فیس بک تبصرہ جات

فیس بک کمنٹس کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی تشہیر میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
مضامین احکام و مسائل مسائل قربانى

مسائل قربانى

محمدرفیق طاہر

مسائل قربانى:جو قربانیاں گھروں میں کی جاتی ہیں ان کو أضحية کہتے ہیں اس کی جمع أضاحی ہے۔ جس طرح حج کرنے والے کے لیے قربانی کرناضروری ہے ایسے ہی صاحب استطاعت کے لیے گھر میں قربانی کرنی بھی ضروری ہے۔

قربانی کی فرضیت: جندب بن سفیان بَجلی فرماتےہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک مرتبہ عیدالأضحی کی نماز پڑھی تو کچھ لوگوں نے نماز عید سے قبل ہی قربانی کر لی تھی، جب رسول اللہ ﷺ نے نماز عید ادا فرمانے کے بعد دیکھا تو ارشاد فرمایا:

"من ذبح قبل الصلاة فليذبح مكانها أخرى ، ومن كان لم يذبح حتى صلينا فليذبح على اسم الله " (صحيح البخاري- كتاب الذبائح والصيد باب قول النبي صلى الله عليه وسلم : " فليذبح على اسم الله

جس نے نماز سے قبل قربانی کی ہے وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے قربانی نہیں کی نماز پڑھنے تک تو وہ اب اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرے۔

سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں:

"من وجد سعة ولم يضح فلا يقربنا في مساجدنا" ( سنن الدارقطني - كتاب الأشربة وغيرها، باب الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك

جس کے پاس قربانی کرنے کی استطاعت ہو اور پھر بھی وہ قربانی نہیں کرتا تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب ہی نہ آئے۔

قربانی کے جانور کی عمر: جابربن عبداللہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"لا تذبحوا إلا مسنة ، إلا أن يعسر عليكم ، فتذبحوا جذعة من الضأن" (صحيح مسلم - كتاب الأضاحي، باب سن الأضحية)

تم صرف اور صرف "مسنۃ" ہی ذبح کرو لیکن اگر تمھیں دشواری پیش آئے تو ضأن (بھیڑ، چھترا، دنبہ) ایک سالہ ذبح کرلو۔

صحیح مسلم کی اس حدیث پر اعتراض: بعض لوگوں نے اس صحیح حدیث پر اعتراض کیا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے کیونکہ ابو زبیر مدلس راوی ہے اور وہ اس حدیث کو "عن"سے روایت کررہا ہے۔ جبکہ لیث بن سعد کے علاوہ جو کوئی بھی ابو زبیر کی معنعن روایت نقل کرے وہ قابل احتجاج نہیں ہوتی۔ لہذا مدلس کا عنعنہ مردود ہونے کی وجہ سے یہ حدیث بھی ساقط الاعتبار ہے۔ یہی بات علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ ضعیفہ 157/1 میں اور ارواء الغلیل 258/4 میں کہی ہے۔

جواب: اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے مدلسین کی جو معنعن روایات اپنی صحیح میں نقل کی ہیں وہ سماع پر محمول ہیں اور یہ حدیث جابر بن عبداللہ سے ابو زبیر نے سنی ہے۔

امام ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق الأسفرائینی نے اس سماع کو بایں الفاظ اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔

"حدثنا ابن المنادي ، قال : ثنا يونس بن محمد ، قال : ثنا أبو خيثمة ، وحدثنا الصغاني ، قال : ثنا حسن بن موسى الأشيب ، قال : ثنا زهير ، بإسناده مثله ، رواه محمد بن بكر عن ابن جريج ، حدثني أبو الزبير ، أنه سمع جابرا ، يقول وذكر الحديث " ( مستخرج أبي عوانة - مبتدأ كتاب الأضاحي، باب بيان وجوب الأضحية )........مزید تفصیل

وزٹرز کے اعداد و شمار

آج305
کل3826
اس ہفتے23158
اس ماہ89017
کل تعداد5167227

رجسٹرڈ اراکین



فیس بک سے لاگ ان کریں

آن لائن مہمان

ہمارے ہاں 388 مہمان آن لائن ہیں