عقیدہ توحید دیگر تمام عقائد کی نفی کرتا ہے-یہودیوں کا عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دینا اور اللہ کی الوہیت میں شریک کرنا اور عیسائیوں کا عیسی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنا کر شرک کا ارتکاب کرنا اور ہندؤوں کا اپنے بھگوانوں اور بدھ مت کا گوتم بدھ کو الہ قرار دینا یہ سارا شرک ہے جو اللہ کے ہاں ناقابل معافی ہے اور اسی شرک کو لوگوںمیں سے ختم کرنے کے لیے اللہ تعالی نےانبیاء کو مبعوث فرمایا-جس طریقے سے ان مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے یہ تحریفات کر کے عقائد کو بگاڑا ہے اسی طرح اسلام کے نام لیوا لوگوں میں سے بھی بہت سارے ایسے گروہ ہیں جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر وہ غیر شرعی امور اسلام میں داخل کیے جن کا نہ تو اسلام سے کوئی تعلق ہے او ر نہ ہی اسلامی تعلیمات ان کی تائید کرتی ہیں-ان باطل گروہوں میں ایک گروہ صوفیا کا ہے جن کے بارے میں عوام الناس میں عمومی طور پر اور پڑھے لکھے لوگوں میں خصوصی طور پر یہ رائے پائے جاتی ہے کہ برصغیر میں اسلام صوفیا کے ذریعے پھیلا ہے اور بڑے پیمانے پر ان تعلیمات کو نافذ کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات کو انہیں تعلیمات کے ذریعے ہی پروان چڑھایا جا سکتا ہے-جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کا جس طرح سے تصوف اور صوفی ازم نے حلیہ بگاڑا ہے شاید مذاہب باطلہ نے بھی اسلام کو اتنا نقصان نہ پہنچایا ہو-مصنف نے اس کتاب میں عقیدہ توحیدکی تفصیلی بحث کےساتھ ساتھ صوفیا کے ذریعے جن غیر شرعی تعلیمات کو لوگوں میں رواج دیا اور اپنی مرضی سےجن تعلیمات کو پیش کیا ہےاس کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے-عقیدہ توحید کو وضاحت کےساتھ ساتھ عقیدہ وحدت الوجود،وحدت الشہود اور صوفیا کی توہین آمیز باتیں جو اللہ اور رسول میں بغیر فرق کے اور تصوف کی وج سے پیدا کردہ بے بہا تہواروں کا تذکرہ پایا جاتا ہے-