امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی(6367#)

حکیم محمود احمد ظفر
تخلیقات، لاہور
562
14050 (PKR)

سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدناعلی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا کی شادی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی بڑے بہادر انسان تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند خلافت کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق اعظم کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔محکمہ پولیس جس کی بنیاد سیدنا عمر نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی سیدناعلی کے زمانے میں ہوئی۔ نماز فجر کے وقت ایک خارجی نے سیدنا علی پر زہر آلود خنجر سے حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔اور حملہ کے تیسرے روز رحلت فرماگئے۔انتقال سے پہلے تاکید کی کہ میرے قصاص میں صرف قاتل ہی کو قتل کیا جائے کسی اور مسلمان کا خون نہ بھایا جائے۔خلفائے راشدین کی سیرت امت کےلیے ایک عظیم خزانہ ہے اس میں بڑے لوگو ں کےتجربات،مشاہدات ہیں خبریں ہیں امت کے عروج اور غلبے کی تاریخ ہے ۔ اس کےمطالعہ سے ہمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ کن کن مواقع پر اہل حق کوعروج وترقی ملی ۔خلفاء راشدین کی سیرت شخصیت ،خلافت وحکومت کےتذکرہ پر مشتمل متعد د کتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ امیر المؤمنین سیدنا حضرت عل شخصیت وکردار ‘‘ حکیم محمود احمد ظفر ﷾ کی تصنیف ہے جوکہ سیدنا علی کےحالات زندگی شخصیت، کردار اور کارناموں پر مشتمل ہے ۔جھوٹی اورمن گھڑت روایات ، قصوں اور کہانیوں کےنتیجے میں قارئین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے اشکالات اور شکوک وشبہات کودور کیا ہے اور خیر القرون کی جماعت ِ صحابہ کے بارے میں کتاب وسنت پر مبنی صحیح موقف اور منہج سلف کی وضاحت کی ہے۔ یہ کتاب سیروتواریخ میں ایک منفرد اور شاندار اضافہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے ۔ اور اس کتاب کوقارئین کےلیے خلیفۂ رابع سیدنا علی المرتضیٰ کی سیرت وکردار کو اپنانے کا ذریعہ بنائے ( آمین) (رفیق الرحمٰن)

عناوین

صفحہ نمبر

پیش آہنگ

7

نام ونسب

11

خاندان

11

عبدالمطلب کی جانشینی

22

ابوطالب

31

ابوطاب کی

37

طالب

37

عقیلؓ

37

جعفرؓ

39

ام ہانیؓ

42

سیدناعلیؓ بن ابی طالب

46

ولادت

48

رسولﷺ کی کفالت

49

اسلام

50

سب سےپہلامسلمان

52

مکہ کی سخت زندگی

57

رسول اللہؐ کی معاونت کااعلان

64

دعوت اسلامی کاپھیلاؤ

66

سیدناعلیؓ اورہجرت

68

مسجدکی تعمیر

73

ہجرت مدینہ کےبعد

73

مواخات

74

غزوہ اورسیدناعلیؓ

77

سیدناعلیؓ اورسیدہ فاطمہؓ کاعقد

82

غزوہ احداورسیدناعلیؓ

89

غزوہ خندق اورسیدناعلیؓ

97

غزوہ بنوقریظہ اورسیدناعلیؓ

100

قبیلہ بنوسعدکی سرکوبی

101

صلح حدیبیہ

101

غزوہ خیبراورسیدناعلیؓ

103

فتح مکہ اورسیدناعلیؓ

108

یمن کوروانگی

115

غزوہ حنین اورسیدناعلیؓ

116

غزوہ تبوک اورسیدناعلیؓ

120

سورہ برات کی آیات کااعلان

125

یمن میں اسلام کی روشنی

134

وفدبخران اورسیدناعلیؓ

130

حجۃ الوداع

138

واقعہ غدیرخم

138

خلافت کےبارہ میں شیعہ کاعقیدہ

144

صدمہ جانکاہ

150

سیدناعلیؓ وفات نبوی کےبعد

160

سیدناعلیؓ عہدصدیقی میں

160

سیدنافاطمہ ؓ کےگھرجلانےکی روایت

173

سیدناابوبکرؓکےسیدناعلیؓ سےتعلقات

176

میراث نبویؐ اورسیدناعلیؓ

183

فدک اورسیدہ فاطمہؓ

184

فدک ہےکیا؟

185

سیدہ فاطمہ کی صدیق اکبرؓ سےناراضگی کی حقیقت

199

سیدناعلیؓ عہدفاروقی میں

209

سیدنافاروق اعظمؓ کی نامزدگی

217

سیدناعلیؓ کاسیدنافاروق عظمؓ کےساتھ تعاون

222

شہادت عمرؓ

224

سیدناعلیؓ عہد عثمانی میں

227

مجلس مشاورت کےاراکین

230

اراکین کےبارہ میں سیدناعمرؓ کی رائے

233

روایات پربحث

241

بخاری کی روایات

240

کتب شیعہ سےبیعت علیؓ کےدلائل

258

خلافت عثمانی میں سیدناعلیؓ کاتعاون

259

سیدناعلیؓ کےصاحبزادوں کاشریک جہاد ہونا

283

محاصرہ عثمانیؓ اورسیدناعلیؓ

264

شہادت عثمانؓ پرسیدناعلیؓ کےتاثرات

274

سیدناعلیؓ خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے

279

سیدناعلیؓ کاپہلاخطبہ

285

خلافت علیؓ اورمدینہ کی حالت

287

خون عثمانیؓ کےقصاص کی تحریک

290

ایک غلط روایت

292

گورنربصرہ سےبات چیت

293

سیدہ عائشہ پہ ایک اعتراض کاجواب

302

ایک وضعی روایت

304

ام المومنین کےوفاداربیٹے

306

سیدنازبیرؓ اورسیدناطلحہؓ کی شہادت

307

سیدنامروان ؓپرقتل طلحہؓ کاالزام

308

سیدنازبیراورسیدناطلحہ کی بیعت

314

جنگ جمل کےنتائج

316

جنگ جمل کےمقاصد

316

جنگ جمل کےاثرات

326

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1266
  • اس ہفتے کے قارئین: 2973
  • اس ماہ کے قارئین: 30667
  • کل قارئین : 45897028

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں