• احمد غزالی

    بے آب و گیا ہ صحرائے چولستان جو کسی زمانے میں بین الاقوامی تجارتی گزر گاہ تھا اور تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لئے دریائے ہاکڑا کے کنارے جیسلمیر کے بھٹی راجاﺅں کے دور حکمرانی 834ہجری میں تعمیر ہونے والا قلعہ ڈیراور جو اپنے اندر کئی صدیوں کے مختلف ادوار کی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ اس قلعہ کو نواب صادق محمد خاں اول نے والئی جیسلمیر راجہ راول رائے سنگھ سے فتح کیا جس وقت قلعہ ڈیراور عباسی خاندان کی ملکیت بنا تو عباسی حکمرانوں نے قلعہ کے تمام برج پختہ اینٹوں سے تعمیر کروا کر اس قلعہ کا ہر برج اپنے ڈیزائن میں دوسرے سے جدا ڈیزائن میں کیا ۔ قلعہ کے اندر شاہی محل ،اسلحہ خانہ ، فوج کی بیرکیں اور قید خانہ بھی بنایا گیا تھا ۔ قلعہ کے مشرقی جانب عباسی حکمرانو ں نے ایک محل بھی 2منزلہ تعمیر کرایاجہاں تاج پوشی کی رسم اد اکی جاتی تھی۔ اس وقت قلعہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ موجود تھا ۔ ریاست بہاولپور کا پاکستان سے الحاق ہونے کے بعد اور والئی ریاست بہاولپورعباسیہ خاندان کے آخری فرمانروا نواب سر صادق محمد خاں خامس عباسی مرحوم کی وفا ت کے بعد چولستان کے وارثوں اور حکمرانوں کی عدم توجہی اور سی ڈی اے کے منہ زور عملہ کی مبینہ نا اہلی کے باعث انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر تباہی کی جانب تیزی سے گامزن ہے ۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ چولستان‘‘ احمد غزالی کی تالیف ہے۔ جس میں دریا کی کہانی، ہاکڑہ دریا کی کہانی، چولستان کی وجہ تسمیہ، طول و عرض، ٹوبھے اور کُنڈ، مٹی اور مزاج، صحرائی ہوا، راستے اور سفر کی روایت، پر اسرار روشنی، خواجہ فرید کی شاعری اور چولستان، سانپ اور لوک علاج، لال سہانرا نیشنل پارک، قومیں، چولستان کے روایتی زیور، رسم و رواج، آوازیں اور شگون، چولستانی دستکاریاں، مشہور مقامات، اکھان اور نامور صحرانشینوں کے تذکرے بیان کیے گے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

  • امام ترمذی

    شریعت محمدی ﷺ میں دو بنیادی مآخذ ہیں۔ ایک قرآن مجید اور دوسرا مآخذ سنت نبویہﷺ۔ قرآن مجید میں اصول اور حدیث رسولﷺ میں ان کی تشریح وتوضیح پائی جاتی ہے۔ لیکن فتنوں کے اس دور میں شیطان نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے ہر طرف بے راہ روی کے جال بچھا رکھے ہیں۔ کہیں انکارِ حدیث تو کہیں تجدد کی آڑ میں دین کی نت نئی تاویلات۔ کہیں مستشرقین کی تلبیسات تو کہیں اپنوں کی نفس پرستی‘ ایسے پر فتن دور میں سنت رسولﷺ کا احیاء سعادت ہی نہیں‘ فرض بھی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  کا مقصدبھی احیائے دین اور احیائے سنت ہے۔ اصلاً کتاب عربی زبان میں ہے جس کی وقتاً فوقتاً اور نت نئی تشریحات وتوضیحات ہو رہی ہیں کیونکہ یہ کتاب ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتی ہے اور یہ کتاب جامع ہونے کے ساتھ ساتھ سنن بھی ہے۔ اس کتاب میں  میں ترجمے کی سلاست کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ مشکل الفاظ کے معانی بیان کرنے کے ساتھ ان کی وضاحت بھی ہے اور افادۂ عام کے لیے توضیحی فوائد بھی درج کیے گئے ہیں۔ احادیث کو بیان کرنے سے قبل کتاب کا تعارف اور ہر باب اور اس سے متعلق احادیث کا ترجمہ‘ امام ترمذی کی وضاحت اور مسائل کا خلاصہ بھی درج کیا گیا ہے اور علامہ البانی کے حکم پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ جامع سنن تر مزی متر جم مع فو ائد و توضیح ‘‘ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی  کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • عبد الرحمان بن معلا اللویحق

    علم، اللہ سبحانہ و تعالی کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی فضیلت اور اہمیت ہر دور میں تسلیم کی گئی ہے۔ یہ ان انعامات الٰہیہ میں سے ہے جن کی بنا پر انسان دیگر مخلوقات سے افضل ہے۔ علم ہی ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو عطا فرما کر اس کے ذریعے فرشتوں پر ان کی برتری ثابت فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل فرمائی گئی اُس میں اُن کی تعلیم سے ابتدا کی گئی اور پہلی ہی وحی میں بطورِ احسان انسان کو دیئے گئے علم کا تذکرہ فرمایا گیا۔ دینِ اسلام میں حصولِ علم کی بہت تاکید کی گئی ہے اور علم و اہلِ علم کی متعدد فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور مسلمانوں کو علم کے حصول پر ابھارا گیا ہے۔ اور جس طرح علم کی اہمیت و فضیلت مسلّمہ ہے، اُسی طرح اِس نعمتِ عظیم کے حامل افراد کی فضیلت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس امت میں تو بالخصوص اہلِ علم بہت اعلی مقام کے حامل ہیں حتیٰ کہ انہیں انبیائے کرام کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: "علماء، انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اور انبیاء علیہم السلام دینار اور درہم کا ورثہ نہیں چھوڑتے بلکہ انہوں نے علم کا ورثہ چھوڑا ہے۔ پس جس شخص نے اس سے (علم) حاصل کیا اس نے بڑا حصہ لے لیا۔"  زیر تبصرہ کتاب ’’ علماء کے حقوق‘‘ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن بن معلا اللو یحق﷾ (استاذ مشارک امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی ریاض، سعودی عرب) کی تالیف ہے۔ جس کو اردو قالب میں مولانا محمد عنایت اللہ سنابلی مدنی صاحب نے ڈھالا ہے۔ یہ کتاب امت میں اہل علم کی قدر و منزلت اور ان کے ساتھ برتاؤ سے متعلقہ اصول و ضوابط کی رہنمائی کے لیے ایک گرانقدر مستند تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صاحب تصنیف و مترجم کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (رفیق الرحمن)

  • ابن آدم

    کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ دین کے بارے میں اکثر مسلمانوں کا رویہ مثبت نہیں ہے۔اس سلسلے میں ایک تو ہماری معلومات بہت کم  ہیں۔اس قدر کم کہ انہیں واجبی بھی نہیں کہا جا سکتا ۔دوسرے دین کے نام پر ہم جس طرح کے قول وفعل کا مظاہرہ کرتے ہیں اسے خالص دین ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔کیونکہ جو کچھ ہم پیش کرتے ہیں وہ عموما افراط وتفریط پر مبنی ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم نہ توعقائد میں متوازن ہیں اور نہ ہی اعمال میں مقتصد ہیں۔ شرک کا لغوی معنی برابری جبکہ شرک کی واضح تعریف جو علماء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے کہ اَللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو غیر اللہ کیلئے اِس طرح ثابت کرنا جس طرح اور جس حیثیت سے وہ اَللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ،یعنی یہ اِعتقاد رکھنا کہ جس طرح اَللہ تعالیٰ کا علم اَزَلی، اَبدی ، ذاتی اور غیر محدود ومحیطِ کل(سب کو گھیرے ہوئے ) ہے ،اِسی طرح نبی اورولی کو بھی ہے اور جس طرح اَللہ تعالیٰ جملہ صفاتِ کمالیہ کا مستحق اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ،اِسی طرح غیر اللہ بھی ہے تو یہ شرک ہو گا اور یہی وہ شرک ہے جس کی وجہ سے اِنسان دائرۂ اِسلام سے خارِج ہو جاتا ہے اور بغیر توبہ مرگیا تو ہمیشہ کیلئے جہنم کا اِیندھن بنے گا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں جس قدر شرک کی مذمت اور توحید کا اثبات کیا ہے اتنا کسی اور مسئلے پر زور نہیں دیا ہے۔سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر  نبی کریمﷺ تک ہر رسول و نبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" الجبت وطاغوت، جادو اور شیطان "ایک گراں قدر تحقیقی مقالہ ہے  جومحترم ابن آدم صاحب کی کاوش ہے۔یہ کتاب جہاں عقائد کی سطح پر اصلاح کرتی ہے وہاں اعمال کی سطح پر ایسے ایسے افق سامنے لاتی ہے جو عام طور پر نظروں سے اوجھل ہی رہتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • محمد مبشر نذیر

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سے بھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن، لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔ تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن اور بائبل کے دیس میں‘‘ کتاب ہذا کے مصنف جناب مبشر نذیر صاحب کے ان اسفار کی روداد ہے، جو انہوں نے 2006-07 میں سعودی عرب میں دورانِ قیام دنیائے عرب کے مختلف حصوں کی طرف کیے۔ اس کتاب میں ان مبارک جگہوں کاذکر ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی بسر فرمائی۔ نیز مصنف نے ان مقامات کا بھی ذکر کیا ہے جن کاذکر قرآن مجید اور بائبل میں کیا گیا ہے۔ مصنف نے ان مقامات سے متعلق قرآنی آیات، احادیث، اور بائبل کی آیات کےحوالے بھی ساتھ فراہم کردئیے ہیں ۔مزید براں ان مقامات کےسیٹلائٹ نقشے بھی پیش کردئیے ہیں۔ تاکہ بعد میں مقامات کی سیاحت کرنے والے آسانی سے ان مقامات کوتلاش کرسکیں۔ مبشر نذیر صاحب کادو حصوں پر مشتمل یہ سفرنامہ علومِ قرآنی کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گنجینہ علم ہے۔ اس میں سرزمینِ انبیائے کرام کی تفصیل، اقوامِ قدیمہ کی سرگزشت اور ان کے مساکن کے آثار وغیرہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔ (م۔ا)

  • ابو السلام محمد صدیق

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔ اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میںفاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نمازناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنی پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "خیر الکلام فی قراءۃ الفاتحۃ خلف الامام" محترم مولانا ابو السلام محمد صدیق﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، ورنہ اس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہو گی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر محمود احمد غازی

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ آپ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد خلفاء راشدین سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے دور ِخلافت میں دور دراز شہروں میں متعدد قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات کو کتبِ احادیث میں نقل کیا ہے۔اوربعض اہل علم نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات قضا کےاصول آداب اور طریق کار پر متعد د کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ادب القاضی ‘‘ ڈاکٹر محمود احمد غازی ی‎﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔یہ کتاب عدالتی نظام اورعدالتی طریق کار کےاہم پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔موضوع سےمتعلق قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اور آثار صحابہ مربوط شکل میں پیش کرنے کے بعد فاضل مصنف نےاہم عدالتی دستاویزات ، نظام قضاء ،سماعت مقدمہ اور فیصلے لکھنے کا اسلامی طریق کار عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ مسلمانوں کے عدالتی نظام کےمعاون اداروں سے متعلق ہے۔یہ کتاب شبعہ قانون سے وابستہ جج صاحبان ،وکلاء کرام طلبہ قانون اور اسلامی شریعت کےمیدان میں کام کرنے والوں کولیے ایک عمدہ تحقہ ہے۔(م۔ا)

  • عبد المنان راسخ

    ادب ہر کام کے حسن کا نام ہے اور سایۂ ادب میں جو الفاظ نکلیں وہ جادو سے زیادہ اثر رکھتے ہیں کیونکہ ادب ایک روشنی ہے جس سے زندگی کی تاریکیاں ختم ہوتی ہیں ۔ ادب ایک الۂ اصلاح ہے جس سے زندگی کی نوک پلک سنور تی ہے ۔ ادب ایک دوا ہے جس سے مزاج کے ٹیڑھے پن کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے، ادب ایک جوہر ہے جس شخصیت میں پختگی آتی ہے اور ادب ایک ایسا آب حیات ہے کہ جو جی بھر کر پی لے وہ زندگی کاسفر کامیابی سے کرتے ہوئےپیاس محسوس نہیں کرتا ، بلکہ تروتازہ چہرہ لےکر اپنے خالق ومالک کے حضور پیش ہوجاتا ہے۔لیکن آج لوگ دنیا کے ااقتدار کی توبہت فکر کرتے ہیں مگر ذاتِ الٰہ کی فکر سے غافل ہیں ۔اپنے آداب کےلیے ہزاروں جتن ہوتے ہیں مگر شہنشاہ کائنات کے آداب کوبروئے کار لانے کےلیے حددرجہ غفلت کی جاتی ہے اورتاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب خودی کوخالق کےآداب پرمقدم کردیا جائے تو تباہی وبربادی کےسیلاب سے بچنا مشکل ہی نہیں بسا اوقات ناممکن ہوجاتاہے بعینہ یہی کیفیت آج امت مسلمہ کی ہے ۔کسی کے دربار میں بغیر آداب کے رونا فضول ہے تو پھر شہنشاہ کائنات کے سامنے آداب کاخیال رکھنا کس قدر ضروری ہے۔ انسانیت کا دوسرا نام ادب ہے۔ اور ادب کا دوسرا نام انسانیت ہے۔ یعنی جو بادب ہے وہ انسان ہے اور جو بے ادب ہ ےوہ انسانی شکل میں بدترین حیوان ہے ۔اور ہمارا سارا دین ادب ہے۔ ادب الٰہ کا معنی یہ ہےکہ اپنے خالق ومالک کی خوشنودی ورضا جوئی کے لیے دین کے مطابق ایسا اعلیٰ سلیقہ، عمدہ طریقہ اور اچھا انداز اپنانا جو قابل تحسین اور باعث تعریف ہو ۔ جس سے واضح معلوم ہو کہ بندہ اپنے الٰہ کو صرف مانتا ہی نہیں بلکہ اس کےدربار کےآداب سےبھی بخوبی آگاہے ۔سادہ لفظوں میں ادب الٰہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی وبڑائی کومان کر اس کے سامنے بے بسی ، بے حیثیتی ، عاجزی وانکساری کاہر ایک تقاضا اس انداز سےپورا کرنا کہ جس میں عمدگی، نفاست اوراعلیٰ تہذیب نظر آئے اور کوئی ایسی عادت وحرکت سرزد نہ ہو جو شہنشاہ کائنات کی عزت ،عظمت، بزرگی اور شان کے خلاف ہو ۔ غرض کہ اپنے الٰہ کی شایان شان معاملہ کرنا ادب ہے۔نبی کریم ﷺ نے ساری زندگی ادبِ الٰہی کےتقاضوں کوپورا کرتےہوئےبسر کی۔ آپ نےقدم قدم پہ ادبِ الٰہ کی ایسی عظیم مثالیں پیش فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نےآپﷺ کی اس صفت کوقرآن مجید میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ اے میرے محبوب ﷺ آپ   آداب کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔آپ ﷺ کوادب الٰہ میں درجہ کمال اس لیے بھی حاصل تھا کہ آپ ﷺ کوتمام آداب اللہ تعالیٰ نے خود سکھلائے جس طرح کہ آپ ﷺ کافرمان ہے: أدبني ربي فأحسن تأديبي میرے رب نےمجھے ادب سکھلایا اور بہترین ادب سکھلایا۔آپ ﷺ نےاللہ تعالیٰ کی تعظیم ،احترام اور ادب میں کس قدر عالی مقام پایا اس کی مکمل جھلک مولانا ابو الحسن عبد المنان راسخ ﷾ نے زیرتبصرہ کتاب ’’کیا ہم اللہ کاادب کرتے ہیں؟ ‘‘میں قرآن وحدیث کی روشنی میں بڑے آسان فہم اندازمیں پیش کی ہے۔فاضل مصنف نےاس کتاب میں ادب ِالٰہی کے10 تقاضے بہت اختصار اور جامعیت سے بیان کیے ہیں جن کو پورا کرنے سے بندہ اپنےخالق ومالک کا بادب بن جاتا ہےاوران سے انحراف کرنے والاادب کی دولت سے محروم اور ناکام رہتا ہے۔ ادب الٰہ کے 10 تقاضوں کوجامعیت کےساتھ بیان کرنے کےبعد موصوف نے جعلی ادب کو بھی بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کتاب غیر ثابت شدہ روایات وواقعات سے مکمل پاک ہے ۔اگرچہ اس میں خطیبانہ انداز غالب ہے ۔کیونکہ یہ مصنف کے مرکزی مسجد مومن آباد، فیصل آباد میں پڑہائے گئے خطبات کا مجموعہ ہے۔کتاب ہذا کے مصنف مولانا ابو الحسن عبد المنان راسخ ﷾ جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے مدرس ، خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں۔ تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے   چھ کتابیں(خشبو ئے خطابت، ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب، حصن الخطیب، بستان الخطیب ، مصباح الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی تمام مساعی حسنہ کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ( آمین) (م۔ا)

  • امین احسن اصلاحی

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی قانون کی  تدوین" پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا امین احسن اصلاحی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے اسلامی قانون کے بنیادی تصورات،مقاصد شریعت اور اجتہاد،اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون،اسلام کا قانون جرم وسزا،اسلام کا قانون تجارت ومالیات،مسلمانوں کا بے مثال فقہی ذخیرہ ایک جائزہ،اور فقہ اسلامی دور جدید میں جیسے عنوانات پر مبنی ہیں۔ یہ ان کے سلسلہ محاضرات کی تیسری کڑی ہے ۔اگرچہ ادارہ محدث کا مولف موصوف کی فکر اور موقف سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن اجتہادی اختلاف رائے کو قبول کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئےاس کتاب  کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔(راسخ)

  • ڈاکٹر نور محمد غفاری

    اسلام میں جس طرح عبادات وفرائض میں زور دیاگیا ہے ۔ اسی طرح اس دین نے کسبِ حلال اورطلب معاش کو بھی اہمیت دی ہے ۔ لہذاہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔نبی کریم ﷺ نے تجارت کو بطور پیشے کے اپنایا او رآپ کے اکثر وبیشتر صحابہ کرام کا محبوب مشغلہ تجارت تھا۔ امت مسلمہ کے لیے حضو ر ﷺ کی حیات طیبہ میں اسوہ حسنہ موجود ہے اورآپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام کی پاک زندگیاں ہمارے لیے معیار حق ہیں۔ اس یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اکل حلال اور کسبِ معاش کاعمل آج کے دور میں بھی تجارت کےذریعے پوراکیا جاسکتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام کا قانونِ تجارت‘‘ ماہر معاشیات جناب ڈاکٹر نور محمد غفاری کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں تجارت کے تمام قدیم قوانین کا جائزہ لیا ہے او ردورِ جدید میں جو نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں انہیں قدیم فقہی جزئیات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اردو زبان میں قانون تجارت کے موضوع پر مفید ترین کوشش ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39752844

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں