فیس بک تبصرہ جات

فیس بک کمنٹس کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی تشہیر میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
بدھ
14
جولائی
10
آئینہ پرویزیت

 

آراء (2)
مشاہدات (5126)
تبصرہ جات (1)



تبصرہ جات
تبصرہ %s کیلئے: آئینہ پرویزیت

غالباً اس  موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں یہ بہترین کتاب ہے۔ اپنی ضخامت کی وجہ سے ایک عام قاری کے لیے پڑھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ جناب مصنف اکثر اتنی تفصیل میں چلے جاتے ہیں کہ اس چیز کے بارے میں سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ یہ ان کے اپنے تاثرات ہیں یا پرویز کے۔ کتاب ہر طرح کے حوالاجات سے پر ہے، جن پر شائد ہی کہیں جرح کی گنجائش نکل سکے۔ املا کی غلطیاں بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی پرویزی ذہن رکھنے والا شحص اس کو پڑھنے کے بعد اپنے خیالات بدلنے پر مجبور ہوجائے گا۔ اس میں وہ شعلہ بیانی نہیں پائی جاتی جو قاری کو اسے پڑھنے پر مجبور کرسکے۔ ایک بہترین کتاب ہونے کے باوجود ، میرے نزدیک ، یہ حوالے کی کتاب کے طور پر تو ایک بہترین کتاب ثابت ہوئی ہے مگر عام قاری کے دل پر وہ اثر نہیں چھوڑ سکی جو اس پائے کی کتاب کو چھوڑنا چاہئے تھا۔ علمی اعتبار سے میں اس پر اعتراض کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، ہاں بس ایک سوال ہے، مصنف نے جہاں رسول اور نبی میں جو فرق بتائے ہیں ان میں ایک یہ بھی لکھا ہے کہ رسول قتل نہیں کیے گئے اور نبی ناحق قتل بھی کیے گئے۔ سورۃ المائدہ کی آیت ۷۰ میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے بارے میں بتاتا ہے کہ انہوں نے رسولوں کو بھی قتل کیا۔

اس کتاب کو پڑھنے کے بعد بہت سی دوسری، خاص طور پر کچھ شخصیات  کے بارے میں، غلط فہمیاں بھی دور ہوتی ہیں۔ ہاں ایک اور تاثر جو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ غلام احمد پرویز کو مار تو بہت پڑ رہی ہے مگر ڈنڈا شائد ریشم کے تھانوں میں لپیٹ کر مارا جارہا ہے۔ یہی سلوک کتاب میں عام طور پر تمام کفار کے ساتھ اور خاص طور پر سر سید کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہے۔ 

اس کو پڑحنے کو دوران میڑے دل سے مصنف کے لیے صرف اور صرف دعائیں ہی نکلتی رہیں۔ اللہ تعالٰی ان کو اجر عظیم سے نوازیں۔ آمین۔


تحریر کردہ: محمود بن کفیل
13 مارچ 2011

3 |


نیا تبصرہ شامل کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
جواب پر الرٹ کریں
ریٹنگ پر الرٹ کریں
حفاظتی کوڈ:
تصویر میں دکھائے گئے حروف و اعداد یہاں لکھیں