حافظ طاہراسلام عسکری
اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ خصوصی فضل و کرم ہے کہ اس نے نیکی و اطاعت کے لیے کچھ خاص اوقات مقرر فرما دیے ہیں جن میں اعمالِ صالحہ کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور باری تعالیٰ کی رحمتِ کاملہ بطورِ خاص بنی نوع انسان کی طرف متوجہ ہوتی ہے‘ تاکہ لوگ اس میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل کر کے اپنے پروردگار کا قرب حاصل کر سکیں۔ بڑے ہی خوش قسمت اور سعادت مند ہیں وہ افراد جو ایسے لمحات کی قدر کر کے ان سے صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں اور لاپرواہی‘ سستی اور کوتاہی کی بجائے خوب محنت کرتے ہیں۔ ان اشرف و اعلیٰ اوقات میں عشرئہ ذی الحجہ بھی شامل ہے۔ قرآن اور سنت رسولؐ میں ذی الحجہ کے پہلے دس ایام کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ذیل میں عشرئہ ذی الحجہ کے فضائل‘ اس میں عمل کی فضیلت اور مستحب اعمال کا ذکر کیا جاتا ہے۔
عشرئہ ذی الحجہ کا استقبال
جو اوقات و لمحات خصوصی اہمیت و فضیلت کے حامل ہوں ان کے شایانِ شان اہتمام سے ان کا استقبال کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں چند امور بطورِ خاص قابل لحاظ ہیں:
(۱) سچی توبہ: مسلمان کے لیے سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ وہ نیکی واطاعت کی ان بابرکت گھڑیوں کا استقبال سچی توبہ سے کرے اور اللہ کی طرف رجوع کا پکا ارادہ کرے ‘کیونکہ توبہ ہی میں بندئہ مؤمن کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ وَتُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیھَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ‘‘ (النور) اے ایمان والو! تم سب مل کر اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ۔‘‘
(۲) ایامِ فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا پختہ عزم:مسلمان کو چاہیے کہ ان ایام میں زیادہ سے زیادہ صالح اعمال و اقوال کے ذریعے رضائے الٰہی کے حصول کی کوشش کرے اور اس بات کا عزمِ مصمم کرے کہ ان مبارک اوقات میں وہ بڑھ چڑھ کر نیکی کرے گا۔ جو شخص کسی چیز کا پختہ قصد کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتاہے اور ایسے اسباب مہیا فرما دیتا ہے جو عمل کی تکمیل میں ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
’’ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا‘‘ (العنکبوت:۶۹)
’’اور جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنے (قرب کے) راستے دکھلائیں گے۔‘‘
(۳) معاصی سے اجتناب:جس طرح اعمالِ صالحہ قربِ الٰہی کا موجب ہیں اسی طرح معصیت اور نافرمانی کے کام اللہ تعالیٰ سے دُوری اور رحمت خداوندی سے بُعد کا سبب بنتے ہیں۔ انسان اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ جل شانہ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے گناہ بخشے جائیں اور جہنم سے نجات حاصل ہو تو اسے ان ایامِ رحمت میں خصوصاً اور دیگر دنوں میں عموماً اللہ کی نافرمانی اور حدودِ الٰہی کی پامالی سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔
مذکورہ بالا تینوں امور انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ‘جنہیں پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ان بابرکت لمحات سے فائدہ اٹھائیں اور احسن طریقے سے ان کا استقبال کریں ‘ قبل اس کے کہ یہ دن گزر جائیں اور ہم حسرت وندامت سے ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ لیکن اُس وقت پچھتانے کا کیا فائدہ جب چڑیاں چگ گئیں کھیت!
عشرئہ ذی الحجہ کی فضیلت ذو الحجہ کے عشرئہ اوّل کی فضیلت کئی پہلوؤں سے اجاگر ہوتی ہے: خدا تعالیٰ نے ان دنوں کی قسم کھائی ہے: اللہ عزوجل کا کسی شے کی قسم کھانا اس کی عظمت و فضیلت کی واضح دلیل ہے ‘ اس لیے کہ جو ذات خود عظیم ہو وہ صاحب عظمت شے ہی کی قسم کھاتی ہے۔........مزید تفصیل