|
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نوٹ۔یہ تبصرہ عثمان خاں نامی ایک بھائی نے کیا ہے ۔ اہل تصوف اور اہل شریعت میں کوئی فرق نہیں۔ جو اہل شریعت نہیں، وہ اہل اسلام سے دُور ہے، لہذا تصوف سے دُور ہے۔ اب رہا سوال کہ کیا، ہم صوفیاء کو دیکھ کر 'کارستانیوں' کا اندازہ لگاتے ہیں، یا متصوف حضرات کو دیکھ کر۔ یہ فرق قائم نہیں کیا گیا، ضرور کیا جانا چاہیے تھا، کیونکہ صوفی کم ہیں، متصوف ہر جا ہیں۔ اب رہا سوال صراط مستقیم کا، تو اللہ ہی عالم ہے، وہ بہتر جانتا ہے کہ حق کیا ہے۔ مگر میرے مخلص دوست اللہ تعالی کو چھوڑ کر، زندیقی اپنا لیتے ہیں، شریعت چھوڑ کر برائے نام طریقت میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں، یہ کسی صورت بھی گوارا نہیں۔ شیخ جنید بغدادی کا قول ہے۔ ہم نے تصوف کو قران و حدیث سے اخذ کیا ہے، لہذا جو اس کے مخالف چلے اُس کی پیروی نہ کی جائے۔ مزید اگر اس موضوع پر بحث مباحثہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس لنک پر آجائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
|
تحریر کردہ: ایڈمن 28 جنوری 2012 0 |
| [سے انس نضر پر 30 جنوری 2012] |