مشہور عالمی مقرر ڈاکٹر ذاکر نائیک اور عیسائی ڈاکٹر ولیم کیمبل کے درمیان ہونے والا ایک عظیم الشان مناظرہ جس کا موضوع تھا بائبل اور قرآن جدید سائنس کی روشنی میں-جس میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے قرآنی اور سائنسی دلائل کے ساتھ قرآن کی اہمیت،حجیت اور موجودہ دور میں لوگوں کی راہنمائی کرنے والی کتاب ثابت کیا ہے اور بائبل کی تحریفات اور جز وقتی کتاب ہونے کو دلائل سے ثابت کیا ہے-نیز قرآن پر کئے جانے والے سائنس کی بنیاد پر اعتراضات کے بھرپور اور شافی جوابات دئے ہیں۔تقابل ادیان کے موضوع سے شغف رکھنے والے احباب کیلئے بہترین دعوتی ہتھیار ہے۔
فہرست مضامین
عناوین
صفحہ نمبر
خطاب ڈاکٹر ولیم کیمبل
40
خطاب ڈاکٹر ذاکر نائیک
78
جوابی خطاب ڈاکٹر ولیم کیمبل
89
جوابی خطاب ڈاکٹر ذاکر نائیک
حصہ دوم
107
سوال نمبر (1) طوفان نوح کی کیفیت کیا تھی ؟
107
سوال نمبر ( 2) اللہ کے نور ہونے سے کیا مراد ہے ؟
110
سوال نمبر (3) ڈاکٹر ولیم کیمبل بائبل کے مطابق خود امتحان کیوں نہیں دیتے ؟
111
سوال نمبر (4) کیا عقیدہ تثلیث کی سائنسی تاویل ممکن ہے ؟
114
سوال نمبر (5) کیا ڈاکٹر ولیم آج کی گفتگو سے متاثر ہوئے ؟
115
سوال نمبر (6) بائبل زمین کی ساخت کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
116
سوال نمبر (7) کیا قرآن میں گرامر کی غلطیاں موجود ہیں؟
118
سوال نمبر (8) کیا ذوالقرنین سکندرِاعظم تھا ؟
119
سوال نمبر (9) کیا حضرت یونس اور حضرت عسیی علیہماالسلام میں مشابہت مو جود ہے ؟
120
سوال نمبر (10) کیا بائبل میں موجود طب متعلقہ بیانات کی وضاحت ممکن ہے ؟
121
سوال نمبر (11)اسلام ہمیں ارتقا کے بارے میں کیا بتاتا ہے ؟
122
سوال نمبر (12) کیا بائبل کے تضادات کی وضاحت ممکن ہے ؟
123
سوال نمبر (13) کیا متن اور ترجمہ ایک ہی چیز ہے ؟
124
سوال نمبر (14) کیا انجیل وہی ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی ؟
124
سوال نمبر( 15) اگر قرآن اور سائنس میں مکمل مطابقت ہے تو یہ نظریے تبدیل ہونے کی صورت میں کیا ہو گا ؟
126
سوال نمبر (16) اگر ڈاکٹر کیمبل اعتراضات کے جوابات نہیں دے سکتے تو وہ تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ بائبل میں اغلاط موجود ہیں ؟
126
سوال نمبر (17) بائبل اور قرآن میں تضادات کی نوعیت کیا ہے ؟
تبصرہ %s کیلئے: بائبل اور قرآ ن جدید سائنس کی روشنی ميں
بائبل کہتی ہے: «مقررہ وقت پر ["شمال کا بادشاہ" = روس] واپس آ جائیں گے،» .(ڈینیل ١١:٢٩) اس کا مطلب ہے یورپی یونین اور نیٹو کا ویگھٹن. کچھ ہی دیر بعد، ایٹمی جنگ ہو جائے گا. (ڈینیل ١١:٢٩،٣٠؛ متّی ٢٤:٧؛ مُکاشفہ ٦:٤) "ایک بڑی تلوار" = جوہری ہتھیار.