فیس بک تبصرہ جات

فیس بک کمنٹس کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی تشہیر میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
مضامین ایمان و عقائد نمازكى بعض عام كوتاہياں

نمازكى بعض عام كوتاہياں

                                                                                                                                                                             محمد آصف احسان
اسلامى عبادات ميں يہ پہلا ركن بلكہ ركن عظيم ہے جس كى ادائيگى امير و غريب، بوڑهے و جوان، مرد و عورت اور بيمار و تندرست سب پر يكساں فرض ہے- ايسى عبادت كہ جس كا حكم كسى بهى حالت ميں ساقط نہيں ہوتا- ايمان لانے كے بعد مسلمان سے اولين مطالبہ ہى يہ ہے كہ وہ نماز قائم كرے- قرآن پاك ميں ارشاد ہے: ﴿اننى انا الله لا اله الا انا فاعبدنى واقم الصلوٰة لذكرى﴾ ”بے شك ميں ہى اللہ ہوں، ميرے سوا كوئى معبود نہيں، ميرى ہى بندگى كرو اور ميرى ياد كے لئے نماز قائم كرو-“ (سورة طہٰ:١٤)

 

ہرنبى كى تعليم ميں اور ہر آسمانى شريعت ميں ايمان لانے كے بعد پہلا حكم نماز ہى كا رہا ہے- اسى لئے شريعت ِاسلاميہ جو كہ آخرى شريعت ہے، ميں نماز كى شروط و اركان، سنن و آداب اور مفسدات ومكروہات كى وضاحت كا اس قدر اہتمام كيا گياہے كہ اتنا التزام اور كسى عبادت ميں نہيں-چنانچہ صرف قرآن حكيم ہى ميں نماز كا ذكر اكانوے دفعہ كيا گيا ہے-

حضرت شاہ ولى اللہ دہلوى رحمہ اللہ نماز كا بيان شروع كرتے ہوئے فرماتے ہيں: ”معلوم ہو كہ نماز اپنى عظمت ِشان اور مقتضائے عقل و فطرت ہونے كے لحاظ سے تمام عبادات ميں خاص امتياز ركھتى ہے اور خدا شناس انسانوں ميں سب سے زيادہ معروف اور نفس كے تزكيہ وتربيت كے لئے سب سے زيادہ نافع ہے اور اسى لئے شريعت نے اس كى فضيلت، اس كے اوقات كى تعيين و تحديد، شروط واركان، آداب و نوافل اور رخصتوں كے بيان كا وہ اہتمام كيا ہے كہ جو عبادات كى كسى دوسرى قسم كے لئے نہيں كيا گيا اور انہيں خصوصيات و امتيازات كى بنا پر نماز كودين كا عظيم ترين شعار اور امتيازى نشان قرار ديا گيا ہے-“              (حجة اللہ البالغہ:قسم دوم ، ص ٣٣٩)

علاوہ ازيں نماز كى افضليت كا اندازہ اس سے بهى لگايا جاسكتا ہے كہ آپﷺ كى آخرى وصيت بهى نماز اور غلاموں كے متعلق تهى- (الرحيق المختوم از شيخ صفى الرحمن مباركپورى: ص ٦١٨)

تركِ نماز :نماز كا ترك كرنا يا اس كے ادا كرنے ميں غفلت برتنا بلاشبہ كبيرہ گناہوں سے ہے- اہل بصيرت سے يہ بات مخفى نہيں ہے كہ دين اسلام ميں نماز كى ادائيگى كى كس قدر تاكيد و تلقين كى گئى ہے اور صرف اسى پر اكتفا كرنے كى بجائے قرآن پاك نے اس ہولناك انجام اور زبردست رسوائى كا بهى خوف دلايا ہے كہ جس سے تاركين نماز دوچار ہوں گے-چنانچہ قرآنِ پاك ميں ارشاد ہے: ”ہر شخص اپنے اعمال كے بدلے گروى ہے مگر دا ہنى طرف والے (نيك لوگ) كہ وہ باغ ہائے بہشت ميں ہوں گے اور پوچهتے ہوں گے (آگ ميں چلنے والے گناہگاروں سے) كہ تم دوزخ ميں كيوں پڑے؟ وہ كہيں گے كہ ہم نماز پڑهنے والوں ميں سے نہيں تهے-“ (المدثر: ٣٨ تا٤٣)

اس كے علاوہ آپﷺ نے ارشاد فرمايا: بين العبد وبين الكفر ترك الصلوٰة ” بندے اور كفر كے درميان (حد ِفاصل) نماز كا ترك كرنا ہے-“ (صحيح مسلم)

تركِ نماز كے متعلق اس قدر شديد تہديد و تخويف ہى كى بنا پرامام مالك رحمہ اللہ اور امام شافعى رحمہ اللہ كے نزديك تاركِ صلوٰة كو قتل كردينا چاہئے- امام اعظم ابوحنيفہ رحمہ اللہ اور اہل كوفہ ميں سے ايك جماعت اور امام مزنى رحمہ اللہ كے نزديك تاركِ صلوٰة كافر تو نہيں ليكن قابل تعزير ضرور ہے كہ اسے قيد كرديا جائے يہاں تك كہ وه نماز پڑهنے لگے-(تفصيل كے لئے:التمہيدلابن عبدالبر:٤/٢٣تا٢٤٠اور نيل الاوطارشرح منتقى الاخبار ازعلامہ شوكانى: ١/٣١٥،٣١٦)

جيسا كہ سطورِ بالا ميں نماز كى اہميت كا ذكر كيا گيا ہے، اس لئے اس بات كا خاص خيال ركهنا چاہئے كہ اس كى صحيح طريقے سے ادائيگى ہو- چنانچہ سطورِ ذيل ميں نماز كى چند ايسى اہم كوتاہياں مجملاً بيان كى جاتى ہيں كہ جن كے متعلق علم نہ ہونے كى وجہ سے بيشتر لوگ صحيح طريقے سے نماز ادا نہيں كرپاتے- واللہ الموفق

١- نماز كى طرف بهاگ كر آنا

بعض لوگ مسجد كى طرف بهاگ كر آتے ہيں حالانكہ شريعت ِاسلاميہ ميں ا س كى ممانعت ہے اور اسلام نے يہ سہولت دى ہے كہ جتنى نماز مل جائے پڑھ لو اور جو رہ جائے، اسے پورا كرلو-حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ سے روايت ہے : قال رسول الله إذا أقيمت الصلوٰة فلا تأتوها وأنتم تسعون ولكن ايتوها وانتم تمشون وعليكم السكينة فما أدركتم فصلوا وما فاتكم فأتموا

”آپﷺ نے فرمايا كہ جب اقامت ہوجائے تو تم نماز كى طرف دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلكہ چلتے ہوئے (باوقار طريقے سے) آؤ اور تم پراطمينان لازم ہے- سو جو ملے پڑھ لو اور جو گزر جائے اسے (امام كے سلام پھیرنے كے بعد) مكمل كرلو-“ (صحيح البخارى كتاب الاذن: باب ما أدركتم فصلوا وما فاتكم فاتموا، ترمذى: أبواب الصلاة: باب فى المشي الى المسجد)

اس حديث ميں نماز كى طرف دوڑ كر آنے كى ممانعت كا حكم عا م ہے اور وہ شخص بهى اس ميں شامل ہے جسے تكبير اولىٰ كے گزر جانے كا خوف ہو- لہٰذا كسى بهى حالت ميں دوڑ كر مسجدكى طرف آنے سے پرہيز كرنا چاہئے- امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے بهى اسى مسلك كواختيار كيا ہے- (التمہيد: ٢٠/٢٣٣)

٢- صف بندى نہ كرنا

(١) اكثر لوگ نماز كے دوران صف ميں آگے پيچهے كهڑے ہوتے ہيں يعنى صف بالكل سيدھى نہيں ہوتى- يہ بہت قبيح حركت ہے اور آپﷺ نے اس كے متعلق بہت شديد وعيد فرمائى ہے -چنانچہ حضرت نعمان بن بشير رضی اللہ عنہ بيان كرتے ہيں: كان رسول الله يسوى صفوفنا حتىٰ كأنما يسوى بها القداح… الخ (صحيح مسلم) ” آپﷺ ہمارى صفيں اس طرح سے برابر (سيدھى) كيا كرتے تهے كہ گويا تير بهى ان صفوں سے سيدها كيا جاتا تها- يہاں تك كہ ہم بهى آپﷺ سے (صفوں كے برابر كرنے كى اہميت) سمجھ گئے- ايك دن آپﷺ (اپنے حجرہ سے) تشريف لائے اورنماز كے لئے كهڑے ہوگئے اور قريب تهے كہ تكبير تحريمہ كہتے كہ ايك آدمى كا سينہ صف سے كچھ نكلا ہوا آپﷺ نے ديكھ ليا- يہ ديكھ كر آپﷺ نے ارشاد فرمايا: اے اللہ كے بندو! اپنى صفيں سيدهى كرلو وگرنہ اللہ تمہارے درميان اختلاف ڈال دے گا-“

(٢) اكثر لوگ ايك دوسرے كے ساتھ مل كرنہيں كهڑے ہوتے جس كى وجہ سے درميان ميں خلا پيدا ہوجاتا ہے اور ا س خلا كے متعلق آپ ا نے فرمايا ہے: رصوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالاعناق فو الذى نفسى بيده…الخ (سنن ابى داود،كتاب الصلاة: باب تسوية الصفوف) ”اپنى صفيں ملى ہوئى ركهو( آپس ميں خوب مل كركهڑے ہو) اور صفوں كوقريب ركهو (يعنى دو صفوں كے درميان اس قدر فاصلہ نہ ہو كہ ايك صف اور آجائے) نيز اپنى گردنيں برابر ركهو (يعنى صف ميں تم ميں سے كوئى بلند جگہ پر كهڑا نہ ہو بلكہ ہموار جگہ پر كهڑا ہو)- قسم ہے اس ذات كى جس كے قبضے ميں ميرى جان ہے ميں شيطان كو بكرى كے كالے بچے كى طرح تمہارى صفوں كى كشادگى ميں گھستے ديكهتاہوں-“

٣- نيت كا زبان سے كرنا

جملہ اعمال كاانحصار نيت پر ہے جس كى تائيد آپﷺ كى اس حديث سے ہوتى ہے: انما الاعمال بالنيات وانما لكل امرئ ما نوي يعنى ”اعمال كا دارومدار نيت پر ہے اور ہرمرد (وعورت) كے لئے وہى ہے جس كى وہ نيت كرے“(صحيح بخارى)- اس لئے تمام اعمال ميں اور بالخصوص نماز ميں نيت كرنا ضرورى ہے اس بات كى تعيين كے ساتھ كہ نماز ظہر كى ہے يا عصر كى يا كوئى اور- ليكن اكثر لوگ نيت كے الفاظ زبان سے ادا كرتے ہيں جيسے ”ا س امام كے پيچهے ميں نماز پڑھ رہا ہوں، اتنى اتنى ركعات فلاں نماز كى وغيرہ“ يہ طريقہ درست نہيں كيونكہ نيت دل سے ارادہ كرنے كا نام ہے-(كتاب الفقہ على المذاہب الاربعہ: ١/٢٠٩) اسى بناپر اكثر علما نے زبان كے ساتھ نيت كرنے كو بدعت شمار كيا ہے كيونكہ اس كا كرنا نبى اقدسﷺ اور صحابہ كرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہيں اور نہ ہى تابعين و ائمہ اربعہ نے اسے مستحب قرار دياہے جيسا كہ ملا على قارى حنفى رحمہ اللہ نے حافظ ابن قيم  رحمہ اللہ كے حوالہ سے بيان كيا ہے-

٤- نماز ميں ٹخنے ڈهانپنا

دورانِ نماز دونوں ٹخنوں پر كپڑا لٹكانايعنى ٹخنوں كا چھپ جانا ايسا معاملہ ہے كہ جسے ہم روزمرہ زندگى ميں عام ديكهتے رہتے ہيں- نمازيوں كى اكثريت اس بات كا التزام نہيں كرتى كہ نماز ميں ٹخنوں پر سے كپڑا ہٹا ہوا ہونا چاہئے-اگرچہ بالخصوص دورانِ نماز ٹخنوں كے ننگے كرنے كے متعلق كوئى صحيح روايت وارد نہيں ہوئى(٣) ليكن عام زندگى ميں ٹخنوں كو چھپانے كے متعلق آپﷺ نے بہت شدت سے وعيد فرمائى ہے- ابوہريرہ رضی اللہ عنہ سے روايت ہے: قال النبى ما أسفل من الكعبين من الازار ففى النار ”آپ ا نے فرمايا جو كپڑا ٹخنے سے نيچے ہوگا، وہ (اپنے پہننے والے كو ) دوزخ ميں لے جائے گا“  (صحيح بخارى كتاب اللباس :باب ما أسفل من الكعبين فهو فى النار)

جب عام زندگى ميں اس قدر سخت تنبيہ ہے تو نماز ميں تو بدرجہ اولىٰ ا س كا گناہ اور سخت ہوگا- بهركيف اس كى نماز ہوجائے گى، يہى مسلك سعودى عرب كے مفتى ا عظم شيخ عبدالعزيز بن عبداللہ بن باز كا ہے- چنانچہ فرماتے ہيں : صلاة المسبل صحيحة ولكنہ آثم (مجموعہ فتاوىٰ : ٢/١٩٣) ”نماز ميں كپڑا لٹكانے والے كى نماز تو ہوجائے گى ليكن وہ گناہ گار ہوگا-“

٥- مقتدى كا نماز شروع كرنا اور امام كى متابعت نہ كرنا

جب امام ركوع يا سجدہ ميں ہو اور كوئى (مقتدى) آكر نماز شروع كرے تو اكثر لوگ تكبير تحريمہ كہہ كر پہلے ہاتھ باندهتے ہيں اور پهر تكبير كہہ كر جس حالت ميں امام ہوتا ہے، اس ميں شامل ہوجاتے ہيں-

اگرچہ اس طرح كرنا بهى جائز ہے، تاہم بہتر يہ ہے كہ مقتدى تكبير كہہ كر اس حالت ميں شامل ہوجائے جس ميں امام ہے، ہاتھ باندهنے كى ضرورت نہيں- اس كے علاوہ اگر ہاتھ باندھ كر شامل ہو توپهر مندرجہ ذيل حديث سے مطابقت نہيں رہتى جسے حضرت على رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے روايت كيا ہے كہ قال رسول الله إذا أتى أحدكم الصلوٰة والامام على حال فليصنع كما يصنع الامام (جامع ترمذى) ” آپﷺ نے ارشاد فرمايا كہ جب تم ميں سے كوئى شخص (جماعت ميں شريك ہونے كے لئے) نماز شروع كرے اور امام كسى حالت (قيام، ركوع يا سجدہ) ميں ہو تو جو كچھ امام كررہا ہے وہى كچھ اسے كرنا چاہئے-“

اگرچہ اس حديث كى سند ميں ضعف ہے، تاہم علما كا اس پر عمل ہے اور مولانا عبيداللہ رحمانى نے بهى اسے شواہد كى بنا پر قابل عمل قرار ديا ہے- (مرعاة المفاتيح: ٤/٩٩)… يہى مسلك علامہ نواب محمد قطب الدين خان دہلوى نے ابن ملك رحمہ اللہ كابهى نقل فرمايا ہے- ديكهئے ’مظاہر حق‘ شرح مشكوٰة المصابيح: ١/٥٠

نيز مقتدى كے لئے مستحب ہے كہ وہ مسجد ميں داخل ہوتے ہى امام كے ساتھ جماعت ميں شامل ہو اور اس كے قيام كى طرف لوٹنے كا انتظار نہ كرے-

٦- ركوع و سجود كى ادائيگى ميں جلدى كرنا

نماز كا اعتدال و اطمينان سے پڑهنا فرض ہے يوں كہ ہر ہڈى اور جوڑ اپنے مقام پر واپس آجائے- جو شخص اس كاالتزام نہيں كرے گا، اس كى نماز صحيح نہيں ہوگى-(٤) كيونكہ جس شخص كى نماز ميں اعتدال و طمينان نہيں تها، اسے آپﷺ نے بار بار مكمل اطمينان و سكون سے ادائيگى اركان كا حكم ديا- چنانچہ حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ سے روايت ہے ان النبى دخل المسجد فدخل رجل فصلىٰ ثم جاء فسلم على النبى فرد عليه النبى فقال ارجع فصل فانك لم تصل… الخ (صحيح البخارى: باب أمر النبى الذي لا يتم ركوعه بالاعادة) ”آپﷺ مسجد ميں تشريف لائے تو اتنے ميں ايك شخص آيا، اس نے نماز پڑهى پهر آپﷺ كوسلام كيا- آپﷺ نے سلام كا جواب ديا اور فرمايا كہ جا پهر نماز پڑھ، تو نے نماز نہيں پڑهى- وه گيا اور (پهر) نماز پڑهى- پهر آكر آپﷺ كوسلام كيا تو آپﷺ نے فرمايا: جا نماز پڑھ تو نے نماز نہيں پڑهى- تين بار يہى ہوا- آخر وہ كہنے لگا: قسم اس ذات كى جس نے حق كے ساتھ آپ كو مبعوث كيا !ميں اس سے اچهى نماز نہيں پڑھ سكتا، مجهے سكهلايئے-  تو آپﷺ نے فرمايا كہ جب نما زكے لئے كهڑا ہو تو تكبير كہہ ، پهر جتنا قرآن تجهے ياد ہو اور آسانى سے پڑھ سكے وہ پڑھ ، پهراطمينان سے ركوع كر، پهر سر اٹها يہاں تك كہ سيدها كهڑا ہوجائے، پهر اطمينان و سكون سے سجدہ كر، پهر سجدے سے سر اٹها اور اطمينان سے بیٹھ، پهردوسرا سجدہ اطمينان سے ٹھہر كر ادا كر اور اسى طرح سارى نماز پڑھ-“

مندرجہ بالا حديث سے نماز كى ادائيگى مكمل اطمينان و سكون سے كرنے كا علم ہوتاہے، تاہم آپﷺ نے خصوصيت كے ساتھ ركوع و سجود كومكمل طمانيت سے كرنے كا حكم فرمايا ہے-ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روايت ہے :

قال رسول الله أشر الناس سرقة الذى يسرق من صلاته… الخ ”آپﷺ نے ارشاد فرمايا كہ سب سے بُرا چور وہ ہے جو اپنى نما زميں چورى كرتا ہے- صحابہ كرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض كيا يارسول اللہﷺ! كوئى شخص اپنى نماز ميں چورى كيسے كرسكتا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمايا كہ اس كے ركوع اور سجود پورے نہيں كرتا (يا فرمايا كہ) وہ ركوع اور سجود ميں اپنى كمر سيدهى نہيں كرتا-“ (مسند امام احمد بن حنبل)

٧- امام سے قبل حركت كرنا

من جملہ ان اغلاط كے جن سے پرہيز كرنے كى بہت تاكيد كى گئى ہے، امام سے پہلے حركت كرنا بهى ہے- اكثر لوگ امام سے پہلے ہى سجدہ يا ركوع ميں چلے جاتے ہيں اور امام كے سراٹهانے سے قبل ہى سر اٹها ليتے ہيں- يہ نہايت قبيح حركت ہے اور اس پر آپﷺ نے بہت شديد وعيد فرمائى ہے ،حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ سے روايت ہے: عن النبى قال أما يخشى أحدكم أو ألا يخشى أحدكم إذا رفع رأسه قبل الامام أن يجعل الله رأسه حمار أو يجعل الله صورته صورة حمار ” آپﷺ نے ارشاد فرمايا كہ كيا تم ميں سے جو امام سے پہلے اپنا سراٹهاتا ہے اس بات سے نہيں ڈرتا كہ اللہ تعالىٰ اس كا سر گدهے كا كردے يا اس كى صورت گدهے كى سى كردے-“   (صحيح بخارى باب إثم من رفع رأسہ قبل الأمام وسنن ابى داود، كتاب الصلوٰة)

مذكورہ روايت سے صريحاً يہ بات معلوم ہوتى ہے كہ نماز ميں امام كى متابعت لازم ہے اور اسى لئے جمہور علما كے نزديك امام سے قبل حركت كرنے والا گناہ گار ہوگا چہ جائيكہ اس كى نماز ہوجائے- جبكہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، امام احمد رحمہ اللہ اور ظاہريہ كے نزديك جو شخص قصداً امام كى متابعت سے اعراض كرے گا اور ركوع و سجود ميں امام سے پہلے جائے گا تو اس كى نماز ہى نہيں ہوگى- تاہم جو شخص بهول كر امام سے پہلے ركوع يا سجدہ ميں سے سر اٹهالے تو اس كے لئے مسنون يہ ہے كہ وه پهر ركوع يا سجدہ ميں چلا جائے جيسا كہ امام مالك رحمہ اللہ كا مسلك ہے-

٨- ركوع و سجود ميں امام كى موافقت نہ كرنا

بعض لوگ جب فرض نماز امام كے پیچھے ادا كرتے ہيں تو امام جب ركوع يا سجدے سے سراٹهاتا ہے تو وہ كافى دير بعد ركوع يا سجدے سے سراٹهاتے ہيں حتىٰ كہ امام دوسرے سجدے ميں جاچكا ہوتا ہے اور وه ابهى پہلے سجدے سے سراٹها رہے ہوتے ہيں، يہ فعل درست نہيں- اس ميں تو كوئى شك نہيں كہ مقتدى كے جملہ افعال امام كے بعد ہونے چاہئيں ليكن امام كى اقتدا سے غافل رہنا نماز كے وجود كو خطرے ميں ڈالنا ہے جو بهرصورت درست نہيں- لہٰذا اس سے پرہيز ضرورى ہے اور اس سارے عمل كا محرك يہ ہے كہ ركوع و سجود ميں تسبيحات كى تعداد متعين ہے يعنى كم از كم تين بار، اس سے زيادہ پانچ ، سات يا نو بار، جس شخص كى تسبيح اس تعداد كے اوپر نيچے ہوتى ہے وہ تب تك اپنا سر نہيں اٹهتا جب تك كہ وہ ان ميں سے كسى ايك كو پورا نہ كرلے حالانكہ تسبيحات كے لئے كوئى عدد مقرر نہيں، حسب ِاستطاعت پڑهى جاسكتى ہيں-امام شوكانى رحمہ اللہ فرماتے ہيں: ولا دليل على تقييد الكمال بعدد معلوم بل ينبغى الاستكثار من التسبيح على مقدار تطويل الصلاة من غير تقيد بعدد ”تسبيحات مقرر كرنے كى كوئى دليل نہيں بلكہ نماز كى طوالت كے حساب سے بغير مقرر كئے تسبيحات كى تعداد ميں اضافہ كرنا چاہئے-“ (نيل الاوطار، كتاب الصلاة: ٢/٢٥٦)

٩- آنكھیں بند كركے نماز پڑهنا

قرآن حكيم ميں صرف نماز كى فرضيت وغيرہ كا بيان ہے، احكام كا تذكرہ نہيں- لہٰذانماز كى ادائيگى كے لئے ہم سو فيصدى حديث ِنبوى كے محتاج ہيں- اس لئے جو بات آپﷺ سے ثابت نہيں،اس سے ہميں بهى احتياط لازم ہے-انہى امور ميں آنكھیں بند كركے نماز پڑهنا بهى شامل ہے- معلوم نہيں ا س سے لوگ كون سے خشوع كے حصول كو ممكن بناتے ہيں حالانكہ آپﷺ سے بڑھ كر كون خشوع كرنے والا ہوگا؟ جب نبىﷺ ہى سے ايسا كرنا ثابت نہيں تو اس سے لازماً پرہيز كرنا چاہئے۔البتہ ان حالات ميں فقہا نے آنكھیں بند كركے نماز پڑهنے كى اجازت دى ہے جب نمازى كے پاس غير ضرورى حركات و سكنات ا س كى نماز ميں خلل انداز ہوں- يہ خيال كہ نماز ميں آنكھیں بند كرنے كا سبب خيالات و وساوس كا آنا ہے، بے بنياد ہے كيونكہ اگر خيالات غير اختيارى ہوں تو ان پر اللہ تعالىٰ كے ہاں كوئى موٴاخذہ نہيں- ا س لئے وہ نماز جو آنكھیں كهول كر اتباعِ سنت ميں پڑهى جارہى ہے اور اس ميں غير اختيارى خيالات بهى آرہے ہيں، اس نماز سے بدرجہ افضل ہے جو آنكھیں بند كركے پڑهى جارہى ہے اور اس ميں خيالات نہيں آرہے- اس لئے كہ پہلى نماز نبى كريمﷺ كى اتباع ميں اد كى جارہى ہے جب كہ دوسرى نماز اتباعِ رسولﷺ ميں نہيں ہے-( صفة صلاة النبىﷺ از البانى رحمہ اللہ: ص ٨٩) مولانا محمد تقى عثمانى كا ميلان بهى اسى جانب ہے- (ديكهئے ’بدعت؛ ايك سنگين گناه‘ :ص ٢٣ تا٢٦)

١٠- سجدوں ميں پاؤں كا ملانا

اكثر لوگ سجدوں ميں پاؤں كوايك دوسرے سے دور ركهتے ہيں حالانكہ صحيح حديث سے ثابت ہے كہ نبىﷺ سجود ميں اپنى ايڑيوں كو ملايا كرتے تهے- (صحيح ابن خزيمہ، كتاب الصلاة: باب ضم العقبين فى السجود)… اس لئے اس كى بهى تصحيح كرنى چاہئے كہ سجدوں ميں دونوں پاؤں كى ايڑياں ايك دوسرى سے ملى ہوئى ہوں

١١- سجدوں ميں ہاتهوں كى انگليوں كا كهلا ہوا ہونا

اكثر لوگ سجدہ ميں اپنے ہاتهوں كى انگليوں كو كهلا ہوا ركهتے ہيں، يہ طريقہ خلافِ سنت ہے- انگلياں باہم ملى ہوئى ہونى چاہئے- چنانچہ آپﷺ جب سجدہ كرتے تو آپﷺ كے ہاتهوں كى انگلياں ملى ہوئى ہوتى تهيں- (صحيح ابن خزيمہ)

١٢- دورانِ نماز تمام اعضاكا قبلہ رخ نہ كرنا

شايد يہ سب سے اہم غلطى ہے جس كا ارتكاب نمازيوں كى اكثريت كرتى ہے- جو لوگ دورانِ نماز بالكل سيدهے قبلہ رخ پاؤں ركهتے ہيں، ان كى تعداد انگليوں پر شمار كى جاسكتى ہے- اسى طرح ان لوگوں كى تعداد بهى جو اپنے ہاتهوں كى انگليوں كو سجدہ ميں بالكل سيدهى ركهتے ہيں- چنانچہ اس كا ہم بكثرت مشاہدہ كرتے ہيں كہ اكثريت كے اعضا شمالاً جنوباً ہوتے ہيں نہ كہ قبلہ كى طرف- يہ امر خلافِ استجاب ہے جس كى تصحيح ضرورى ہے- حضرت ابوحميد ساعدى رضی اللہ عنہ سے روايت ہے: كان رسول الله إذا قام إلى الصلوٰة استقبل القبلة(ابن ماجہ، باسناد صحيح ) ” آپ ا جب نماز كے لئے كهڑے ہوتے تو اپنا رخ قبلے كى طرف كرتے- اس حديث سے استدلال كيا گيا ہے كہ جب چہرے كا رخ قبلہ كى جانب ہوگا تو لا محالہ باقى اعضا بهى اسى جانب ہوں گے- “

نيز اس كى تائيد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاكى روايت كردہ اس حديث سے بهى ہوتى ہے جس ميں آپﷺ سجدے ميں اپنے دونوں پاؤں كا انگليوں كا رخ قبلہ كى طرف كئے ہوئے تهے- (صحيح ابن خزيمہ)

١٣- نماز باجماعت كے ہوتے ہوئے نوافل و سنن كى ادائيگى

اس مسئلے سے اكثر لوگوں كو واسطہ پڑتا ہے، اسى لئے ہم مساجد ميں كثرت سے اس كا مشاہدہ كرتے ہيں كہ نماز كى اقامت ہوچكى ہوتى ہے، اس كے باوجود لوگ نوافل و سنن بالخصوص فجر كى دو سنتوں ميں مشغول ہوتے ہيں- ا س مسئلے كى اہميت كے پيش نظر فقہا نے اسے تفصيل سے بيان كيا ہے- ہم مختصراً اسے بيان كرتے ہيں- اقامت كے بعد نوافل و سنن كى ادائيگى كى دو صورتيں ہيں :

(١) وہ لوگ جو نوافل و سنن (سنتيں چاہے فجر كى ہوں يا عصر كى ) پڑھ رہے ہوں اور نماز باجماعت كى اقامت كہہ دى جائے تو اس صورت ميں نمازى جس حالت (قيام، ركوع يا سجدہ) ميں ہو، فورا ً اپنى نماز كوسلام پهير كر ختم كرے اور امام كے ساتھ نماز باجماعت ميں شامل ہو- اس كى دليل نبى اكرم ﷺ كى يہ حديث ہے: عن ابى هريرة قال: قال رسول الله اذا اقيمت الصلوٰة فلا صلاة الا المكتوبة يعنى ”حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ سے روايت ہے كہ آپﷺ نے فرمايا كہ جب (فرض) نماز كى اقامت كہہ دى جائے تو پهراس كے سوا اور كوئى نماز نہيں-“ (صحيح مسلم كتاب صلاة المسافرين)

شيخ ابن باز اور مولانا عبيداللہ رحمانى كا يہى مسلك ہے-(فتاوىٰ : ٤/٣٧٦ و مرعاة المفاتيح: ٣/٥٠١)

(٢) وہ لوگ جوفجر كى پہلى دو سنتيں نہ پڑھ سكے ہوں اور جب وہ مسجد ميں داخل ہوں تو نماز كى اقامت كہى جاچكى ہو، ايسى حالت ميں بهى وہ امام كے ساتھ جماعت ميں شريك ہوں- اس كى دليل بهى مندرجہ بالا سطور ميں ذكر كى گئى حديث ہى ہے اور نمازِفجر كى ادائيگى كے بعد اگر وہ سنتوں كى قضا كرنا چاہيں تو انہيں فرائض كے فوراً بعد پڑھ ليں اور اگر ممكن نہ ہو تو طلوعِ آفتاب كے بعد پڑھ ليں-مام شافعى، ابن حزم اور ابراہيم نخعى رحمہم اللہ كا يہى قول ہے-

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روايت كيا گيا ہے كہ وہ اس شخص كو مارتے تهے جو اپنى انفرادى نماز ميں مشغول ہوتا تها اور اقامت ہوچكى ہوتى تهى- (مرعاة المفاتيح: ٣/٤٩٥)

١٤- بغير كسى عذر كے فرض نماز كى گهر ميں ادائيگى

يہ مسئلہ بهى انتہائى اہميت كا حامل ہے جس كا اندازہ ہم بغير كسى عذر كے فرض نماز كى گهر ميں ادائيگى كرنے والے افراد كى كثرت سے لگا سكتے ہيں- عوام الناس كى كثير تعداد اس معاملے ميں غفلت و سستى كا شكار ہے، صرف اس بنا پركہ وہ اسے ايك معمولى مسئلہ خيال كرتے ہيں- چنانچہ واضح ہو كہ اسلام كے تمام اوامر و نواہى حكمت و فلسفہ سے معمور ہيں اور اللہ تعالىٰ نے ملت ِاسلاميہ كو ايك بهى ايسا حكم نہيں ديا جس ميں فوز و فلاح كے اَن گنت پہلو مضمر و پوشيدہ نہ ہوں- بالكل يہى معاملہ نما زباجماعت كا ہے جس كے فوائد وثمرات پر غوروفكر اور تدبر كے بجائے اس كى اہميت و افاديت سے صرفِ نظر كياجارہا ہے جو كہ ايك افسوسناك امر ہے-

اس تفصيل سے قطع نظر كہ نما زباجماعت كے كس قدر فوائد ہيں، يہ پہلو قابل غور ہے كہ جو شخص نماز كى ادائيگى بطورِ رسم كرتا ہے، وہ مسجد ميں كم ہى نظر آتا ہے اور اكثر و بيشتر گهر ہى ميں نماز كى ادائيگى كرليتا ہے- جبكہ وہ شخص جو اللہ كے حكم كى تعميل كے ساتھ ساتھ نماز كے فوائد كا طالب بهى ہوتا ہے، نما زباجماعت پر مداومت و ہميشگى كرتا ہے، اگرچہ كسى شرعى عذر كے بغير اكيلے نماز پڑهنے والے كى نماز تو ہوجاتى ہے- (تفصيل كے لئے :تمام المنة ازالبانى: ص٢٧٧ اور تيسير العلام: ١/١٣٦) مگر ايسى عبادت سے كيا حاصل جو آپﷺ كے حكم سے اعراض كرتے ہوئے ادا كى جائے-

مناسب معلوم ہوتا ہے كہ نما زباجماعت كى تاكيد و تلقين ميں جو احاديث وارد ہوئى ہيں ان ميں سے چند ايك نقل كردى جائيں جو طوالت كا باعث تو ہوں گى مگر مسئلہ كى اہميت اس كى متقاضى ہے:

(١)حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ سے روايت ہے كہ آپﷺ نے ارشاد فرمايا: ”قسم ہے اس ذات كى جس كے قبضہ ميں ميرى جان ہے، ميں نے ارادہ كيا كہ لكڑياں جمع كرنے كا حكم دوں اور جب يہ جمع ہوں جائيں تو نماز كے لئے اذان كہنے كا حكم دوں اور جب اذان ہوجائے تو لوگوں كو نماز پڑهانے كے لئے كسى شخص كو مامور كروں اور ميں ان كو پيچهے چهوڑ كر ان لوگوں كے پاس جاؤں جو (بغير كسى عذر كے) جماعت ميں حاضر نہيں اور ان كے گهر جلادوں- قسم ہے اس كى جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے كہ جماعت ميں نہ آنے والوں ميں سے اگر كسى كو يہ معلوم ہوجائے كہ اسے گوشت كى ايك موٹى ہڈى ملے يا دو اچهے گهر مليں گے تو عشا كى نماز ميں ضرور آئے-“ (صحيح البخارى ،كتاب الاذان: باب وجوب صلاة الجماعة)

(٢) حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ سے روايت ہے كہ ايك نابينا شخص (عبداللہ بن امّ مكتوم رضی اللہ عنہ ؛مرعاة المفاتيح : ٣/٤٨٧) آپﷺ كى خدمت ميں حاضر ہوا اور عرض كيا كہ يارسول اللہﷺ! ميرے لئے كوئى ايسا رہبر نہيں جو مسجد تك ميرى رہنمائى كرے، پهر اس نابينا نے آپﷺ سے درخواست كى كہ انہيں گهر ميں نماز پڑھ لينے كى رخصت دى جائے، آپﷺ نے انہيں اجازت مرحمت فرما دى- جب وہ مجلس نبوى سے لوٹے تو آپﷺ نے انہيں بلوايا اور پوچها كہ كيا تم نمازكى اذان سنتے ہو؟ انہوں نے كہا كہ ہاں! تو آپﷺ نے فرمايا كہ تب تمہارے لئے مسجد ميں نما زكے لئے حاضر ہونا ضرورى ہے- (صحيح مسلم، سنن نسائى)

(٣) حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روايت ہے كہ آپﷺ نے فرمايا: ”جس بستى اور جس جنگل ميں تين آدمى ہوں اور جماعت سے نماز نہ پڑهتے ہوں تو ان پر شيطان غالب رہتا ہے- لہٰذا تم جماعت كو اپنے اوپر لازم كرلو كيونكہ بهيڑيا ا س بكرى كو كها جاتا ہے جو ريوڑ سے الگ ہو كر تنہا رہ جاتى ہے-“ (مسند احمد، سنن ابى داود، سنن نسائى، صحيح ابن خزيمہ، باسناد ٍصحيح)

(٤) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ راوى ہيں كہ آپﷺ نے ارشاد فرمايا: ”جو شخص اذان كہنے والے يعنى موٴذن كى اذان سنے اور اس كى تابعدارى (يعنى مسجد ميں پہنچ كر جماعت ميں شريك ہونے سے) اسے كوئى عذر نہ روكے… لوگوں نے پوچها كہ عذر كيا ہے؟ فرمايا: خوف يا بيمارى… تو اس كى نماز بغير جماعت كے قبول نہيں ہوتى-“

(٥)  ابوالاحوص رحمہ اللہ نے كہا كہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرماياكہ ”ہم نے ديكها كہ نماز باجماعت سے صرف وہى منافق پیچھے رہ جاتے تهے جن كا نفاق معلوم اور كهلا ہوتا تها (يعنى جن لوگوں كا نفاق پوشيدہ تها، وه بهى جماعت سے نماز پڑهتے تهے) يا بيمار رہ جاتے تهے- اور ان ميں سے بهى جوچلنے كى طاقت ركهتا، وه دو آدميوں كے كندهوں پر ہاتھ ركھ كر آتا اور نماز ميں ملتا تها-“ ا س كے بعد ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمايا كہ ”بے شك آپﷺ نے ہميں ہدايت كے طريقے سكھائے ہيں اور ہدايت كے ان طريقوں ميں سے ايك طريقہ اس مسجد ميں(جماعت سے) نماز پڑهنا ہے جس ميں اذان دى جاتى ہو-“ (صحيح مسلم، كتاب المساجد: باب فضل صلاة الجماعة)

امام غزالى رحمہ اللہ بيان كرتے ہيں كہ سعيد ابن مسيب رضی اللہ عنہ فرماتے تهے كہ ”بيس برس گزر گئے، جب بهى موٴذن اذان ديتا ہے، ميں خود كو مسجد ميں پاتا ہوں-“ (احياء علوم الدين از غزالى : ١/٢٧٤، كتاب اسرار الصلوٰة)

سطورِ بالا ميں ذكر كئے گئے آثار ہى كى بنا پر امام احمد حنبل، عطا، اوزاعى، ابن ثور، ابن منذر، ابن خزيمہ اور ابن حبان رحمہم اللہ كے نزديك نماز باجماعت فرضِ عين ہے- داود ظاہرى نے مبالغہ كيا اور كہا كہ جماعت نماز كے لئے شرط ہے- امام شافعى رحمہ اللہ كے نزديك نما زباجماعت فرضِ كفايہ ہے جب كہ حنفيہ اور مالكيہ كے نزديك يہ سنت ِموٴكدہ ہے-

قريب كے علما ميں شيخ عبدالعزيز بن باز رحمہ اللہ اور شيخ محمدناصر الدين البانى رحمہ اللہ كے نزديك نماز باجماعت واجب ہے- (مجموعہ فتاوىٰ : ٤/٣٤٩ تا ٣٥٥) و تمام المنة: ص٢٧٥ تا ٢٧٧)

دين اسلام ميں والدين كى اطاعت و فرمانبردارى امر مسلم ہے، جس سے فرار كسى صورت بهى ممكن نہيں- ا س كے باوجود اسلاف ميں سے بعض ائمہ نے فرمايا كہ جماعت كے ترك كرنے ميں والدين كى اطاعت جائز نہيں يعنى اگر وہ اپنى اولاد سے كہيں كہ نماز باجماعت چهوڑ دو تو اس ميں ان كى فرمانبردارى جائز نہيں جيسا كہ امام بخارى رحمہ اللہ نے اپنى صحيح كے ترجمة الباب ميں ذكر كيا ہے: باب وجوب صلوٰة الجماعة و قال الحسن: إن منعته أمه عن العشاء فى الجماعة شفقة لم يطعها ”نماز باجماعت كے واجب ہونے كے بيان ميں اور حسن بصرى رحمہ اللہ نے كہا كہ اگر كسى كى ماں اس كو شفقت كى وجہ سے عشا كى نما زباجماعت پڑهنے سے روكے تو وہ اس كى اطاعت نہ كرے-    (مزيد تفصيل كے لئے ملاحظہ كيجئے، مرعاة المفاتيح: ٣/٥١٢)

مندرجہ بالا بحث فرائض كے متعلق تهى جب كہ سنن و نوافل وغيرہ كى بغيركسى عذر كے گهر ميں ادائيگى افضل ہے جس پر مختلف روايات دلالت كرتى ہيں-مزيد تفصيل كے لئے :معارف السنن: ٤/١١٠، از مولانا محمديوسف بنورى اور أوجز المسالك إلى موطأ مالك:٣/٢٤٤ تا ٢٤٦، از مولانا محمد زكريا كاندہلوى

١٥- سگريٹ نوشى كے بعد مسجدميں آنا

اسلام نے اشياءِ خوردونوش ميں سے ہر اس چيز كے استعمال كى ممانعت كى ہے جس كے اثرات نوعِ انسانى كے لئے مفيد نہ ہوں- چنانچہ اسلام كى حرام كردہ اشياے خوردونوش ميں موجود نقصانات كى تحقيق بخوبى ہوچكى ہے جس كا تفصيلى ذكر علامہ ڈاكٹر يوسف قرضاوى نے اپنى كتاب الحلال والحرام في الاسلامميں كيا ہے- بلاشك و شبہ انہى ممنوع اشيا ميں عصر حاضر كى ايك نئى ايجاد ’سگريٹ‘ ہے- جديد تحقيق كے مطابق يہ كينسر كا باعث ہونے كے علاوہ ايك سگريٹ پينا گيارہ منٹ زندگى كو كم كرديتا ہے- يہ اور ان جيسى دوسرى وجوہات ہى كى بنا پر علماے عرب كا اس كى حرمت پراتفاق ہے، جن ميں شيخ عبدالعزيز بن باز رحمہ اللہ (سابق مفتى اعظم سعودى عرب) اور ڈاكٹر يوسف قرضاوى وغيرہ شامل ہيں- مسلمانوں كا اس نقصان دہ شے كو بے دريغ استعمال كرنا ايك تكليف دہ حقيقت ہے-

اس كے استعمال پر مستزاد يہ كہ لوگ سگريٹ نوشى كے فوراً بعد مسجد ميں نماز كے لئے آجاتے ہيں اور ان كے منہ سے ان كى بدبو خارج ہورہى ہوتى ہے-حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روايت ہے :

ان النبى قال فى غزوة خيبر: من اكل من هذه الشجرة يعنى الثوم فلا يقربن مسجدنا (اللوٴلوٴ والمرجان از محمد فوادعبدالباقى: ١/١٥٨ ، حديث نمبر: ٣٣١) ”آپﷺ نے غزوئہ خيبر ميں فرمايا كہ جو شخص اس درخت يعنى لہسن ميں سے كهائے وہ ہمارى مسجد كے پاس نہ آئے-“

دوسرى حديث حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروى ہے كہ ان النبى قال: من أكل ثوما أوبصلا فليعتزلنا أو قال فليعتزل مسجدنا وليقعد فى بيته (اللوٴلوٴ والمرجان :حديث ٣٣٣) ”نبى كريمﷺ نے فرماياكہ جو شخص لہسن يا پياز كهائے، وہ ہم سے يا ہمارى مسجد سے الگ رہے اور اپنے گهر بيٹها رہے-“ (وہيں نماز پڑھ لے)

درحقيقت مندرجہ بالا احاديث سے مراد يہ ہے كہ ہر وہ چيز جس كى و جہ سے نمازيوں اور مسجد ميں موجود فرشتوں كو تكليف پہنچتى ہو، كہاكر مسجد ميں آنا منع ہے جيسا كہ مولانا انور كشميرى رحمہ اللہ اور شيخ عبداللہ بن عبدالرحمن (صاحب ِ’تيسير العلام‘ )كا مسلك ہے- (فيض البارى : ٢/٣٢٠و تيسيرالعلام :١/٢٧٠ )

اگر مبالغے پرمحمول نہ كيا جائے تو اس ميں كوئى شبہ نہيں كہ (كچے) لہسن اور پياز كى بدبو سگريٹ كى بدبو سے كئى گنا كم ہے- لہسن اور پياز كى بدبو تو وقتى ہوتى ہے جبكہ سگريٹ كى بدبو مستقل ہوتى ہے جس كا تجربہ كسى سگريٹ نوش كے پاس بيٹهنے والے كو بآسانى ہوسكتا ہے جبكہ اسے سگريٹ پئے كافى گهنٹے گزر چكے ہوں- چنانچہ اوّل تو ہر شخص سگريٹ پينے سے بچے، وگرنہ مسجد ميں آتے وقت ايسا انتظام كرے كہ اس كا منہ سگريٹ كى بدبو سے بالكل پاك ہو- معروف سعودى مفتى ڈاكٹر صالح بن غانم سدلان كى بهى يہى رائے ہے- (صلاة الجماعة: ص ٣٨ )

لہسن اور پياز كے متعلق مندرجہ بالااحاديث سے كسى كو يہ شبہ نہ ہو كہ ان كا كهانا حرام ہے - يہ بالكل حلال ہيں، ہاں چند مخصوص حالات ميں ان كے كهانے كى ممانعت ہے يعنى مسجد جانے سے قبل جيساكہ ذكر ہوا-(فيض البارى : ٢/٣٢٠ و فتح البارى : ٢/٤٣٦، نسخہ از محمدفواد عبدالباقى)

سطورِ بالا ميں چند اُن امور كى مجملاً وضاحت كى گئى ہے كہ جن سے ہر نمازى كو بارہا مرتبہ واسطہ پڑتا ہے- ان كے علاوہ ديگر اُمور بهى ہيں جن كى اصلاح كى ضرورت ہے مگر طوالت كا خوف مانع ہے- بہرطور ضرورت اس امر كى ہے كہ نماز ميں موجود ان كوتاہيوں كى اصلاح كى جائے تاكہ صحيح طرح سے سنت رسولﷺ كے مطابق نماز كى ادائيگى ہوسكے-                واللہ ولى التوفيق

١-لفظ الصلوٰة قرآن ميں ٩٩مرتبہ آيا ہے مگر نماز كے معنى ميں ٩١ مرتبہ ہے- ديكهئے: المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الكريم از محمد فواد عبدالباقى- مادّہ ص ل و

٢-مرقاة المفاتيح از ملا على قارى حنفى: ١/٤١، الشيخ عبيد اللہ الرحمانى، الشيخ عبدالعزيز بن باز اور علامہ محمد ناصر الدين الالبانى رحمہم اللہ كا بهى يہى مسلك ہے- تفصيل كے لئے ديكهئے مرعاة المفاتيح: ٣/٨٦، صفة صلاة النبىﷺ از محمد ناصرالدين الالبانى: ص٨٦، مكتبة المعارف (الرياض) كيفية صلاة النبىﷺ لسماحة الشيخ عبدالعزيز بن باز، ص٥

٣-اس باب ميں ايك روايت بيان كى جاتى ہے- عن ابى ہريرة قال بينمار رجل يصلى مسبلا ازاره اذ قال لہ … الخ-

(سنن ابى داؤد، كتاب الصلاة باب الاسبال فى الصلوٰة) یعنى حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہيں كہ ايك شخص چادر لٹكائے نماز پڑھ رہا تها- سروركائناتﷺ نے (يہ ديكھ كر)اس سے فرمايا كہ جاؤ اور وضو كرو- وہ شخص گيا اوروضو كر آيا- ايك شخص نے آپﷺ سے عرض كيا كہ يارسول اللہﷺ! آپ نے اس شخص كووضو كرنے كا حكم كيوں ديا؟ (حالانكہ وہ باوضو تها) آپﷺ نے فرمايا كہ وہ اپنى چادر لٹكائے ہوئے نماز پڑھ رہا تها اور جو شخص چادر لٹكائے ہوئے ہو اللہ تعالىٰ اس كى نماز قبول نہيں كرتے- ليكن اس روايت ميں ضعف ہے كيونكہ اس كے رواة ميں سے ايك راوى ابوجعفر ہے جوكہ غير معروف ہے اس لئے نماز ميں چادر لٹكانے كا گناہ اپنى جگہ ليكن اس كے لئے اس روايت سے استنباط نہيں كيا جاسكتا- روايت كى تخريج كے لئے ديكهئے تنقيح الرواة فى تخريج احاديث المشكوٰة: ١/١٣٧، ناشر المجلس العلمى السلفى لاہور-

٤-ديكهئے نيل الاوطار از شوكانى: ٢/٢٧٢تا ٢٧٧

حنفيہ كے نزديك نماز ميں اعتدال و اطمينان فرض نہيں واجب ہے، يعنى اگر نماز سكون و اطمينان سے نہ پڑهى جائے تو اگرچہ نماز ہوجائے گى ليكن واجب كو ترك كرنے كا گناہ ہوگا- ديكهئے كتاب الفقہ على المذاہب الاربعہ از عبدالرحمن الجزيرى: ١/٢٣٤، كتاب الصلاة-

٥-ان كا نام خلاد بن رافع تها جيسا كہ امام شوكانى رحمہ اللہ ن ابن ابى شيبہ رحمہ اللہ كے حوالہ سے بيان كى- نيل الاوطار:٢/٢٧٣

٦-خشوع اور خضوع دو الگ الگ معنى والے الفاظ ہيں- خضوع كہتے ہيں دل كى عاجزى و انكسارى كوجب كہ خشو ع ظاہرى عاجزى و فروتنى كا نام ہے-

٧-فجر كى سنتوں كى قضا كے مسئلے ميں علماء نے اختلا ف كيا ہے- چنانچہ امام ابوحنيفہ اور امام ابو يوسف رحمہما اللہ كى رائے ميں جس شخص كى فجر كى سنتيں رہ جائيں اور وہ فرض ادا كرلے تو ايسى صورت ميں سنتوں كى قضاء نہ طلوع آفتاب سے پہلے ہے اور نہ طلوع آفتاب كے بعد ليكن اگر سنتيں اور فرض دونوں ہى رہ جائيں تو پهر وہ فرضوں كے ساتھ زوال آفتاب سے پہلے قضاء پڑهى جائيں گى جب كہ امام محمد رحمہ اللہ كى رائے ميں محض سنتوں كى قضاء بهى كى جاسكتى ہے مگر طلوع آفتاب كے بعد سے زوال تك- حنفيہ ہى ميں سے ابن الملك رحمہ اللہ كى رائے كے مطابق فجر كى سنتوں كى قضاء نماز فجر كے بعد طلوع آفتاب سے قبل كى جاسكتى ہے- يہى مسلك امام شافعى رحمہ اللہ كا ہے اور اہل حديث حضرات كا رجحان بهى اسى جانب ہے- مزيد توضيح كے لئے ديكهئے: اوجز المسالك الى موطا مالك از مولانا محمد زكريا كاندہلوى رحمہ اللہ : ٢/٣٨٢ تا ٣٨٤، مظاہر حق شرح مشكوٰة المصابيح از علامہ نواب محمد قطب الدين خان دہلوى: ١/٦٩٥ ، ٦٩٦

٨-امام اعظم ابوحنيفہ رحمہ اللہ كا اس بارے ميں مسلك يہ ہے كہ جو شخص مسجدميں داخل ہو اور نما ز فجر كى اقامت ہوچكى ہو تو اگر تو اسے اميد ہو كہ وہ نماز باجماعت كے ساتھ دوسرى ركعت پالے گا پهر تو وہ فجر كى سنتيں پڑھ لے مگر مسجد سے باہر اور اگر اسے دونوں ركعتوں كے گزر جانے كا خوف ہو تو پهر وہ امام كے ساتھ شامل ہو اور سنتوں كى ادائيگى بعد ميں نہ كرے- مولانا انور كشميرى رحمہ اللہ نے امام صاحب رحمہ اللہ كا يہى مسلك بيان كيا ہے- ديكهئے فيض البارى على صحيح البخارى: ٢/١٩٧، ١٩٨

٩-اسى بناء پرامام النووى رحمہ اللہ فرماتے ہيں كہ بغير كسى عذر كے اكيلے نماز پڑهنے والے سے نماز كى فرضيت تو ساقط ہوجائے گى مگر اس كے ثواب سے وہ محروم رہے گا جيسے اگر كوئى شخص غصب كى ہوئى زمين پر نماز پڑهے تو اس كے ذمہ سے نماز كى فرضيت تو ساقط ہوجائے گى مگر اسے نما ز كا ثواب نہيں ملے گا تفصيل كے لئے ملاحظہ كيجئے: مرقاة المفاتيح از ملا على قارى حنفى: ٣/٦٠

١٠-سنن ابى داود، عموم كے لحاظ سے يہى چند ايك عذر ہيں جن كى وجہ سے اكيلے نماز پڑهى جاسكتى ہے يعنى بيمارى كى انتہائى شدت، جان ، مال اور عصمت وغيرہ كا خطرہ اور بارش كے اوقات ميں اباحت ہے دريں اثنا خود ساختہ اعذار كى بنا پر نما زباجماعت ترك نہيں كى جاسكتى كيونكہ جو شخص بهى نماز باجماعت چهوڑتا ہے اسے كوئى نہ كوئى عذر تو لازمى درپيش ہوتا ہے مگر دين اسلام ميں تحكم یعنى من مانى تاويلات سے احتراز كرنا چاہئے اور فاسد وجوہ كى بنا پر نما زباجماعت كو نہيں چهوڑنا چاہئے- والله اعلم بالصواب

١١- احناف كى كتب فقہ ميں جماعت سے متعلق دو قسم كے اقوال ملتے ہيں، سنت موٴكدہ كے اور واجب كے، مگر واجب كا قول ہى راحج ہے اور اكثر محققين احناف كا مسلك بيان كيا گيا ہے، ديكهئے مظاہر حق جديد از نواب قطب الدين خان دہلوى: ١/٧٠٠ ديگر ائمہ كے مذاہب سے آگاہى كے لئے ديكهئے، فتح البارى لابن حجرعسقلانى: ٢/١٦٠

١٢-سگريٹ نوشى كے مكمل نقصانات كا بيان اور اسے حلال يا مكروہ ثابت كرنے والے دلائل كا تجزيہ ايك عليحدہ مضمون كا محتاج ہے تاہم كچھ تفصيل كے لئے ديكهئے: توجیہات اسلاميہ لاصلاح الفرد والمجتمع للشیخ محمد بن جميل زينو: ص١٦٥ تا١٦٨- حرمت سگريٹ ازمولوى عبدالوحيد مكى-

وزٹرز کے اعداد و شمار

آج321
کل3826
اس ہفتے23174
اس ماہ89033
کل تعداد5167243

رجسٹرڈ اراکین



فیس بک سے لاگ ان کریں

آن لائن مہمان

ہمارے ہاں 383 مہمان آن لائن ہیں