• #3744
    پروفیسر رفیع اللہ شہاب

    1 اسلامی ریاست کا عدالتی نظام

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے۔اوربعض  اہل علم نے  نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات پرمشتمل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلامی ریاست کا عدالتی نظام ‘‘ پروفیسر رفیع اللہ شہاب کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں  انہوں نے  اسلام سے  قبل  عدالتی  نظاموں کو مختصرا پیش کرنے کے بعد دورِ رسالت سے لےک موجودہ دور تک اسلام کے  عدالتی نظام کی تفصیلات پیش کی ہیں ۔(م۔ا)

  • #3517
    عبد الحمید ڈار

    2 اسلامی معاشیات

    اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے مثلاً بینکاری کو اسلامی بنیادوں میں کیسے ڈھالا جاسکتا ہے یا موجودہ نظامِ سود کو کیسے تبدیل کیا جائے جس سے سود کے بغیر ادارے، کاروبار اور معیشت چلتی رہے۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف (Consumer) یا پیداکار(Producer) اسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برامد ہوں گے۔ اسلامی معاشی اصولوں پر مبنی بےشمار بنک آج کے دور میں بہترین منافع کے ساتھ مختلف ممالک میں کامیابی سے چل رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی معاشیات" پروفیسر عبد الحمید ڈار اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور،پروفیسر محمد عظمت گورنمنٹ کالج لاہور اور پروفیسر میاں محمد اکرم صاحب گورنمنٹ سائنس کالج وحدت روڈ لاہور کی مشترکہ کاوش ہے۔ جو ان حضرات نے ایم اے اسلامیات کے طلباء کی ضروریات کو سامنے رکھ کر مرتب کی ہے۔ اور اسلامی معاشیات کے اصول وضوابط بیان کئے ہیں۔اسلامی معاشیات کے میدان میں یہ ابتدائی مرحلے کاکام ہے، اس لئے فطری طور پر اس کے مباحث میں تنقید وتنقیح کا وسیع امکان موجود ہے۔جس کے لئے اہل علم کو آگے بڑھنا ہو گا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولفین کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • #3196
    عبد المالک عرفانی

    3 اسلامی نظریہ ضرورت

    دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار  کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے متعدد ادارے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔شریعہ اکیڈمی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے آغاز سے ہی اس طرف توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔چنانچہ فقہ اسلامی  کے اہم موضوعات پر تحقیقی کام کے علاوہ اساسی کتب کے تراجم اور جدید اسلوب میں شریعہ مونو گرافکس کی ترتیب واشاعت کاکام بھی جاری وسار ی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی نظریہ ضرورت " بھی اسی سلسلےکی ایک کڑی ہے،جس میں اسلامی نظریہ ضرورت پر جدید اسلوب میں بحث کی گئی ہے۔یہ کتاب محترم ڈاکٹر عبد المالک عرفانی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ضرورت،اکراہ،ضرر ،مشقت،حاجت ،عموم البلوی،خصوص البلوی،حرج ،خوف ،فساد اور تخفیف ورخصت کی مباحث پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #2042
    محمد رمضان یوسف سلفی

    4 چار اللہ کے ولی

    مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷾ علمی ،دینی اور تعلیمی حلقوں میں مختاج تعارف نہیں ہیں جماعت اہل حدیث پاکستان کےمعروف مقالہ نگار اور مصنف ہیں۔ان کی تصانیف پر ان کوایوارڈ دیئے جاتے ہیں اورعلمی ادبی حلقوں میں ان کو بہت پذیرائی حاصل ہے ۔ ان کے مضامین ومقالات مختلف موضوعات پر ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہوتے ہیں رہتے ہیں سلفی صاحب کتاب ہذا کے علاوہ تقریبا 8 کتب کے مصنف ہیں ۔اللہ تعالی ان کے زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے اور ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے(آمین) ۔ زیر نظر کتاب اللہ کے چار ولی ''مولانا سلفی کی تصنیف ہے جوکہ جماعت غرباء اہل حدیث کے بانی او رامام اول مولانا عبد الوہاب صدری دہلوی ،امام ثانی مولانا عبد الستار دہلوی ،امام ثالث مولانا عبد الغفار سلفی اور مولانا عبد الجلیل خان جھنگوی کے حالات پر مشتمل ہے (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2023
    امام ابن تیمیہ

    5 اتباع کتاب وسنت اور فقہی مذاہب

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ او رباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے ۔ زیر نطر کتاب فتاویٰ ابن تیمیہ کی جلد 19،20 کاترجمہ ہے جو کہ اتباع کتاب وسنت اور فقہی مذاہب کے اصول پرمبنی ان فتاوی جات کا مجموعہ ہے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے قرآن وسنت سے اعراض برتنے والوں اور مبتدعین کے رد میں تحریر فرمائے۔فتاوی ابن تیمیہ کی ان دو جلدوں کا ترجمہ مولانا حافظ عبدالغفور (بانی جامعہ علوم اثریہ ،جہلم اور ان کے صاحبزدگان علامہ محمد مدنی  ،حافظ عبد الحمید عامر﷾ او رجامعہ علوم اثریہ کے دیگر ذمہ داران کی کوششوں او رکاوشوں کی بدولت پایۂ تکمیل کوپہنچا ہے ۔اللہ تعالی مترجمین ،ناشرین او رتمام معاونین کی کوششوں کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • #1400
    حافظ محمد زاہد

    6 مذاہب عالم میں شادی بیاہ کی تعلیمات

    ازدواجی زندگی کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔یہ حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام سے شروع ہوئی اور ہر دور میں کسی نہ کسی صورت اورکسی نہ کسی نام کے ساتھ رائج رہی۔بنی نوع انسان کا پہلا جوڑا حضرت آدم اور حضرت حوا تھے جن کے ازدواجی تعلق سے اُن کے ہاں اولاد ہوئی ۔اُن کے بعد ہر دور میں ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوتا رہا۔پھرکچھ مدت گزرنے کے بعداولادِ آدم نے اس کرہ ارض کو وسیع پیمانہ پر آباد کر دیاتا آنکہ روئے زمین پر بہت سی تہذیبوں اور معاشروں نے جنم لیا۔ان تہذیبوں اور معاشروں میں بھی شادیاں ہوتی رہیں‘ لیکن تہذیبوںْ معاشروں اور مذاہب کے اس تنوع اور فرق میں شادیوں کے طریقے اور انداز مختلف ہو گئے۔ یہ جاننا علمی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ دلچسپی کے لئے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ مختلف تہذیبوں ‘معاشروں اور مذاہب میں شادی کی تقریبات میں کون کون سے رسم و رواج رائج رہے ہیں اور کون کون سے آج بھی رائج ہیں۔

    زیر تبصرہ کتاب ’’مذاہب عالم میں شادی بیاہ کی تعلیمات‘‘کے نوجوان فاضل مصنف‘جو دینی اور دنیوی تعلیمات سے آراستہ ہے‘ نے دنیا بھر کے مذاہب اور تہذیبوں کا مطالعہ کر کے حاصل مطالعہ اس کتاب میں جمع کر دیا ہے۔ یہ کتاب پانچ ابواب میں منقسم ہے۔ پہلے باب میں نکاح کی تعریف اور معنی و مفہوم کوبیان کیا گیاہے۔ اسی باب کے دوسرے حصے میں مختلف قدیم تہذیبوں میں شادی بیاہ کے قوانین کو مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں شادی بیاہ کے ضمن میں ہندومت کی تعلیمات کو بیان کیا گیا ہے کہ ان کے ہاں معیارِ رشتہ کیا ہے اورپیغامِ نکاح سے لے کر شادی کے انجام پانے تک کی رسومات کیاکیا ہیں۔مصنف نے یہ ثابت کیا کہ ہندومعاشرہ میں عورت ہمیشہ سے مظلوم رہی ہے اور آج کے اس جدید دور میں (جب حقوق نسواں ایک نعرہ بن چکا ہے) بھی ہندو معاشرہ میں عورت پر ظالمانہ بلکہ غیر انسانی سلوک ہوتا ہے اور بیوہ عورت کو تو انسان بھی شمار نہیں کیا جاتا۔ تیسرے باب میں شادی بیاہ کے سلسلہ میں یہودیت کی تعلیمات اور رسومات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ چوتھے باب میں عیسائیت کی تعلیمات کو بیان کیا گیا ہے جن میں محرم رشتے‘ شادی کی عمر‘شادی کا طریقہ و رسومات‘تعددا زدواج اور زنا کی سزا کا تفصیل سے تذکرہ ہے۔ پانچویں باب میں شادی بیاہ کے سلسلہ میں اسلامی تعلیمات اور قوانین کا مفصل بیان ہے۔ یہ تفصیلات اس انداز میں بیان کی گئی ہیں کہ اسلام کا دوسری تہذیبوں اورمذاہب کی تعلیمات کے ساتھ موازنہ کیا جا سکے ۔مصنف نے یہ واضح کیا کہ اسلام میاں بیوی کے حقوق کے بارے میں متوازن رویے کی تعلیم دیتا ہے جو باقی کسی معاشرے یا مذہب میں موجود نہیں ہے۔فاضل مصنف نے اسلام میں شادی بیاہ کی تقریب کی سادگی بیان کرنے کے بعد اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسی ایسی رسومات کو رواج دے لیا ہے جن میں اکثر و بیشترہندومت سے لی گئی ہیں اورپھر غیر اسلامی رسوم و رواج کا تفصیلی ذکر کر کے واضح کیاکہ یہی وہ رسومات ہیں جن کی وجہ سے شادی بیاہ کا وہ معاملہ جو انسانوں کی فلاح اور مرد وعورت کے سکون کے لیے بنایا گیا تھا‘اب مصیبت اور غم کا سامان بن کر رہ گیا ہے۔یہی وہ رسومات ہیں جن کو وجہ سے خود مسلمانوں نے اپنی شادیوں خصوصاً بیٹیوں کی شادیوں کو مشکل اور تکلیف دہ بنا لیا ہے۔

    مصنف نے بڑی محنت ،عرق ریزی اور تحقیق کے ساتھ یہ مقالہ تیار کیا ہے جس میں عنوان کے ساتھ انصاف کا حق ادا کر دیا ہے اور معلومات کو اچھے انداز میں بلا تعصب ذکر کیا ہے۔ جو بھی صاحب ذوق اور فطرتِ سلیمہ رکھنے والا شخص اس کتاب کا مطالعہ کرے گا اُس پر اسلامی تعلیمات کی جامعیت واضح ہو جائے گی اور غیر اسلامی رسومات کی برائیاں بھی سامنے آ جائیں گی۔
  • #1392
    سید نذیر حسین محدث دہلوی

    7 فتاوی نذیریہ - جلد3

    برصغیر میں علمائے اہل حدیث کی تجدیدی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے عقائد، عبادات، معیشت، معاشرت، سیاست اور اخلاق غرض ہر موضوع پر قرآن و حدیث کی تعلیمات امت تک پہنچانے میں بہت سی سعی کیں اور روز مرہ کے مسائل کا حل نہایت معتدل انداز میں پیش کیا۔ زیر نظر ’فتاویٰ نذیریہ‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں شیخ العرب والعجم مولانا سید نذیر حسین دہلوی اور ان کے تلامذہ کرام کے لکھے گئے فتاویٰ جات کو پیش کیا گیا ہے۔ ان فتاویٰ جات کو جمع کرنے میں مولانا شمس الحق عظیم آبادی اور مولانا عبدالرحمان مبارکپوری رحمہا اللہ کی بھر پور محنت اور لگن شامل ہے۔ جو فتاویٰ جات عربی یا فارسی میں تھے ان کا ترجمہ حاشیہ میں رقم کر دیا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب کو پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1334
    محمد بشیر ایم اے

    8 مفتاح الانشاء - حصہ اول

    اس وقت ’مفتاح الإنشاء‘ کا حصہ اول آپ کے سامنے ہے، اس کتا ب کا مقصد اعلیٰ جماعتوں کے طلبہ و طالبات کو عربی زبان میں تحریر و انشاء کی تعلیم و تربیت دینا ہے۔ مؤلف نے اس میں عربی کے آسان اور کثیر الاستعمال محاوروں اور مرکبات کا مفصل تعارف کراتے ہوئے ان کے استعمال کی متنوع اور متعدد مثالیں دی ہیں اس کے بعد عربی کے مشہور افعال کا تعارف کرایا ہے اور ان کے استعمالات کی مشقیں کرائی ہیں۔ اس حصے کی تمام مثالیں عربی کے ایسے جدید الفاظ، مرکبات اور محاوروں پر مشتمل ہیں جن کا آج کی روز مرہ زندگی کے مختلف شعبوں سے گہرا تعلق ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں متنوع مضامین، مقالات، مشہور کہانیاں، خطوط اور درخواستوں کے نمونے درج کیے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #1286
    امام راغب اصفہانی

    9 مفردات القرآن - جلد1

    غریب القرآن پر اب تک بہت سی کتب لکھی جا چکی ہیں۔ اس موضوع پر سب سے پہلے جس شخصیت نے توجہ دی وہ ابن عباس  ہیں۔ وہ غریب القرآن کی تشریح کے سلسلہ میں شعر اورکلام عرب سے استشہاد میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ امام راغب اصفہانی﷫ نے اس موضوع پر ’المفردات فی غریب القرآن‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ جس کی افادیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ متعدد مفسرین کے علاوہ حافظ ابن حجر﷫ اور علامہ عینی﷫ جیسے شارحین حدیث اس سے استفادہ کرتے رہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ’مفردات القرآن‘ کے نام سے ہدیہ ناظرین ہے۔ کتاب میں مؤلف نے پندرہ سو نواسی مواد سے بحث کی ہے۔ قرآن کے بعض مواد متروک بھی ہیں لیکن وہ غیر اہم ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب کو حروف تہجی پر ترتیب دیا ہے۔ اور ہر کلمہ کے حروف اصلیہ میں سے اول حرف کی رعایت کی ہے۔ پہلے ہر مادہ کے جوہری مادہ متعین کرتےہیں پھر قرآن میں مختلف آیات پر اس معنی کو منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مؤلف الفاظ کی تشریح کے سلسلہ میں اشعار و محاورات اور احادیث کو بھی بطور شواہد پیش کرتے ہیں اور بعض علمائے تفسیر و لغت کے اقوال بھی بطور تائید پیش کرتے رہتے ہیں اور بعض مقامات پر وضاحت کے لیے اختلاف قراءت کو بھی زیر بحث لائے ہیں۔ کتاب کا اردو ترجمہ نہایت شاندار ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1288
    ڈاکٹر فضل الٰہی

    10 دعوت دین کس چیز کی طرف دی جائے؟

    اسلام اپنی مکمل جامعیت اور پوری وسعتوں کے ساتھ دعوتِ دین کا موضوع ہے۔ اس حوالے سے ضروری ہے کہ مبلغ اسلام کے تمام گوشوں کی طرف دعوت دے۔ لیکن بنیاد عقیدہ توحید کو بنائے۔ کیونکہ اسوہ انبیاء سے یہی مترشح ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب میں پروفیسر ڈاکٹر فضل الہٰی نے ان گوشوں کو بالتفصیل بیان کیاہے جن کی طرف دعوت دین دی جانی چاہیے۔ مؤلف کا کہنا ہے کہ مبلغ کو چاہیے کہ وہ توحید و رسالت کی دعوت کے بعد موضوعات کے انتخاب میں مخاطب لوگوں کے احوال و ظروف اور فکری، عقلی اور دینی استعداد سے چشم پوشی نہ کرے۔ انھوں نے کتاب میں اس چیز کی بھی وضاحت کی ہے کہ اپنی دعوت کو مخصوص فرقے، مذہب یا گروہ کی طرف بلانے کی بجائے صرف اور صرف کتاب و سنت کی طرف دعوت دی جائے۔ کتاب کی تمام تر معلومات کی بنیاد کتاب و سنت ہے اور کتاب کا موضوع اچھی طرح واضح کرنے کے لیے اہل علم کے اقوال بھی نقل کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39798470

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں