• امام ابی عمرو عثمان بن سعید الدانی

    کلمات قرآنیہ کی کتابت کا ایک بڑا حصہ  تلفظ کے موافق یعنی قیاسی ہے،لیکن چند کلمات تلفظ کے خلاف لکھے جاتے ہیں اور رسم کے خلاف اس معروف کتاب کو رسم عثمانی یا رسم الخط کہا جاتا ہے۔تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کو رسم عثمانی کے مطابق لکھنا واجب اور ضروری ہے ،اور اس کے خلاف لکھنا ناجائز اور حرام ہے۔لہذا کسی دوسرے رسم الخط جیسے ہندی، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، تمل، پنجابی، بنگالی، تلگو، سندھی، فرانسیسی، انگریزی ،حتی کہ معروف  وقیاسی عربی رسم  میں بھی لکھنا جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ درحقیقت کتاب اللہ کے عموم و اطلاق، نبوی فرمودات، اور اجماع صحابہ و اجماعِ امت سے انحراف ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی معلومات اور تحقیق "دراصل علم قراءات کے امام علامہ دانی﷫ کی علم الرسم پر لکھی گئی مایہ ناز  کتاب"المقنع"کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کے سعادت محترم پروفیسر عبد الرزاق صاحب نے حاصل کی ہے۔امام دانی ﷫نے اس کتاب   میں رسم عثمانی کے قواعد وضوابط کو بیان کیا ہے۔یہ کلمات قرآنیہ کے رسم الخط پر مبنی ایک منفرد  کتاب ہے۔ جس میں حذف، زیادت، ہمزہ، بدل اور قطع ووصل وغیرہ جیسی مباحث کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اگرچہ طلباءکے لیے  لکھی گئی ہے ،لیکن اپنی سہولت اور سلیس عبارت کے پیش نظر طلباء اور عوام الناس سب کے لیے یکساں مفید ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر علی محمد الصلابی
    اسلام کی اب تک کی تاریخ میں دور نبوت کے بعد خلافت راشدہ کا دور ہر اعتبار سے سب سے ممتاز اور تابناک رہا ہے، کیونکہ اس کی باگ ڈور ان ہستیوں کے ہاتھ میں تھی  جنہو ں نے جہاں بانی اور جہاں بینی میں شمع نبوت سے روشنی حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سیرت خلفائے راشدین کے تمام پہلوؤں پر نہایت علمی انداز میں روشنی ڈالی۔ زیر مطالعہ کتاب ڈاکٹر موصوف کی دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق کی حیات و خدمات اور کارناموں پر مشتمل ہے۔ جس کا سلیس اردو ترجمہ شمیم احمد خلیل السلفی اور عبدالمعین بن عبدالوہاب مدنی نے کیا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنھوں نے فکری، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور جنگی و فتوحاتی غرض ہر میدان میں انسانیت و روحانیت اور امن و آشتی کے لئے ایسے عدیم النظیر نقوش چھوڑے جن سے آج کی ترقی یافتہ کہی جانے والی دنیا بھی درست راہ لینے پر مجبور ہے۔ اس کتاب میں آپ کے دور کی آبادیاتی ترقی اور وقتی بحران سے نمٹنے کا تذکرہ ہے۔ گزرگاہوں اور خشکی اور سمندری وسائل، فوجی چھاؤنیوں اور تمدنی مراکز کے قیام کے سلسلہ میں آپ کے شدت اہتمام کا ذکر ہے۔ اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ آپ کے زمانہ میں بصرہ، کوفہ اور فسطاط جیسے بڑے بڑے شہر کیسے آباد ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دور کی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد و الہٰی سنن کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ غرضیکہ اس کتاب میں فاروق اعظم رضی اللہ کی زندگی کے کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔ اس کتاب کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی بھی چیز حوالہ کے بغیر ذکر نہیں کی گئی۔ یہ کتاب خطبا و مقررین، علما و سیاسی قائدین، دانشوروں، طلبا اور عوام کے لئے یکساں اہمیت کی حامل ہے۔(ع۔م)
  • عبد الستار خاں
    ’’کلید جدید‘‘اور ’’عربی کا معلم‘‘ ہر دو کتابچے مولوی عبدالستار خان کی تصنیفی مساعی میں سے ہیں اول الذکر کتابچہ چار مختصر  اجزاء پر مشتمل ہے جو ثانی الذکر کے چار اجزاء کی توضیح اور تحلیل ہے۔ جس طرح مقفل چیز کو کھولنے کے لیے کنجی کی ضرورت ہوتی ہے بعینہ جو شخص عربی کے معلم سے کماحقہ استفادے کا خواہش مند ہے اس کے پاس کلید جدید کا ہونا بہت ضروری ہے ۔خاص طور پر وہ شائقین جو بطور خود عربی سیکھنا چاہتے ہوں یا مدارس میں تعلیم پانے والے وہ ذہین اور شائق طلبہ جو اپنا مطالعہ مدرسہ کی محدود تعلیم سے آگے بڑھانا چاہتے ہوں ہر دو گروہوں کے پاس کلید جدید کا ہونا از بس لازمی ہے ۔عربی کے معلم (چار اجزاء)میں جو مشقیں عربی سے اردو اور اردو سے عربی بنانے کے لیے پیش کی گئی ہیں ان کو ’’کلید جدید‘‘کے چاروں اجزاء میں حل کردیا گیا ہے ۔نیز بعض مشکل سوالات کے جوابات اور مختلف مضامین ، خطوط اور مشکل اقتباسات کا ترجمہ بھی اس میں لکھ دیا گیا ہے ۔تاکہ طالبین اور شائقین اپنے کام کی صحت او رغلطی کو جانچ سکیں۔’’کلید جدید‘‘عربی زبان وادب کے شائقین میں تفہیم عربی کی استعداد پیدا کرنے کے لیے ایک مفید تر اور معاون کتابچہ ہے جس سے صرف نظر برتنا بہر حال مبتدی طلبہ کے لیے کسی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔(م۔آ۔ہ)


    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    حدیث جبریل میں اسلام اور ایمان کے ارکان الگ الگ بیان ہوئے ہیں جو اصل دین اور اسلام کے بنیادی اجزاء ہیں،دونوں ارکان کا چولی دامن کا ساتھ ہے کہ ایک یا دونوں کے انکار سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔اس جز میں اسلام کے وہ بنیادی ارکان کا بیان ہے۔جن کا جوارح سے تعلق ہے اور ان کا اہتمام ہر مسلمان پر لازم ہے۔اسلامی تعلیمات اور اسلام کے بنیادی اساس سے تعارف کے لحاظ سے یہ عقیدہ کی ابتدائی بہترین کتاب ہے ۔جس میں
    1-توحید کی اقسام
    2-ایمان بالرسول
    3-نما ز کی پابندی اور اس کے احکام
    4-زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کے بنیادی مسائل
    5-رمضان کے روزوں کی فرضیت اور اس کے احکام
    6-فرضیت حج اور اس کے احکام کا تفصیلی بیان ہے۔
    یہ کتاب عوام الناس کی اصلاح اور عقیدہ کی درستگی کے اعتبار سے جامع کتاب ہے ،اس کا مطالعہ قارئین کے ایمان میں رسوخ اور اضافہ کا باعث ہوگا۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • عبد الرحمن اللہ دتہ الذہبی
    اسلام دین کامل ہے جو اپنے متبعین کی ہر معاملہ میں مکمل راہنمائی کرتا ہے ۔حتی کہ لباس کے آداب بھی شریعت اسلامیہ کے مرہون ہیں ۔اور لباس کے معاملہ میں شرعی حدود وقیود کا اہتمام ہر مسلمان پر فرض ہے ۔لباس کے آداب میں اہم ادب مردوں کا شلوار ،پاجامہ اور تہبند وغیرہ کو کم از کم ٹخنوں سے اوپر رکھنا لازم اور ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ناجائز ہے ۔عورتوں کے لیے اپنے پاؤں ڈھانپنا بھی ضروری ہے ۔لیکن جدت پسندی اور مغربی تہذیب نے مسلمانوں کو اسلامی احکام سے اتنا دور کردیا ہے کہ مردوں کا ٹخنے سے اوپر کپڑا رکھنا اور عورتوں کا ٹخنے ڈھانپنا مایوب سمجھا جاتا ہے ۔حالانکہ لباس کے معاملہ میں اس شرعی حکم کی پامالی خواتین وحضرات دونوں کے لیے تباہ کن ہے ۔زیر نظر کتاب میں اس مسئلہ کو خوب وضاحت سے بیان کیا گیا ہے ۔(فاروق رفیع)

    نوٹ:اس کتاب کے سٹارٹ میں کجھ  پیجز  نہیں ہیں۔
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی
    اللہ عزوجل نے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانےکے لیے جو کتابیں نازل فرمائیں،قرآن حکیم ان میں آخری کتاب ہے جو تاقیامت بنی نوع انسان کے لیے ہدایت ورہنمائی کا ذریعہ ہے ۔قرآن کے مطالب و مفاہیم کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری جناب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہ طریق احسن سرانجام دیا۔بعد ازاں مفسرین عظام نے حدیث نبوی اور ارشادات صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں قرآنی مطالب کو لوگوں تک پہنچایا۔اس فن میں اب تک بے شمار تفاسیر مختلف زبانوں میں لکھی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔علامہ عبدالرحمٰن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ کی تفسیر بھی معتبر کتب تفاسیر میں شمار ہوتی ہے ۔آپ سعودی عرب کے نام ور عالم دین تھے۔زیر نظر ’تفسیر السعدی‘کی متعدد خصوصیات ہیں،مثلا:یہ اسرائیلی اور ضعیف روایات سے پاک ہے،قصص وواقعات سے عبر وحکم کا استنباظ بھی خوب اور نہایت عجیب ہے۔یہ تفسیر اختصار اور جامعیت کا حسین امتزاج ہے۔تفسیر میں منہج سلف کی پابندی کی گئی ہے۔آج کے مادی دور میں قرآنی حکمت وموعظت کے حصول کے لیے یہ تفسیر انتہائی مفید ہے ،جس کا مطالعہ ہر مسلمان کو کرنا چاہیے تاکہ وہ قرآن حکیم سے اپنے تعلق کو استوار کر سکے اور فلاح و کامرانی سے بہرہ مند ہو سکے۔(ط۔ا)


    نوٹ:
    مکمل تفسیر السعدی(اردو)ڈاؤن لوڈ کرنے یا آن لائن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • ڈاکٹر علی محمد الصلابی
    سیدناابوبکرصدیق  رضی اللہ  عنہ  کی ذات اقدس جود و سخا، عفو و درگزر اور حیاء وعفت کا وہ بحر بے کنار ہے جس نے بارہا زبان نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کی بشارتیں سنیں، ۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  کی شخصیت اور کارناموں پر متعدد کتب اشاعتی مراحل طے کر چکی ہیں لیکن سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  سے وابستہ جمیع پہلؤوں کا احاطہ معدودے چند کتب میں ہی نظر آتا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی نے نہایت خوبصورت انداز میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  کی شخصیت اور کارناموں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ کتاب کے ترجمہ کے فرائض شمیم احمد خلیل السلفی نے نہایت شاندار انداز میں نبھائے ہیں۔اس میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی سے متعلقہ کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ آپ کے خاندان اور مقام و مرتبہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے متعلقہ تمام احادیث کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ جہاں آپ کے منہج حکومت کو زیر بحث لایا گیا ہے۔  حضرت ابوبکرصدیق  رضی اللہ عنہ پر کیے جانے والے تمام اعتراضات کا براہین قاطعہ کی روشنی میں مسکت جواب نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیاہے۔ یقینی طور پر یہ کتاب حیات ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  پر لکھی جانے والی ایک دستاویز ہے اس میں وہ سب کچھ ہے جس کے آپ منتظر ہیں۔

  • ابوالاقبال سلفی

    محمد پالن  حقانی کی تصنیف کردہ دوکتابیں’’جماعت اہل حدیث کا ٖآئمہ اربعہ سے اختلاف ‘‘اور’’ جماعت اہل حدیث کا خلفائے راشدین  سے اختلاف‘‘منظر عام پر آئیں ان دونوں کتابوں کامقصد جماعت اہل حدیث کی تنقیص ،تذلیل،تحقیر،او رجماعت اہل حدیث کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کرنااو رمناظرہ بازی کا میدان تیار کرکےاپنی کتابوں کے ذریعے پیسے کمانا ہے اور ساتھ ہی اپنی مقبولیت وشہرت میں اضافہ بھی ہے حقانی صاحب کی کتاب ’’آئمہ اربعہ سے جماعت اہل حدیث  کا اختلاف ‘‘ کے دو جواب بنام ’’حدیث خیر وشر‘‘ اور ’’اباطیل حقانی ‘‘کےنام سے دیئے جا چکے ہیں بجائے اس کے کہ حقانی صاحب ان کاجواب دیتے پھر ایک بارموٹی سی گالی دینے کےلیے قلم کو حرکت دی اور ایک کتاب ’’جماعت اہل کا خلفائے راشدین سے اختلاف‘‘ لکھ دی اس کتاب میں اہل حدیث کے متعلق یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جماعت اہل حدیث خلفائے راشدین کو نہیں مانتی او ران کا ادب نہیں کرتی ۔زیر نظر کتاب اس کا جواب ہے جس میں  حقانی صاحب کے تمام شکوک وشبہات کا گہری نظر سے  جواب دیا گیاہے ۔

  • مختلف اہل علم
    علوم نقلیہ کی  جلالت وشان اپنی جگہ مسلم ہے، مگر یہ بھی ایک  حقیقت ہے کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی  حاصل کرناعلم نحو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہی وہ عظیم فن ہے، جس کی بدولت انسان امامت کےمرتبے اور اجتہاد کے مقام تک پہنچ جاتاہے ۔ تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے  کہ  مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول ایک لازمی شرط ہے۔ قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  کوسمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ اس کے بغیر علوم  اسلامیہ میں رسوخ وپختگی پیدا نہیں ہوسکتی ۔نحو وصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ  عجمی علماء نے بھی   بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔اور اپنی  اپنی مقامی زبانوں میں اس فن  پر    کتب تصنیف فرمائیں۔ زیر نظرکتاب  وفاق المدارس السلفیہ کے ذمہ داران کے  حکم پر تجربہ کار ،اور ماہر  اساتذہ ومعلمین کی نگرانی میں الثانویة الخاصة کے نصاب کے لیےلکھی  گئی ہے۔ جسے مکتبہ دار السلام لاہور نے شائع کیاہے۔ اس کی ترتیب میں  ایک  جدید اور منفرد اسلوب اختیارکیا گیا ہے،   جو عام فہم اور نہایت آسان ہے،  تاکہ مبتدی طالب علم اس کو آسانی سے پڑھ سکیں ۔فائدہ عام کے لئے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔اللہ اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • خلیل الرحمن چشتی
    دو ہزار پانچ میں پاکستان کے اندر  زلزلے کے بہت خطرناک جھٹکے آئے تھے ۔ ایک مذہبی و دینی ملک ہونے کے ناطے سے مملکت خداد کے اندر کئی ایک بحثوں نے جنم لیا ۔ مثلا زلزلے کے بارے میں ایک رائے یہ اپنائی گئی کہ یہ عذاب الہی ہے ۔ یعنی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی برائیاں اس قدر بڑھ  گئیں تھیں کہ ان کے اوپر اللہ کا عذاب نازل ہو گیا ۔ چناچہ اس توجیہ کے ضمن میں ایک اہم ترین سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر یہی صورتحال تھی تو پھر دیگر کئی ایک شہروں میں جہاں برائی کی یہی صورت تھی یا اس سے بھی بڑھ کر تھی وہاں کیوں نہیں یہ عذاب نازل ہوا؟ اس سلسلے میں دوسری رائے یہ تھی کہ  یہ خدا کی طرف سے عذاب نہیں بلکہ ایک آزمائش تھی ۔ یعنی اللہ نے اپنے بندوں کو آزمایا ہے کہ وہ راہ حق یا صراط مستقیم پر کس قدر گامزن ہیں؟ اس تناظر میں سیکو لر حلقوں کی طرف سے اس خیال کا اظہار کیا گیا کہ اس طرح کی مذہبی توجیہات غیر حقیقی اور غیر سائنسی و علمی ہیں ۔ اس باب میں ہمیں خالصتا سائنٹیفک توجیہ کرنی چاہیے ۔ درج ذیل کتاب میں انہی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔ اس رائے میں قرآن کا اصلی مؤقف واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ قرآن نے گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے جو اسباب بیان کیے ہیں انہیں سامنے رکھتے ہوئے قانون عذاب الہی کا تعین کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ اللہ  مصنف کتاب خلیل الرحمان چشتی کو بے بہا اجر سے نوازے وہ ایک عرصہ لوگوں کو قرآن سمجھانے میں مصروف عمل ہیں ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39752842

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں