تقابل مسالک
بریلویت
پاکپتن کے بہشتی دروازے کی شرعی حیثیت
| کتاب کا نام | پاکپتن کے بہشتی دروازے کی شرعی حیثیت |
| مصنف | حافظ مقصود احمد |
| ناشر | مرکز دعوۃ التوحید، اسلام آباد |
| صفحات | 126 |
دین اسلام میں جس قدر عقائد کی اصلاح اور شرک کی مذمت پر زور دیا گیا ہے بدقسمتی سے امت مسلمہ، اور خصوصاً برصغیر پاک وہند میں اکثریت اسی شدو مد کے ساتھ خانقاہی سلسلوں کی صورت اور درباروں کی شکل میں پھیلے ہوئے شرک کے جال میں پھنسے نظر آتے ہیں-ان اوراق میں مصنف نے ان درباروں ، مزاروں اور جبوں وقبوں کی شرعی حیثیت واضح کرتے ہوئے پاکپتن میں واقع المشہور ''بہشتی دروازے'' کو موضوع بحث بنایا ہے – اور ان حضرات کے سامنے چند سوالات پیش کرتے ہوئے اس مسئلے کی نزاکت واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر یہ واقعتا بہشتی دروازہ ہے تو سارا سال بند کیوں رہتا ہے اور مخصوص عرس کے ایام میں ہی کیوں کھولا جاتا ہے؟اگر یہ بہشتی دروازہ ہے تو کتاب وسنت میں اس کا ذکر کیوں موجود نہیں؟اور قرون اولی کے مسلمان اس سعادت سے کیوں محروم رہے؟ علاوہ ازیں ٹھوس دلائل کے ساتھ ثابت کیا گیاہے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء کی جانب منسوب کی جانے والی روایت جھوٹ اور بہتات تراشی کے سوا کچھ نہیں-کتاب کے شروع میں روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے مضمون '' باب جنت''کےجواب میں ابواسامہ کا مضمون شائع کیا گیا ہے-علاوہ ازیں کتاب میں دیگر چند مزارات پر آنکھوں دیکھے ہوشربا مناظر کا تذکرہ کرتے ہوئے قبروں اور مزارات پر مساجد تعمیر کرنے کی شرعی حیثیت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے-
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس مضمون پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا
تبصرہ کرنے میں پہل کیجئے