ابوالحسن علوی
اللہ تعالیٰ نے انسان کے ظاہروباطن دونوں کی اصلاح کے لیے شریعت اسلامیہ اور انبیاء ورسل کا سلسلہ جاری فرمایاہے۔ انسانی طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ باطن کی نسبت ظاہر پر توجہ زیادہ دیتی ہے اور باطن کی اصلاح کی بجائے ظاہر شریعت پر عمل ہی کو کل دین سمجھ لیتی ہے۔
سابقہ مسلمان اقوام مثلاًیہود پر بھی ایک زمانہ ایسا آیا کہ وہ موسوی شریعت کے ظاہر میں اس قدر الجھے کہ اپنی باطنی اصلاح سے کلی طور پر غافل ہو گئے۔ اس زمانہ میں ان میں تورات کے بڑے بڑے فقہاء اور علماء تو موجود تھے اور ظاہر شریعت پر عمل بھی خوب ہو رہاتھا لیکن منکسر المزاجی،تواضع، انکساری،نرم دلی، خدا خوفی، للہیت، خشیت، تقوی اور تقرب الی اللہ جیسے اوصاف حسنہ مفقود تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی باطنی اصلاح اور تزکیہ کے لیے حضرت عیسی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے معاصر انجیل میں موجود خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے علمائے یہود کو اپنے باطن کی اصلاح اور تزکیہ نہ کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ایک جگہ انجیل میں ہے:
اس وقت یسوع یعنی حضرت عیسی علیہ السلام نے بھیڑ سے اور اپنے شاگردوں سے یہ باتیں کیں کہ فقیہ اور فریسی موسی علیہ السلام کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ پس جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن انکے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے ، باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ ان کو اپنے انگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔ وہ اپنے سب کام لوگوں کو دکھانے کو کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے تعویذ بڑے بناتے اور اپنی پوشاک کے کنارے چوڑے رکھتے ہیں۔ اور ضیافتوں میں صدر نشینی اور عبادت خانوں میں اعلی درجہ کی کرسیاں۔اور بازاروں میں سلام اور آدمیوں سے ربی کہلانا پسند کرتے ہیں۔۔۔اے ریاکارو فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس!کہ آسمان کی بادشاہی لوگوں پر بند کرتے ہو کیونکہ نہ تو آپ داخل ہوتے ہو اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو۔ اے ریاکارو فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس! تم بیواوں کا گھر دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو، تمہیں زیادہ سزا ہوگی۔سے ریاکارو فقیہو فریسیو تم پر افسوس!کہ ایک مرید کرنے کے لیے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہو چکتا ہے-.........مزیدتفصیل