• #3569
    پروفیسر حافظ محمد سعید

    1 خطبات قادسیہ فتنہ تکفیر

    اسلام امن وسلامتی کا دین  ہے   جس میں انسانوں کے جان ومال کی حفاظت اوراس کی عزت وآبرو کی ضمانت دی گئی ہے رسول اللہﷺ نےباہمی انسانی ہمدردی اور خیر خواہی  پرمبنی دین حق کی طرف  لوگوں کو دعوت دی اور اس کے ساتھ  ساتھ  لوگوں کےدرمیان اتحاد واتفاق پیدا کیا۔ امت  کو اختلاف اور تفرقہ بازی سے بچنے کی تلقین کی اور ایسے تمام فتنوں سے آگاہ کیا  جو امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے ہیں  اور ان فتنوں سے بچنے  کے طریقے بھی بیان فرمائے۔ آپ ﷺ کےبیان کردہ فتنوں میں سب سے  بڑا اورخطر ناک فتنہ’’ فتنۂ تکفیر اور خوارج‘‘ ہے  یعنی ایک مسلمان کادوسرے  مسلمان کو کافر قرار دینے کا فتنہ ، مسلمان حکمرانوں  کےخلاف تلوار اٹھانے  اور مسلح بغاوت  کافتنہ۔مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان کو قتل کرنے ان کا مال  لوٹنے اوران کی عزتوں کو پامال کرنے کافتنہ۔ ان فتنوں نے تاریخ اسلام میں مسلمانوں کوسب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ عصر حاضر میں بھی اس فتنے نے دین ِاسلام کی حقیقی تصویر کو داغ دار او رحق پر مبنی سچی دعوت کو بدنام کیا ہے۔علمائے حق نے اس موضوع پر راہنمائی بھی کی ہے  لیکن اس سلسلے میں زیاد ہ تر مواد  عربی زبان ہے  ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ خطبات قادسیہ  فتنہ تکفیر‘‘  جماعۃ الدعوۃ  پاکستان کے امیر   محترم جناب حافظ سعید صاحب ﷾  کے اس موضوع پر  مسلسل بارہ خطبات کامجموعہ ہے ۔یہ خطبات آپ نے مرکز القادسیہ  ،لاہور میں    ارشاد فرمائے  آپ نے  ان  خطبات میں  ’’فتنہ تکفیر اور فتنۂ خوارج‘‘ کی  حقیقت ، اسباب، نقصانات اوراس سےبچاؤ کے طریقے بڑے  عام فہم انداز  اور آسان الفاظ میں  تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اسلام کا  صحیح  عقیدہ اور اس کی حقیقت اور سچی تصویر لوگوں کےسامنے پیش کی ہے  تاکہ عام مسلمان اس فتنے  میں مبتلا ہونے  سے بچ جائیں ۔دارالاندلس نے  حافظ صاحب کے ان  خطبات کو   کتاب شکل میں  مرتب  کر کے  حسن طباعت سےآراستہ کیا ہے۔اس موضوع پر اردوزبان میں  یہ کتاب بڑی اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ ان خطبات  کوقارئین کے عقائد واعمال کی اصلاح کاذریعہ بنائے    اور حافظ سعید صاحب کی عمر میں خیروبرکت  فرمائے  اور غلبۂ  دین  اسلام کے لیے ان کی اور ان کے  رفقاء کی  تمام مساعی  جمیلہ کو  قبول فرمائے (آمین)  (م۔ا)

  • #3308
    محمد اقبال سلفی

    2 ہم کدھر جا رہے ہیں؟

    کسی بھی عمل کی قبولیت کے لئے عقیدہ کا خالص ہونا اور عمل کا مسنون ہونا بنیادی شرائط ہیں۔غیر مسنون اعمال سے جہاں سنت کی اہمیت کم ہوتی ہے، وہاں ان کے نتیجے میں انسان کے اعتقادات بھی متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔جب عقیدے میں بگاڑ آتا ہے تو انسان کی ساری کی ساری محنت اور کوشش جسے وہ دین سمجھ کر کر رہا ہوتا ہے، اللہ کی طرف سے اجروثواب کی بجائے عذاب وعقاب کا سبب بن جاتی ہے۔ ان غیر مسنون اعمال میں سے ایک تعویذ لکھنا ،لکھوانا اور گلے میں لٹکانا اور جسم کے بعض حصوں کے ساتھ باندھنایا گاڑیوں ،دکانوں اور گھروں میں لٹکانا ہے۔ اس عمل نے اب باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے۔مختلف عدد،مبہم اور غیر واضح عبارات یہاں تک کہ جنوں اور فرشتوں اور فوت شدہ ہستیوں سے امداد طلب کرنا وغیرہ ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔ کچھ لوگوں نے دیکھا دیکھی قرآنی تعویذات بھی لکھنا شروع کر دئیے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید دلوں کے امراض ،کفر وشرک اور فسق وفجور سے تزکیہ وشفاء کا بہترین ذریعہ ہے۔اس کی تلاوت اور اس پر عمل کے نتیجے میں اللہ تعالی نے برے بڑے کافروں کو مسلم اور مشرکوں کو موحد بنا دیا ہے۔ یہ سب کچھ پڑھنے ،دم کرنے اور دم کروانے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے،جو کہ سنت رسول ﷺ سے ثابت ہے۔جبکہ قرآنی آیات پر مشتمل تعویذات کے بارے میں بالکل واضھ ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ ،صحابہ کرام اور سلف صالحین میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "محترم محمد اقبال سلفی صاحب کی تصنیف ہے،جسے ام عیینہ نے ترتیب دیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں تعویذات جیسے معاشرے میں پھیلے شرکیہ اعمال کی زبر دست تردید فرمائی ہے اور امت کو توحید پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو شرک وبدعات سے محفوظ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • #3027
    ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

    3 مکاتیب ابو الکلام آزاد جلد اول

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  ؑ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین  نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں زیر نظرکتاب ’’مکاتیب  ابو الکلام آزاد‘‘ مولانا ابوالکلام  آزا دکےخطوط کے مجموعے کی پہلی جلد ہے۔جسے  ڈاکٹر ابو سلمان  شاہ جہانپوری نے مرتب کیا ہے ۔ یہ مجموعہ  مولانا ابو الکلام کے  کےنادر اور نایاب ،منتشر ، غیر مطبوعہ   خطوط پر مشتمل ہے۔ مکتوبات کے اس  پہلے مجموعے کا دورانیہ 1900ء تا 1902ء پر محیط ہے  ۔ اوریہ  زمانہ  حضرت مولانا کے علمی اور سیاسی کارناموں کا دورِ اول  بھی ہے جس میں  ان کی بلند فکری اپنی  پوری آب وتاب سےنمایا ں ہوچکی تھی۔   مولانا ابو الکلام آزاد کے خطوط مختلف علوم کابیش بہا ذخیرہ ہیں ان خطوط سے  قدم قدم پر ان کی وسعتِ مطالعہ او ر اس پر مبنی مختلف مسائل سے متعلق ا ن کی   آزادنہ رائے کا اظہار ہوتاہے اور ان خطوط سے  مولانا آزاد کی سوانح حیات کی تکمیل میں بہت مدد ملتی ہے  خاص کر ان   میں  ان کی عادات اور خصائل  جاننے کے  لیے بہت مواد ہے  (م۔ا)

  • #3022
    یحیٰ علی

    4 نجومیوں کی سیاہ کاریاں

    جادو کرنا یعنی سفلی اور کالے علم کے ذریعہ سے لوگوں کے ذہنوں او رصلاحیتوں کو مفلوج کرنا او ران کو آلام ومصائب سے دوچار کرنے کی مذموم سعی کرنا ایک کافرانہ عمل ہے یعنی اس کا کرنے والا دائرہ اسلام سے نکل جاتا اورکافر ہوجاتا ہے یہ مکروہ عمل کرنے والے تھوڑے سے نفع کے لیے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے اور ان کے امن وسکون کوبرباد کرتے ہیں جولوگ ان مذموم کاروائیوں کا شکار ہوتے ہیں وہ عام طور پر اللہ کی یاد سے غافل ہوتے ہیں۔ او رلوگ اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائےاپنے مصائب ومشکلات کے وقت دکھوں تکلیفوں کے مداوا اور غموں وپریشانیوں سے نجات کے ساتھ ساتھ سعادت ونیک بختی ،کامیابی کوکامرانی ،دولت کےحصول اورجاہ وحشمت کی طلب کےلیے مارے مارے عاملوں او رنجومیوں کے آستانوں پر ماتھے رگڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ان نجمیوں نے ہر ہر خاندان میں پھوٹ ، عداوت ، دشمنی بغض اور حسد وکینہ کے بیج بودیے ہیں۔ ماں کوبیٹے، بہن کو بھائی اورباپ کو اولاد کا دشمن بنا چھوڑا ہے۔ انسانیت ان کی مذموم شیطانی کارستانیوں ،سیاہ کاریوں اور بدکاریوں سے جان بلب ہے اور کسی ایسی راہنمائی کی متلاشی ہے جوان کےدکھوں کا مدوا ثابت ہوسکے ، ان کے دین وایمان اور مادی دولت کےساتھ ساتھ ان کی عزت وناموس کی حفاظت کا بھی باعث بن سکے۔ زیر تبصر ہ کتاب ’’نجومیوں کی سیاہ کاریاں‘‘ جناب یحییٰ علی﷾ کی کاوش ہےجس میں انہوں نے امت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر مرض کی درست تشخیص کی ہے او رنجومیوں کے ہاتھوں بر باد انسانیت اور زخمی روحوں کےزخموں پرشافی مرحم رکھا ہے۔ اوران کوان سفاک بہروپیوں کےجال سےنکالنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔قارئین عاملوں ، نجومیوں کی سیاہ کاریوں کوجاننےاور ان سے اپنے آپ اور دوسروں کے عقیدہ وایمان اور دولت وعزت کو بچانے کے لیے اس کتا ب سے ستفادہ کریں۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطافرمائےمحترم محمد طاہر نقاش ﷾ کو اور ان کے علم وعمل ،کاروبار میں برکت او ران کو صحت وتندرستی والی زندگی عطائے فرمائے کہ انہوں نے اپنے ادارے’’ دار الابلاغ‘‘ کی مطبوعات مجلس التحقیق الاسلامی کی لائبریری اور کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں۔ آمین(م۔ا)

  • #2737
    حافظ عبد الستار حماد

    5 فتاوی اصحاب الحدیث جلد 3

    اسلام میں  فتویٰ نویسی کی تاریخ  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنا  کہ  بذات  خود اسلام۔ فتویٰ سے  مراد پیش  آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی  روشنی  میں شریعت کا وہ  حکم  ہے  جو کسی سائل کےجواب  میں کوئی عالم دین  اور احکام شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے  کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے  چلا آرہا ہے  برصغیر پاک وہند میں  قرآن  کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں  بھی  علمائے اہل  کی کاوشیں لائق تحسین ہیں  تقریبا  چالیس کے قریب   علمائے حدیث کے فتاویٰ جات    کتابی صورت میں   شائع ہو چکے  ہیں ۔زیر تبصرہ  کتاب ’’ فتاویٰ اصحاب الحدیث‘‘ جید عالم  دین  مفتی جماعت اہل  حدیث  ،شارح   صحیح بخاری    شیخ  الحدیث مولانا حافظ عبد الستار حماد﷾ کے  ان  فتاوی ٰ جات کا مجموعہ ہے  جو    کئی سالوں  سے  مرکزی  جمعیت  اہل  حدیث  کے ترجمان  مجلہ  ہفت روزہ  اہل حدیث میں  شائع ہورہے ہیں۔جنہیں مکتبہ اسلامیہ   کے  مدیر  محترم سرور عاصم صاحب نے جدید فقہی ترتیب کے  مطابق  مرتب کروا کر  نہایت سے عمدہ طریقے سے  تین  مجلدات میں شائع کیاہے  ۔جن میں  ترجمہ کے ساتھ  قرآنی  آیات کا عربی متن ،تمام آیات واحادیث کے حوالہ جات  نیچے  حاشیہ میں  درج کردئیے گئے ہیں ۔ اورہر سوال پر ایک مختصر مگر جامع عنوان قائم کیا گیا ہے  تاکہ  سوال کی نوعیت کا اندازہ  ہوسکے ۔فتاوی ٰ اصحاب الحدیث کی جلد سوم  دراصل  ہفت روزہ  اہل حدیث  (سال 2008تاسال 2010ء)میں شائع ہونے والے  فتاویٰ جات کا مجموعہ ہے ۔اور اس کی چوتھی جلد زیرترتیب  ہے جلدہی زیر طباعت سے آراستہ ہوجاگی (ان شاء اللہ )اللہ تعالیٰ   محترم  حافظ عبد الستار حماد﷾  کے علم وعمل اور عمر میں برکت فرمائے  ۔(آمین) (م۔ ا)

     
    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #2653
    مریم خنساء

    6 تزکیہ نفس میں شکر کا کردار

    اسلامی شریعت کی اصطلاح میں تزکیہ کا مطلب ہے اپنے نفس کوان ممنوع معیوب اور مکروہ امور سے پاک صاف رکھنا جنہیں قرآن وسنت میں ممنوع معیوب اورمکروہ کہا گیا ہے۔گویا نفس کو گناہ اور عیب دارکاموں کی آلودگی سے  پاک صاف کرلینا اور  اسے  قرآن وسنت کی روشنی  میں محمود ومحبوب اور خوب صورت خیالات  وامور سے آراستہ رکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے  انبیاء کو جن اہم امور کےلیے بھیجا ان میں سے ایک تزکیہ نفس بھی ہے  جیسا کہ  نبی اکرم ﷺ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے : هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ‘‘اس  آیت سے معلوم ہوتاہےکہ رسول اکرم ﷺ پر نوع انسانی کی اصلاح کےحوالے جو اہم ذمہ داری  ڈالی گئی اس کےچار پہلو ہیں ۔تلاوت آیات،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت،تزکیہ انسانی۔ قرآن مجید میں یہی مضمون چار مختلف مقامات پر آیا ہے  جن میں ترتیب مختلف ہے  لیکن ذمہ داریاں یہی  دہرائی گئی ہیں۔ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت آیات اورتعلیم کتاب وحکمت کا منطقی نتیجہ تزکیہ ہے۔تزکیہ نفس  کے حصول کےلیے قرآن وحدیث میں وارد بہت سے امور کااختیار کرنا اور بہت سےامور کا ترک کرنا ضروری ہے ۔ حصول تزکیہ  نفس کے لیے  اختیارکیے جانے والے امور میں شکر  کا کرداربڑا اہم ہے ۔شکرایک  مومن کی صفات وعادات میں سے بنیادی صفت ہے یہی صفت ایک مومن کو اصل مومن اورایک بندے کو بہترین بندہ بناتی ہے۔ انبیائے کرام چوں کہ انسانوں میں سے  چیدہ اور برگزیدہ انسان ہوتے ہیں اس لیے  ان میں تمام مومنانہ صفات مکمل طور پر موجود ہوتی ہیں۔چنانچہ قرآن حکیم میں شکر کا انبیاء کی صفت کے حوالے سے اکثر ذکر ملتاہے۔زیر تبصرہ  کتابچہ ’’تزکیہ نفس میں شکر  کا کردار ‘‘محترمہ مریم خنساء   کی   ایک اہم تحریر ی کاوش ہے جس میں موصوفہ کی والدہ محترمہ کے  کچھ اضافہ جات  بھی شامل  ہیں ۔اس میں   مصنفہ نے  شکر  کے  معنی مفہوم اور اس  کے فضائل وفوائد کو بڑے احسن انداز میں  بیان کیا ہے اللہ تعالی ٰ اسے عوام الناس کےلیے   نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2517
    ہارون یحییٰ

    7 سلسلہ معجزات

    کسی نبی یا رسول  سے ایسے  واقعہ کاظہور پذیر ہونا جو انسانی  عقل  وفکر سے بالاتر ہو ۔یہ  خصوصی واقعہ  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ اس کے نبی یا رسول کی صداقت عام لوگوں پر واضح ہوجائے  عمومی طور  پر  معجزے اس  مخصوص زمانے اور حالات کے مطابق ہوتے ہیں  جس میں  وہ نبی یا رسول  اپنی دعوت پیش کر رہا ہو ۔ قرآن مجید میں انہیں آیات (نشانیاں) قرار دیاگیاہے مختلف پیغمبروں کومختلف معجزے عطا ہوئے  تھےتا کہ  وہ ان کے ذریعے  سےاللہ  کی قدرت  کالوگوں   پراظہار  کرسکیں۔ نبی کریم  ﷺکوبھی  کئی معجزوں سے نوازا گیا  ان میں سے   واقعہ معراج او رواقعہ شق القمر زیادہ مشہور ہیں۔زیر نظر کتاب ’’سلسلہ معجزات ‘‘ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے  کائنات کی ابتداء سے آج تک  وقوع پذیر ہونے والی کئی مثالوں کا  تذکرہ کرنے کے ساتھ  ساتھ  اس وقت  دنیا  کے گوشے  گوشے میں پیش آنے والے  گزشتہ  اور آئندہ معجزوں کاتذکرہ کیا  ہے ۔او رمعجزات کی ان مثالوں  کو درج ذیل  ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔1 کائنات میں موجود معجزے۔2 زمین سمیت نظام شمسی میں موجود معجزے۔3جانداروں میں پائے  جانے والے   معجزات ۔اس کتاب  کاہدف قاری کےسامنے مختلف معجزات کی ایسی مثالیں پیش کرنا ہے جو  اللہ تعالیٰ  کی عظمت اوراس کی  لامتناہی  قدرت  پردال  ہیں اور اس کا سب سے بڑا مقصد انسان  کواپنے ماحول میں موجود  ان تمام چیزوں  پر غور  کرنے کی دعوت دینا ہے  جو زمین وآسمان  کے  خالق کی قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔اللہ تعالی ٰ اس کتاب کو  لوگوں کے  ایمان   میں پختگی اوراضافے    کا باعث بنائے  (آمین) ( م۔ا)

     

  • #2450
    ام عبد منیب

    8 ایمان کی ادنیٰ شاخ

    اسلامی تہذیب شائستگی اور وقار کی حامل ہے ۔ایک مسلمان شعوری طور پر مسلمان بھی ہو اور پھر وہ کسی کے  خلاف تہذیب حرکت کا ارتکاب کر ے یہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ہونا چاہیے۔دور حاضر میں  مسلمانوں کی اکثریت مغربی ممالک کی اس حوالے  سے بہت تعریف کرتی  ہے  کہ ان کےہاں گلیاں ،سرکیں اور دکانیں وغیرہ  بہت صاف ہوتی ہیں اور وہ لوگ ایک دوسرے  پر کوئی اعتراض اورایک دوسرے کوروک ٹوک نہیں کرتے  لیکن وہ ایمان جیسی عظیم  نعمت  سے  محروم ہیں ۔ فرمان نبوی کے  مطابق  کے 60یا70 سے  زیادہ شاخیں ہیں ۔ جن میں افضل شاخ توحید  کا اقراراور  اس کی ادنی ٰ شاخ رستے سےتکلیف دینے والی چیز کا ہٹا دینا ہے ۔زیرنظرکتابچہ’’ایمان کی ادنی ٰ شاخ راستے سےتکلیف داہ چیز کا ہٹا دینا‘‘ میں  محترمہ ام عبد منیبہ  صاحبہ نے  ایمان  کی ادنیٰ  شاخ کو موضوع بحث  بناتے ہوئے   بڑے عام انداز میں  اس  فرمان نبوی ’’الایمان بضع وسبعون  او بضع ستون.....‘‘  کی  وضاحت کی  ہے اللہ تعالی ٰ ان  کی اس کاوش کوعوام الناس کے لیے  فائد مند بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1993
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

    9 اسمائے حسنیٰ سے محبت ، انکا احصاء اور تقاضا

    اللہ تعالی ٰ کے بابرکت نام او رصفات جن کی پہچان اصل توحید ہے ،کیونکہ ان صفات کی صحیح معرفت سے ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔عقیدۂ توحید کی معرفت اور اس پر تاحیات قائم ودائم رہنا ہی اصلِ دین ہے ۔اور اسی پیغامِ توحیدکو پہنچانے اور سمجھانے کی خاطر انبیاء و رسل کومبعوث کیا گیا او رکتابیں اتاری گئیں۔ اللہ تعالیٰ کےناموں او رصفات کے حوالے سے توحید کی اس مستقل قسم کوتوحید الاسماء والصفات کہاجاتاہے ۔ قرآن واحادیث میں اسماء الحسنی کوپڑھنے یاد کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے۔'' وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ''اور اللہ تعالیٰ کے اچھے نام ہیں تو اس کوانہی ناموں سےپکارو۔اور اسی طرح ارشاد نبویﷺ ہے«إِنَّ لله تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ»یقیناً اللہ تعالیٰ کے نناوےنام ہیں یعنی ایک کم 100 جس نےان کااحصاء( یعنی پڑھنا سمجھنا،یادکرنا) کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح بخاری )زیر تبصرہ کتاب ''اسمائے حسنیٰ''ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نےتوحید کی اہمیت وفضیلت بیان کرنے کے بعد قرآن واحادیث کے دلائل کی روشنی میں اللہ تعالیٰ كى مبارک ناموں کےمعانی ومعارف کو حروف تہجی کے اعتبار سے پیش کیا۔کتاب کے شروع میں شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ ناصررحمانی ﷾کا علمی مقدمہ بھی انتہائی اہم اور لائق مطالعہ ہے۔اس کتاب میں ترتیب وتخریج واضافہ کا کا م مولانا حافظ حامدمحمود الخصری ﷾ نے انجام دیا ہے ۔ اسمائے حسنی کے معانی ومفہوم کو سمجھنےکےلیے یہ کتاب گراں قدر علمی تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے مصنف، اور ناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1510
    پروفیسر حافظ عبد الرحمن مکی

    10 تاریخ اسلام کے فدائی دستے

    ہر قوم اپنے وجود کے مٹنے کے خدشہ پر دشمن کے وجود کو مٹانے پرتل آتی ہے یا کم از کم اپنا دفاع کرتی ہے۔ اسلام نے نظریہ اسلام اور دین کی پاسداری کے لیے دشمن اسلام سے لڑنے کے اصول و ضوابط مقرر کردیے ہیں اور یہ اصول دین اسلام  کو تمام ادیان پر فائق کرتا ہے کہ جس کے جنگی اصولوں میں یہ بات ہو کہ بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور جو ہتھیار نہ اٹھائے ان کو قتل نہیں کرنا۔  دشمن کو جلانا نہیں، دشمن کا مثلہ کرنا حرام ہو، دشمن کو جلانا ممنوع ہو، قیدیوں سے اچھے سلوک کی ترغیب دلائی گئی ہو اور قیدی عورتوں کی عصمت دری سے روکا گیا ہو۔ یہ وہ تمام اوصاف ہیں کہ جنہیں اپناکرایک مسلمان اپنے دشمنوں کے دل بھی جیت لیتا ہے۔دوران جنگ ایسے مواقع پیش آتے ہیں کہ  مجاہد کے دل میں جذبہ شہادت کی لہر اس قدر موجزن ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں میں موت کی پرواہ کئے بغیر گھس جاتا ہے اور دشمن اسلام کا نقصان کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوجاتا ہے۔تاریخ اسلام میں ایسی بہت  سی مثالیں ہیں کہ جن میں غازیان اسلام نے ایسی کاروائیاں سرانجام دیں کہ اپنے وجود کو انتہائی خطرے میں ڈال کر دشمن کو نقصان پہنچایا۔ فدائی اور خود کش حملہ میں یہ فرق ہے کہ فدائی حملہ میں جان کے بچ جانے کا  کم از کم ایک فیصد امکان ہوتا ہے جبکہ خود کش حملے میں 100 فیصد جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔جہاد کشمیر کی جنگ کے تناظر میں جب مجاہدین نے فدائی کاروائیاں شروع کیں تو ان کاروائیوں پر خودکشی کے اعتراضات وارد ہوئے جن کے جواب میں جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا عبدالرحمٰن مکی نے فدائی حملوں  کے دفاع میں  ماہنامہ مجلۃ الدعوۃ میں ایک طویل مضمون لکھا جس میں  صحابہ کرامؓ کے فدائی حملوں کی امثال سے ثابت کیا گیا تھا کہ ایسی کاروائیاں شریعت کے مطابق ہیں ناکہ خودکشی کے زمرے میں آتی ہیں اور بعدازاں اس مضمون کو اضافوں کے ساتھ کتابچے کی شکل دے دی گئی ۔ کتابچہ فدائی حملوں  کے جواز میں دلائل سے  مزیں ہے اور لائق مطالعہ ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39798441

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں