ہفتہ, جولائی 31, 2010
   
الفاظ کا سائز
جمعرات
18
فروری
10
بھیجیں
پرنٹ
جشن و جلوس عید میلاد النبی

 

آراء (0)
مشاہدات (1525)
تبصرہ جات (5)

بک مارک کریں


تبصرہ
RE: جشن و جلوس عید میلاد النبی

عید میلاد النبی پر جشن۔

اصل بات تو محبت کی ہے۔ جنہیں خوشی ہوتی ہے وہ محنت کا انداز اپناتے ہیں۔ لیکن کیا محبت کا گر کسی صحابی نے نہیں سیکھا؟ یا ان کو سکھایا نہیں گیا؟  اگر کوئی ایسا دعوی کرے تو جھوٹا ہے۔ جو بھی مسلمان ہے، لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالی کا شریک نہیں ٹھرائے گا ۔ عبادت کو خالص اللہ تعالی کے لئے کرے گا۔ ہاں یہ بات کہ اللہ تعالی کیوں کہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ معاملہ حل کیا ہوا ہے۔ کہ وہ خالق ہے، وہ رازق ہے، وہ مالک ہے، وہ رب ہے، اس کے انعامات ہیں۔  جو کوئی کسی کے ساتھ بھلائی کرے تو دوسرا اس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا، ایک عبادت ہے۔ بندے کا شکریہ ادا کرنا اس کی حوصلہ افزائی ہے۔ وہ عبادت نہیں۔ اسے عبادت کے درجے تک لے جانا شرک ہے۔ بندے نے جو مدد کی وہ توفیق الہی سے ہے، وہ اللہ تعالی کے دئے ہوئے مال سے ہے، وہ اللہ تعالی کی تعمتوں کی فراوانی سے اللہ کے حکم کو بجا لاتے ہوئے دوسرے بندے کی مدد کی۔

اللہ تعالی قرآن مجید میں بڑے واشگاف الفاظ مومنین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے بہت بڑا احسان فرمایا کہ تمہیں میں سے اپنا نبی بھیجا، جو اللہ کی آیات کو تلاوت کرتا ہے، تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تم اس سے پہلے گمراہ تھے۔ آمد رسول مقبول بلا شبہ ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن جہاں تک تعلق اس کو ایک عید کے طور پر منانے کا، اس سلسلے میں آثار صحابہ سے کوئی ایسا جشن روایات میں نہیں۔ عید الاضحی کا ذکر ہے، عید الفظر کا ذکر ہے۔ دونوں میں جو چیز مشترک ہے وہ ہے کہ اللہ تعالی کی بندگی کرو دو رکعت نماز پڑھ کر، اور معاشرے کے غربا پر صدقہ کرو۔ یعنی فطرانہ اور قربانی۔ یہ خود ساختہ عید کا پروگرام کس نے مرتب کیا؟

 اللہ کی قسم ہم محبت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم  میں اہل بدعت سے کہیں آگے ہیں۔ ہمیں اشارہ چاہیے تھا کہ صحابہ کا عمل کیسا ہے اور ہم ضرور کرتے۔ لیکن بات یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے اعمال میں سنت مصظفے صلی اللہ علیہ وسلم  کو مظبوطی سے تھاما ہوا ہو، زندگی کے لحظہ لحظہ میں سنت نبوی کی خواہش ہو، اس کی ناموس پر مر مٹنے کو جہاد کریں، زندگی کو اللہ اور اس رسول کی اطاعت میں قربان کر دیں۔ شہادت کے عظیم منصب پر فائض ہو جائین، کیا ان کے مشکل ہے کہ سال ایک دن عید میلاد بھی منا لیں۔ لیکن ثبوت چاہیے دربار رسالت سے، دربار صدیق سے ، دربار عمر سے، دربار علی سے، دربار اہل بیت اطہار سے۔ تاکہ پتہ چلے کہ یہ نیک عمل کیسے کیا جائے؟ کیا راضی شیعوں کی طرح تعزیہ نکالا جائے؟ کیا بازاروں میں غل گپاڑا کر کے سڑکیں بلاک کی جائیں؟  جو عیدیں مناتے ہو ان کا منظر تمہارے سامنے ہے۔ کوئی غل غپاڑا ہے؟ کوئی تعزیہ ہے؟

لہذا اہل بدعت سے گزارش ہے کہ رسول مقبول کی خوشی کو سال میں ایک دن میں قید نہ کرو۔ بلکہ زندگہ کے لمحہ لمحہ میں ان کی اطاعت کا سوچو۔ نصرانی حضرت عیسی کی عید مناتے ہیں۔ جسے کرسمس کہتے ہیں۔ دیکھا جائے تو کام ان کا ناجائز ہے لیکن کرنے کا طریقہ اتنا بیہودہ نہیں جتنا اہل بدعت کا۔ کیوں سوچتے نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟  یقینا اللہ تعالی سے ہدائیت مانگیں تو ہدائیت دیتا ہے۔


تحریر کردہ: اکرام اللہ عیسی خیلوی
ہفتہ, 26 جون 2010

0 |


RE: جشن و جلوس عید میلاد النبی

الحمد للہ رب العالمین ولصلوۃ والسلام علی خاتم النبین۔

 ہمارے ملک طبقہ جہلا  ہے جو کہ عشق رسالت کے تو بہت گن گاتا ہے مگر ساتھ ہی ، بدعات پر بڑی خوش اسلوبی سے چل رہا ہے۔ انہیں وجوہات کی بنا پر اہل بدعت کے نام سے مشہور ہے۔  پچھلے زمانہ میں جتنی بھی بدعات کا رواج دنیا کے مختلف خطوں میں رہا ہے، ان میں صف اول میں رافضی آتے ہیں۔ ان سے پوچھیں تو وہ کہیں گے کہ وہ سچے ہیں۔ دوسرے درجے میں وہ صوفی ہیں، جنہوں نے یکے بعد دیگرے جھوٹ بنائے اور اہل بدعت کو پسند آ گئے۔ کئی تو پہلے ادوار میں پکڑے گئے جیسے حسین بن حلاج کہ جس کو اس کے کئے کی سزا ملی۔ اس سزا پر علی ہجویری کو بھی اعتراض تھا اور مجد بدعات رضا خان بریلوی کو بھی اعتراض تھا۔ حالانکہ اس کا مشہور و معروف کلمہ  انا الحق  تھا۔ اسی وجہ سے ہلاک ہوا۔ لیکن موجودہ اہل بدعت کے پاس بھی بڑے ثبوت ہیں کہ وہ ملنگ بہت اچھا تھا۔ آج کل بھی خانقاہی نظام بڑے کمائی کے اڈے ہیں۔ پیر صاحب ملنگوں اور مریدوں کی کمائی پر پجارو وغیرہ پر عیاشی کرتے ہیں۔ لیکن وہ ساتھ ساتھ پہنچے ہوئے ولی بھی ہیں۔ کہاں تک پہنچے ہوئے ہیں۔ صوبائی اسمبلی تک پہنچے ہوئے ہیں۔ قومی اسمبلی تک پہنچے ہوئے ہیں۔ وہی دوسرے دنیا داروں کی طرح ووٹ کی بھیک مانگتے ہیں۔ لیکن ہیں پہنچے ہوئے۔ اب تو تھانوں تک بھی پہنچے ہوئے ہیں۔ چوروں تک بھی پہنچے ہوے ہیں۔ اگر نہیں پہنچے تو دین تک نہیں پہنچے باقی ہر جگہ پر ان کا عمل دخل ہے۔ یہی لوگ بے نظیر کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ بے نظیر بھی بڑی پہنچی ہوئی تھی۔ کیونکہ بش تک بھی پہنچی۔ برطانوی وزیر اعظم تک بھی پہنچی ، اسمبلی تک بھی پہنچی ، بلکہ یوں کہیے کہ وزیر اعظم کی سیٹ تک بھی پہنچی۔ اگر نہ پہنچی تو صرف اسلام تک نہ پہنچی۔  بلکہ قبر تک پہنچ گئی۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ وہ رافضی عورت تھی۔ رافضی صحابہ رسول اکرم صلی علیہ وسلم پر کس قدر تبرا بولتے ، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہمیشہ اہل بدعت کے کندھے پر سوار ہو کر رافضی آئے  اور پورے مسلمان ملک کے حاکم بن بیٹھے۔ کس نے ووٹ دیا ؟ یا تو شیعوں نے ووٹ دیا  یا بدعتوں نے ووٹ دیا۔ کوئی دیوبندی  یا وہابی ان غلیظوں کو کبھی بھی ووٹ نہیں دیا۔ دوسرے لفظوں میں کیا یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں صحابہ پر جو تبرا بولا گیا اس میں اہل بدعت کا ووٹ شامل ہے۔ لیکن یہ سب عشق رسول کے اکیلے ٹھیکے دار ہیں۔ اگر ہم کہیں کہ ہمیں بھی محبت ہے  محمد رسول اللہ سے۔ ہمیں محبت ہے اہل بیت اطہار ہے سے ۔ تو یہ ہر گز ماننے والے نہیں۔ نہ مانیں ہماری بلا سے۔ ہمارا رب جانتا ہے۔ اہل بدعت کے ماننے یا نہ ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ فرق تو اس وقت پڑتا  جب اللہ نہ مانے۔  اہل بدعت جب حوض کوثر سے دھتکارے جائیں تو تب مقام رسالت  سے آشنا ہوں گے۔ اب تو ان کو نبی علیہ الصلوۃ کی سنت سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ سبق سکھایا رضا خان بڑے بدعتی، لعنتی نے۔ تا قیامت لعنت ہو اس پر جس نے جہالت کو خوب پھیلایا، اور مسلمانوں کو توحید سے دور دراز لے گیا۔  

 


تحریر کردہ: خالد مسعود
منگل, 22 جون 2010

0 |


جشن و جلوس عید میلاد النبی

جزاك الله أحسن الجزاء


تحریر کردہ: عبد الحنان السلفي
بدھ, 12 مئی 2010

0 |


RE: جشن و جلوس عید میلاد النبی

میری طرف سےعیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبارک ہو


تحریر کردہ: Muhammad TariqRaheel
ہفتہ, 27 فروری 2010

0 |


RE: جشن و جلوس عید میلاد النبی

jazaak ALLAH


تحریر کردہ: HUSSAIN
اتوار, 21 فروری 2010

3 |


نیا تبصرہ شامل کیجئے
نام:
ای میل:
عنوان:
تبصرہ:
حفاظتی کوڈ:
تصویر میں دکھائے گئے حروف و اعداد یہاں لکھیں
 
 

رجسٹرڈ اراکین

ویب سائٹ پر زائرین کا ریکارڈ

آج............آج............1015
کل............کل............1729
اس  ہفتے............اس ہفتے............11015
اس مہینے............اس مہینے............63108
کل تعداد............کل تعداد............433414
Statistik created: 2010-07-31T04:00:12-04:00

اردو فونٹ

ویب سائٹ کو ڈیفالٹ لے آؤٹ پر دوبارہ لے آئیں