انکار سنت کا فتنہ تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔
انکار سنت کا یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔
زیر نظر کتاب ایک پرویزی ڈاکٹر عبد الودود اور سید ابو الاعلی مودوی رحمہ اللہ کے سنت کی آئینی حیثیت کے بارے ایک طویل مراسلت پر مشتمل ہے جو پہلے ترجمان القرآن میں شائع ہوئی اور بعد ازاں اس کی افادیت کے پیش نظر اسے ایک مستقل کتاب کے طور بھی شائع کیا گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مولانا مودودی رحمہ اللہ نے اس کتاب میں عقل و نقل کی روشنی میں پرویزی فکر کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ اللہ تعالی مرحوم کو سنت کے اس دفاع پر جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین(ت۔م)
نوٹ: محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
فہرست مضامین
عناوین
صفحہ نمبر
دیباچہ
13
سنت کی آئینی حیثیت
ڈاکٹر صاحب کا پہلا خط اور اس کا جواب
25
ڈاکٹر صاحب کا دوسرا خط
27
جواب
29
سنت کیا چیز ہے؟
30
سنت کس شکل میں موجود ہے؟
33
کیا سنت متفق علیہ ہے؟اور اس کی تحقیق کا ذریعہ کیا ہے؟
40
چار بنیادی حقیقتیں
44
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کی نوعیت
48
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت کا فرق
49
قرآن سے زائد ہونا اور قرآن کے خلاف ہونا ہم معنی نہیں ہے
50
کیا سنت قرآن کے کسی حکم کومنسوخ کرسکتی ہے؟
51
احادیث کے پرکھنے میں درایت اور درایت کا استعمال
53
منصب نبوت،صحیح اور غلط تصور کا فرق
59
منصب نبوت اور اس کے فرائض
67
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی اختیارات
80
سنت اور اتباع سنت کا مفہوم
84
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کس وحی کے اتباع پر مامور تھے اورہم کس کے اعتبار پر معمور ہیں
86
مرکز ملت؟
89
کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف قرآن پہنچانے کی حد تک نبی تھے؟
93
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اجتہادی لغرشوں سے غلط استدلال
96
موہوم خطرات
99
خلفائے راشدین پر بہتان
103
کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی؟
110
سنت کے متعلق چند مزید سوالات
116
اعتراضات وجوابات
135
’’بزم طلوع اسلام‘‘سے تعلق؟
135
کیا گمشتی سوال نامہ کا مقصد علمی تحقیق تھا؟
136
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت شخصی اور حیثیت نبوی
قرآن اور سنت لازم و ملزوم ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص قرآن کو اللہ کی ہدایت تسلیم کرتا ہو اور ساتھ ہی سنت رسول اللہ کا منکر بھی ہو۔ اس سے زیادہ نامعقول بات کوئی ہو نہیں سکتی۔ نامعقولیت کے مختلف پہلو کو اس کتاب "سنت کی آئینی حیثیت" میں جس طرح معقول اور مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے وہ فتنہ انکار حدیث کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ہے۔ تعجب ہے کہ منکرین حدیث تحقیق و تفحص کے ذریعہ حدیث میں در آنےوالی کمزور روایات کی چھان پھٹک کرنے کا علمی کام کرتے انہوں نے پٹاپٹایا آسان راستہ یہ اختیار کرلیا کہ سرے سے سنت کی ضرورت اور دینی حیثیت کا ہی انکار کردیا۔ سنت کا انکار اور رسول اللہ کے انکار میں فرق کیا ہے؟ کیا رسول اللہ کی حیات مبارکہ میں تو صحابہ کرام کو آپ کی ہدایات کی ضرورت تھی لیکن بعد کے دور میں مسلمانوں کو اس کی ضرورت نہیں رہی۔ اس سے زیادہ نامعقول بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو سرےسے قرآن و سنت دونوں کا انکار کرکے اپنی عقل سے ہدایت اور سچائی تک پہنچنے کی کوشش کرتےرہیں، بلا وجہہ اسلام اور قرآن کا نام لینے کی ضرورت ہی کیاہے۔