فضائل اعمال دین کا ایک اہم گوشہ ہے اور اسلامی احکام کی ترغیب وتشویق دین اسلام میں بذاتہ مطلوب ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن مجید میں بشیر اور نذیر کے لقب عطا کیے گئے ہیں۔مختلف زمانوں میں علماء اورفقہاء نے اس موضوع پر متفرق کتابیں لکھی ہیں تا کہ لوگوں کو فرائض دینیہ اور مستحبات کی طرف راغب کیا جائے۔ برصغیر پاک وہند میں تبلیغی جماعت کی نصابی کتاب ’فضائل اعمال‘ اسی مقصد سے لکھی گئی تھی لیکن اس کتاب میں بعض موضوع وضعیف روایات اور غیر عقلی ومنطقی واقعات کی موجودگی نے ایک بڑے طبقے کو اس کتاب سے استفادہ کرنے سے روکے رکھا۔ اگرچہ امام نووی رحمہ اللہ کی کتاب ’ریاض الصالحین‘ فضائل اعمال کی کتاب کی کسی درجے میں ضرورت پورا کرتی ہے لیکن پھر بھی یہ احساس عام تھا کہ فضائل اعمال کے موضوع پر صحیح اور مستند احادیث پر مشتمل ایک مستقل کتاب ہونی چاہیے۔ عربی کے ایک عالم دین شیخ ابو عبد اللہ علی بن محمد المغربی نے اس احساس کا ادراک کرتے ہوئے فضائل کی صحیح اور مستند احادیث پر مشتمل ایک کتاب تالیف کی جس کا ترجمہ اور تشریح جناب عبد الغفار مدنی صاحب نے کیا ہے۔ کتاب میں شروع میں کسی عمل کی فضیلت کے بارے حدیث نقل کی جاتی ہے۔ بعد ازاں اس حدیث کی تخریج دی گئی ہے اور اس کے بعد اس کی شرح بیان کی گئی ہے۔ صحیحین کی روایت پر تو کوئی حکم نہیں لگایا گیا ہے کیونکہ ان دونوں کتابوں کو تلقی بالقبول حاصل ہے لیکن بقیہ کتب کی روایات کے بارے وضاحت کی گئی کہ وہ صحیح ہیں ۔ البتہ بعض مقامات پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مصنف نے غیر صحیحین کی روایت نقل کرنے کے بعد وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ روایت صحیح ہے یا نہیں؟ بہر حال مجموعی طور پر ایک مفید کتاب ہے اور عوام الناس کو اس کتاب کے مطالعہ کی ترغیب دینی چاہیے۔
بہت عمدہ کاوش اللہ مولف کو مزید علمی ترقى عطا کرے اور دین کی خدمت کی توفیق بخشے آمین
لیکن آپ نے کتاب کا نام صحیح مستند فضائل اعمال دیا ہے اور پھرلکھ رہے البتہ بعض مقامات پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مصنف نے غیر صحیحین کی روایت نقل کرنے کے بعد وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ روایت صحیح ہے یا نہیں؟ بہر حال مجموعی طور پر ایک مفید کتاب ہے اور عوام الناس کو اس کتاب کے مطالعہ کی ترغیب دینی چاہئے- تو بھائی جب صراحت نہیں کیا کہ حدیث صحیح ہے یا نہیں آپ کے کہنے کے مطابق تو یہاں تو آپ قاری کو شک میں ڈالدئے اور بظاہرقول میں تعارض پایا جارہا ہے اسلئے بہتر یہی تھا کہ اسمیں بھی حکم لگاتے یا صرف صحیح حدیث ہی ذکرکرتے