علم حدیث کی قدرومنزلت او رشرف وقار صرف اس لیے ہے کہ یہ شریعت اسلامی میں قرآن پاک کے بعد دوسرا بڑا مصدر ہے علم حدیث ارشادات واعمال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فداہ امی وابی کی پاکیزہ زندگی کاعملی عکس ہے جو ہر مسلمان کی شب وروز زندگی کےلیے بہترین نمہونہ ہے علم حدیث
فلسفہ اور سائینٹیفک نظریات نیز مغربی مادی ترقی سے مرعوبیت زدہ ذہن لئے ہوئے اور اتباع نفس کے تحت قرآنی آیات کی من مانی تحریف نما تاویل کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے موجودہ دور کے نام نہاد اہل قرآن (منکرین حدیث) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ سنتوں میں تشکیک پیدا کرکے سنت کو ناقابل اعتبار قرار
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو سنت کا نام دیا جاتا ہے- یہ دین اسلام کا دوسرا ماخذ اور قرآن کریم کی کامل تفسیر ہے-لیکن مسلمانوں کےلیے اس کے احکامات کیسے واجب العمل ہیں؟ اور امت نے آئندہ نسلوں تک اسے محفوظ صورت میں منتقل کرنے کے لیے کیا معیارات تشکیل دئیے ہیں؟ یہ اور اس
علم حدیث ایک عظمت ورفعت پر مبنی موضوع ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہے۔جتنا یہ بلند عظمت ہے اتنا ہی اس کے عروج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اس کو مشکوک بنانے کی سعی ناکام کی گئی۔علمائے حدیث نے دفاع حدیث کے لیے ہر موضوع پر گرانقدر تصنیفات لکھیں۔اسی
حضور نبی کریم ﷺکے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے جو اصلاً اس کتاب کی توضیح وتشریح ہی ہے جو اللہ تعالی نے محمد رسول اللہ ﷺپر قرآن کریم کی صورت میں نازل فرمائی ہے- کتاب ہذا میں شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے انکار حدیث کا فتنہ بے نقاب کرنے کی کوشش کی
خفیہ لفظ بھول گئے؟
نام صارف بھول گئے؟
ابتک رکن نہیں بنے؟ رکن بنیے
↑ کتاب و سنت فیڈ کو پھیلائیں
کتاب و سنت کتب لائبریری میں ہونے والی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کیلئے یہاں کلک کریں