فیس بک تبصرہ جات

فیس بک کمنٹس کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی تشہیر میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
مضامین احکام و مسائل امت مسلمہ میں شرک کا مسئلہ

امت مسلمہ میں شرک کا مسئلہ

 

سید محمد علی

شرک گناہ کبیرہ اور سنگین جرم ہے۔ اس کا مرتکب اپنے خالق اور محسنِ حقیقی کا ایسا مجرم ہے کہ اس پر جنت کو حرام کردیا گیا ہے (المائدہ:72) اور اگر یہ بغیر توبہ کیے اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے لیے مغفرت کی تمام راہیں مسدود ہیں (النسائی:48) قیامت کے روز اس کا سب کِیا دھرا غبار کی طرح اُڑا دیا جائے گا (الفرقان:23) شرک کی برائی اور شناخت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قوم موسیٰ کے وہ عناصر جو بچھڑے کی عبادت میں بہک گئے اور اُن سے شرک سرزد ہوا تو قانونِ الٰہی میں اس کی کم سے کم سزا یہ طے پائی کہ ان مشرکین کو قتل کردیا جائے، خواہ وہ ہزاروں کی تعداد میں ہوں (البقرہ:54) شرکیہ افعال میں ملوث افراد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خدا کی زمین پر اُس کی نعمتوں سے متمتع ہوں۔ اسی مقصد کے تحت فتح مکہ کے بعد مشرکین کو قتل کردینے کا عمومی حکم جاری ہوا (التوبہ:5)

اور ظاہر ہے کہ احسان فراموشی کی حد ہوگی کہ ایک طرف انسان کو اپنے رب کے حقوق پامال کرنے میں ذرا تامل نہ ہو اور دوسری طرف اس رب ہی کی عطا کردہ نعمتوں سے لذتِ کام و دہن کا سامان کرتا رہے اور نہ صرف یہ کہ اپنے وجود کی بقا کو ممکن بناتا رہے بلکہ اس کی رونقوں کو دوبالا کرنے اور آسائشیں حاصل کرنے کے لیے کسی طرح بھی اپنے رب کی عطا سے بے نیاز نہ ہو۔

انسانوں سے عقیدت و احترام کا تعلق روا رکھنا، مستحسن عمل ہے مگر یہ رویہ شرک باللہ کی صورت اختیار کرلے تو اِس سے زیادہ قبیح حرکت بھی کوئی نہیں ہے۔ خدا کی ذات سب سے اعلیٰ و برتر ہے۔ خالق، معبود اور مقتدر ہونے کی حیثیت سے وہ تنہا اور لاشریک ہے۔ اُس کی بزرگی اور عزت و توقیر کے سامنے تمام کائنات کی بزرگیاں اور عزتیں ہیچ ہیں۔ اسلام نے فلسفۂ ادب و اخلاق میں جس اہم اصول کا اضافہ کیا ہے وہ یہ کہ خالق اور مخلوق کے مابین ذات اور صفات کے لحاظ سے کوئی مطابقت نہیں ہے۔

مخلوقات میں سے مثال کے طور پر رسول، نبی، ولی، بزرگ، شب زندہ دار، صاحب سلطنت و وقار، یہ سب قابل احترام ہیں، مگر خدا اور خدائی صفات کے مقابلے میں یہ بجاے خود محتاج اور بے بس لوگ ہیں۔ یہ اپنی مرضی سے ایک سانس کو بھی فرحت ِ جاں نہیں بنا سکتے، یہ کسی بھی جہت سے مارواے اسباب افعال و اعمال اختیار کرنے پر قدرت نہیں رکھتے۔ ایسی امداد نہیں کرسکتے جو سمجھ میں آنے والی یا دِکھنے والی نہ ہو۔ مادی ذرائع کے بغیر کسی کی فریاد نہیں سن سکتے۔ مرنے کے بعد زندہ انسانوں سے کوئی ربط و تعلق باقی نہیں رکھ سکتے۔

انسانی تاریخ میں اکثر و بیشتر جو شرک ہوا ہے وہ ذات باری کے ساتھ نہیں ، بلکہ اللہ کی صفات کی جہت سے تھا۔ یہ دعویٰ تو معدودے چند لوگوں کا رہا ہے کہ اس کائنات کے خالق دو ہیں یا فلاں بزرگ و ہستی اللہ کی طرح ہے یا اللہ کے برابر ہے۔ عام طور پر جو شرک زمانہ جاہلیت میں رائج تھا، آج بھی موجود ہے اور جس کی تردید میں قرآن کا اکثر و بیشتر حصہ نازل ہوا ہے، وہ صفاتِ باری کے ساتھ شرک ہے۔

مثال کے طور پر یہ کہ ’علم ِغیب‘اللہ کی خاص صفت ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ بغیر سبب کے ماوراے حواس اشیا کا ادراک حاصل کرلینا، خبر پہنچے بغیر مستقبل کے احوال جان لینا، از خود نوشتہ تقدیر پر مطلع ہو جانا، یہ اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات ہیں، جو کسی معمولی درجے میں بھی غیراللہ کو حاصل نہیں ہوسکتیں۔......مزید تفصیل

وزٹرز کے اعداد و شمار

آج307
کل3826
اس ہفتے23160
اس ماہ89019
کل تعداد5167229

رجسٹرڈ اراکین



فیس بک سے لاگ ان کریں

آن لائن مہمان

ہمارے ہاں 384 مہمان آن لائن ہیں