صاحبزادہ خورشید گیلانی
اظہار مافی الضمیر کو خوبصورت پیرایہ مل جائے تو اسے ادب کہتے ہیں۔ خواہ وہ نثر ہو یا نظم، کلام میں دل کی گہرائیوں میں سرایت کرجانے کی قوت ہو، الفاظ جچے تلے ہوں ، مفہوم واضح ہو ، تراکیب سبک اور رواں ہوں ، مضمون اچھوتا اور دلنشیں ہو ، جملوں کی بندش کا خاص اہتممام ہو تو ایسا ادب "ادبِ عالیہ" کہلاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ بھلی بات جو بہت سوں کو بھلی لگے ، ادب شمار ہوتی ہے۔
تو وہ صنف جسے الفاظ کے قالب میں ڈھالنے کے لئے دماغ پگھلے ، ذہن گھنٹوں تک سوچ میں ڈوبا رہے ، رات کی نیند اچاٹ جائے اور دن محویت اور مراقبے میں بسر ہوں تب نوکِ قلم اور زبان کسی لفظ سے آشنا ہو ، کیسے بے مقصد اور خالی از منفعت ہوسکتی ہے؟
ہاں وہ لوگ جو خود اپنے وجود کی مقصدیت کے منکر ہوں تو ان کا ادب تو کجا ہر قول و فعل بے مقصد ہی ہوگا ۔ جب وجود ہی بے معنی ہے تو اس کے تعینات اور اعتبارات کیا مفہوم پائیں گے؟
آزاد خیالی کی حدِ انتہا الحاد کہلاتی ہے ، لیکن نکتہ وروں نے الحاد کو بھی ایک مسلک مانا ہے ، مادیت اور اس کے مظاہر میں سرتاپا غرق ادیب کوئی بھی جملہ سپردِ قلم کرے گا تو اس کا ادب بھی بامقصد ہوگا ، خواہ وہ کتنا پست اور منفی کیوں نہ ہو ، سو یہ بات طے ہے کہ "ادب براے ادب" ایک اپج ضرور ہے خلا میں بسنے والے دماغوں اور رائی کا پربت بنانے والے ذہنوں کی ، حقیقت کی دنیا سے اس کا کوئی علمی اور منطقی اعتبار ثابت نہیں ہوتا۔
ادب معاشرے کی آنکھ ، کان ، زبان اور ذہن ہوتا ہے ، انسانی زندگی میں پھیلے ہوے ہزاروں بے جوڑ و سنگین واقعات ، طبقاتی امتیازات ، روزمرہ کے معمولات ، رموز و کنایات ، سنگین حادثات ، فطرت کی نوازشات ، یہ سب کچھ ایک ادیب کو دکھائی اور سنائی دیتے ہیں ، جس سے اس کا ذہن منفی یا مثبت طور پر متاثر ہوتا ہے ، ان مناظر کو وہ زبان عطا کرتا ہے اور پھر سے وہ معاشرے کو لوٹا دیتا ہے۔ ادیب کی بات حقائق سے ہم آہنگ ہو تو معاشرہ اسے اپنے اندر جذب کرلیتا ہے کبھی تو وہ چیزیں کھمبی کی طرح یکایک اگ آتی ہیں اور کبھی معاشرہ دانہ گندم کی طرح ایک خاص عمل سے گزار کر ذرا توقف کے بعد نشوونما دیتا ہے۔ اگر وہ ادیب اپنے اظہار کو حقائق کے قریب نہیں کرسکا تو اس کے الفاظ محتاج معانی رہ جاتے ہیں ، کچھ مدت کے بعد بھعلی بسری داستان بن جاتے ہیں۔
چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ "عہد جاگیر" کے ادب اور "دورِ سرمایہ" کے ادب میں امتیازی فرق ہے ، اسی طرح مادی معاشرے اور روحانی قدروں پر استوار سوسائٹی کا ادب ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتا ہے ، ملوک و سلاطین اور سلطانی جمہور کا ادب دو مختلف سمتیں رکھتا ہے ، افریقی و یورپی ادب میں نمایاں اختلاف ہوگا ، اگر "ادب براے ادب" کا فلسفہ تسلیم کرلیا جائے تو نئی دنیا اور وہ بھی خلا میں بسا کر ہی اسے سچ ثابت کیا جاسکتا ہے ورنہ جہاں حق اور باطل ، ظالم اور مظلوم ، حاکم اور محکوم برسر پیکار ہوں گے ، ادب کبھی غیرجانبدار نہیں رہ سکتا۔.....مزیدتفصیل