دکھائیں کتب
  • 1 100 حرام کاروبار اور تجارتی معاملات (بدھ 05 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:7489

    ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت   ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے او ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ 100 حرام کاروبار اورتجارتی معاملات‘‘ شیخ ابراہیم بن عبد المقتدر﷾ کی عربی کتاب ’’تحذیر الکرام من مائۃ باب من ابواب الحرام‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں تجارتی معاملات اور خرید وفروخت کے متعلق جدید مسائل کوبڑے احسن پیرائے میں درج کیا گیا ہے ۔ اور اس کتاب کی امیتازی خوبی یہ ہے کہ   اس میں تمام شرعی مسائل اور دینی تعلیمات کو ایک ایک کہانی اور مکالمے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جس سے پڑہنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور کتاب کو شروع کرنے کےبعد ختم کیے بغیر چھوڑنے کودل نہیں چاہتا۔اللہ...

  • 2 احادیث مزارعت کا ایک مطالعہ (بدھ 10 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2032

    زیر تبصرہ کتابچہ"احادیث مزارعت کا ایک مطالعہ، حقوق کے سلسلے میں اسلام کا قاعدہ کلیہ" محترم  جناب السید حامد عبد الرحمن الکاف صنعاء، یمن کے ان دو مقالات پر مشتمل ہے، جو اس سے پہلے ہفت روزہ "الاعتصام" میں بالاقساط چھپ چکے تھے۔چنانچہ مولف کی خواہش پر انہیں کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا جو اس وقت آپ کے سامنے ہیں۔ان میں سے پہلا مقالہ ان احادیث مزارعت کے مطالعہ وتحقیق پر مشتمل ہے جو کتب احادیث میں پائی جاتی ہیں اور جن میں بظاہر کچھ تعارض سا نظر آتا ہے۔علمائے کرام نے ان کے درمیان جمع وتطبیق کی کئی صورتیں بیان فرمائی ہیں، جن سے بادی النظر میں محسوس ہونے والا یہ تعارض دور ہوجاتا ہے اور مسئلہ ایک واضح شکل میں سامنے آ جاتا ہے۔تاہم سطح بین قسم کے لوگ پھر بھی  ان روایات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور دوسروں کو مغالطے میں ڈالنے کی مذموم کوشش کرتے ہوئے مزارعت کے مطلقا عدم جواز کا فتوی جاری کر دیتے ہیں۔کتابچے میں دوسرا مقالہ "حقوق کے سلسلے میں اسلام کا قاعدہ کلیہ" کے عنوان سے ہے ، جس میں شورائی نظام اور عصر حاضر میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔امید ہے کہ علمی ودینی حلقوں میں ان دونوں مقالات کو قدر اور تحسین کی نظر سے دیکھا جائے گا اور یہ عوام کی فکری جلا اور ازدیاد بصیرت کا باعث ہوں گے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

  • 3 احکام بیع (ہفتہ 05 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:4004

    اسلام کی نگاہ میں انسان کا مال اسی طرح محترم ومقدس ہے جس طرح اس کی جان اور عزت وآبرومقدس ہیں۔اسلام دوسروں کا مال ناجائز طریقے سےکھانے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے اور باہمی رضا مندی سے طے پانے والے معاہدۂ خریدوفروخت کو حصولِ مال کا ایک جائز وسیلہ قرار دیتا ہے۔قرآن وسنت سےمستنبط فقہ اسلامی کے ذخیرے میں جائز وناجائز مالی معاملات پر تفصیلی گفتگو ملتی ہے ۔ فقہائے کرام نے کسب مال کے جو جائز ذرائع بیان کیے ہیں ، ان میں معاہدۂ بیع وشراء ،ہبہ ،وصیت اور وراثت وغیرہ شامل ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ احکام بیع ‘‘ جناب طاہر منصور ی صاحب کی کاوش ہے ۔اس کتاب میں انہو ں نے   بیع سے متعلق اہم احکام فقہائے کرام کے اقوال کی روشنی میں بیان کیے ہیں ۔مصنف نے کتاب کا مواد فقہ کی بنیادی اورمستند کتابوں سے لیا ہے۔ عربی اقتباسات کواردو میں منتقل کرتے ہوئےکوش کی گئی ہے کہ ترجمہ کی زبان رواں، سادہ، سہل او رعام فہم ہو اور اس کے ساتھ ہی مختلف مسائل پر فقہاء کا نقطۂ نظر ممکنہ صحت واحتیاط کے ساتھ نقل کیا جائے ۔ابواب کی ترتیب میں اسلامی قانون معاہدہ کی معاصر کتابوں کامنہج سامنے رکھا گیا ہے اورمعاہدۂ بیع کی اقسام اور اس کےارکان وشرائط ایک منطقی ترتیب کےساتھ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔نیزکتاب کے آخر میں ان تمام فقہی اصطلاحات کی تشریح کی گئی ہے جوکتاب میں استعمال ہوئی ہیں۔یہ کتاب اسلامی قانون تجارت سے دلچسپی رکھنے والے افراد کےلیے ایک مفید علمی کوشش ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین(م۔ ا)

  • 4 احکام تجارت اورلین دین کے مسائل (اتوار 01 مئی 2011ء)

    مشاہدات:15973

    اسلامی تعلیمات میں حلال و حرام کے مابین تمیز و تفریق کو بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے ۔تجارت اور لین دین کے باب میں بھی اس پر بہت زور دیا گیا ہے کہ حرام طریقوں سے بچا جائے او رکسب معاش کے حلال ذرائع اختیار کیے جائیں۔فی زمانہ معاشی مسائل کے حوالے سے بہت زیادہ غفلت برتی جارہی ہے اور ایسی بے شمار باتیں مسلمان معاشروں میں رواج پا گئی ہیں جو شرعاً نا جائز ہیں۔زیر نظر کتاب میں کسب حلال ،نا جائز ذرائع آمدنی ،تجارت کے احکام و مسائل،تجارت کی جائز و  ناجائز صورتیں اور لین دین کے احکام کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے ۔اسی طرح بنک کا سود،بچت اور سرمایہ  کاری کا اسلامی نظر ،بینکوں کے شراکتی کھاتوں کی حقیقت ،بلا سود بینکاری،بیمہ کی شرعی حیثیت اور اس کا متبادل حل ،مالک اور مزدور کے مسائل،مسئلہ مزارعت میں جواز اور عدم جواز کی صورتیں،زکوۃ اور ٹیکس میں فرق اور انعامی بانڈز وغیرہ مسائل پر بھی محققانہ بحث کی گئی ہے ۔یہ امر لائق مسرت ہے کہ مفتی جماعت مولانا مبشر احمد ربانی نے کتاب میں مذکور احادیث و آثار کی تحقیق و تخریج او راس پر نظر ثانی کی ہے ۔لہذا بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ معاشی مسائل کے حوالے سے یہ ایک جامع کتاب ہے ،جس کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ وہ حرام سے بچ کر حلال ذرائع اختیار کر سکے اور شرعی احکام سے کما حقہ عہدہ بر آں ہو سکے۔
     

  • 5 احکام وقف و ہبہ (پیر 05 جون 2017ء)

    مشاہدات:2279

    کسی بھی چيز کی اصل کو روک کر رکھنے اور اس میں ہبہ یا وراثت کے تصرف نہ کرنے بلکہ کسی بھی قسم کا تصرف نہ کرنے کو وقف کہا جاتا ہے تاکہ اس چيز کے نفع کو وقف کرنے والے کےارادہ کے مطابق خیر و بھلائی کے کاموں میں صرف کیا جا سکے ۔سب سے بہتر وقف یہ ہے کہ اسے خیر و بھلائی کے کاموں میں وقف کیا جائے۔ اور ہبہ ، ہدیہ اور صدقہ وقف کی ذیلی اقسام ہیں غریبوں اورضرورت مندوں کی مدد کے طریقے ہیں جن کی ترغیب کتاب وسنت میں دلائی گئی ہے ۔ لغوی اعتبار سے اگر کوئی ریئس ، بادشاہ وغیرہ کسی چھوٹے کوکوئی عطیہ دے تواسے ہبہ کہاجاتا ہے جبکہ اگر چھوٹا کسی بڑے کوکچھ نذرکرے تو اسے ہدیہ کہاجاتاہے ۔ اصطلاح میں ہبہ ایک شخص کا دوسرے کوجائیداد منقولہ یا غیرمنقولہ کا فوری اور بلامعاوضہ مالک بنا دینے اورشی موہوبہ کےحق ملکیت سےدستبردار ہونے کا نام ہبہ ہے۔ ہبہ کا لفظ ایک مخصوص اصطلاح فقہ کے طور پر عہدنبوی ہی میں بکثرت استعمال ہونے لگا تھا۔ متاخر عہد فقہاء نےشرح وبسط سےاس کےتفصیلی احکام بیان کیے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’احکام وقف وہبہ ‘‘شیخ الحدیث مولانامحمد علی جانباز ﷫ کی تصنیف ہے ۔یہ رسالہ انھوں نے 1987ء میں لاہور ہائیکورٹ کووقف کےمتعلق درپیش معاملہ پر تحریر کی ۔کیونکہ وکلا حصرات نے مولانا سے وقف ،ہبہ کے متعلق کتاب وسنت کی روشنی میں معلومات طلب کی تھیں اور مولاناجانباز﷫ نے اس رسالہ میں تین مسائل (وقفہ ، ہبہ ، شفعہ ) متعلق کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی مواد جمع کر کے وکلا کے سامنےپیش کیا ۔ بعد ازاں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کردیا گیا تاکہ عوام الناس اور وکلاء حضرات اس...

  • 6 ادھار کے معاملات (پیر 31 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1966

    اسلام میں جس طرح عبادات وفرائض میں زور دیاگیا ہے۔ اسی طرح اس دین نے کسبِ حلال اورطلب معاش کو بھی اہمیت دی ہے ۔ لہذاہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہے کہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ادہار کے معاملات‘‘ سعودی عرب کے نامور عالم دین الشیخ محمد الصالح العثیمین﷫ کے ایک گراں قدر عربی کتابچہ ’’ المداینہ‘‘ سلیس اردو ترجمہ ہے۔ اس کتابچہ شیخ موصوف نے ادھار کےلین دین کے متعلق معاملات کو شریعت کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ اس کتابچہ کی افادیت کے پیش نظر شیخ الحدیث مفتی جماعت حافظ عبدالستار حماد﷾ نے اپنے صاحبزادے حام...

  • 7 اسلام اور جدید معاشی تصورات (پیر 09 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:3327

    یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلامی اقتصادی نظام قرآن وسنت کی گرانمایہ تعلیمات پر مبنی ہے کیونکہ ان کے توسل سے ہی ہدایات ملتی ہیں۔ اس کے اصول پختہ‘ ابدی اور درخشندہ ہیں۔ اگر معاشی نظام ان پر استوار کیا جائے تو اسے دوم واستمرار حاصل ہو گا اور وہ دیگر سب نظاموں پر سبقت لے گا۔ اسلام کا معاشی نظام ایک ایسے ہمہ گیر فلسفہ پر قائم ہے جس کا نام اسلام ہے جو عالمگیر دعوت اور ہمہ گیر انقلاب کا داعی ہے۔ دنیائے انسانی کی صرف معاشی اصلاح وفلاح کا ہی خواہشمند نہیں ہے بلکہ روحانی‘مذہبی‘ اخلاقی‘ سیاسی‘ معاشرتی اور معاشی  غرض ہر قسم کی دینی ودنیوی فلاح وبہبود اور رُشد وہدایت کا علمبردار ہے۔معاشی  مسائل کے حوالے سے بہت سا کام ہو چکا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی معاشی مسائل اور اسلام کی تعلیمات  کے حوالے سے عظیم کاوش ہے۔ اس میں معاشیات کی تعریف‘ تعارف ودیگر تفصیل نہایت عمدگی کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ اسلامی معاشی اقدار‘ معاشی سرگرمیوں کی اہمیت ونوعیت  ‘اسلام میں تقسیم دولت‘انتقال دولت یا ارتکاز دولت کی ممانعت‘اسلام میں معاشی ترقی ومنصوبہ بندی‘اسلامی ریاست کی مالیاتی پالیسی اور معاشی کردار‘ مسلم ریاست کی ذمہ داریاں اور پاکستان کے معاشی مسائل جیسے اہم عناوین کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام اور جدید معاشی تصورات‘‘ پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم صدیقی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف و...

  • 8 اسلام اور جدید معاشی نظریات (اتوار 01 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:4273

    دور جدید کا انسان جن سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام اور جدید معاشی نظریات‘‘ سید ابو الاعلی مودودی کی تصنیف ہے اس کتا ب میں انہوں ہے عمرانی مسائل کا تاریخی پس منظر بیان کرنے کےبعد جدید معاشی نظریات (نظام سرمایہ داری، سوشلزم او رکمیونزم )کی حقیت ، اسلامی نظم معیشت کے بنیادی ارکان اور جدید معاشی پیچیدگیوں کا اسلامی حل بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 9 اسلام اور جدید معیشت وتجارت (اتوار 28 اپریل 2019ء)

    مشاہدات:1872

    اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اُصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اُصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔اسلامی  نظامِ معیشت کے ڈھانچے کی تشکیل نو کا کام بیسویں صدی کے تقریبا نصف سے شروع ہوا ۔ چند دہائیوں کی علمی کاوش کے بعد 1970ءکی دہائی میں  اس کے عملی اطلاق کی کوششوں کا آغاز ہوا نہ صرف نت نئے مالیاتی وثائق ،ادارے اور منڈیاں وجود میں آنا شروع ہوئیں بلکہ بڑے بڑے عالمی مالیاتی اداروں نے غیر سودی بنیادوں پرکاروبار شروع کیے۔بیسوی صدی کے  اختتام تک اسلامی بینکاری ومالکاری نظام کا چرچا پورے  عالم میں پھیل گیا ۔اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں  بیان کردیے گئے ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم  اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید...

  • 10 اسلام اور معاشی تحفظ (اتوار 01 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2729

    انسان روزِ اول سے ہی معاشی عدمِ تحفظ سے دوچار رہا ہےاوراپنے شکم کےتقاضے پورے کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہا لیکن عصر حاضر میں انسان کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی زبوں حالی کا مسئلہ ہے و ہ اس کے حل کے میں مجنونانہ مصروف کار ہے ۔ اس تگ ودو میں اپنے ہوش وحواس تک کھو بیٹھا ہے ۔ اس کی سوچنے سمجھنے کی قوتیں مأوف ہوچکی ہیں معاشی تحفظ کے حصول کےلیے اسےجس راہ کی نشاندہی کردی جاتی ہے وہ اس کے نتائج وعواقب سے بے نیاز ہ کر اس پر دوڑ پڑتا ہے او رہلاکت وتباہی سے دو چار ہونے سے پہلے پیچھے مڑکر دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ معیشت کے سلسلے میں پریشان حال انسانوں کے لیے اسلام ایک سواء السبیل کی حیثیت رکھتا ہے جس کی پیروی انسان کو تمام لغزشوں سے بچار کر سیدھا منزلِ مقصود تک پہنچا دیتی ہے۔ اسلام نے انسان کےفقر وفاقہ اور معاشی زبوں حالی کاحل کا جو نقشہ پیش کیا ہے ونہایت متوازان او رمعتدل ہے۔ وہ معاشرہ اور فرد دونوں کی ضروریات واحتیاجات کو ملحوظ رکھتا ہےاور اسلامی نظام معیشت اخوت ومحبت اور صحت کاپیغام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلام کا معاشی تحفظ ‘‘ عالم ِاسلام کے عظیم سکالر علامہ یوسف القرضاوی کی عربی تصنیف’’مشکلۃ الفقر وکیف عالجھا الاسلام‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ علامہ موصوف نے بڑی شرح وبسط کے ساتھ قرآن وسنت کی روشنی میں اسلام کی معاشی تعلیمات پر وشنی ڈالی ہے اور یاثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ صرف اسلام کا عدل اجتماعی ہی حقیقی معنوں میں انسانیت کو معاشی بوجھ سے نجات دلاسکتا ہے اور انہوں نے اس کتاب میں رائج الوقت معاشی نظریات س...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1117
  • اس ہفتے کے قارئین: 7286
  • اس ماہ کے قارئین: 46854
  • کل قارئین : 47267321

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں