قرآن کریم اللہ تعالی کی کلام ہے اور یہ نزول سے لے کر اس زمانے تک اور قیامت تک کے لیے ویسے ہی محفوظ ہے جیسے یہ نازل ہوئی تھی-قرآن کریم اور دوسری کتابوں کے درمیان فرق افضل مفضول اور اکمل وغیراکمل کا نہیں بلکہ بنیادی فرق محفوظ اور غیر محفوظ کا ہے،کیونکہ اللہ تبارک وتعالی نے کسی بھی کتاب کی بقا اور حفاظت کی ذمہ داری قبول نہیں جبکہ قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری خود قبول کی ہے جس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ پہلی کتابیں وقت کے ساتھ ختم ہو جائیں گی اور قیامت تک کے لیے راہنمائی اس کتاب سے حاصل کی جائے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود لی ہے-مصنف نے اپنی کتاب میں قرآن کریم کے حوالے سے تین مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ہے-1-قرآن اپنی ذات میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ تعالی کی کلام ہے-2-یہ کہ قرآن اسی طرح محفوظ ہے جیسے یہ نازل ہوا تھا اور اس میں کسی بھی قسم کا تغیر وتبدل یا کمی وبیشی نہ کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی کر سکتا ہے-3-یہ ایک کتاب دعوت ہے اور اگر اس کی دعوت کو صحیح طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو یہ دنیا کو مسخر کر سکتی ہے-
------------------------------------------------------------------------
ادارہ جاتی نوٹ
مصنف مولانا وحید الدین خاں علماء کے ہاں ایک متنازع شخصیت سمجھی جاتی ہیں اس لیے ادارہ کا مصنف کے جمیع نظریات سے اتفاق نہیں،ہاں ادارہ جہاں یہ سمجھے گا کہ اس موضوع میں قرآن وسنت اور اسلاف کےنظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے گفتگو کی گئی صرف اسی موضوع کو پیش کیا جائے گا-کسی بھی کتاب کو پیش کرنے کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ ادارہ کسی بھی مصنف کے جمیع افکار ونظریات سے اتفاق رکھتا ہے بلکہ جس کو پیش کیا جائے گا صرف اسی حد تک اتفاق ہو گا-قارئین نوٹ فرما لیں -


















































