فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراطِ مستقیم کے تقاضے(505#)

امام ابن تیمیہ
عبد الرزاق ملیح آبادی
دار السلام، لاہور
275
8250 (PKR)

فکر وعقیدہ کی گمراہیوں میں سے شرک اور بدعت دو بڑی گمراہیاں ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتب میں ان دونوں گمراہیوں پر مفصل کلام موجود ہے۔ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کی اس کتاب کا موضوع بدعات ہیں ۔ شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب میں اپنے زمانے میں پائی جانے والی متعدد بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کا رد کیا ہے۔اس کتاب کو بالاستیعاب پڑھنے والوں پر ایک تاثر قائم ہوئے بغیر نہیں رہے گا کہ شیخ الاسلام کا شرک اور بدعت کا منہج تردید مختلف ہے۔ شرکیہ و کفریہ افکار کے حاملین اشخاص اور گروہوں کا رد کرتے ہوئے شیخ الاسلام کا لب ولہجہ اور اسلوب، افکار ونظریات اور ان کے حاملین دونوں کے حوالہ سے انتہائی سخت ہوتاہے جبکہ اہل بدعت اور مبتدعین کی تردید میں موقف میں تو لچک نہیں ہے اور بدعات کی خوب تردید موجود ہے جبکہ اہل بدعت پر نقد کرتے ہوئے بہرحال رویہ اتنا سخت نہیں ہے اور کبھی کبھار بعض بدعات میں ان کے لیے اجتہاد ی خطا کے نام پر ثواب کی امید بھی رکھتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی بدعات میں مخلص ہوں اور یہ بدعات عبادات وغیرہ کی قبیل سے ہوں لیکن اس کے باوجود ان کی بدعات پر شدید نکیر کے قائل ہیں۔شیخ الاسلام کا کہنا یہ ہے کہ بدعات میں خیر وشر دونوں پہلو ہوتے ہیں ۔ خیر کا پہلو تو وہ عبادات اور اعمال صالحہ ہیں جو اہل بدعت کرتے ہیں مثلاً بعض متعین راتوں کو عبادات کے لیے مخصوص کرنا یا متعین دنوں میں روزہ رکھنا اور شر کا پہلو ان کی فکر میں ہوتا ہے کہ وہ اس عمل کو دین سمجھ کر کررہے ہوتے ہیں اور بدعات کے رواج سے سنن اٹھا لی جاتی ہیں جس سے دین غیر محفوظ ہوتا چلا جاتا ہے۔
شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے اپنی اس کتاب میں یہ بحث بھی کی ہے کہ بعض منکرین بدعات ، بدعات کا تو خوب انکار کرتے ہیں لیکن خود سنت کے پیروکار نہیں ہوتے یعنی سنن موکدہ اور غیر موکدہ وغیرہ پر عمل نہیں کرتے اورصرف فرائض واجبات کو پورا کرنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ شیخ الاسلام ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بدعات کو رواج دینا اور سنن کو ترک کرنا دونوں برابر ہی ہیں اور سنن کو ترک کرنے والے اس اہل نہیں ہیں کہ وہ بدعات سے لوگوں کو روکیں۔ بدعات کے رواج سے بھی سنن اٹھالی جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ مٹ جاتی ہیں اور ترک سنن سے بھی سنن ختم ہو جاتی ہیں لہذا نتیجہ کے اعتبار سے ارتکاب بدعات اور ترک سنن دونوں دین کو غیر محفوظ بناتے ہیں۔شیخ الاسلام کا مقصود یہ ہے کہ سوموار اور جمعرات کا روزہ یا ایام بیض کے تین روزے یا عاشورہ اور ذہ الحجہ وغیرہ کے نفلی روزے رکھنے کی سنن پر اگر معاشرے میں رواج ہو گا تو لوگوں کا روزے کی عبادت کا بنیادی طبعی وفطری تقاضامکمل ہو رہا ہو گا لہذا روزہ کے حوالہ سے کسی بدعت کا رواج پانے کے امکانات بہت کم ہوں گے۔
اپنی اس کتاب میں امام رحمہ اللہ نے شد رحال والے مسئلہ پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور تین مقامات یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی کے علاوہ کسی مقام یا قبر کے لیے اہتمام سے سفر کرنے کی نفی کی ہے تاکہ انسان وہاں دعا یا عبادت کر سکے۔ ایک تو صاحب قبر سے دعا کرنا ہے تو یہ تو شرک ہے اور اگر کوئی شخص کسی صاحب قبر کی نبوت یا ولایت یا مقامات ثلاثہ کے علاوہ کسی مقام کو بابر کت سمجھتے ہوئے وہاں جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرے یا وہاں جا کر اللہ ہی کی عبادت کرے تو یہ بدعت ہے اور ایسا کرنے والے پر نکیر کی جائے گی۔پس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر سلام کہنا تو مسنون ہے لیکن قبر کے پاس اہتمام سے جا کر عبادت کرنا یا اللہ سے دعا کرنا اس عقیدہ کے ساتھ کہ یہ مقام بابرکت ہے ، تو یہ شیخ الاسلام کے نقطہ نظر میں درست نہیں ہے۔اگر اتفاق سے کسی کو قبر کے پاس عبادت یا دعا کا وقت داخل ہوا اور اس نے عبادت یا دعا کر لی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے اپنی اس کتاب میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے اس طرز عمل کے بارے بھی بحث کی ہے وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقامات عبادت تلاش کرتے تھے تو کیا اس مسئلہ میں ان کی اتباع درست ہے ۔مثلاً غار حرا میں آپ نے عبادت فرمائی تو آپ کے اس مقام عبادت کا سفر وہاں دورکعت نفل وغیرہ پڑھنے کے لیے جائز ہے اور اس کی دلیل حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے لی جا سکتی ہے ؟ شیخ الاسلام اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ اپنے اس عمل میں منفرد تھے جبکہ بقیہ کبار صحابہ مثلا خلفائے راشدین آپ کی اس قسم کی اتباع نہیں کرتے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ کرنے کی کوشش کرتے تھے لہذا صحابہ کے اس اختلاف کی صورت میں جمہور اور کبار صحابہ کا عمل راجح ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان مقامات کو تبرک سمجھ کر وہاں عبادت یا وہ افعال نہیں کیے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے بلکہ آپ کی اتباع کی نیت سے کیے تھے۔

عناوین

 

صفحہ نمبر

عرض ناشر

 

17

مقدمہ

 

20

مغربی الحاد

 

20

علمائے سوء اور مدعیان تصوف

 

21

اصل خطرہ

 

22

بہترین تدبیر

 

23

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عظمت

 

23

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اصلاحی تحریک

 

24

اُمید کی کرن

 

25

اہل حدیث

 

26

صراط مستقیم

 

27

کفار کی عیدیں

 

27

فصل:1

 

 

کفار کی عیدیں اور تہوار

 

29

ضابطہ

 

30

فصل :2

 

 

بدعتی عیدیں،تہوار اور میلے

 

32

محکم قاعدہ

 

32

خود ساختہ دین

 

34

مشرکوں کی مذمت کیوں کی گئی

 

36

گمراہی کی بنیاد

 

37

فصل :3

 

 

بدعت

 

39

پہلی توجیہ کا جواب

 

40

اجماع کا دعویٰ

 

41

دوسری توجیہ کا جواب

 

45

نماز تراویح

 

46

وہ بدعات جو دراصل بدعات نہیں

 

50

اصول

 

51

فقہاء کے دو مسلک

 

52

علمائے سوء اور گمراہ صوفی

 

52

مسکتِ استدلال

 

53

بدعت کے کام

 

55

بدعت اور سنت

 

56

صوفیوں کی گمراہی

 

58

کسی کا قول و فعل واجب الاتباع نہیں

 

58

فصل :4

 

 

بدعت کےنقصانات

 

60

جمعہ کا روزہ

 

61

روزے کے لحاظ سے دنوں کی تقسیم

 

62

فساد کی علت

 

63

تقرب الہٰی کا ذریعہ

 

64

بدعت کےساتھ باطل اعتقاد ضرور ہوتا ہے

 

65

بدعت کانتیجہ نفاق

 

66

شرعی فضیلت کا اثبات

 

67

بدعتی عیدوں میں روحانی فوائد

 

67

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ

 

69

بدعت کے فوائد اور نقصانات کاموازنہ

 

69

فصل :5

 

 

زمانی و مکانی عیدیں

 

71

رجب کی عیدیں

 

71

عید غدیر خم

 

72

میلاد

 

73

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا طریقہ

 

74

بدعت میں جوش رکھنے والے

 

74

اہم نکتہ

 

75

مصلح کے لیے ہدایات

 

75

اعمال کے تین مراتب

 

78

یوم عاشورا

 

79

ماہ رجب

 

81

شعبان کی پندرہویں رات

 

82

تمام مسلمان مردوں کے لیے نماز جنازہ

 

82

نفل نماز کے لیے اجتماع

 

83

اجتماع کب جائز ہے؟

 

84

امام احمد رحمہ اللہ اور آثار انبیاء علیہم السلام

 

86

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد

 

87

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مسلک

 

87

کب حکم بدل جاتا ہے

 

88

فصل:6

 

 

فضیلت والے دنوں میں بدعتیں

 

90

عیدوں میں باجے

 

91

فصل:7

 

 

مکانی عیدیں

 

93

عرب کے بڑے بُت

 

94

ذاتِ انواط

 

95

روشنی کرنا اور منت ماننا

 

96

بزرگوں کی جعلی قبریں

 

98

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر

 

99

قدم رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 

100

ولی کو خواب میں دیکھنا

 

100

محسوسات کی تعظیم

 

101

بدعیہ مقامات اور مسجد ضرار

 

101

سچی قبریں

 

102

بغیر علم کے عمل

 

103

منت یا نذر

 

104

قبولیت دعا کے اسباب

 

104

فصل :8

 

 

مزار نہ بناؤ

 

106

قبر نبوی پر درود و سلام

 

106

صالحین کی قبریں

 

111

میت کے لیے دعا

 

111

زیارت قبور

 

114

کافر کی قبر کی زیارت

 

115

قبروں کے ساتھ مساجد

 

117

فصل:9

 

 

قبر کے نزدیک نماز

 

121

بت پرستی کیوں کر شروع ہوئی؟

 

124

افراط و تفریط

 

125

انبیاء و اولیاء کے حقوق

 

127

فصل :10

 

 

دُعا

 

128

گرجاگھر

 

128

قبروں کے پاس دُعا

 

129

دانیال نبی علیہ السلام کی لاش

 

131

سلف صالحین کاعمل

 

132

قبروں کے پاس دُعا کرنے کا گناہ

 

133

اسوہ ابراہیمی

 

135

قبر پرستوں کی حجتیں

 

136

جواب شافی

 

137

امام شافعی رحمہ اللہ پر تہمت

 

138

مجہول الحال لوگوں کے اقوال

 

139

مجمل اور مفصل جواب

 

140

عقلی دلائل کی حقیقت

 

141

حرام اعمال

 

142

حکم کے مطابق مراد حاصل کرنے کا طریقہ

 

143

انبیاء علیہم السلام اور فلسفیوں کے طریقے

 

144

حرام دعائیں کیوں قبول ہوتی ہیں؟

 

145

دعا کا صحیح طریقہ

 

146

جادو سے مرادیں برآنا

 

147

عالم و جاہل

 

148

دعاء اور عبادت کا معاملہ

 

148

سخت ٹھوکر کا مقام

 

149

فصل:11

 

 

حال اور وجد

 

150

سحنون محبّ

 

151

کم علموں کے اعمال

 

151

دعاء میں تحریم و کراہت

 

152

اہل و عیال کی بددعائیں

 

153

کرامت

 

154

غیراللہ سے دعاء

 

156

تقدیر و تشریع

 

157

توحید کا ثبوت

 

159

فصل:12

 

 

شرک کی قسمیں

 

161

صوفیوں اور فلسفیوں کی نظر میں دعاء

 

166

مؤمنین کی نظر میں دعاء

 

166

فصل:13

 

 

منت یانذر کی حقیقت

 

169

فصل: 14

 

 

مغضوب علیہ، گمراہو اور ہدایت یافتہ

 

171

اہل حق کا مسلک

 

171

قبولیت دعاء کا ایک سبب

 

173

بعض بزرگوں کی دعائیں

 

174

فصل:15

 

 

قبر نبوی کے پاس دعاء

 

176

بدعتیوں کی دعاء

 

177

قبر نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری

 

178

شرک و بدعت کی علّت

 

180

قبر نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامسح

 

180

دعاء کے لیے قبروں کا انتخاب

 

181

قبروں پر دعاء کب شروع ہوئی؟

 

182

واہی روایتیں

 

183

تعظیم قبور سے کیوں منع کیاجاتاہے؟

 

185

عُرس

 

185

صالحین سےمحبت کا طریقہ

 

187

فصل:16

 

 

قبروں پر عبادتیں

 

190

قبر پر قرآنی خوانی

 

190

قرآن خوانی کےلیے اوقاف

 

193

قبروں پر خیرات

 

194

فصل:17

 

 

قبر کامجاور بننا

 

195

میت اور غائب سے دعاء

 

196

جب دلوں پربدعت کا قبضہ ہوجائے

 

197

فصل:18

 

 

مقامات انبیاء و صالحین

 

199

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سرزنش

 

200

شجرۃ الرضوان

 

201

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا فعل

 

202

ایک اہم فرق

 

202

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کاعمل

 

203

شرک کی بیخ کنی

 

204

شرک کی بنیاد جھوٹ پر ہے

 

205

بدعات پر عمل کرنے والوں پر اللہ کاغضب

 

208

مساجد یا مشاہد

 

209

امام مالک رحمہ اللہ اور قبر نبوی پرسلام

 

211

امام مالک رحمہ اللہ اور لفظ زیارت

 

211

جھوٹی حدیثیں

 

212

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کامقصد کیا تھا؟

 

213

فصل :19

 

 

مقامات ِ انبیاء علیہم السلام پر عبادت

 

214

کسی مقام کو بوسہ دینا

 

216

مقام ابراہیم اور دوسرے مقامات

 

216

فصل: 20

 

 

مسجد اقصیٰ

 

218

صخرے پر تعمیر

 

219

کعب احبار رحمہ اللہ

 

219

معراج کے بارے میں بعض جھوٹی روایات

 

221

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر

 

222

فصل :21

 

 

مساجد کا حکم

 

223

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 

223

اعتکاف

 

224

مشرکین کے وسیلے

 

226

فصل :22

 

 

شفاعت

 

229

شفاعت کا سب سے زیادہ مستحق کون ہوگا؟

 

232

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاء

 

233

فصل:23

 

 

اللہ تعالیٰ او ربندے کے حقوق

 

236

کون لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے؟

 

239

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 

240

حلاوت ِ ایمان کسے حاصل ہوگی؟

 

241

فصل:24

 

 

رسالت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اوّلین مقصد

 

244

اسلام ہی دین الہٰی ہے

 

245

اخلاص اور عمل صالح کیا ہے؟

 

249

کلمہ شہادت کی تحقیق

 

250

دین کامل

 

251

اطاعت ِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معنی

 

252

بدعتی ضرور مشرک ہوتا ہے

 

253

’’اسلام‘‘ کی تحقیق

 

255

فصل:25

 

 

دین الہٰی کی بنیاد

 

259

مشرکوں میں پھوٹ

 

261

موحدوں کے اعمال

 

262

شیوخ کی ضلالت

 

263

فہم توحید میں غلطی

 

265

تقدیر پر ایمان

 

267

توحید میں تحریف

 

269

قرآن کی تقسیم

 

270

انبیاء علیہم السلام کی ہدایت اور فلسفیوں کی گمراہی

 

271

مؤمن کو کیا کرنا چاہیے؟

 

273

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات



ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1909
  • اس ہفتے کے قارئین: 5433
  • اس ماہ کے قارئین: 30337
  • کل مشاہدات: 42906155

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں