فیس بک تبصرہ جات

فیس بک کمنٹس کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی تشہیر میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
مضامین احکام و مسائل رمضان المبارک کے بعض اہم ونادر مسائل

رمضان المبارک کے بعض اہم ونادر مسائل

شیح محمد بن صالح المنجد، مکہ

مترجم: شمس الحق بن اشفاق اللہ


رمضان المبارک کے کام
1. اپنے آپ اور اپنے ماحول کو عبادت کے لئے تیار کرنا، توبہ و استغفار کی طرف جلدی کرنا، رمضان کے آنے پر خوشی منانا اور پورے ادب کے ساتھ روزے رکھنا، تراویح میں دل جمعی اور خشوع کا خیال رکھنا، سستی سے باز رہنا، خصوصاً آخری دس دن میں شب ِقدر کی تلاش میں لگے رہنا، تدبر و تفکرکے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرنا اوراسے ایک سے زائد بار مکمل کرنے کی کوشش کرنا رمضان المبارک کے اہم کام ہیں۔ پھر رمضان کاعمرہ بھی حج کے برابر ہے، اس ماہ میں صدقہ کا اجر دوبالا ہوجاتا ہے اور اعتکاف کرنے کی بھی خاص تاکید آئی ہے۔

اس ماہ کی آمد پرمبارکباد دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے، نبی1 صحابہ کو رمضان کی آمد کی بشارت دیتے تھے اور اس کے اہتمام پر اُبھارتے تھے، چنانچہ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:
أتاکم رمضان شھر مبارک، فرض اﷲ عزوجل علیکم صیامہ، تفتح فیہ أبواب السمائ، وتغلق فیہ أبواب الجحیم، وتغل فیہ 7مردۃ الشیاطین، فیہ لیلۃ خیر من ألف شھر من حرم خیرھا فقد حرم
’’تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آیا ہے، اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کئے ہیں، جن میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور بدمعاش شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ،جو شخص اس کی خیر سے محروم رہا وہ حقیقی محروم ہے۔‘‘ (سنن نسائی :۲۱۰۸، صحیح الترغیب :۱؍۴۱۸)

روزے کے احکام
2. بعض روزوں میں تسلسل ضروری ہے جیسے رمضان کے روزے،قتل خطا کے کفارہ کے روزے، کفارئہ ظہار کے روزے، رمضان کے دن میں جماع کرنے کے کفارہ کے روزے۔ اسی طرح جس نے مسلسل روزے رکھنے کی نذر مانی ہو،اس پر بھی تسلسل سے روزہ رکھنا ضروری ہے۔
جبکہ بعض روزوں میں تسلسل کی شرط نہیں ہے جیسے رمضان کے روزوں کی قضا، حج میں قربانی نہ کرنے والے کے دس روزے، قسم توڑنے والے پر کفارہ کے روزے (جمہور علماء کے نزدیک)، اور (صحیح قول کے مطابق) احرام کی حالت میںکسی ممنوع چیز کے ارتکاب پر فدیہ کے روزے، اس میں بھی تسلسل ضروری نہیں اور مطلقاً نذر کے روزے جس شخص نے تسلسل کی شرط نہ رکھی ہو۔
3. نفل روزے، فرض روزوں کی کمی کی تلافی کرتے ہیں جیسے عاشورا، عرفہ، ایامِ بیض (یعنی ہر قمری ماہ کی تیرہ، چودہ، پندرہ تاریخ) کے روزے، پیر اور جمعرات کا روزہ اور شوال کے چھ روزے، محرم اور شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا وغیرہ۔

مزید تفصیل....

وزٹرز کے اعداد و شمار

آج299
کل3826
اس ہفتے23152
اس ماہ89011
کل تعداد5167221

رجسٹرڈ اراکین



فیس بک سے لاگ ان کریں

آن لائن مہمان

ہمارے ہاں 417 مہمان آن لائن ہیں