برصغیر میں کتاب وسنت کو اپنے لائق اتباع قراردینے والے سرفروشوں کا گروہ تمام تر مسلکی گروہوں میں سب سے زیادہ مظلوم رہا ہے ہر کسی نے انہی پر مشق سخن فرمانے کی کوشش کی ہے بڑے سے بڑے اعتدال پسند ذہنوں کا ذوق بھی اہل حدیث کےمعاملے میں بدذوقی کا شکار ہوا ۔اہل حدیث کے بارے میں جو کچھ کہا گیا او ر لکھا گيا اگر کوئی متجسسسانہ نقطہ نظر سے اسے یکجا کرنے کی کوشش کرے توکئی مجلدات تیار ہوجائیں گے ۔اہل حدیث کے خلاف سب سے زیادہ اس بات کو اچھالا گیا کہ یہ گروہ فقط ڈیڈھ سو برس کی پیداوار ہے درود کا منکر او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاح ہے۔(نعوذباللہ)یہ کتاب اہل حدیث کے متعلق ان بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتی ہے جن کا عام مسلمان شکار ہیں اور جہاں تک علماء کا تعلق ہے ان کا معاملہ ذرا مختلف ہے وہ جب بھی اپنے ذاتی وگروہی مفادات کی سطح سے بلند ہوکر اہل حدیث کے بارے میں سوچیں گے تویہ ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ تو خالص اسلام کی دعوت ہے جس کام مرکزی نقطہ شافع روزمحشر صلی اللہ علیہ وسلم کی بلاشرکت غیرے اطاعت و فرمانبرداری ہے ۔کتاب میں اہل حدیث کی تعریف ،عقیدہ،برصغیر میں اہل حدیث کی آمد کے کارواں اور اہل حدیث کے اصول وضوابط کے ساتھ ساتھ او ربہت سارے اہم مضامین کو بالتفصیل بیان کیا گیاہے ۔
فہرست مضامین
عناوین
صفحہ نمبر
اہل حدیث کے متعلق چند اصحاب علم کےارشادات
13
اہل حدیث کی تعریف
13
برصغیر میں اہل حدیث کی خدمت حدیث
14
خیر القرون میں صرف اہل حدیث ہی تھے
15
اہل حدیث کا عقیدہ
16
لقب اہل حدیث
17
تحریک اہل حدیث کے اثرات
18
صرف کتاب وسنت
19
اہل حدیث کا عقیدہ او رنصب العین
21
اصل اسلام
24
ساحل ہند پر اہل حدیث کا پہلا قافلہ
25
قرآن وحدیث کی تعلیم کااصل مقصد
26
جماعت اہل حدیث کا طرۂ امتیاز
27
جماعت اہل حدیث ۔۔۔قدیم جماعت
28
پہلا باب
عرض ناشر
31
سخن ہائے گفتنی
33
اہل حدیث او ران کا شرف وامتیاز
42
حرف چند
57
برصغیر میں اہل حدیث کا پہلا کارواں۔۔۔صحابہ کرام
67
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کاعہد خلافت
68
حضرت عثمان بن ابوالعاص ثقفی رضی اللہ عنہ
68
حضر ت حکم بن ابوالعاص ثقفی رضی اللہ عنہ
69
حضرت مغیرہ بن ابوالعاص ثقفی رضی اللہ عنہ
70
حضرت ربیع بن زیادحارثی مذجحی رضی اللہ عنہ
71
حضرت حکم بن عمروثعلبی غفاری رضی اللہ عنہ
72
حضرت عبداللہ بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ
73
حضرت سہل بن عدی خزرجی انصاری رضی اللہ عنہ
73
حضرت شہاب بن مخارق بن شہاب تمیمی رضی اللہ عنہ
74
حضرت صحار بن عباس عبدی رضی اللہ عنہ
74
حضرت عاصم بن عمروتمیمی رضی اللہ عنہ
75
حضرت عبداللہ بن عمیر اشجعی رضی اللہ عنہ
76
حضرت نسیر بن ويسم بن ثور عجلی رضی اللہ عنہ
76
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت
77
حضرت حکیم بن جبلہ عبدی رضی اللہ عنہ
77
حضرت عبیداللہ بن معمر تمیمی رضی اللہ عنہ
79
حضرت عمیر بن عثمان بن سعد رضی اللہ عنہ
79
حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ
79
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ قرشی رضی اللہ عنہ
81
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت
82
حضرت خریت بن راشدناجی سامی
82
حضرت عبد اللہ بن سویدتمیمی رضی اللہ عنہ
83
حضرت کلیب ابو وائل
83
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کاعہد خلافت
84
حضرت مہلب بن ابوصفرہ ازدی عتکی رضی اللہ عنہ
84
حضرت عبداللہ بن سوارعبدی رضی اللہ عنہ
85
حضرت یاسر بن سوارعبدی رضی اللہ عنہ
85
حضرت سنان بن سلمہ ہذلی رضی اللہ عنہ
85
یزید کا زمانۂ حکومت
87
حضرت جارودعبدی
87
دوسراباب
برصغیر میں اہل حدیث کادوسرا کارواں
89
تابعین کرام
89
ابن اسید بن اخنس
90
ابو شیبہ جوہری
90
تاغر بن ذعر
90
حاتم بن قبیصہ رحمہ اللہ
91
حکم بن منذر عبدی
91
راشدبن عمروبن قیس ازدی
92
زائدہ بن عمیر طائی کوفی
92
زیادہ بن حواری عمی
92
ابو قیس زیاد بن رواح قیسی بصری
93
حکم بن عوانہ کلبی
94
معاویہ بن قرہ مزنی بصری
94
مکحول بن عبد اللہ سندھی
95
عبد الرحمان بن عباس
95
عبدالرحمان سندھی
96
قطن بن مدرک کلابی
96
قیس بن ثعلبہ
97
کہمس بن حسن بصری
97
یزیدبن ابو کبشہ سکسکی دمشقی
97
موسی سیلانی
98
موسی بن یعقوب ثقفی
98
عبد الرحمان کندی
99
عبد الرحمان بیلمانی
99
عمر بن عبید اللہ قرشی تمیمی
100
شمر بن عطیہ بن عبدالرحمان اسعدی
101
سعید بن اسلم کلابی
101
سعید بن کندیر قشیری
101
سعدبن ہشام انصاری
102
حباب بن فضالہ ذہلی
102
عبدالرحمان بن عبداللہ
104
حارث بن مرہ عبدی
104
حارث بیلمانی
105
ایوب بن زیدہلالی
105
حری بن حری باہلی
105
عبادبن زیاد بن ابو سفیان
106
یزید بن مفرغ حمیری
107
ربیع بن صبیح سعدی بصری
107
مجاعہ بن سعرتمیمی
109
عطیہ بن سعدعوفی
109
حسن بصری
110
صیفی بن فسیل شیبانی
111
ابو سلمہ زطی
111
تیسراباب
برصغیر میں اہل حدیث کا تیسرا کارواں
113
محمد بن قاسم اور ان کےرفقائے کرام
113
بنو ثقیف کی خدمت اسلام
114
محمد بن قاسم بنو امیہ کی فوج میں
115
سندھ کی طرف روانگی
115
محمد بن قاسم کے حملےکاپس منظر
116
ایک اور فتنہ
117
راجہ داہر کے آدمیوں کا کشتیوں پر حملہ
118
بری اور بحری فوج
120
چوتھا باب
برصغیر میں اہل حدیث کا چوتھا کارواں
123
تبع تابعین
123
اسرائیل بن موسی بصری
123
کرز بن ابوبکرزعبدی
124
معلی بن راشد بصری
125
جنید بن عمروالعدوانی المکی
127
محمد بن زید عبدی
127
محمد بن غزان کلبی
127
ابوعیینہ ازدی
128
سندی بن شماس السمان بصری
129
عبدالرحیم دیبلی سندھی
129
عبدالرحمن بن عمرواوزاعی
130
عبدالرحمن بن السندی
131
عمرو بن عبیدبن باب السندی
132
فتح بن عبداللہ سندھی
132
قیس بن بسربن سندی البصری
133
ابومعشرنجیح بن عبدالرحمن سندھی مدنی
134
محمد بن ابراہیم بیلمانی
134
محمد بن حارث بیلمانی
135
یزید بن عبداللہ قرشی سندھی
135
پانچواں باب
مختلف قدیم ادوار کی کتابوں میں اہل حدیث کا تذکرہ
137
چھٹا باب
اہل حدیث اور ان کا نقطہ نظر
148
اہل حدیث کوئی فرقہ نہیں اصل اسلام ہے
157
اہل حدیث اور اہل سنت
158
آئمہ اربعہ سے پہلے کامذہب
159
کتاب وسنت کے اصل متبعین
159
ساتواں باب
اہل حدیث کے اصول وضوابط
161
قرآن مجید
161
حدیث وسنت
163
اہل حدیث کی دعوت
165
آئمہ فقہ اور اہل حدیث
166
حق اور صداقت کسی خاص فرقہ میں محدود نہیں
167
فقہ مأخذ شریعت نہیں
167
اصل ہدف کتاب وسنت
168
آٹھواں باب
اہل حدیث اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
171
شاہ صاحب کی پیدائش
171
شیخ محمد بن عبد الوہاب اور شاہ ولی اللہ
172
شاہ صاحب کا کاروان حیات
173
کتاب وسنت کی راہ
174
شاہ صاحب کی عدم تقلید
176
نواصول
176
استنباط مسائل کے دو طریقے
178
امام کی اقتداء میں سورۃ فاتحہ
179
رفع الیدین
180
وتر پڑھنا سنت ہے
181
جمع بین الصلاتین
181
دیہات میں جمعہ پڑھنے کامسئلہ
182
تکبیرات عیدین کی تعداد
182
مائے کثیر اور قلتین کے بارے میں شاہ صاحب کا مسلک
183
اصل راہ۔۔۔۔۔کتاب وسنت
185
چندالفاظ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘کے بارے میں
186
خدمت حدیث
187
خدمت قرآن
188
نواں باب
اہل حدیث کے فکروعمل کےمختلف پہلو
189
ایجابی اور وسیع دعوت
191
ایک مثال
192
اس کی اصل وجہ کیا ہے
192
فکرو عمل کےتین پہلو
194
مختلف ادوار میں مختلف نام
196
سلف کی رائے کو ترجیح دینے کی بنیادی وجہ
197
سلف کا اطلاق کس گروہ پر ہوتاہے
198
کس قافلے کے سالار اعظم ’’رسول اللہ ‘‘ تھے
201
کلامی بحثوں سے دامن کشاں رہنے کی تاکید
202
کلامی مباحث سے اجتناب کی دو وجہیں
204
اہل حدیث کے بارے میں بہت بڑامغالطہ
206
دسواں باب
فقہی مذاہب کی تاریخ اور ان کے عالم وجود میں آنے کے اسباب
207
سوال سےصحابہ کا اجتناب
207
علم الفقہ
208
فقہ اسلامی کے مأخذ
210
اقسام احکام
210
احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
211
صحابہ اور تابعین کی اجتہادی آراء
212
اجتہاد
213
استنباط مسائل میں اختلاف
214
اصحاب فتوی صحابہ اور تابعین
215
مکثرین صحابہ
216
متوسطین صحابہ
216
مقلین صحابہ
216
مراکز فقہ وفتوی
217
(1) مدینہ منورہ
217
(2) مکہ مکرمہ
218
(3)کوفہ
219
(4)بصرہ
220
(5)شام
220
(6)مصر
221
(7)یمن
221
فقہ وفتوی کے دواہم مراکز۔۔۔۔حجازی اور عراقی
222
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ
222
طریق استنباط
223
قبل از وقوع واقعہ پر غور
223
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ
224
استنباط
224
علم حدیث کی تعظیم
225
مؤطا کےبارے میں شاہ ولی اللہ دہلوی کی رائے
227
نواب صدیق حسن کا فرمان
227
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ
228
وسعت علم
229
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کانہج استدلال
230
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ
231
اصول استدلال
231
گیارھواں باب
فقہ او راس کے حدود اطلاق
233
فقہ کے لفظی اور لغوی معنی قرآن کی رو سے
236
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کاقول
238
محتلف معانی
239
بارھواں باب
تدوین فقہ کی بحث
243
تدوین فقہ کی مجلس کے ارکان
244
تدوین فقہ کی مدت تیس سال۔۔۔121 ہجری سے 150 ہجری تک
245
اس باب میں مولانا رحیم آبادی کی تحقیق
245
امام محمد کی عمر
246
قاضی ابویوسف کی عمر
247
امام زفر کی عمر
247
حبان کی عمر
247
مندل کی عمر
248
مسائل کی تعداد
249
ایک گزارش اور سنئے!
250
مولانا شبلی نعمانی کی ایک اور مؤرخانہ لغزش
251
اصل معاملہ
251
فقیہ اور غیر فقیہ صحابہ
255
تیرھواں باب
اہل رائے کی ترقی کا بنیادی سبب۔۔۔۔حکومت
`263
کیا سلطان محمودغزنوی حنفی تھا؟
264
کیامحمودغزنوی اہل حدیث تھا؟
267
مولانا شبلی کی لغزش
268
اور اب غیاث الدین غوری
269
کیا حکومت سے وابستگی عالی مرتبے کی دلیل ہے؟
273
پندرھواں باب
مسئلہ تقلید
275
تقلید کی تعریف او راس کےمعانی
275
تقلید نہیں ،تحقیق
277
غیر مقلد،بہ صورت طنز
278
گستاخ کون؟
280
ایک اور بات
282
اصطلاحی تقلید کی تاریخ
284
ایک سوال
285
حضرت مولانا تھانوی کا فرمان
286
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادگرامی
286
حضرت میاں سید نذیر حسین دہلوی کا طریق عمل
287
تقلیدی دور
288
اجتہاد کا دروازہ بند
288
تاریخ کاایک ورق
290
مولانا ابوالکلام آزاد کا نقظہ نظر
291
مولانا محمد حنیف ندوی کی ایک تحریر
294
سولہواں باب
علم حدیث اور علم اسماء الرجال
299
حدیث کیا ہے؟
299
علم اسماء الرجال کے حدود اطلاق
300
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی تبلیغ وحفاظت کرنے والی اولین جماعتیں
300
پانچ لاکھ راویان حدیث
302
روایات واحادیث اور سیرت ومغازی کی جمع وتدوین
302
اخذ روایات کےاصول و قواعد
303
راویوں کے مدارج اور طبقات
304
روایت حدیث میں اسنادکا التزام
305
راویان حدیث کا حالات وکوائف کی تلاش
306
جرح وتعدیل کے چند آئمہ کرام
307
فن اسماء الرجال کی کتابیں ،تیسری صدی ہجری کے آخر تک