عید الاضحٰی کے موقع پر قربانی کے جانور کا خون بہانا ایک عمل مشروع، ابراہیمی سنت اور اسلام کا شعار ہے، جس پر ہر مسلک کے تمام علماء کا چودہ صدیوں سے اتفاق چلا آ رہا ہے۔ جزوی مسائل میں اختلاف ضرور ہوا ہے، لیکن کبھی قربانی کے مشروع ہونے نہ ہونے کا سوال نہیں اٹھا۔ حتٰی کہ برصغیر میں منکرین حدیث گروہ کی سربر آور شخصیت جناب غلام احمد پرویز صاحب کی طرف سے قربانی کو غیر مشروع، غیر اسلامی بلکہ مشرکین کی رسم اور فضول خرچی قرار دیا گیا اور عوام الناس کو اس "شرک و گناہ" سے بچنے کی تلقین کی گئی۔ اور اب حالت یہ ہے کہ اس سنت ابراہیمی کے خلاف دجل و فریب کی اشاعت پر لٹریچر کی اشاعت کو اپنا فرض منصبی سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں پرویز صاحب سمیت جملہ منکرین حدیث کے تمام دلائل کا علمی اور منطقی انداز میں جائزہ لیا گیا ہے جو انہوں نے اپنی کتابوں میں قربانی کے خلاف پیش کئے ہیں۔
فہرست مضامین
عناوین
صفحہ نمبر
عرض ناشر
::
5
اسلام کی چودہ صد سالہ تاریخ قربانی پر شاہد ہے
::
7
پہلی نظر ( فروعی اختلافات میں الجھ کردشمنان دین کو نہ بھو لیں )
::
8
مشروعیت ( قربانی ) کی سب سے بڑی دلیل
::
10
علم اسماء رجال کی وسعت
::
12
علماء سلف کی مساعی
::
13
(حدیث کو عجمی سازش قرار دینا ) نادانی کی انتہاء
::
13
(مسٹر پرویز کی ) اسلامی نظام پر بے اعتمادی
::
15
مسٹر پرویز کی عبارات میں سے چند اقتباسات
::
16
معذرت
::
19
(پرویزی نظریات پر ) تنقدی گزراشات
::
19
غور فرمائیے ( یا ابت افعل ما تومر )
::
21
(مسٹر پرویز کی ) قرآن دانی کا ماتم
::
21
ذبح عظیم سے مراد
::
23
بین الاقوامی ضیافت ( قیام عرفات کا مقصد قرآنی اور پرویز ی نظر یہ )
تبصرہ %s کیلئے: قربانی کی شرعی حیثیت اور پرویزی دلائل پر تبصرہ
: قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں۔ ۱ اسلا ؔ م یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں، ۲ اقا ؔ مت یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں، ۳ تونگریؔ یعنی مالک نصاب ہونا یہاں مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، حر ؔ ۴ یت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہو اوس پر قربانی واجب نہیں کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں لہٰذا عبادت مالیہ اوس پر واجب نہیں۔ مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں۔ عورتوں پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بلوغ شرط ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اوس کے مال سے قربانی کی جائے گی یا اوس کا باپ اپنے مال سے قربانی کریگا۔ ظاہرالروایۃ یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے اور نہ اوس کی طرف سے اوس کے باپ پر واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ (3)(درمختار وغیرہ)
تحریر کردہ: Hafiz jamil ahmed channa 03 نومبر 2011