• #3672
    محمود خالد مسلم

    1 آفاقی حدود میں قید و بند کا عدم جواز

    پاکستان اس وقت جن بڑے بڑے مسائل سے دوچار ہےان پر ہر پاکستانی پریشان اور خوف وہراس کا شکار ہے۔آئے روز ڈکیتیوں، شاہراہوں پر لوٹ مار، قتل وغارت اور بم دھماکوں کی بھر مار ہے۔حتی کہ اندرون خانہ بھی کوئی شہری محفوظ نہیں ہے۔کیا ان جرائم کو روکنے والا کوئی نہیں ؟پولیس اور دوسرے ادارے کیوں ناکام ہو گئے ہیں۔ان جرائم اور لاقانونیت کے پس پردہ وہ کون سے عوامل اور اسباب ہیں جن کے باعث ان پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے؟ان عوامل میں جہاں معاشرتی اور معاشی اسباب ہیں وہاں جزا وسزا کے تصور کا بھی فقدان ہے اور سب سے بڑا سبب ایک اسلامی ملک پاکستا ن میں اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں سے رو گردانی اور ملکی قانون کی گرفت کا کمزور ہونا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" آفاقی حدود میں قید وبند کا عدم جواز " محترم خالد محمود مسلم صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے پاکستان کے موجودہ عدالتی نظام میں مقدمات کو نمٹانے کی رفتار  کا جائزہ لیتے ہوئے اسے انصاف مہیا کرنے کی راہ میں ایک بہت بڑا عیب قرار دیا ہے۔ مولف کے نزدیک عدالتی طریق کار میں تاخیری حربوں نے انصاف کی روح کو مجروح کر رکھا ہے اور یہ نظام مجرموں کے لئے بجائے عبرت کے ایک ترغیب اور تشویق کا پہلو رکھتا ہے۔ مولف ایک متحرک، فعال اور درد مند مسلمان ہیں جو امت مسلمہ کی اصلاح کے لئے مختلف اور متنوع قسم کے پروگرام تشکیل دیتے رہتے ہیں۔اور یہ کتاب بھی ان کی انہی کاوشوں کا ایک حصہ ہے۔اس کتاب میں انہوں نے قید وبند کی سزا کو شریعت کے منافی قرار دیا ہے ، کیونکہ شرعی طور پر ہر مجرم کو فوری سزا دے دی جاتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3582
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    2 اسلامی نظام ایک فریضہ ایک ضرورت

    اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے،یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی نظام ،ایک فریضہ ،ایک ضرورت "عالم عرب کے مشہور ومعروف اسلامی اسکالر اور مفکر محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی عربی تصنیف "الحل الاسلامی فریضۃ وضرورۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ محترم محمد طفیل انصاری صاحب نے کیا ہے۔مولف نے اپنی اس کتاب میں اسلامی نظام کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3532
    ابو الکلام آزاد

    3 حقیقت حج مع حج و عمرہ کا مسنون طریقہ

    اسلام کی پرشکوہ عمارت جن پانچ ستونوں پر استوار ہےان میں سے ایک نہایت مضبوط و مستحکم ستون حج ہے ۔ حج ایک مقدس فریضہ ہی نہیں ایک نہایت اشرف وافضل عمل ہے۔ بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے ۔ا ور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے۔  اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔مگر یہ اجر وثواب تبھی ہےجب حج او رعمر ہ سنت نبوی کے مطابق اوراخلاص نیت سے کیا جائے ۔اور منہیات سےپرہیز کیا جائے ورنہ حج وعمرہ کےاجروثواب سےمحروم رہے گا۔حج صر ف ایک عبادت ہی نہیں بلکہ یہ جامع عبادات ہے یعنی اسلام نے عبادت کی جتنی بھی صورتیں مقرر فرمائی ہیں ۔ان سب کی روح اس میں موجود ہےاس میں توحید بھی ہے نماز بھی ہے بلکہ اس مسجد میں جاکر سجدہ ریز ہونا ہے جو تمام مسجدوں کا مرکز ہے اور جس نے دنیا کی تمام مسجدوں کو مسجدیت کے اعزاز سے نوازا ہے۔ اس میں طواف کی ایک ایسی منفرد عبادت ہے جو صرف بیت اللہ ہی میں ادا کی جاسکتی ہے اور جب حاجی کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ طواف کی یہ عبادت اس عبادت سے مشابہہ ہے جوملائکہ مقربین عرش الٰہی کےاردگرد ادا رکررہے ہیں تو اس سےایک غافل انسان کی روح بھی وجد میں آجاتی ہے اور ایک صاحب دل کی جو حالت ہوتی ہے اسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے ۔ حج میں زکاۃ کی طرح انفاق فی سبیل اللہ بھی ہے ، روزہ کی طرح روح کو تازہ کرنے کےلیے تبتل الی اللہ بھی اور بہت سی احادیث میں اسے جہاد فی سبیل اللہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔اور پھر سب سے بڑھ یہ کہ انسان پر کبھی کبھی ایسی کیفیت بھی طاری ہوتی ہے کہ اسے اپنے رب کی طرف حددرجہ شوق ہوتا ہے۔محبت الٰہی جوش مارتی ہےاور وہ اس شوق کی تسکین کےلیے اپنے چاروں طرف نظر دوڑاتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہےکہ اسکا سامان صرف حج ہی میں ہے اورحج کرنے سے اس کے دل میں اللہ کی محبت کے چراغ جل اٹھتے ہیں۔ حج کے احکام ومسائل کے بارے میں اردو و عربی زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب بازار میں دستیاب ہیں جن کے مطالعہ سے مسائل حج سے اگاہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حقیقت حج ‘‘مولانا ابوالکلام آزاد﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں فریضۂ حج کی اہمیت،عظمت اور فلسفہ وحکمت کوخوب واضح کیاگیا ہے ۔کتاب کے آخرمیں سوئےحرم جانے والے زائرین کےلیے حج وعمرہ کا مسنون طریقہ بھی درج کردیا گیا ہے تاکہ حرمین شریفین میں حاضری کےشب وروز نبی کریمﷺ کے اسوۂ حسنہ کی تعلیمات کی روشنی میں بسر ہوں۔ اس ایڈیشن میں آیات واحادیث کے ترجمے اور حوالہ کے علاوہ عربی عبارتوں اور فارسی اشعار کےترجمہ کا خاصہ اہتمام کیا گیا ہے ۔ تاکہ قارئین مولانا آزاد کےعلم وفضل سے صحیح طور پر استفادہ کرسکیں۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو قارئین کےلیےنفع بخش بنائے۔ آمین( م۔ا)

  • #3311
    شاہ معین الدین احمد ندوی

    4 سیر الصحابہ رضی اللہ عنہم جلد۔4

    صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام ﷢ کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیر الصحابۃ‘‘ جو کئی مصنفین کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔ یہ کتاب 15 حصوں میں نو مجلدات پر مشتمل انبیاء کرام ﷩ کےدنیا کےمقدس ترین انسانوں کی سرگزشت حیا ت ہے ۔تاریخ اسلام ،اسماء الرجال اور ذخیرۂ احادیث کی گرانقدر کتابوں سے ماخوذ مستند حوالہ جات پر مبنی صحابہ کرام ﷢ نیز مشہور تابعین وتبع تابعین او رائمۂ کرام ﷭ کے مفصل حالات زندگی پر اردومیں سب سے جامع کتاب ہے جوکہ طالبان ِعلوم نبوت کےلیے بیش قیمت خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنفین،ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • #3039
    عبد الحمید ڈار

    5 جلال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

    حضور سرورکائنات ﷺ کواللہ تعالیٰ نے  تمام جہان والوں کےلیے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی اس رحمت کافیضان انسانی زندگی کے کسی ایک ہی پہلو تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی زندگی  کے ہر پہلو ، انفرادی  اوراجتماعی  پر ہر لمحے محیط ہے ۔ اس رحمت کاایک رخ تو آپ کی کرم نوازی  اور اخلاق واعمال حسنہ کی تعلیم وتلقین ہے جس کا منبع ومصدر آپ ﷺ کے دل کی نرمی اور رافت ہے لیکن دوسرا رخ اعمال سئیہ پر گرفت اور اظہار ِناراضگی ہے ۔اگر پہلے  رخ کو حضور ﷺ کے جمالِ رحمت کانام دیا جاسکتا ہے تو دوسرے رخ کو  جلالِ رحمت سےموسوم کیاجاسکتا ہے۔ آپ ﷺکاجمال اور جلال دونوں ہی انسانوں کے لیے رحمت   کے مظہر ہیں۔رسول اللہ کی ذات مبارکہ بہترین نمونہ ہیں۔ آپ کی زندگی کا ہر گوشہ حسین  ہے اور شان جمالی کی طرح شان جلالی کی کرنیں بھی پوری کائنات کو منور کررہی ہیں۔آپ کا چہرۂ انور اس وقت غصے سےسرخ ہوجاتا جب اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کو پامال کیا جاتا یا کوئی نامعقول سوال کیا جاتا۔ زیر نظر کتا ب’’جلال نبوی ﷺ‘‘ ماہر معاشیات    پروفیسر  عبد الحمید ڈار  صاحب کی تصنیف ہے ۔اس میں  انہوں نے  رسول اللہ ﷺ کی شان جلالی کے چند خوبصورت اور پرکشش مناظر کو معتبر کتب احادیث وسیرت سے جمع کیا ہے اوران کی بہترین تشریح پیش کی ہے  اوران سےامت مسلمہ کوجو درس ملتا ہے اس کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف  کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اوراہلِ اسلام کے لیے اسے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • #3036
    محمد بن ابراہیم آل شیخ

    6 تمباکو نوشی مضر صحت

    شرعی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی کے حرام ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔کیونکہ اس میں ایک تو فضول خرچی پائی جاتی ہے اور دوسرے نمبر پر یہ صحت کے لئے نقصان دہ بھی ہے۔اور شریعت نے فضول خرچی اور مضر صحت اشیاء ان دونوں سے منع فرمایا ہے۔یہ ترقی یافتہ زمانے کا ایسا زہر ہے جس سے چند خوش نصیب ہی محفوظ ہو نگے۔ روزانہ لاکھوں لوگ لاکھوں کروڑوں روپے اس زہر کی خریداری پر یہ جانتے ہوئے بھی خرچ کرتے ہیں کہ "تمباکو نوشی صحت کے لیے مْضر ہے۔"تمباکو میں شامل ایک کیمیائی مادہ نکوٹین ہے جو زہریلے اور نشیلے اثرات کا حامل ہوتاہے۔یہ انسانی بدن میں سرایت کر کے وقتی طور پر اسے تسکین و لذت فراہم کرتا ہے،مگر خون میں شامل ہو کر اسے گاڑھا کر کے دورانِ خون کے کئی ایک عوارض کا باعث بھی بنتا ہے۔گردوں کے لیے گاڑھے خون کو صاف کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور نتیجے کے طور پر سگریٹ نوش ہائی بلڈ پریشر،بلڈ شوگر،یورک ایسڈ ،کلیسٹرول،ہارٹ اٹیک،انجائنا،گردوں کے فیل ہونا جیسے جان لیوا اورخطرناک امراض کے چنگل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔اسی طرح سگریٹ کا دھواں حلق کے کینسر،پھیپھڑوں کے کینسر،ٹی بی اور دماغی جھلیوں کی سوزش کا سبب بھی بنتا ہے۔ایسے افراد جو سگریٹ کے دھوئیں کو منہ کے رستے معدے اور انتڑیوں تک پہنچاتے ہیں ،انہیں معدے اور انتڑیوں کے السر ،بواسیر اور جگری سوزش ہونے کے خطرات عام آدمی کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ اعصابی اور دماغی امراض میں نیند کا نہ آنا،ڈپریشن،بے چینی،پٹھوں کی کمزوری جیسے عوارض شامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تمباکو نوشی مضر صحت"سعودی عرب کے معروف عالم دین سماحۃ الشیخ  محمد بن ابراہیم آل شیخ  ﷫کی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم ابو یحیی  محمد زکریا زاہد نے کیا ہے۔مولف موصوف نے شرعی دلائل کی روشنی میں تمباکو نوشی کے حرمت کو ثابت کرتے ہوئے اس سے بچنے کی ترغیب دی ہے۔اللہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3037
    ڈاکٹر صہیب حسن

    7 امت مسلمہ کے موجودہ مسائل اور ان کا حل سیرت طیبہ کی روشنی میں

    جب ہم دنیا کے موجودہ معاشی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تہذیبی منظرنامہ پر نظر ڈالتے اور پھر پیچھے مڑ کر اپنے ماضی کی تاریخ میں جھانکتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُسلوبِ حیات میں غیر معمولی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ ایسے تغیرات مسلسل رونما ہورہے ہیں جن کا قبل ازیں تصور بھی نہیں کیاجاسکتا تھا۔ ابلاغِ عامہ اور ترسیل معلومات کے ایسے ایسے ذرائع اور وسائل ایجاد ہو رہے ہیں جن سے ہماری گذشتہ نسلوں کو سابقہ پیش نہیں آیا۔امت مسلمہ آج سے ایک سو سال قبل جس نو آبادیاتی نظام میں جکڑی،بے بسی اور بے چارگی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے  باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔عالم کفر کی اس منہ زور یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی حکمت ِ عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہم خود اسی تکنیکی مہارت سے آراستہ ہو کر اپنی تہذیب و ثقافت کے توانا پہلوؤں کو دنیا کے سامنے نہیں لاتے۔ محض وعظ و تلقین یا غیر حقیقت پسندانہ دفاعی حربوں کے ذریعے اس یلغار کو روکنا ممکن نہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں۔ زیرتبصرہ کتاب " امت مسلمہ کے موجودہ مسائل اور ان کا حل،سیرت طیبہ کی روشنی میں "پاکستان کے معروف عالم دین اور دانشور محترم ڈاکٹر صہیب حسن کی تصنیف ہے،جو درحقیقت ایک علمی مقالہ ہے جو  انہوں نے بہاولپوراسلامک یونیورسٹی  میں پیش کرنے کے لئے تیار کیا تھا،اور پھر ماہنامہ محدث لاہور میں بھی چھپا تھا۔مقالے کی اہمیت کے پیش نظر اسے زیور طباعت سے آراستہ کر دیا گیا ہے جو امت مسلمہ کے زوال کے اسباب اور ان کے حل پر روشنی ڈالتا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو  عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3032
    عبد اللہ دانش

    8 دل کی زندگی

    ویسے تو انسانی جسم کا ہر عضو نہویت قیمتی  اور اہم ہے،لیکن دل کا مقام سب اعضاء انسانی میں بہت بلند ہے۔شعراء وادباء نے دل کے نہایت لطیف نقشے کھینچے ہیں۔دل ہمارے جسم کا سب سے اہم ترین  عضو ہے۔دل  نظام حیات کو بحال رکھنے کا اہم ترین جز اور جسم میں خون کی گردش کو رواں رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اگر انسان کے سینے میں دل نہ ہو تو جسم میں جان نہ ہو اور انسانی زندگی قائم نہ رہ سکے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: خبردار! جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست رہے تو پورا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے بن پورا جسم بگڑ جاتا ہے ۔خبردار وہ "دل" ہے۔جس طرح ہم ظاہری اعتبار سے دل کی ممکنہ بیماریوں سے بچنے کے لئے  چارہ جوئی کرتے ہیں اور پرہیز وعلاج کا اہتمام کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ ہم اپنے قلب کی پاکیزگی، صفائی اور پرہیزگاری کا اہتمام کریں کیونکہ یہ جسم عارضی ہے اور اس کو لگنے والے مرض عارضی  ہے۔ اگر ان کا علاج رہ بھی گیا تو موت تمام دنیاوی تکلیفوں سے چھٹکارا دلا دینے والی ہے۔ جبکہ مرنے کے بعد آنے والا جہان عارضی نہیں اور نہ ہی اس کے انعامات یا تکالیف عارضی ہیں ۔ لہذا عارضی زندگی کی تکلیفوں سے بچنے کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ کی زندگی کی تکلیفوں سے بچنے کے لیے سوچنا بھی ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "دل کی زندگی" محترم مولانا عبد اللہ دانش صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے دل کی طہارت،پاکیزگی اور صفائی پر زور دیا ہے،تاکہ ہر مسلمان کی آخرت بہتر ہو سکے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور فرمائے اور تمام روحانی بیماریوں سے محفوظ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3028
    محمد بن مناور الحنینی

    9 اللہ کی عبادت علم و یقین کے ساتھ

    اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے اپنے پیروکاروں کی اخلاقی اور روحانی دونوں اعتبا ر سے تربیت کر کے ان کو اس بات کی جانب راغب کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے لئے جہدوجہد کریں بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی مدد کریں اور آگے بڑھنے میں مدد کریں ،انکا خیال رکھیں اوراپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کریں نہ کہ انکے دلوں کودکھی کریں۔قرآن کریم کا موضوع ہی انسان ہے تو اس میں انسان کے لئے ہر حوالے سے احکامات موجود ہیں جس پر وہ عمل کر کے اپنی زندگی کو پرسکون طریقہ کارکے مطابق بسر کر سکتا ہے ۔مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہم مسلمانوں نے خاص طور پر اس الہامی کتاب کے احکامات پر عمل درآمد کرنا تقریباََ چھوڑ ہی دیاہے جس کی وجہ سے ہم گونا گوں مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔قرآن مجید میں بیان کردہ احکامات ہر دور کے لئے یکساں ہیں ۔یہ طرہ امتیاز اسی آسمانی کتاب کو حاصل ہے کہ اس میں زیر زبر تک کی ہیر پھیر ممکن نہیں ہے اور اس میں بیان کردہ احکامات پر کسی بھی لمحے انسان عمل کرکے اپنی نجات کو ممکن بنا سکتا ہے۔شرعی احکامات محض ایک دو موضوعات پر مبنی نہیں ہیں  بلکہ یہ اُن تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں جس سے انسان کو واسطہ پڑتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اللہ کی عبادت علم ویقین کے ساتھ"محترم محمد بن مناور الحنینی  کی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم قاری محمد اقبال عابد نے کیا ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے شرعی احکام کی اقسام اوران کا علم ہونے کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #2900
    قاری نجم الصبیح تھانوی

    10 نهج الاناث في القراءات الثلاث

    مقرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی  کتب سماویہ میں سے سب سے  آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات  اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش  ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت  میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب '' نھج الاناث فی القراءات الثلاث " قراءت اکیڈمی کے مدیر محترم قاری نجم الصبیح تھانوی صاحب  کی کاوش ہے۔جس میں مولف  نے قراء ثلاثہ امام ابو جعفرمدنی ،امام یعقوب حضرمی اور امام خلف العاشر کوفی  کی قراءتوں کو انتہائی  آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔ان سے پہلے قاری رحیم بخش صاحب نے قراءسبعہ میں سے ہر قاری کے دونوں رواۃ کی روایتوں کو الگ الگ رسالے میں قلم بند کیا تھا ،اور  قرءات ثلاثہ میں بھی ایک رسالہ لکھاتھا ،لیکن ان رسائل کی دستیابی انتہائی مشکل تھی ۔چنانچہ مولف موصوف نے  یہ رسالہ لکھ  کرقراءات  کے میدان میں اس مشکل کو حل کر دیا۔اللہ تعالی قراء ات  قرآنیہ  کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39798435

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں