• پروفیسر چوہدری عبد الحفیظ

    روزہ ایک  ایسی عظیم عبادت ہے جسے  صرف امت محمدیہ ﷺ پرہی فرض نہیں کیاگیا۔ بلکہ اس امت سے پہلے تمام امم سابقہ کو  بھی اس کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے  اپنے بندوں پر رمضان المبارک کے روزے اس لیے فرض کیے ہیں کہ انہیں تقویٰ کی نعمت ودولت حاصل ہو ۔ تقویٰ یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنے رب کا بندہ اور اس کا فرماں بردار بن کررہے ۔روزے کی حقیقت سامنے رکھنے سےیہ بات ہماری محدود عقل بھی سمجھ لیتی  ہے کہ تقویٰ کے حصول کے لیے  یہ عبادت مؤثرترین تدبیر ہے ۔رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ  اللہ تعالیٰ کی رحمتوں،برکتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کا مہینہ ہے ۔اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے   ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک وہی مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم   کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے  روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے  نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی  جانے والی عبادات  ( روزہ ،قیام  ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت  لیلۃ القدر وغیرہ )کی  بڑی فضیلت بیان کی   ہے ۔روزہ کی دوسرے فرائض سے  یک گونہ فضیلت کا ندازہ اللہ تعالٰی کےاس فرمان ہوتا ہے’’ الصوم لی وانا اجزء بہ‘‘ یعنی روزہ خالص میرے  لیے  ہےاور میں خود ہی اس بدلہ دوں گا۔روزہ  کے  احکام ومسائل  سے   ا گاہی  ہر روزہ دار کے لیے  ضروری ہے  ۔لیکن افسوس روزہ رکھنے والے بیشتر لوگ ان احکام ومسائل سےلا علم ہوتے ہیں،بلکہ بہت سے افراد تو ایسے بھی ہیں جو بدعات وخرافات کی آمیزش سے  یہ عظیم عمل برباد کرلینے تک پہنچ جاتے ہیں ۔   کتبِ احادیث میں ائمہ محدثین نے   کتاب الصیام  کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے  ۔ اور کئی  علماء اور اہل علم نے    رمضان المبارک  کے احکام ومسائل وفضائل کے  حوالے  سے مستقل  کتب تصنیف کی  ہیں ۔ زیر تبصرہ  کتابچہ’’ فضیلت ماہِ رمضان  ‘‘پروفیسر چودہری عبد الحفیظ﷫کا مرتب شدہ ہےجس میں انہوں نے  ماہ ِ رمضان المبارک کی فضیلت بالخصوص آخری عشرہ  کی طاق راتوں کی فضیلت کو بیان  کرنے بعد آخر میں  رمضان   المبارک  میں پیش آنے والے  اہم واقعات اور  فتوحات کا بھی مختصراً  ذکر کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف موصوف  کی قبر پر اپنی رحمتوں کانزول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس  میں اعلیٰ  وارفع مقام عطافرمائے (آمین)(م۔ا)

  • ڈاکٹر جمال الدین عطیہ

    نظریہ ذہن میں قائم ہونے والا ایک تصور ہے ،خواہ یہ تصور فکر منطقی کے تسلسل سے پیدا ہو یا فرعی وجزئی احکام کے استقراء سے ماخوذ ہو۔یہ تصور تجریدیت سے متصف ہوتا ہےکیونکہ اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ تطبیقی صورتحال سے بلند ہو کر اس تطبیق کے پیچھے کارفرما نظریہ وتصور تک رسائی حاصل کی جائے۔نظریہ ایسا جامع تصور ہوتا ہے جو موضوع کے تمام مراتب ودرجات اور اس کے تمام اثرات سے بحث کرتا ہے۔نظریہ جس جامع تحریری تصور کا نام ہے اسے دریافت کرنے کے لئے اس موضوع سے تعلق رکھنے والے تمام ظواہر واحکام میں پائے جانے والی مشترک صفات کا پتہ لگایا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ اس موضوع کے مشترک اور عام قواعد معلوم کئے جائیں۔فقہی نظریہ کی تعریف اس طرح کی جا سکتی ہے کہ فقہی نظریہ اس مجرد تصور کا نام ہے جو جزئی فرعی احکام کو منضبط کرنے والے قواعد عامہ کو یکجا کرے۔ زیر تبصرہ کتاب "فقہ اسلامی کی نظریہ سازی " عالم عرب کے معروف سکالر محترم ڈاکٹر جمال الدین عطیہ صاحب کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عتیق احمد قاسمی صاحب نے کیا ہے۔یہ کتاب مولف موصوف کے ان لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نے قطر یونیورسٹی کے کلیۃ الشریعہ (شریعت کالج ) کے طلباء وطالبات کے لئے فقہی نظریات کے نصاب کی تمہید اور مقدمہ کے طور پر تیار کئے اور پیش کئے،اور پھر بعد میں ان کی افادیت کے پیش نظر شائع کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • انصار زبیر محمدی

    شرعی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی کے حرام ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔کیونکہ اس میں ایک تو فضول خرچی پائی جاتی ہے اور دوسرے نمبر پر یہ صحت کے لئے نقصان دہ بھی ہے۔اور شریعت نے فضول خرچی اور مضر صحت اشیاء ان دونوں سے منع فرمایا ہے۔یہ ترقی یافتہ زمانے کا ایسا زہر ہے جس سے چند خوش نصیب ہی محفوظ ہو نگے۔ روزانہ لاکھوں لوگ لاکھوں کروڑوں روپے اس زہر کی خریداری پر یہ جانتے ہوئے بھی خرچ کرتے ہیں کہ "تمباکو نوشی صحت کے لیے مْضر ہے۔"تمباکو میں شامل ایک کیمیائی مادہ نکوٹین ہے جو زہریلے اور نشیلے اثرات کا حامل ہوتاہے۔یہ انسانی بدن میں سرایت کر کے وقتی طور پر اسے تسکین و لذت فراہم کرتا ہے،مگر خون میں شامل ہو کر اسے گاڑھا کر کے دورانِ خون کے کئی ایک عوارض کا باعث بھی بنتا ہے۔گردوں کے لیے گاڑھے خون کو صاف کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور نتیجے کے طور پر سگریٹ نوش ہائی بلڈ پریشر،بلڈ شوگر،یورک ایسڈ ،کلیسٹرول،ہارٹ اٹیک،انجائنا،گردوں کے فیل ہونا جیسے جان لیوا اورخطرناک امراض کے چنگل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔اسی طرح سگریٹ کا دھواں حلق کے کینسر،پھیپھڑوں کے کینسر،ٹی بی اور دماغی جھلیوں کی سوزش کا سبب بھی بنتا ہے۔ایسے افراد جو سگریٹ کے دھوئیں کو منہ کے رستے معدے اور انتڑیوں تک پہنچاتے ہیں ،انہیں معدے اور انتڑیوں کے السر ،بواسیر اور جگری سوزش ہونے کے خطرات عام آدمی کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ اعصابی اور دماغی امراض میں نیند کا نہ آنا،ڈپریشن،بے چینی،پٹھوں کی کمزوری جیسے عوارض شامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سگریٹ نوشی سے توبہ"سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ حمد بن ابراہیم الحریقی کی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ مکتب جالیات قصیم کے داعی اور مبلغ محترم انصار زبیر محمدی نے کیا ہے۔مولف موصوف نے شرعی دلائل کی روشنی میں تمباکو نوشی کے حرمت کو ثابت کرتے ہوئے اس سے بچنے کی ترغیب دی ہے۔اللہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ام حماد

    مسئولت کوئی عہدہ ،کرسی یامفادات کا منصب نہیں ہے جیسا کہ دنیادار عام تنظیموں ،پارٹیوں،گروپوں،گرہوں کے صدر ناظم ،چیئر مین یا سربراہ ہوا کرتے ہیں۔ عرف عام میں دنیا کے مختلف کاموں کوسرانجام دینے کےلیے جوذمہ داریاں تفویض کی جاتی ہیں انہیں مسؤلیت کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسے کام جن کے بارے سوال کیا جائے گا۔اور دنیا وآخرت دونوں میں اس کےبارے میں احتساب ہوگا۔ ان مسؤلیتوں کو نبھانے والے مسؤل کہلاتے ہیں۔ یعنی جن سے دنیا کی ذمہ داریوں کونبھانے کے حوالے سے پوچھ ہوگی۔ انہیں اس کے متعلق جواب دینا ہوگا۔جیسا کہ ارشاد نبوی ہے: ’’ کہ تم میں سے ہر ایک نگراں ہے اور اس کے ماتحتوں کے متعلق اس سے سوال ہو گا۔ امام نگران ہے اور اس سے سوال اس کی رعایا کے بارے میں ہو گا۔ انسان اپنے گھر کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ ابن عمر ر نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے باپ کے مال کا نگراں ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا اور تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور سب سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔‘‘صحیح بخاری:893) اس حدیث میں مذکورہ ذمہ داری اپنے عموم میں زندگی کے تمام شعبہ جات پر مشتمل ہے۔جو مسؤل اپنی ذمہ داریاں صحیح معنوں میں نبھائیں گے دنیا وآخرت میں بہت زیادہ اجروثواب کے ساتھ سرخرو ہوجائیں گے اور جو اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ ان ذمہ داریوں کو عہدے، کرسی، مناصب ، اور شہرت کا ذریعہ سمجھ لیں گے تو یہی مسؤلیت ان کے گلے کا پھندہ بن جائے گی ،وبال بن کر اسے برباد کردے گی اور نیکیوں کو تباہ کر دے گی۔ زیر نظر کتابچہ ’’ مسؤلیت کے تقاضے ‘‘ محترمہ ام حماد صاحبہ کی اصلاح وتربیت کے موضوع ان کی ایسی تحریر ہے کہ جس سے خواتین وحضرات بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ موصوفہ نے اس کتابچے میں وہ ساری صفات بیان کردی ہیں جو ایک مومن،مسلمان داعی میں ہونی چاہیئں۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ کی دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے اور اس تحریر کو تمام مسؤلین کے لیے نفع بخش بنائے ۔آمین (م۔ا )

  • میاں انوار اللہ
    قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایک معجزہ اور نہایت بابرکت کتاب ہے۔ جس کی تلاوت کرنا اور اپنے عمل کا حصہ بنانا لازم و ملزوم ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمانان اسلام کی قرآن کے ساتھ جذباتی وابستگی تو ضرور ہے لیکن قرآنی احکامات سے انحراف بھی مسلمانوں کی زندگی کا جزو لازم بن گیا ہے۔ اسی وجہ سے ہرگزرتے دن کے ساتھ غیر مسلم شدت پسند طبقہ کی جانب سے اہانت قرآن کے واقعات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کیا جائے اور اس کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کے معانی کو سمجھا جائے اور عمل کا حصہ بنایا جائے۔ قرآن کریم کی اہمیت و فضیلت سے یقیناً تمام لوگ واقف ہیں۔ اس کے مقام و مرتبے کا کسی حد تک اندازہ اس سے ہی ہو سکتا ہے کہ یہ انسانوں کے رب کی اپنے بندوں سے کیا جانے والا کلام ہے۔اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور بہت لکھا جا رہا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک اہم کاوش ہے جس میں قرآن مجید میں غوطہ زن ہو کر ا س کے خصائص و محاسن تلاش کیے گئے ہیں۔ کتاب کی تالیف کرنے والے دو حضرات میاں انوار اللہ اور ڈاکٹر حافظ محمد شہباز حسن ہیں۔ جنھوں نے نہایت عرق ریز ی کے ساتھ جہاں مقام قرآن کے حوالے سے اہم نگارشات پیش کی ہیں وہیں قرآن سے متعلقہ دیگر بہت سے مسائل پر علمی انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • پروفیسر خان محمد چاولہ
    کسی بھی زبان میں مہارت کے لیے گرامر کا آنا بہت ضروری ہے۔ ہمارے ہاں انٹرمیڈیٹ کی کلاسوں میں عربی کا مضمون داخل نصاب ہے۔ بنیادی طور پر عربی سے شد بد نہ ہونے کی وجہ سے طلبا کو اس مضمون میں کافی دقت ہوتی ہے۔ اور اسی وجہ سے وہ زیادہ اچھے نمبرزلینے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ کے طلبا و طالبات کے لیے زیر نظر کتاب آسان اور واضح انداز میں ترتیب دی گئی ہے تاکہ طلبا کو عربی پر گرفت بھی ہو اور وہ اچھے نمبرز حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں۔ ہر سبق کے اخیر میں تمرین دی گئی ہے جس کو حل کرنے سے سبق ذہن نشین ہو جاتا ہے۔ کتاب جہاں انٹر میڈیٹ کے طلبا و طالبات کے لیے سہولت کا باعث ہیں وہیں عربی گرامر سے شغف رکھنے والے دوسرے لوگ بھی اس سے خاطر خواہ استفادہ کر سکتے ہیں۔ کتاب کے مؤلف پروفیسر خان محمد چاولہ ہیں جو ریاض یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور شعبہ عربی گورنمنٹ کالج میں پروفیسر ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • ڈاکٹر فضل الٰہی

    اولاد انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تحفہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک امانت بھی ہے جس کی کماحقہ حفاظت انسان پر فرض ہے۔اولاد کی تربیت میں اسلامی ماحول کی فراہمی انتہائی ضروری ہے اور اس میں کوتاہی انسان کی پوری زندگی کے لیے وبال بن جاتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر فضل الہٰی صاحب نے اس موضوع کو کما حقہ ادا کرتے ہوئے بچوں کے احتساب کے نام سے تربیت اولاد کے حوالے سے قیمتی مواد فراہم کیا ہے جس کی روشنی میں کوئی بھی شخص اپنی اولاد کی صحیح نہج پر تربیت کر سکتا ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں جن بنیادی باتوں کو موضوع بنایا ہے وہ درج ذیل ہیں:1۔کیا بچوں کو نیکی کا حکم دینا شرعا ثابت ہے؟کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  بچوں کو نیکی کا حکم دیا کرتے تھے؟2۔کیا بچوں کو برے کاموں سے روکنا ثابت ہے؟کیا ہمارے نبی محترمصلی اللہ علیہ وسلماور حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم بچوں کو غلط کاموں سے روکنے کا اہتمام کیا کرتے تھے؟3۔بچوں کا احتساب کرتے ہوئے کون سے درجات،اسالیب اور وسائل استعمال کیے جائیں؟4۔بچوں کا احتساب کون کرے؟

    کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بات کی وضاحت کے لیے قرآن وسنت کو بنیاد بنایا گیا ہے،احادیث کو اصلی مراجع ومصادر سے نقل کیا گیا ہے،صحیحین کے علاوہ دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کرتے ہوئے علمائے امت کے اقوال کے ساتھ بات کو مزین کیا گیا ہے،اسی طرح بچوں کے احتساب سے متعلقہ قرون اولیٰ میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ادوار میں بچوں کے احتساب کے واقعات او راحتساب کے مختلف طریقوں کو بیان کر کے بچوں کے احتساب کے لیے شرعی راہنمائی بھی فراہم کی گئی ہے۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39752841

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں