حافظ ثناء اللہ مدنی
٭ سوال: دوران حمل عورتیں مٹی کھاتی ہیں،ایسا کرنا حرام ہے یا مباح ؟عام مٹی اور گاچنی مٹی دونوں کا ایک ہی حکم ہے؟ نیز روزے کی حالت میں مٹی کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟
جواب: امام شوکانی ؒ نے فتح القدیر میں آیت ﴿ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِیْ الأرْضِ جميعا﴾ سے استدلال کیا ہے کہ مٹی کھانا حرام ہے۔ گاچنی چونکہ مٹی کی ایک قسم ہے لہٰذا وہ بھی حرام ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مٹی انسانی صحت کے لئے شدید مضرہے ،اس لئے بھی اس کا کھانا غیر درست ہے۔ علامہ عجلونی ؒنے کشف الخفائ(ج ۱؍ص۱۷۴) میں اس کی حرمت کے متعلق چند احادیث نقل کی ہیں لیکن یہ سب ضعیف ہیں… جب مٹی کھانا حرام ہے تو ظاہر ہے کہ مٹی کھانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
٭ سوال: اگر کسی نے کھجور کی گٹھلی ، کنکری، لوہا ، لکڑی، چمڑے کا ٹکڑا وغیرہ نگل لیا تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟
جواب: فقیہ ابن قدامہ ؒاپنی کتاب المغنی (ج۴؍ ص۳۵۲،۳۵۳) میں فرماتے ہیں کہ ہر وہ شئ جو پیٹ میں داخل ہو، اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے،کیونکہ یہ کھانے کے مشابہ ہے۔ مذکورہ چیزیں بھی اسی حکم میں ہیں۔
٭ سوال: ’آگے‘ یا ’پیچھے‘ بذریعہ حقنہ کوئی دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟
جواب: المغنی (ج ۴؍ ص۳۵۳) میں ابن قدامہ ؒ فرماتے ہیں کہ ’’أو مايدخل إلی الجوف من الدبر بالحقنة‘‘ حقنہ کے ذریعہ جو دوا پیٹ میں داخل ہو، اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
٭ سوال: کسی شخص کو خود بخود قے آئی اور اس نے سمجھا کہ شائد خود بخود قے آنے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے،اس غلط فہمی کی وجہ سے اس نے دانستہ جماع کرلیا تو کیا اس پر کفارہ واجب ہے یا نہیں؟
جواب: اس صورت میں کفارہ واجب نہیں، ایک مرفوع روایت میں ہے: ’’إن اﷲ تجاوز عن أمتی الخطأ والنسيان وما استکرھوا عليه‘‘ ’’بے شک اللہ تعالی نے غلطی، بھول اور اور جبر سے ہونے والے کاموں سے درگزر فرمادیا ہے۔ ‘‘ (فتح الباری :ج۹؍ص۳۹۰)
اسی طرح قرآنِ مجید میں ہے: ﴿رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَاإِنْنسيناأَو ْ أَخْطَأْنَا﴾ (البقرۃ) ’’اے اللہ !اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر لیں تو ہمارا مؤاخدہ نہ کرنا ۔