فیس بک تبصرہ جات

فیس بک کمنٹس کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی تشہیر میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
مضامین اصلاح معاشرہ سوشل میڈیا کا معاشرے میں بڑھتا ہوا کردار

سوشل میڈیا کا معاشرے میں بڑھتا ہوا کردار

محمدعاصم حفیظ

تیونس میں آنیوالے چنبیلی انقلاب کی گونج پوری دنیا میں محسوس کی جا رہی ہے ۔ تجزئیہ نگار حیران ہیں کہ کس طرح صحافتی آزادیوں سے محروم ایک قوم اٹھ کھڑی ہوئی اور چند دنوں کے اندر ملک میں انقلاب برپا کر دیا ۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ صدر زین العابدین سعودی عرب میں جلاوطن ہو چکے ہیں ، ان کے کئی رشتہ دار ہلاک ، زخمی یا گرفتار ہیں جبکہ عوامی طاقت کا یہ طوفان آنیوالے دنوں میں مزید کیا تبدیلیاں لائے گا اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ تیونس میں آنیوالے اس انقلاب کی یقینا بہت سی وجوہات ہوں گی جن میں بیروزگاری ، غربت ، لاقانونیت وغیرہ شامل ہیں تاہم اس انقلاب کا جو پہلو سب سے اہم ہے وہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے ۔ ظلم سے ٹکرانے کی خواہش تیونس کے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں سالوں سے پرورش پا رہی ہو گی لیکن اس کو طاقتور آواز سوشل میڈیا نے ہی بنایا ۔ ملک میں صحافتی آزادی نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا عوامی جذبات کی صیح ترجمانی کرنے سے قاصر تھا ۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی بدولت ہی یہ ممکن ہوا کہ لاکھوں لوگوں کی خواہش ایک لاوا بن کر پھوٹی اور ملک میں انقلاب برپا کر ڈالا ۔ میڈیا کی نئی صورتوں میں شمار کئے جانیوالے انٹرنیٹ اور موبائل فون پیغامات اب سیاست میں بھی اہم ترین کردار ادا کرنے لگے ہیں ۔ انہوں نے عوام کو اظہار کی طاقت دی ہے اور محکوم لوگ اپنے جذبات کی بھڑاس نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ یہ صورتحال مختلف ممالک پر ڈکٹیٹر بن کر بیٹھے حکمرانوں کا ہوش اڑانے کے لئے کافی ہے ۔ تیونس کے صدر زین العابدین کے فرار کے ساتھ ہی عرب دنیا میں ایک لطیفہ تیزی سے گردش کرنے لگا ۔ یہ پیغام مغربی طاقتوں کی پشت پناہی پر کئی سالوں سے حکومت پر قابض مصری صدر حسنی مبارک کے لئے تھا ۔ اس کی عبارت کچھ یوں تھی کہ زین العابدین کو جدہ لیجانے والا طیارہ شرم الشیخ میں مزید سواریاں لینے کے لئے اترے گا ۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکمرانوں سے تنگ اور سامراج سے آزادی کے خواہشمند نوجوان طبقے کے حوصلے اس حد تک بلند ہوچکے ہیں کہ وہ اب نظام حکومت کو بزور طاقت بدلنے کے لئے پرتول رہے ہیں ۔ یہ کہانی صرف تیونس یا مصر کی نہیں بلکہ اس کو عوامی خواہشات کا خون کرنیوالے ہر حکمران کے لئے تنبیہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ ابلاغ عامہ کے ماہرین تو کافی عرصے سے اس موضوع پر بحث کا آغاز کر چکے ہیں کہ آنیوالے دور میں سوشل میڈیا عالمی سیاست میں اہم ترین کردار ادا کرے گا ۔..........مزیدتفصیل

وزٹرز کے اعداد و شمار

آج352
کل3826
اس ہفتے23205
اس ماہ89064
کل تعداد5167274

رجسٹرڈ اراکین



فیس بک سے لاگ ان کریں

آن لائن مہمان

ہمارے ہاں 314 مہمان آن لائن ہیں