محمد متین خالد
شیخ سعدیؒ نے کہا تھا کہ وہ دشمن جو بظاہر دوست ہو، اس کے دانتوں کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔ یہ مقولہ نوبیل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام پر پوری طرح صادق آتا ہے جنھوں نے دوستی کی آڑ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ انھیں 10 دسمبر 1979ء کو نوبل پرائز ملا۔ قادیانی جماعت کے آرگن روزنامہ ''الفضل'' نے لکھا تھا کہ جب انھیں نوبل انعام کی خبر ملی تو وہ فوراً اپنی عبادت گاہ میں گئے اور اپنے متعلق مرزا قادیانی کی پیشین گوئی پر اظہار تشکر کیا۔ اس موقع پر مرزا قادیانی کی بعض عبارتوں کو کھینچ تان کر ڈاکٹر عبدالسلام پر چسپاں کیا گیا اور فخریہ انداز میں کہا گیا کہ یہ دنیا کا واحد موحد سائنس دان ہے جسے نوبل پرائز ملا ہے حالانکہ اسلام کی رو سے رسالت مآبﷺ کا منکر بڑے سے بڑا موحد بھی کافر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام حضور نبی کریمﷺ کی ختم نبوت کے منکر تھے۔ وہ حضورﷺ کے بعد آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی (جن سے انگریز نے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر نبوت کا اعلان کروایا تھا) کو اللہ کا آخری نبی مانتے تھے۔اور اس طرح وہ اپنے عقائد کی رو سے دنیا کے تمام مسلمانوں کو کافر اور صرف اپنی جماعت کے لوگوں کو مسلمان سمجھتے تھے۔ چونکہ قادیانیت مخبروں اور غداروں کا سیاسی گروہ ہے، لہٰذا اس کی سرپرستی کرتے ہوئے سامراج نے ان کے ایک فرد کو نوبیل پرائز دیا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک رشوت ہے جو یہودیوں نے قادیانیت کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے دی۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو اپنی جماعت کی خدمات پر ''فرزند احمدیت'' بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کے حکم پر 1966ء سے وفات تک مجلس افتاء کے باقاعدہ ممبر رہے۔ ان کے ماموں حکیم فضل الرحمن 20 سال تک گھانا اور نائیجریا میں قادیانیت کے مبلغ رہے۔ ان کے والد چوہدری محمد حسین جنوری 1941ء میں انسپکٹر آف سکولز ملتان ڈویژن کے دفتر میں بطور ڈویژنل ہیڈ کلرک تعینات ہوئے۔ قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے انھیں قادیانی جماعت ضلع ملتان کا امیر مقرر کیا جس میں تحصیل ملتان، وہاڑی، کبیر والہ، خانیوال، میلسی، شجاع آباد اور لودھراں کی تحصیلیں شامل تھیں۔ ایک دفعہ انھوں نے خانیوال میں سیرت النبیﷺ کے نام پر قادیانی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حضور نبی کریمﷺ اور مرزا قادیانی کا (نعوذ باللہ) موازنہ شروع کیا تو اجتماع میں موجود مسلمانوں میں کہرام مچ گیا اور انھوں نے اشتعال میں آ کر پورا جلسہ الٹ دیا۔ چند نوجوانوں نے چوہدری محمد حسین کو پکڑ کر جوتے بھی مارے۔ پولیس نے چوہدری محمد حسین کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔ دو دن بعد ملتان میں ایک قادیانی اعلیٰ پولیس افسر کی مداخلت سے انھیں رہائی ملی۔ 10 ستمبر 1974ء کو ڈاکٹر عبدالسلام نے وزیراعظم کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اس کی وجہ انھوں نے اس طرح بیان کی: ''آپ جانتے ہیں کہ میں احمدیہ (قادیانی) فرقے کا ایک رکن ہوں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی نے احمدیوں کے متعلق جو آئینی ترمیم منظور کی ہے، مجھے اس سے زبردست اختلاف ہے۔ کسی کے خلاف کفر کا فتویٰ دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ کوئی شخص خالق اور مخلوق کے تعلق میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ میں قومی اسمبلی کے فیصلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا لیکن اب جبکہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے تو میرے لیے بہتر یہی ہے کہ میں اس حکومت سے قطع تعلق کر لوں جس نے ایسا قانون منظور کیا ہے۔ اب میرا ایسے ملک کے ساتھ تعلق واجبی سا ہوگا جہاں میرے فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو۔'' فروری 1987ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے امریکی سینٹ کے ارکان کو ایک چٹھی لکھی کہ ''آپ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اقتصادی امداد مشروط طور پر دیں تاکہ ہمارے خلاف کیے گئے اقدامات حکومت پاکستان واپس لے لے۔'' 30 اپریل 1984ء کو قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد قادیانی آرڈیننس مجریہ 1984ء کی خلاف ورزی پر مقدمات کے خوف سے بھاگ کر لندن چلے گئے۔ رات کو لندن میں انھوں نے مرکزی قادیانی عبادت گاہ ''بیت الفضل'' سے ملحقہ محمود ہال میں غصہ سے بھرپور جوشیلی تقریر کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالسلام مرزا طاہر کے سامنے صف اوّل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ .....مزید تفصیل