ٹیکنالوجی کی ترقی نے میڈیا کو عالمی سیاست میں اہم ترین مقام پر فائز کر دیا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے فوجی ، سیاسی یا اقتصادی طاقت کے میڈیا کو استعمال کرتی ہیں۔ اب فوجی طاقت کے زریعے کسی کو غلام دینے کا رواج نہیں رہا بلکہ میڈیا کے زور اور مخصوص نظریات و روایات کی ترویج کے ذریعے ذہنوں کو غلام بنایا جاتا ہے۔ مغربی طاقتوں کو اس میدان میں کافی کامیابی ملتی رہی ہے اور سوویت یونین کے بعد اسلام کے ساتھ تہذیبوں کی جنگ کے لیے میڈیا اور ثقافتی حربوں کو ہی اہم ترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹی وی ، انٹرنیٹ، اخبارات اور دیگر ذرایع ابلاغ کے ذریعے ”نیوکالونینل ازم “ کا ایک نیا تصور فروغ پا رہا ہے۔ جس کی مثال گلوبل ویلج بنتی دنیا میں ڈھونڈنا مشکل نہیں۔ مغربی طاقتیں چین ، جاپان اور عرب ممالک جیسے مضبوط معاشروں پر میڈیا کی طاقت سے ہی بھرپور انداز میں اثرانداز ہوئی ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میڈیا اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے ۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ پاکستانی میڈیا میں بعض غیر ملکی طاقتوں کی سرمایہ کاری کی باتیں سامنے آ رہی ہیں ۔ ایسے حقائق سامنے آئے ہیں کہ بعض غیر ملکی عناصر لالچ دیکر ملکی میڈیا کو خریدنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ اینکرز کو سفارت خانوں میں مدعو کرکے عیش و عشرت کا بندوبست کرنے کی تصاویر اور ویڈیوز تو منظر عام پر بھی آ چکی ہیں ۔ بعض چینلز اور اخبارات صرف وہی پالیسی اختیار کرتے ہیں کہ جس کی ہدایت ان کے سرمایہ کاروں کی جانب سے دی جاتی ہے ۔ یہ سب واقعی افسوسناک اور ملکی سلامتی کے خلاف ہے ۔ غیر ملکی طاقتوں کا ملکی میڈیا میں اثر ورسوخ دن بدن بڑھ رہا ہے۔آج ہمیں ایک بھرپور قسم کی ثقافتی اور پروپیگنڈا یلغار کا سامنا ہے کہ جس نے ہمارے ملک کے ایک بڑے طبقے کے قلوب و اذہان کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ آج جہاں ایک طرف اسلحہ و بارود کے ذریعے ملک کی بنیادوںکو ہلا یا جا رہا ہے ، قومی سلامتی اور خودمختاری ایک مذاق بن کر رہ گئی ہیں وہیں ہمیں اس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ” ثقافتی دہشت گردی “ کا بھی سامنا ہے ۔ غیر ملکی طاقتیں ہمارے معاشرے میں موجود دین بیزار اور سیکولر قوتوں کی مدد سے ارض پاک کی نظریاتی سرحدوں کو پامال کرنے میں مصروف ہیں ۔ معاشرے کو بدلنے کی کوشش میں دینی اور مذہبی روایات کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں ۔ سابق صدر مشرف کے دور میں روشن خیالی کا لگایا گیا پودہ اب تن آور درخت بنتا جا رہا ہے ۔ کوئی امن کی آشا کے نام پر بھارتی ثقافت کا پرچار کرتا ہے ، بھارتی فلمیں سینماوؤں اور کیبل کی زینت بن چکی ہیں اور اسی کے اثرات ہندوانہ رسم و رواج کی ترویج اور ملکی و اسلامی تہذیب و ثقافت سے دوری کی صورت میں برآمد ہو رہے ہیں-..........مزید تفصیل