دکھائیں کتب
  • 1 اثبات رفع الیدین (منگل 30 دسمبر 2008ء)

    مشاہدات:14333

    ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں سنت رسول کو ملحوظ خاطر رکھے کیونکہ ہر وہ عمل جو سنت رسول سے مخالف ہو نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ روز قیامت وبال بھی بن جائے گا- بہت سے مسلمان نماز تو ادا کرتے ہیں لیکن  اس میں سنت رسول کا خاص اہتمام نہیں کرتے انہی میں سے ایک اہم سنت رفع الیدین ہے- زیر نظر کتاب میں مولانا ابوخالد نور گھرجاکھی نے احادیث، صحابہ وتابعین، آئمہ اور محدثین کے اقوال کی روشنی میں رفع الیدین کا اثبات پیش کیا ہے اور محکم دلائل کے ساتھ رفع الیدین کے تارکین کا رد بھی کیا ہے-اثبات رفع الیدین کے لیے انہوں نے صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت کا قولی اور فعلی ثبوت پیش کیا ہے –یعنی کہ صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت سے اثبات الیدین سے متعلقہ روایات کو پیش کیا اور اس کے بعد صحابہ کی ہی ایک بہت بڑی جماعت سے عملی طور پر رفع الیدین کا ثبوت پیش کیا ہے کہ وہ سب رفع الیدین کے قائل بھی تھے اور فاعل بھی تھے-
     

  • 2 احسن الجدال بہ جواب راہ اعتدال (ہفتہ 11 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:6120

    حیدر آباد شہر(انڈیا)  کے مشہور دیو بندی عالم دین  مولانا خالد سیف اللہ رحمانی  صاحب نے  ’’’راہ  اعتدال‘‘کے  نام سے   ایک  کتاب لکھی،  جس  میں  انہوں نے  چند مشہور مسائل  تقلید ،  اما م ابو حنیفہ کا مقام ،قراءت خلف الامام ،رفع الیدین ،آمین بالجھر ،مصافحہ کا مسنون طریقہ، عورتوں اور مردوں کی نماز میں فرق ،خواتین کا مساجد میں آنا  وغیرہ  جیسے  موضوعات پر خامہ فرسائی فرمائی ،اور انہوں   نے ان مسائل میں اپنے مذہب کے اثبات میں  آیات  قرآنیہ کی تحریف سے بھی گریز نہیں کیا اور اپنے موقف کی تائید میں ہر ہر قدم پر روایات ضعیفہ کاسہارا لیا اور  غیر مقلدیت   کوگمراہی  کا دروازہ کہا جبکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ساری خرابیوں اورگمراہیوں کی جڑ تو تقلید ہے ۔ زیر نظر  کتا ب ’’احسن الجدال بہ جواب راہ اعتدال ‘‘مولانا  حافظ جلال الدین  قاسمی  فاضل  دار العلوم دیو بند﷾ کی اہم تالیف  ہے۔  جس میں   انہوں  نے رحمانی صاحب کی کتاب ’’ راہ اعتدال ‘‘کا تحقیقی جائزہ لیاہے   اوررحمانی  صاحب  کی بے اعتدالیوں کا خوب  محاسبہ کیا ہے۔ فاضل مصنف  ایک وسیع النظر عالم دین اورکئی کتب کے مصنف ہیں ۔آپ  کی کتابوں کو علمی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتاہے اللہ تعالی مصنف کی اس  کاوش کو شرف قبولیت بخشے  اور اس کتاب...

  • 3 اسلام میں اختلاف کے اصول وآداب (منگل 01 جون 2010ء)

    مشاہدات:14233

    موجودہ دور میں امت مسلمہ کو سب سے خطرناک مرض جو لاحق ہوا ہے وہ ہے اختلاف اور مخالفت۔ ذوق ، رجحان، کردار، اخلاق یہاں تک کہ معتقدات و نظریات ، افکار و آراء، اسالیب فقہ، فرض عبادات، ہر شے اور ہر معاملے میں اختلاف!۔ حالانکہ اسلام نے توحید کے بعد باہمی اختلافات سے اجتناب ، تعلقات کو مکدر اور اخوت اسلامیہ کو مجروح کرنے والی ہر چیز کے ازالہ اور امت مسلمہ کے اتحاد پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ اس کتاب میں اختلاف کی حقیقت اور اس کے حدود، اسباب و علل اور اس کے قواعد و ضوابط، اختلاف کی گنجائش، اس کے منفی پہلوؤں سے بچنے کی راہ وغیرہ جیسی اہم مباحث شامل ہیں۔ اس اہم موضوع پر یہ ایک مبارک اور اطمینان بخش کوشش ہے جس سے تعلیم یافتہ مسلمان اچھی طرح سمجھ لے گا کہ استنباط مسائل کے لیے علماء کا طریقہ کار کیا تھا۔ کن اصولوں پر ان کے اجتہاد کی عمارت کھڑی تھی اور ان کے اختلاف کی تعمیری بنیاد کیا ہوا کرتی تھی۔ نیز اختلاف کے اصولوں سمیت احتساب عمل کے آداب پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کے لئے خالص علمی و تحقیقی اسلوب پر مشتمل معلمانہ حیثیت کی حامل مقصد اتحاد و اعتدال کی طرف والہانہ دعوت دیتی شاندار کتاب ہے۔
     

  • 4 الاختلاف بين آئمۃ الاحناف (پیر 09 جنوری 2012ء)

    مشاہدات:14933

    روزِ اوّل سے ہی شیطان اس کوشش میں مصروفِ عمل ہے کہ وہ مسلمانوں کے درمیان باہمی نفرت و قدورت اور تعصب و تہذب کا بیج بودے۔ نتیجۃً وہ مسلمانوں کو آتش جہنم کا ایندھن بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ استخفاف حدیث، تقلید شخصی اور فقہ حنفی کو مشروعیت کا درجہ قرار دینا، یہ وہ اسباب ہیں جن کی بنا پر مقلد اور غیر مقلد کی اصطلاحات کو وجود ملا ہے اور مسلمانوں کے مابین اختلافات اور مذہبی مسائل کی خلیجیں وسعت پذیر ہوئی ہیں۔ کتاب اللہ اور اسوہ حسنہ کو مشعل راہ نہ بنانے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اہواء و آراء کی غیر مرئی اور خود ساختہ بندشوں میں جکڑا جاتا ہے پھر وہ شرعی نصوص اور حدیث سے بیزاری محسوس کرتے ہوئے تقلید شخصی، استخفاف حدیث اور فقہ حنفی کی مشروعیت پر مرنے مارنے پر تل جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب میں علامہ عصمت اللہ خان نے دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ فقہ حنفی کے حقائق کی پردہ چاکی کر دی ہے۔ فقہ حنفی کے پوسٹمارٹم پر یہ مفید کاوش ہے۔ (م۔ آ۔ ہ)
     

  • نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ اقرار شہادتین کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنےیا چھوڑنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے،بلکہ کھلے چھوڑ دئیے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" الاعلام بجواب رفع الابھام وتایید الدلیل التام " پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔ یہ کتاب انہوں نے محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے رسالے "رفع الابھام فی جواب دلیل تام"کے جواب میں لکھی ہے۔ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کے حوالے سے حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب ﷫ کی ایک کتاب بھی پہلے اپلوڈ کی جا چکی ہے۔ یہ مسئلہ اپنے زمانے میں ایک معرکۃ الآراء مسئلہ رہا ہے ،جس میں حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ اور محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫اپنے اپنے موقف کو بیان کرتے رہے ہیں۔چونکہ دونوں مص...

  • 6 الایقاف فی سبب الاختلاف (پیر 11 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2116

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے  فروغ حاصل ہوا  ہے ۔  امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ الایقاف فی سبب الاختلاف ‘‘محترم مولانا محمد حیات سندھی﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی ﷫ نے کیا ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف ﷫نے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے آگاہ  کرنے کے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کرنے  کی  ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 7 التحقیق الراسخ (بدھ 02 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2365

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’التحقیق الراسخ فی ان احادیث رفع الیدین لیس لہا ناسخ‘‘ محدث العصر حافظ محمد گوندلوی ﷫ کی رفع الیدین کے موضوع پر علمی اور تحقیقی کتاب ہے یہ درا...

  • 8 الرسائل فی تحقیق المسائل (جمعرات 16 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2015

    رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔ اس کا ثبوت بکثرت اور تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث سے ملتا ہے، جنہیں صحابہ کرام ﷢کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔اور اس کا ترک یا نسخ کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔سیدنا وائل بن حجر﷜آخری ایام میں مسلمان ہونے صحابہ میں سے ہیں۔صحیح مسلم میں ان سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کہی، پھر رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ چادر سے نکالے اور انہیں بلند کیا اور تکبیر کہی اور رکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی دونوں ہاتھ اٹھائے۔ زیر تبصرہ کتاب " الرسائل فی تحقیق المسائل "مولانا عبد الرشید انصاری کی رفع الیدین جیسے معرکۃ الآراء مسئلے کی تحقیق پر ایک عظیم الشان تصنیف ہے،جو انہوں نے انتہائی محنت اور شوق سے جمع فرمائی ہے۔ اس کتاب میں مولف نے پہلے اثبات رفع الیدین پر 22 بائیس کتب حدیث سے 44 چوالیس صحابہ کرام ﷢سے مروی 339 تین سو انتالیس احادیث جمع کی ہیں،پھر عدم رفع الیدین کے قائلین کے 38 اڑتیس دلائل بیان کر کے ان میں سے ایک ایک دلیل کا مستند اور بڑے احسن انداز میں رد کیا ہے ۔یہ اپنے موضوع پر ایک اہم ترین اوربڑی شاندار کتاب ہے،اور طلباء وعلماء دونوں کے مفید ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 9 الظفر المبین فی رد مغالطات المقلدین (پیر 17 اگست 2009ء)

    مشاہدات:12213

    اللہ تعالی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دین اسلام کو مکمل فرمادیا- دین کی تکمیل کے بعد نہ تو اس میں اضافے کی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی شخص کو اس میں ردو بدل کی اجازت دی جاسکتی ہے ليكن  ہمارے ہاں کچھ لوگ  بسا اوقات ایسا طرز عمل اختیار کرتے ہیں جو اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مطابقت نہیں رکھتا ہوتا لیکن تقلید ی میلانات کی وجہ سے اسی پر عمل کو ترجیح دی جاتی ہےاور براہ راست کتاب وسنت سے احکامات اخذ کرنے والوں پر بہت سے اعتراضات کیے جاتے ہیں-اس طرز عمل کی کس حد تک تائید کی جاسکتی ہے، اس ضخیم کتاب میں اسی کا جائزہ بھرپور اور مدلل انداز میں لیا گیا ہے –مولانا ابوالحسن سیالکوٹی نے اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے  مقلدین حضرات کے بیسیوں مغالطات کا جواب پیش کیا ہے-ان مغالطات میں سےچند یہ ہیں:1- ہر مسئلے کی سند رسول اللہ تک پہنچانی ضروری نہیں-2-دین کےمعاملے میں قیاس کرنا مشروع ہے-3-فقہ کی کتابیں بڑی آسان ہیں-4-امام ابوحنیفہ کی فضیلت میں وارد ہونے والی احادیث 5-آئمہ اربعہ پر امام ابوحنیفہ کی فضیلت 6-اہلحدیث ، حدیث کے آسان مسائل پر عمل کرتے ہیں 7- مجتہدین کا کوئی مسئلہ قرآن وحدیث کے خلاف نہیں8-حدیث میں کئی احتمالات ہیں جس کی بناء پر عمل کرنا ناجائز ہے-9- اجتہاد کے ختم ہونے کا دعوی10- امام بخاری امام شافعی کے مقلد تھے-پھر ان ان مغالطوں کے ضمن میں مقلدین کے  ڈھیروں  ایسے مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے جو تقلیدی رجحانات کی وجہ سے کتاب وسنت سے میل نہیں کھاتے-

  • 10 القول المتين فی الجھربالتامین (ہفتہ 23 اکتوبر 2010ء)

    مشاہدات:18295

    نماز دین اسلام کادوسرا اہم رکن اورقرب الہی کابہترین ذریعہ ہے ۔جہاں اللہ رب العزت نے مواظیت نماز کوفرض قراردیاہے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صلواکارأیتمونی أصلی)کی شرط عائدفرمائی یعنی تکبیرتحریمہ سے تسلیم تک تمام امورکاطریقہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہوناضروری ہے ۔انہی امورمیں سے نماز کے بعض مسائل ایسے ہیں جواحادیث صحیحہ اورعمل صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہونے کے باوجودبعض لوگوں کے اعتراضات کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں ۔آمین بالجہرکامسندبھی انہی میں شامل ہے ۔صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جہری نماز وں میں باجماعت نماز پڑھتے ہوئے سورہ فاتحہ کے خاتمہ پرآمین بلندآواز سے کہی جائے گی لیکن بعض لوگ ضعیف احادیث اورمردوددلائل کی بناء پرآمین بالجہرکے مخالف ہیں اورقائلین بالجہرپرنانواطعن وتشنیع کرتے ہیں ۔زیرنظرکتاب میں انتہائی مدلل اورعلمی طریقہ سے آمین بالجہرکاثبوت پیش کیاگیاہے اوراس کے مخالف نقطہ نگاہ کے دلائل کابھی ناقدانہ جائزہ لیاگیاہے ۔

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2359
  • اس ہفتے کے قارئین: 6516
  • اس ماہ کے قارئین: 31044
  • کل قارئین : 47106448

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں