ابوالحسن علوی
اسلام ایک نظریاتی دین ہے۔ جب تک کسی عمل کے پیچھے کوئی نظریہ یا عقیدہ کارفرما نہ ہو تو وہ عمل بے مقصد اور لایعنی کوشش کہلاتا ہے۔ عموماًکسی بھی عمل کی بنیادکوئی نہ کوئی فکر ہوتی ہے۔ پس فکر اور عقیدہ پہلے ہے اور اس کے بعد عمل ہے اور یہی عمل جب ایک منظم اور اجتماعی صورت اختیار کر لیتا ہے تو اسے تحریک کہتے ہیں لہٰذا عمل اور تحریک کے لیے عقیدہ اور فکر کی تصحیح مسلم ہے۔ دین اسلام نے انسانوں کے اعمال سے زیادہ ان کے عقائد اور نظریات کی اصلاح پر زور دیا ہے کیونکہ اگر عقیدہ اور نظریہ درست ہو گا تو عمل بھی صحیح کہلائے گا لیکن اگر فکر اور عقیدے میں ہی بگاڑ ہو تو عمل فاسد شمار ہو گا۔لہٰذا کسی بھی عمل سے پہلے اس بارے اپنے عقیدے کی تصحیح ایک لازمی امر ہے۔
1۔ انٹرنیٹ کے بارے ایک رائے تو یہ ہے کہ ایک خیر کا آلہ ہے اور اس سے دنیا میں بہت خیر وجود میں آیا ہے۔
2۔ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ یہ ایک مجرد شیء ہے جو فی نفسہ خیر وشر سے پاک ہے یعنی یہ نہ تو خیر کا آلہ ہے اور نہ ہی شر کا ۔ اصل مسئلہ اس کے استعمال کا ہے،چاہے تو خیر کے لیے استعمال کرلیں اور چاہے تو شر کے لیے کر لیں۔ جیسا اس کا استعمال ہو گا ویسا ہی اس کا حکم بھی ہو گا۔
3۔ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ یہ فی نفسہ خیر یا شر تو نہیں ہے لیکن شر کے لیے اس آلے کے کثرت استعمال کی وجہ سے اس پر شر کا آلہ ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ لہٰذا شر کے لیے اپنے کثرت استعمال کی وجہ سے یہ شر کا ایک آلہ محسوس ہوتا ہے جس سے خیر کا کام لینے کی کسی قدر گنجائش موجود ہے،تا کہ اس کے شر کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور کسی قدر خیر کو بھی پھیلایا جا سکے۔
٤۔ ایک چوتھی رائے یہ ہے کہ انٹرنیٹ سمیت سائنس کی تقریباً تمام ایجادات ہی فی نفسہ شر ہیں کیونکہ ان ایجادات کی پیداوار ایک خاص فکر،عقیدے،تہذیب،کلچر اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور ذہنیت کی بنیاد پر ہے،لہٰذا ان سائنسی ایجادات سے خیر کی کوئی توقع کرنا عبث اور بے کار ہے۔ ان ایجادات کی جو منفعت لوگوں کو بتلائی جاتی ہے وہ درحقیقت ان کی مضرت ہے جسے سرمایہ دارانہ ذہن الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا وغیرہ کے استعمال سے منفعت کے روپ میں دکھلاتا ہے ۔ اور ان اشیاء کی منفعت در اصل ایک ایسا سحر ہے جس کی حقیقت حضرت موسی علیہ السلام کے بالمقابل جادوگروں کے دوڑنے والے لاٹھی نما سانپوں سے زیادہ کچھ نہ تھی۔.......مزیدتفصیل