مسلمان ہونےکےناطےہمارایہ پختہ اعتقاد ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی،سیاسی ہو یا اخلاقی،معاشرتی ہو یا معاشی جس کے متعلق دین میں اصولی رہنمائی موجود نہ ہو۔مگر بدقسمتی کی بات یہ ہےکہ آج مسلمانوں کی اکثریت دین سے بیگانگی کے باعث اسلام کےان سنہری اصولوں سےنابلد ہے جولوگ نماز روزہ کےپابند ہیں ان میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جس نے دین صرف عبادات،نماز،روزہ ،حج اور زکوۃ کا نام سمجھ لیا ہے مالی معاملات کے بارہ میں احکام شریعت کواس طرح نظر انداز کیے ہوئے ہے کہ گویا ان کادین کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے بالخصوص جدید معاملات کےمتعلق ان کاانداز فکر یہ ہے کہ یہ چونکہ دور حاضر کے پیداوار ہیں عہد رسالت میں ان کاوجود ہیں نہیں تھا اس لیے یہ جائز ہیں۔ان حالات میں اہل علم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاملات جدید ہ سمجھیں او رلوگو ں کی صحیح او رکما حقہ رہنمائی کریں۔یہ کتاب دور حاضر کےمالی معاملات پر جتنے بھی سوالات واشکالات ہیں ان کاجواب ہے ۔