زیر نظر کتاب دو کبار علماء حدیث کے دو رسالوں کا مجموعہ ہے ۔جن میں سے پہلا رسالہ شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین راشدی صاحب رحمہ اللہ کا ہے اور دوسرا رسالہ حافظ زبیر علی زئی حافظہ اللہ کاہے۔اس کتاب میں اس مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے کہ نماز کی امامت کے لیے امام کن اوصاف کا حامل ہو۔نیز امام کا صحیح العقیدہ اور بدعات سے مبرہ ہونا ضروری ہے ۔فاسد العقیدہ اور بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ۔لہذا مصلحت کے لبادہ میں گمراہ عقائد کے حامل اور بدعات کے رسیہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی جو رخصت فراہم کی جاتی ہے کتاب وسنت کے دلائل اور آثار سلف کی رو سے یہ قطعاً غلط ہے ۔بلکہ نماز میں ایسے امام کا انتخاب لازم ہے جس کا عقیدہ صحیح اور بدعت کا پرچار کر نہ ہو ۔اس مسئلہ کے بارے میں صحیح اور کامل آگاہی کے لیے زیر تبصرہ کتاب کا مطالعہ ازہد ضروری ہے ۔(فاروق رفیع)
نوٹ: محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
فہرست مضامین
عناوین
صفحہ نمبر
تصدیر
5
پہلارسالہ ۔امام صحیح العقیدہ ہونا چاہیے
تقدیم
9
سوال
17
جواب
17
عقیدہ کی پہلی خامی
17
عقیدہ کی دوسری خامی
25
عقیدہ کی تیسری خامی
29
عقیدہ کی چوتھی خامی
30
عقیدہ کی پانچویں خامی
32
دوسرا رسالہ۔بدعتی کے پیچھے نماز کا حکم
تقدیم
50
سوال
52
جواب
52
بدعت کی اقسام
53
بدعتی کے پیچھے نماز کے عدم جواز کے فتوے
54
بدعتی کے بارے میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
57
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینے والا
النبي صلى الله عليه وسلم: يصلي خلف عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه أخرج ابن خزيمة في صحيحه. عن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه قال:(شهدت من رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنه كان في سفر، فحضرت الصلاة فاحتبس عليهم النبي صلى الله عليه وسلم: فأقاموا الصلاة وقدموا ابن عوف، فصلى بهم بعض الصلاة، وجاء النبي صلى الله عليه وسلم: فصلى خلف ابن عوف ما بقي من الصلاة، فلما سلم بنا ابن عوف قام النبي صلى الله عليه وسلم: فقضى ما سبق به) وفي مسند أحمد وصحيح مسلم كتاب الطهارة، وسنن أبي داود والنسائي عن عمرو بن وهب الثقفي قال:( كنا مع المغيرة بن شعبة فسُئل: هل أمَّ النبي صلى الله عليه وسلم: أحدا من هذه الأمة غير أبي بكر؟ فقال: نعم. فذكر أن النبي صلى الله عليه وسلم: توضأ ومسح على خفيه وعمامته، وأنه صلى خلف عبد الرحمن بن عوف وأنا معه ركعة من الصبح، وقضينا الركعة التي سبقنا) قال ابن كثبر في البداية والنهاية معلقًا: ( وهذه منقبة عظيمة لا تُبارى)
In the above Hadees Prophet s.a.w.s Prayed behind ABDUL RAHMAN BIN AUF RZT. It does not make HAZT ABDUL RAHMAN BIN AUF IS SUPERIOR THAN PROPHET s.a.w.s
تحریر کردہ: مراد 27 نومبر 2011
0 |
تبصرہ %s کیلئے: امامت کے اہل کون؟
صحيح البخاري، الإصدار 2.03 - للإمام البخاري الجزء الرابع >> 97 - كتاب الأحكام. >> 25 - باب: استقضاء الموالي واستعمالهم. 6754 - حدثنا عثمان بن صالح: حدثنا عبد الله بن وهب: أخبرني ابن جريج: أن نافعاً أخبره: أن ابن عمر رضي الله عنهما أخبره قال: كان سالم مولى أبي حذيفة يؤم المهاجرين الأولين وأصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في مسجد قباء، فيهم أبو بكر وعمر
تحریر کردہ: ALI 24 نومبر 2011
0 |
تبصرہ %s کیلئے: امامت کے اہل کون؟
صحيح البخاري، الإصدار 2.03 - للإمام البخاري الجزء الرابع >> 97 - كتاب الأحكام. >> 25 - باب: استقضاء الموالي واستعمالهم. 6754 - حدثنا عثمان بن صالح: حدثنا عبد الله بن وهب: أخبرني ابن جريج: أن نافعاً أخبره: أن ابن عمر رضي الله عنهما أخبره قال: كان سالم مولى أبي حذيفة يؤم المهاجرين الأولين وأصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في مسجد قباء، فيهم أبو بكر وعمر
تحریر کردہ: ALI 24 نومبر 2011
0 |
تبصرہ %s کیلئے: امامت کے اہل کون؟
Salam Alaikum
For two Rakath Prayer so many condition !!, leading a Islamic Nation how much qualification required.