انٹرنیٹ کے زریعے جیون ساتھی چننے والوں کے لئے ایک سبق آموزقصہ
میری زندگی کی یہ داستان ان لوگوں کے لئے عبرت انگیز بھی ہے اور اپنے اندر لمحہء فکریہ بھی رکھتی ہے جو اپنی خمار آلود جوانی کی سر مستیوں میں گم ہو کر معصیت کے بحرِ ظلمات میں بہتے ہوئے اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ بجز گناہ کے مکروہ تصور کے انہیں کچھ نظر نہیں آتا. جہاں آج سائنس نے بے پناہ ترقی کرلی ہے وہاں اخلاق کو پامال کرنے والے زرائع اس کثرت سے سامنے آئے ہیں کہ ماضی میں انکا تصور تک محال تھا.آج انٹرنیٹ،سٹلایٹ ٹیلیویزن،موبائل فون کا استعمال عام ہے اور ان سب اشیاء تک نوجوان نسل کی پہونچ بہت آسان ہو گئی ہے. ماں باپ نے اپنی اولاد تک ان سب آسائشوں کی فراہمی کو بے حد آسان کر دیا ہے اور پھر مستزاد یہ کہ کسی قسم کی نگرانی کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ انکی اولاد ان زرائع کا کیسا استعمال کر رہی ہے. نتیجہ یہ نکلتا ہے جب بات بگڑ جاتی ہے اور سر پر ہاتھ رکھ کر رونے کا وقت آتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ خوابِ غفلت سے آنکھ تو کھلی مگر بہت تاخیر سے. سب کچھ لٹا کہ ہوش میں آنے سے کیا فائدہ. سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے سے سانپ تو واپس آنے سے رہا.
میں نے انٹرنیٹ کے زریعے اخلاقی زوال کے بہت سے قصے پڑھے ہیں جن کا شکار ہونے والی لڑکیاں ہی ہوتی ہیں جنکی بربادی کی داستانیں چیٹنگ، پال ٹاکس وغیرہ جیسی ویب سائٹس سے شروع ہوکرنہ جانے پستی کی کن گھاٹیوں میں اختتام پذیر ہوتی ہیں. عموما ان چیٹنگ سائٹس پر معصوم بھیڑ کے روپ میں اپنا تعارف کرانے والے جنس پرست نوجوان سادہ اور بھولی بھالی لڑکیوں کو آہستہ آہستہ اپنے مکروفریب کے جال میں پھانس کر یکایک بھڑیے بن جاتے ہیں اور انہیں موقع ملتے ہی بیدردی سے نوچ کھسوٹ کر تباہی اوربربادی کے تاریک گڑہوں میں دھکیل دیتے ہیں جہاں اکثر اوقات ان کے لئے خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا.......مریدتفصیل