)
جنّت رمضان کے لئے شروع سال سے سال آئندہ تک زینت کی تیاری کرتی ہے۔ چنانچہ جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو بہشت کے پتوں کی ہوا عرش کے نیچے سے حورِعین پر چلتی ہے اور وہ کہتی ہیں:
’’اے ربّ! تو اپنے بندوں میں سے ہم کو ایسے خاوند دے، جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔‘‘ (بروایت ِابن عمر مرفوعا ً)