• #2746
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    1 درایت تفسیری

    متحدہ پنجاب کے جن اہل  حدیث خاندانوں نے تدریس  وتبلیغ اور مناظرات ومباحث  میں شہرت پائی ان میں  روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے  ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث  روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم  محدث ،مجتہد مفتی اور  محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی﷭ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ  وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ  مختلف موضوعات  پر  تقریبا  80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی  )فرماتے ہیں  حافظ عبد اللہ  روپڑی  جیسا ذی علم اور  لائق استاد تمام  ہندوستان میں کہیں  نہیں ملےگا۔ہندوستان  میں ان کی نظیر نہیں۔زیر تبصرہ کتاب ’’ درایت تفسیری‘‘ مجتہد العصر  حافظ عبد اللہ محدث روپڑی﷫ کی اصول  تفسیر کے موضوع پرایک اہم اور بے مثال تالیف ہے ۔یہ کتاب محدث روپڑی کی تعلیمی دور  سے فراغت کے بعد پہلی کتاب ہے ۔ یہ کتاب دراصل  محدث روپڑی نے   فاتح قادیان  مولانا  ثناء اللہ امرتسری ﷫ کی  کتاب کے رد میں لکھی تھی ۔  اس کتاب کا تعارف  کراتے ہوئے  مینجر اخبار ’’تنظیم اہلحدیث ‘‘ روپڑ ضلع ابنالہ لکھتے ہیں :’’آج کا خصوصیت کے ساتھ کچھ ایسی آزادی ہوگئی ہے کہ ہرفرقہ قرآن مجید سے استدلال کرتا ہے  اور تروڑ مروڑ کر اپنے موافق کرلیتا ہے ۔ اس رسالہ میں بتلایا گیا ہے کہ کن اصولوں پر تفسیر کرنی چاہیے اور صحیح تفسیر کونسی  ہے  ‘‘اللہ تعالیٰ محدث روپڑی  کی  مرقد پر  اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطافرمائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2720
    امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی

    2 دلائل النبوة جلد پنجم

    اللہ تعالی نے قرآن کریم میں نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کو بہترین نمونہ قرار دے کر اہل اسلام کو آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔جس کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ کے ایک ایک گوشے کو محفوظ کیا جائے۔اور امت مسلمہ نے اس عظیم الشان تقاضے  کو بحسن وخوبی سر انجام دیا ہے۔سیرت نبوی پر ہر زمانے میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں اور اہل علم نے اپنے  لئےسعادت سمجھ کر یہ کام کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " دلائل النبوۃ "بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،جوامام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی ﷫کی تصنیف ہے۔اس کا اردو ترجمہ مولانا محمد اسماعیل الجارودی ﷾نے کیا ہے۔مولف نے اس عظیم الشان تصنیف میں سیرت نبوی کے ساتھ ساتھ آپ کی نبوت کے دلائل بھی بڑے احسن اور منفرد انداز میں جمع فرما دیئے ہیں۔اصل کتاب عربی میں ہونے کے سبب اردو خواں طبقہ کے لئے اس سے استفادہ کرنا ایک مشکل امر تھا ۔ مولانا محمد اسماعیل الجارودی﷾ نے اردو ترجمہ کر کے اردو خواں طبقہ کی اس مشکل کو حل کر دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی ان خدمت کو قبول فرمائے۔آمین۔(راسخ)

  • #2570
    محمد بن صالح العثیمین

    3 450 سوال و جواب برائے صحت و علاج اور میڈیکل سٹاف

    شریعتِ اسلامیہ میں شبعہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے ہر قسم کے افراد کے لیے مکمل راہنمائی موجود ہے او رہر شخص اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق اس چشمہ صافی سے اپنی سیرابی کا سامان جمع کرسکتاہے ۔یہ دنیا تکالیف او رمصائب کی آماجگاہ ہے جس میں ہر انسان کسی نہ کسی تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرتا ہے۔انسا ن کو بیماری کا لاحق ہو نا من جانب اللہ ہے اوراللہ تعالی نے ہر بیماری کا علاج بھی   نازل فرمایا ہے جیسے کہ ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی اور کسی نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج کے لیے معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ علاج،حجامہ سے علاج) سے علاج کرنا سنت سے ثابت ہے ۔ روحانی اور جسمانی بیماریوں سےنجات کے لیے ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت میں پختگی ہو گی تو بیماری سے شفاء بھی اسی قدر تیزی سے ہوگی ۔ زیرنظر کتاب’’450 سوال وجواب برائے صحت وعلاج او ر میڈیکل سٹاف‘‘ میں   عالمِ اسلام کے کبار علماء کرام اور مفتیانِ دین کے فتاویٰ کی روشنی میں جسمانی وروحانی مریضوں اور معالجین وعاملین کو پیش آنے والے شرعی احکام ومسائل کامتعدبہ ذخیرہ جمع کیاگیا ہے جو بلا شبعہ اردوزبان میں اس موضوع پر پہلی کاوش ہے ۔اس کتاب میں ڈاکٹرز ومیڈیکل سٹاف کے متعلق شرعی احکام ومسائل بیان کرنےکے ساتھ ساتھ جسمانی وروحانی اور امراضِ قلوب کے لیے کتاب وسنت میں بیان کردہ احکام کو حسنِ ترتیب اور بہترین پیرائے میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں اس کتاب میں بیماری وآزمائش کے متعلق اسلامی نقطہ نظر ،مریضوں کی تیمارداری کے متعلق مسائل اور جادو ٹونے کی شرعی احکام کا احاطہ کر نےکی کوشش کی گئی ہے ۔اللہ تعالی ٰ ناشرین کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین)م۔ا)

  • #2471
    ام عبد منیب

    4 تصویر ایک فتنہ

    اسلام شخصیت پرستی اور بت پرستی سے منع کرتا ہے،کیونکہ یہ شرک کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔شرک کی ابتداء اسی امر سے ہوئی کہ لوگوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر پہلے تو اپنے نیک اور بزرگ لوگوں کی تصویریں بنائیں،پھر انہیں مجسمے کی شکل دی اور پھر ان کی پوجا پاٹ کرنا شروع کر دی۔مغرب کی بے دین   حیوانی تہذیب میں بت سازی ،تصویر سازی اور فوٹو گرافی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،اور بد قسمتی سے مسلمان سیاست دانوں کی سیاست بھی مصورین اور فوٹو گرافروں کے گھیرے اور نرغے میں آ چکی ہے۔نبی کریم ﷺ کی اسلامی تحریک اورسیاست نہ صرف تصویر سے خالی تھی بلکہ تصویروں اور مجسموں کو مٹانا آپ ﷺ کے لائحہ عمل میں شامل تھا۔اگر دعوت وجہاد اور سیاست وحکومت میں تصویروں کی کوئی اہمیت ہوتی تو حرمین میں نبی کریم ﷺ کی تصویروں کے بینر لٹکا دئیے جاتے،اور سیرت کی کتب میں ضرور  اس کا تذکرہ موجود ہوتا۔فوٹو گرافی تو عہد نبویﷺ اور عہد صحابہ میں موجود نہیں تھی،البتہ تصویر سازی کے ماہرین ہر جگہ دستیاب تھے۔اگر تصویر بنانا جائز ہوتا تو صحابہ کرام ﷢ضرور نبی کریم ﷺکی تصاویر بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لیتے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تصویر ایک فتنہ‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےتصویرکےنقصانات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بالخصوص ان امورکی نشاندہی کی ہے کہ جن کے کرنے سے انسا ن شرک کا مرتکب ہوجاتا ہے لیکن اسےاس   کا احسا س نہیں ہوتا ۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی   تدریسی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو لوگوں کےلیے شرک سے نجات کا ذریعہ بنائے (آمین)محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • #2469
    ام عبد منیب

    5 مخلوط معاشرہ

    دورِ حاضر میں مخلوط معاشرہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے ۔مخلوط معاشرے کی ابتدا کہاں سے ہوئی ؟ یہ جاننا ایک مشکل امر ہے لیکن اس دعوے میں کوئی اشتباہ اور باک نہیں ہے کہ اس کی ابتدا ان معاشروں میں ہوئی جن میں الہامی تعلیمات سے انتہائی زیادہ روگردانی کے جراثیم پھیل گئے او ر انہوں نے الہامی تعلیمات کے برعکس ہرکام انجام دینا اپنے اورلازم کرلیا۔غیر مسلم معاشرے مشرق کے ہوں یا مغرب کے ان میں نہ تو خوف آخرت پایا جاتا ہے نہ توحید کا اقرار ،ان کی مذہبی رسومات وروایات میں مخلوط معاشرہ کسی نہ کسی سطح پر ضرور پایا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کی زندگی میں مخلوط ،معاشرے کا در آنا ایک المیہ ہے جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ زیر نظر کتابچہ میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے   واضح کیا ہے کہ قرآن وحدیث میں مخلوط معاشرے سے بچاؤ کے لیے وسیع پیمانے پر احکامات بیان کیے گئے ہیں اور ان کےایک ایک جزو کی تفصیل بھی موجود ہے تاکہ مخلوط معاشرے کے ایمان پرمسموم اثرات سے فرد اور جماعت دونوں محفوظ رہیں۔اللہ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ (م۔ا)

  • #2246
    محمد حسین میمن

    6 قرآن مقدس اور حدیث مقدس

    صحیح بخاری وہ عظیم الشان کتاب ہے،جس کی صحت پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے،اور اسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا درجہ حاصل ہے۔امام بخاری﷫ نے یہ کتاب محدثین کی ایک جماعت کے سامنے تیار کی ،اور محدثین نے اسے سند صحت سے نوازا۔حافظ ابن حجر﷫،حافظ ابو نصر السجزی﷫،امام ابو عبد اللہ الحمیدی﷫،حافظ ابو بکر الجوزقی ﷫،امام الحرمین الجوینی﷫ اور حافظ العلائی ﷫نے صحیحین کی صحت پر اجماع کا دعوی کیا ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دشمنان اسلام کی سازشوں اور اعدائے دین کی چالوں سے بے خبر بعض نام نہاد ملا کتب حدیث کی صحت پر نقب لگانے اور انہیں عامۃ الناس کی نظر میں مشکوک بنانے کی ناکام کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اسلام کے دشمن ان آلہ کاروں میں سے ایک   نام نہادعلامہ احمد سعید کا ہے ،جس نے بخاری شریف پر طعن کرتے ہوئے اور اس کی متفق علیہ صحت کو مشکوک بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے"قرآن مقدس اور بخاری محدث"نامی کتاب لکھ ڈالی،جس میں اس نے حدیث دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے صحیح احادیث پر طعن کے ساتھ ساتھ محدثین کرام پر بھی ایسے زہریلے وار کئے ہیں ،جو کسی بھی مسلمان کے لئے ناقابل برداشت ہیں۔چنانچہ خادم حدیث مولانا محمد حسین میمن میدان میں آئے اور اپنی اس کتاب میں علامہ احمد سعید کی لکھی گئی اس حدیث دشمنی پر مبنی کتاب کا مسکت،مدلل اور بھرپور جواب دیکر اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہو گئے۔اللہ تعالی مولف کی حدیث کے ساتھ اس محبت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #2016
    احمد بن عبد اللہ السلیمی

    7 احکام سوگ

    اسلام ایک کامل ضابطہ حیات کا نام ہے ۔اس کے احکام انسانی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہیں۔جہاں ہمارادین خوشی کے موقع پر ہمیں بے لگام نہیں چھوڑتا وہیں غم کاسامنا کرنے کے بارے میں بھی ہماری راہنمائی فرماتا ہے۔موت نظامِ قدرت کا ایک لازمی باب ہے ۔موت کےرنج والم کی کیفیت کا شریعت اسلامیہ کے ضوابط کے تحت سامنا کرنے کا نام سوگ ہے ۔لیکن ہمارے پاک وہند کے معاشرےمیں اس حوالے سے ہندوؤانہ رسوم ورواج کا اس قدر چلن عام ہوچکا ہے کہ سوگ کے متعلق ہم کتاب وسنت کی ہدایات کوفراموش کر چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب ''احکام سوگ'' احمد بن عبداللہ السلیمی کے عربی رسالہ الاحداد اقسامه ،احکامه کا ترجمہ ہے ۔جس میں فاضل مصنف نے سوگ کی تعریف ،اقسام اور احکام ومسائل کوقرآن واحادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے جس کا مطالعہ خصوصا خواتین کے لیے انتہائی مفید ہے اللہ رب العزت کتاب ہذا کو مصنف مترجم اورناشر کےلیے خیر وبرکت کا ذریعہ بنائے اورامت کے لیے بھی نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • #816
    ڈاکٹر شوقی ابوخلیل

    8 اٹلس سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

    پیغمبر آخرالزماں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت تو قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جزیرۃ العرب میں پیدا ہوئے۔مکہ مکرمہ میں پرورش پائی اور 53برس تک یہیں رہے بعد ازاں مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی اور عمر عزیز کے 10 سال یہاں بسر کیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصے میں سفر بھی کیے،صفر میں بھی رہے،حالت امن  میں بھی دن گزارے اور حالت جنگ میں بھی شب وروز بسر ہوئے۔اس تمام شرگزشت اور ریکارڈ کو سیرت نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کا نام دیا جاتا ہے۔مختلف زبانوں میں سیرت نبوی پر بے شمار کتابیں موجود ہیں جو قارئین کے مطالعے میں رہتی ہیں تاہم ان میں ایک تشنگی کا احساس رہتا ہے کہ مقامات واماکن کا نقشہ کتابوں میں نہیں ہوتا جس سے جگہوں کا صحیح تعارف نہیں ہو پاتا۔اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے زیر نظر اٹلس مرتب کی ہے  جس میں سیرت کی وضاحت نقشوں سے کی گئی ہے ۔ان نقشوں میں تمام متعلقہ مقامات ،شہروں اور ان اطراف واکناف کی تفصیل سے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریف فرمانی سے رونق بخشی یا جن کی طرف آپ نے قصدفرمایا۔اصل کتاب عربی میں تھی،جسے معروف اشاعتی ادارے دارالسلام نے اردو قالب میں ڈھال کر اردو دان طبقے کے لیے بھی اس سے استفادہ کو آسان کر دیا ہے۔امید قارئین کے لیے یہ کتاب دلچسپ معلومات کا ذریعہ ہو گی۔(ط۔ا)

  • #1713
    محمد عظیم حاصلپوری

    9 جنت سے محروم کر دینے والے چالیس اعمال

    اشرف المخلوقات حضرت انسان کا حقیقی معنوں میں کھویاہوامقام جنت ہے۔ابوالبشر سیدناآدم علیہ السلام سے خطاسرزد ہونے کی بناپر،ہم اس حقیقی مقام سے نکال دیے گئے تھے تاہم پھر بھی اللہ تعالی کی یہ  کرم ہےکہ اس نے بنی نوع انسان پر اپنی رحمت کے دروازے بندنہیں کیے۔اس نےہرامت کو احکامات کا ایک مجموعہ دیاتھا اور فرمادیاتھاکہ جو میرےان احکام پر چلے گاان پرعمل کرےگے وہ اپناکھویاہوامقام حاصل کرلےگا۔اورجس نےان احکام کی پابندی نہ کی اور نافرمانیاں کرتا رہاتو اسے اس عالی شان مقام سےمحروم کردیاجائےگا۔چناچہ اس کے حصول کیلے جدوجہد کرناہوگی۔محترم عظیم حاصل پوری صاحب نے اس مختصرسی کتاب میں ان گناہوں کی طرف اشارہ فرمایاہےجوعام طورپرہمارےروزمرہ معمول سے تعلق رکھتےہیں لیکن ہم ناچاہتےہوئے لاشعوری طور پرانکا ارتکاب کرجاتےہیں۔مزید برآں یہ ہےکہ وہ شرف انسانیت کے بھی خلاف ہیں۔ان کے اتکاب کی وجہ سے ایک انسان کے عزت ووقار پربھی حرف آتاہے۔اس لئے ان سے گریز اختیارکرناازبس ضروری ہے۔اللہ تعالی جناب عظیم صاحب کو اجر جزیل سے نوازے۔آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39798470

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں