دور حاضر میں ایک اہم ترین مسئلہ بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا قرآن وسنت کی تعلیم دینے پر حاصل کیا جانے والا وظیفہ کس نوعیت سے تعلق رکھتا ہے؟آیا کہ ایک معلم شریعیت کے لیے اس کا لینا جواز رکھتا ہے یا نہیں؟جدید دور کے ایک نوزائیدہ گروہ (جسے عرف عام میں توحیدی گروہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے) کے نزدیک دینی امور مثلاً امامت، قرآن پڑھانے وغیرہ پر اجرت لینا شرعی تعلیمات کے خلاف اور حرام ہے۔ ان کی طرف سے اس سلسلے میں ذہن سازی کیلئے مفت اردو لٹریچر تقسیم کیا جا رہا ہے۔فاضل مؤلف نے ان کے اس دعوی کے بطلان پر کتاب و سنت کی روشنی میں دلائل پیش کئے ہیں اور اس گروہ کی طرف سے پیش کئے جانے والے اعتراضات کے بھرپور جوابات دیے ہیں۔
فہرست مضامین
عناوین
صفحہ نمبر
دینی امور پر اجرت کا جواز
10
دلیل نمبر1- ابو سعید خدری کی روایت
10
عبداللہ بن عباس کی روایت
13
حافظ ابن حجر العسقلانی کی وضاحت
15
امام نووی رحمہ اللہ کی وضاحت
16
امام ترمذی کی وضاحت
17
امام ابن العربی کی وضاحت
18
امام البہیقی کی وضاحت
18
امام خطابی کی وضاحت
19
امام ابن حزم الاندلسی کا وضاحت
20
سید محمود آلوسی الحنفی کی وضاحت
21
مولانا خلیل احمد سہارنپوری کا وضاحت
22
احناف کا مؤقف
22
دوسری دلیل ( قرآن کریم کو مہر قرار دینے والی روایت)
23
امام الترمذی کی وضاحت
25
ام المؤمنین صفیہ کا مہران کی آزادی قرار پایا
25
ام سلیم کا مہر ابو طلحہ کا اسلام قبول کرنا قرار پایا
26
جناب موسی علیہ السلام کا نکاح
28
بعض اعتراضات کے جوابات
29
یہ ایک خاص واقعہ تھا؟جس کی وجہ قبیلہ والوں کی بے مروتی تھی اور اس کا جواب
30
قبیلہ والوں کا صحابہ کرام کی دودھ سے تواضع کرنا
33
قد اصبتم اور احسنتم کے الفاظ کو نقل نہ کرنا
33
دینی علوم پڑھانے والوں کے وظائف پر پابندی لگانے کامقصد دینی علوم کا خاتمہ ہے
33
قیامت کی علامات میں سے علم کا اٹھ جانا بھی ہے
35
انس بن مالک کی روایت
35
عبداللہ بن عمروبن العاص کی روایت
35
عتبہ بن عامر کی روایت کی وضاحت
36
حافظ ابن حجر العسقلانی کی وضاحت
36
دوسرا اعتراض
38
اگر یہ اجرت تھی تو صرف دم کرنے والے کا حق تھا
38
امام نووی رحمہ اللہ کی وضاحت
40
تیسری دلیل خارجہ بن الصلت کی روایت
42
قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ کی روایت
44
چوتھی دلیل - والعالمین علیہا
45
حافظ صلاح الدین یوسف کی وضاحت
45
عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کی روایت
46
محمد داؤد دراز رحمہ اللہ کی وضاحت
47
پانچویں دلیل ’’ فی سبیل اللہ ,,
48
حافظ صلاح الدین یوسف کی وضاحت
48
عبدالرحمان کیلانی کی وضاحت
48
سورة البقرہ آیت 273 سے اس کی وضاحت
49
چھٹی دلیل - خمس اور مال فے کا مصارف
49
سیدنا عمربن الخطاب اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہما کا معلمین اور مؤذنین وغیرہ کے لیے وظائف مقرر کرنا
50
عمرثانی ، عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا طرز عمل
51
آٹھویں دلیل قاضی کے لیے عہدہ قضا کی اجرت
52
حافظ ابن حجر العسقلانی کی وضاحت
53
عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا قاضیوں کے لیے وظائف مقرر کرنا
53
تعلیم القرآن پر اجرت کی ممانعت کے سلسلے میں روایات کی حیثیت
54
عبدالرحمان شبلی رضی اللہ عنہ کی روایت
54
حافظ زبیر علی زئی کی تحقیق
57
اس روایت کا صحیح مفہوم اور اس کی وضاحت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت سے
57
عبادة بن الصامت رضی اللہ عنہ کی روایت
59
اس روایت کا راوی الاسود بن ثعلبہ مجہول ہے
59
اس روایت کی دوسری سند کے راوی بشر بن عبداللہ بن یسار غیر معروف ہے
60
اس روایت کی وضاحت امام البہیقی سے
61
امام خطابی سے اس روایت کی وضاحت
62
حافظ ابن کثیر کی وضاحت
63
ابو درداء رضی اللہ عنہ کی روایت
63
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت
64
ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کی روایت
64
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت
65
سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت
65
اس روایت کا صحیح مفہوم
66
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی روایت
67
آیت ’’ ولاتشتروا بایاتی ثمنا قلیلا ,, سے استدلال
68
اس آیت کی وضاحت دوسری آیت سے
69
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کی وضاحت
70
علامہ آلوسی کی وضاحت
72
قاضی ثناءاللہ پانی پتی کی وضاحت
73
الشیخ عبدالرحمان کیلانی کی وضاحت
73
حافظ صلاح الدین یوسف کی وضاحت
74
ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کی روایت
75
آیت ’’ وما اسئلکم علیہ اجرا ,, سے استدلال
76
علامہ آلوسی کی وضاحت
76
ڈاکٹر محمد لقمان صاحب کی وضاحت
76
ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ ’’ انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا ,,
السلام علیکم ، رفعت بھائی، اس موضوع پر اس کتاب میں کافی دلائل دئے گئے ہیں۔ آپ نے غالباً پڑھے بنا ہی انکار کر ڈالا ہے۔ یا اگر آپ اس موضوع پر کافی مطالعہ کر چکے ہیں تو آپ محدث فورم پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ وہاں آپ حوالہ جات بھی پیش کیجئے۔ ہم بھی پیش کرتے ہیں۔ تاکہ حق و باطل ، کھرا کھوٹا الگ الگ ہو جائے۔ کیا خیال ہے؟فورم کا لنک یہ ہے:
Kitabosunnat.com/forum/forum.php
والسلام
تحریر کردہ: ابو سمیر 30 مارچ 2011
1 |
تبصرہ %s کیلئے: دینی امور پر اجرت کا جواز
دینی امور پر اجرت سابقہ امتوں میں بھی حرام رہی ہے اسی لئے اہل کتاب کے ان گروہوں کی قرآن میں مذمت کی گئی ہے جنہوں نے دین کو ذریعہ معاش بنا لیا تھا اور ان اہل کتاب کی تعریف کی گئی جو دین کو بیچتے نہ تھے اسی طرح آخری رسول محمد ﷺ نے بھی اس فعل شنیع کو حرام قرار دیا لیکن آج کے دین فروش ملاں اس کو ہر حال میں حلال ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس کی ایک مثال یہی ملاں دامانوی ہے
حوالہ جات کی طلبی کیلئے درج ذیل ای میل ایڈریس پر رابطہ کریں