معیار الحق فی تنقید تنویر الحق
| کتاب کا نام | معیار الحق فی تنقید تنویر الحق |
| مصنف | سید نذیر حسین محدث دہلوی |
| ترتیب و تخریج | ابو انس محمد یحیی گوندلوی |
| ناشر | مکتبہ اسلامیہ،لاہور |
| صفحات | 394 |
ہندوستان میں تقلید شخصی کا ایسا رجحان پیدا ہو چکا تھا کہ قرآن وسنت کو سمجھنا انتہائی مشکل تصور کیا جاتا اور لوگوں کے اس کے قریب بھی نہ آنے دیا جاتا تھا حتی کہ ان کے دلوں میں یہ چیز پیدا کر دی گئی تھی کہ قرآن وسنت کوسمجھنا عام انسان کا کام ہی نہیں تو اس دور میں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے تقلید کے خلاف آواز حق کو بلند کرتے ہوئے قرآن وسنت کے افہام وتفہیم کو عام کرنے کی کوشش کی –اسی تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے شاہ اسماعیل شہید نے ایک کتاب تنویر العینین فی اثبات رفع الیدین تحریر فرمائی جس میں مختلف فقہی اختلافات کے بیان کے ساتھ ساتھ تقلید شخصی کا بھر پور رد فرمایا-اس کتاب کے منظر عام پر آنے کےبعد اس کے رد میں ایک غالی مقلد مولوی محمد شاہ پاک پٹنی نے تنویر الحق نامی کتاب کو شائع کر کے شاہ اسماعیل شہید کے دلائل کے اثر کوزائل کرنے کی ناکام کوشش کی -اس کے بعد شیخ الحدیث میاں نذیر حسین محدث دہلوی نے تنویر الحق کے رد میں معیار الحق فی تنقید تنویر الحق کا جواب لکھا جس میں تنویر الحق کا مکمل علمی محاکمہ کیا گیا ہے اور عام فہم انداز کواختیار کیا گیا ہے تاکہ عام قاری کو بھی دلائل سمجھنے میں دقت کاسامنا نہ ہو- معیار الحق کی اشاعت کے بعدمولوی ارشاد حسین رام پوری نے معیار الحق کا جواب دیا جس کا نام انہوں نے انتصار الحق رکھا-مصنف نے کتاب کی تالیف کے بعد یہ دعوی بھی کیا کہ کوئی بھی غیر مقلد اس کا جواب نہیں دے سکے گا-اور الحمد للہ اس دعوی کے جواب میں میاں نذیر حسین محدث دہلوی کے پانچ شاگردوں نے پانچ جوابات لکھے اور جب معیار الحق اور انتصار الحق دونوں کتابیں مولانا ابو الکلام آزاد کے سامنے پیش کی گئیں تو انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:مجھ پر معیار الحق کی سنجیدہ اور وزنی بحث کا بہت اثر پڑا اور انتصار الحق کا علمی ضعف صاف نظر آ گیا-
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ڈاؤن لوڈ سرور 1 | مکمل کتاب تیز رفتار ڈاؤن لوڈنگ کیلئے یہاں کلک کریں |
| ڈاؤن لوڈ سرور 3 | مکمل کتاب سرور 3 سے ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں رائٹ کلک کر کے Save Target As یا Save Link As پر کلک کریں۔ |
اس مضمون پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا
تبصرہ کرنے میں پہل کیجئے