#6128

مصنف : محمد اسحاق بھٹی

مشاہدات : 1500

برصغیر میں اہل حدیث کی سرگزشت تنظیم تبلیغ تدریس

  • صفحات: 348
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 8700 (PKR)
(پیر 06 جولائی 2020ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

ماضی کو یادرکھنا اور اس کاذکر کرتے رہنا اسلاف کی محبت کا وہ فیض ہےجس کے عام کرنے سے فکر نکھرتی ،نسلیں سنورتیں اور  جماعتیں تشکیل پاتی ہیں۔مولانا اسحاق بھٹی مرحوم نے  برصغیر کے جلیل القدر  علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی  او ر  ان کےعلمی  وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا  محمداسحاق بھٹی مرحوم تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ  مسائل فقہ  میں بھی نظر رکھتے ہیں  مولانا صاحب نے تقریبا    30 سے  زائدکتب تصنیف کیں ہیں  جن میں  سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں۔برصغیر میں  علم فقہ سے لے کر برصغیر میں اہل حدیث کی سرگزشت تک خدماتِ اہل حدیث کو  مولانا اسحاق بھٹی مرحوم  نے اپنی کتب محفوظ کردیا ہے۔تاکہ نئی نسل جان سکے کہ ہم کیا تھے اور کیا بن رہے ہیں اور کس طرف جارہے ہیں ؟ ہمارے بزرگ کیا تھے  اور ان کی خدمات کیا تھیں؟مولانا اسحاق بھٹی  رحمہ اللہ  نے اپنی زیر نظرتصنیف ’’برصغیر میں اہل حدیث کی سرگزشت‘‘  میں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس  کےقیام (1906ء) سے لے کر پاکستان کی مرکزی  جمعیت اہل حدیث کے قیام (1948ء)تک کے  تمام پہلوؤں کو موقع کی مناسبت سے کہیں اختصار اور کہیں تفصیل کےساتھ  بیان کردیا  ہے۔ یہ کتاب تینتیس ؍33 ابواب پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کےایک  باب میں پاکستان کے موجودہ دور  کے مدارس اہل حدیث کاذکرکیا ہےاور آخری باب میں ہندوستان کے مدارس اہل حدیث کا ذکر  ہے۔اللہ تعالیٰ مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا  برسائے اور ان کی   تصنیفی وصحافتی  جہودکو قبول فرمائے ۔(آم۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

نگاہ اولیں

6

حرفے چند

9

پہلاباب: متحدہ ہند میں اہل حدیث کی تنظیم اور اس کے جلسے

13

دوسرا باب: تقسیم ملک سے قبل دہلی کے دینی مدارس

23

تیسرا باب:مشرقی پنجاب کے دینی مدارس

31

چوتھا باب: مشرقی پنجاب کے شہید علمائے کرام

54

پانچواں باب: کتب خانوں کا ضیاع

61

چھٹا باب: مرکزی جمعیت اہل حدیث کا قیام

66

ساتواں باب: دار العلوم کے مقام قیام کا مسئلہ

75

آٹھواں باب: عربی ،دینی مدارس کے درجہ ابتدائی کے لیے نصاب تعلیم

89

نصاب تعلیم کا اجمالی خاکہ

98

نواں باب: جامعہ سلفیہ کا افتتاح۔ مولانا داؤد غزنوی اور مولانا سلفی کی تقریریں

105

دسواں باب: مولانا عبدالواحد

121

گیارہواں باب: مولانا عبیداللہ احرار

138

بارہواں باب: سنگ بنیاد رکھنے والے حضرات

151

تیرہواں باب: میاں فضل حق

158

چودھواں باب: ابتدائی دور کے مدرسین عالی مقام

163

پندرہواں باب: شیوخ الحدیث

168

سولہواں باب: ناظمین تعلیمات

180

سترہواں باب: جامعہ سلفیہ کے اصحاب اہتمام

185

اٹھارہواں باب: اور اب چند تجاویز

193

انیسواں باب: آل انڈیا اہل حدیث کا نفرنس کے سالانہ جلسوں کے صدور

197

بیسواں باب: پاکستان کی مرکزی جمعیت کی کانفرنسیں اور ان کے صدور

210

اکیسواں باب: پروفیسر ساجد میر

225

بائیسوں باب: پروفیسر عبدالقیوم

229

تیئیسواں باب: مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی

235

چوبیسواں باب: مولانا محمد اسماعیل سلفی

240

پچیسواں باب: مولانا ابوبکر غزنوی

244

چھبیسواں باب: مولانا محمد اسحاق رحمانی گوہڑوی

249

ستائیسواں باب: میاں فضل حق

254

اٹھائیسواں باب: میاں محمد جمیل ایم۔اے

257

انتیسواں باب: مولانا عبدالعزیز حنیف

261

تیسواں باب: ڈاکٹر حافظ عبدالکریم

265

اکتیسواں باب: میاں عبدالستار

271

بتیسواں باب: پاکستان کے چند تدریسی ادارے

283

تینتیسواں باب: ہندوستان کے چند مدارس

326

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1074
  • اس ہفتے کے قارئین 8786
  • اس ماہ کے قارئین 29953
  • کل قارئین71495101

موضوعاتی فہرست