• ڈاکٹر نور محمد غفاری

    عقائد وعبادت کی طرح معاملات بھی دین کا ایک اہم شعبہ ہے ، جس طرح عقائد اور عبادات کے بارے میں جزئیات واحکام بیان کیے گئے ہیں ،اسی طرح شریعت اسلامی نے معاملات کی تفصیلات بھی بیان کرنے کا اہتمام کیاہے ، حلال وحرام،مکروہ اور غیر مکروہ ، جائز اور طیب مال کے مکمل احکام قرآن وحدیث میں موجود ہیں اور شریعت کی دیگر جزئیات کی طرح اس میں بھی مکمل رہنمائی کی گئی ہے ، جولوگ نماز اور روزہ کا اہتمام کرتے ہیں مگر صفائی معاملات اور جائز وناجائز کی فکر نہیں کرتے ، وہ کبھی اللہ کے مقرب نہیں ہوسکتے۔تجارت کسب معاش کا بہترین طریقہ ہے ، اسے اگر جائز اور شرعی اصول کے مطابق انجام دیاجائے تو دنیوی اعتبارسے یہ تجارت نفع بخش ہوگی اور اخروی اعتبار سے بھی یہ بڑے اونچے مقام اور انتہائی اجروثواب کا موجب ہوگی ، تجارت ؍کا روبار اگر  اسلامی اصول کی روشنی میں کیاجائے تو ایسی تجارت کی بڑی فضیلت آئی ہے اور ایسے افراد کو انبیاء وصلحاء کی معیت کی خو شخبری دی گئی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تجارت کے اسلامی اصول وضوابط‘‘پروفیسر ڈاکٹر نور محمد غفاری‘‘ (سابق استاذ انٹرنیشنل یونیورسٹی ،اسلام آباد،سابق ممبر قومی اسمبلی ) کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب اٹھ ابواب پر مشتمل ہے  پہلا باب تجارت کے مفہوم اور اس کی اہمیت   پر ہے دوسرے باب میں قبل از اسلام عربوں کی تجارتی سرگرمیوں ، قریش کے تجارتی اسفار ، ان کے معاہدات او راس دور کی چند جائز تجارتی شکلوں پر رروشنی ڈالی ہے۔اور مسلمانوں کی تجارتی ترقیات ، ان کی تجارتی گذرگاہوں اور اشاعت اسلام کے لئے ان کی عظمت ِ کردار کے اثرات کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔باب سوم میں تجارت کےاسلامی اصول بیان کیے گئے ہیں اور باب چہارم بیع کے ا حکام پر مشتمل ہے۔ باب پنجم  میں شرکت ومضاربت کے قواعد واصول ،باب ہفتم میں تجارتِ خارجہ  ک مسائل  کو موضوع بحث بنایا گیا ہے  اور باب ہشتم میں اموال تجارت کی زکوٰۃ پر روشنی ڈالی  گئی ہے ۔یہ کتاب پہلی بار دیال سنگھ لائبریری،لاہور   کی طرف سے 1986ء میں شائع ہوئی ۔ پھر 2009ء میں شیخ الہند اکیڈمی ،کراچی نے شائع کی۔یہ ایڈیشن مصنف کی طرف سے  دوبارہ نظرثانی شدہ ایڈیشن ہے ۔ اس ایڈیشن میں بہت سے  مقامات پر  مصنف نے ضروری تبدیلیوں کےعلاوہ   مفید اضافے بھی کیے ہیں  اور حوالہ جات کو اصل مصادر سے ملاکر دیکھا اوردرست کیا ہے  جس سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ  ہوگیا ہے ۔(م۔ا) 

  • حافظ مقصود احمد

    اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے  سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ شرک کا لغوی معنی برابری جبکہ شرک کی واضح تعریف جو علماء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے کہ اَللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو غیر اللہ کیلئے اِس طرح ثابت کرنا جس طرح اور جس حیثیت سے وہ اَللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ،یعنی یہ اِعتقاد رکھنا کہ جس طرح اَللہ تعالیٰ کا علم اَزَلی، اَبدی ، ذاتی اور غیر محدود ومحیطِ کل(سب کو گھیرے ہوئے ) ہے ،اِسی طرح نبی اورولی کو بھی ہے اور جس طرح اَللہ تعالیٰ جملہ صفاتِ کمالیہ کا مستحق اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ،اِسی طرح غیر اللہ بھی ہے تو یہ شرک ہو گا اور یہی وہ شرک ہے جس کی وجہ سے اِنسان دائرۂ اِسلام سے خارِج ہو جاتا ہے اور بغیر توبہ مرگیا تو ہمیشہ کیلئے جہنم کا اِیندھن بنے گا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں جس قدر شرک کی مذمت اور توحید کا اثبات کیا ہے اتنا کسی اور مسئلے پر زور نہیں دیا ہے۔سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر  نبی کریمﷺ تک ہر رسول و نبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دی ہے۔شرک کی اسی قباحت اور اس کے ناقابل معافی جرم ہونے کے سبب تمام علماء امت نے اس کی مذمت کی اور لوگوں کو اس سے منع کرتے رہے۔عصر حاضر میں شرک پھیلانے کے سب سے بڑے علمبردار احناف اور معتقدین ہیں، جنہوں نے ہزاروں درباروں اور مزاروں کو کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"مزاروں اور درباروں کی  شرعی حیثیت" محترم حافظ مقصود احمد صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مزاروں اور درباروں کی شرعی حیثیت پر گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر فضل الٰہی

    دین اسلام میں حلال ذرائع سے کمائی جانے والی دولت کو معیوب قرار نہیں دیا گیا چاہے اس کی مقدار کتنی ہی ہو۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہےکہ دولت انسان کوبارگاہ ایزدی سے دورنہ کرے۔ فی زمانہ جہاں امت مسلمہ کو دیگر لا تعداد مسائل کا سامنا ہے وہیں امت کےسواد اعظم کو فکر معاش بری طرح لاحق ہے۔اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد کا باطل گمان یہ ہے ہےکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی پابندی رزق میں کمی کا سبب ہے اس سے زیادہ تعجب اور دکھ کی بات یہ ہے کہ کچھ بظاہر دین دار لوگ بھی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ معاشی خوشی حالی اور آسودگی کے حصول کےلیے کسی حد تک اسلامی تعلیمات سے چشم پوشی کرنا ضروری ہے۔ یہ نادان لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ کائنات کے مالک وخالق اللہ جل جلالہ کے نازل کردہ دین میں جہاں اُخروی معاملات میں رشد وہدایت کا ر فرما ہے وہاں اس میں دنیوی امور میں بھی انسانوں کی راہنمائی کی گئی ہے جس طرح اس دین کا مقصد آخرت میں انسانوں کیو سرفراز وسربلند کرنا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ دین اس لیے بھی نازل فرمایا ہے کہ انسانیت اس دین سے وابستہ ہو کر دنیا میں بھی خوش بختی اور سعادت مندی کی زندگی بسر کرے ۔کسبِ معاش کے معاملے میں اللہ تعالیٰ او ران کےرسول کریم ﷺ نے بنی نوع انسان کو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے نہیں چھوڑا بلکہ کتاب وسنت میں رزق کے حصول کےاسباب کو خوب وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے۔ اگر انسانیت ان اسباب کواچھی طرح سمجھ کر مضبوطی سے تھام لے اور صحیح انداز میں ان سے استفادہ کرے تو اللہ مالک الملک جو ’’الرزاق ذو القوۃ المتین‘‘ ہیں لوگوں کےلیے ہر جانب سےرزق کے دروازے کھول دیں گے۔ آسمان سے ان پر خیر وبرکات نازل فرمادیں گے اور زمین سے ان کے لیے گوناگوں اور بیش بہا نعمتیں اگلوائیں گے۔ اللہ تعالیٰ رزق کےعطا کرنے میں کسی سبب کےمحتاج نہیں، لیکن انہوں نے اپنی حکمت سے حصولِ رزق کے کچھ معنوی ومادی اسباب بنارکھے ہیں۔ انہی معنوی اسباب میں سے ایک نہایت موثر، انتہائی زور دار او ربہت بڑی قوت والا سبب دعا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رزق اور اس کی دعائیں ‘‘شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے برادر مصنف کتب کثیرہ محترم جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآن وسنت کی روشنی میں رب کریم کے رزاق ہونے اور حضرات انبیاء﷩ اور امام الانبیاءﷺ کی رزق طلب کرنے کے حوالے سے کچھ باتوں اور دعاؤں کو حسن ترتیب سے مرتب مرتب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے اور ڈاکٹر صاحب کی تمام دعوتی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ

    رسول اکرمﷺ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کوئی مذہبی پیشوا، سیاسی لیڈر، کسی نظریے کا بانی حتی کہ سابقہ انبیائے کرام ﷩ کےماننے والے بھی اپنے پیغمبروں کی زندگیوں کو ہرشعبے سے منسلک افراد کےلیے نمونہ کامل پیش نہیں کرسکتے۔ یہ یگانہ اعزاز وامتیاز صرف رسالت مآب ﷺ ہی کو حاصل ہے ۔اور ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں بے شمار سیرت نگار وں نے سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب   الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب’’ رحمۃ للعالمین‘‘ برصغیر کے معروف سیرت نگار قاضی سلیمان منصورپوی﷫ کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب سیرت النی ﷺ مقبول ترین کتاب ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قرآن وسنت کےدلائل کےساتھ ساتھ دیگر مذاہب کی کتب (تورات، انجیل وغیرہ ) سے پیغمبر آخر الزمان ﷺ کی صداقت بیان کی گئی ہے۔ رسول ِ ہاشمی پر یہود وہنود اورنصاریٰ کےاعتراضات کےمدلل جوابات دئیے گئے ہیں۔اس کتاب کی مقبولیت اورافادیت کےپیش نظر اس کو عربی زبان میں منتقل کر کےبھی شائع کیا جاچکا ہے ۔نسخہ ہذا مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا شائع شدہ ہے اس جدید ایڈیشن کو محترم سرور عاصم صاحب (مدیر مکتبہ اسلامیہ) نے عصر حاصر کی جدتوں کاروپ دے کر انتہائی عمدہ طباعت سےآراستہ کیا ہے۔انہوں نے اس کتاب کوجاذب نظر،اہل ذوق کےتسکین اور اہل ادب کے حسن طلب کے لیےجہاں بہترین کمپوزنگ اور دیدہ زیب ٹائٹل کا جامہ پہنایا ہے وہاں اس کتاب کی افادیت کو دوچند کر نے کےلیے قدیم مطبوعہ نسخہ ہائے ’’رحمۃللعالمین‘‘ 1921ء اور 1933ء سے تقابل اور تخریج کےبعد ہدیہ قارئین کیا ہے۔ اور مؤرخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کے قلم سے تحریر کردہ   قاضی صاحب کے احواا آثار بھی اس کتاب میں شامل اشاعت ہیں۔اللہ تعالیٰ   قاضی سلیمان منصورپوری ﷫ کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • پیر محمد کرم شاہ الازہری

    ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری  ایک عظیم صوفی و روحانی بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مایہ ناز مفسر، سیرت نگار، ماہر تعلیم، صحافی، صاحب طرز ادیب اور دیگر بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔ آپ ۲۱یکم جو لائی ۱۹۱۸ بھیرہ شریف میں پیدا ہو ئے۔سات سال کی عمر میں 1925 کو پرائمری سکول میں داخل ہوئے ۔ اور 1936ء میں گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔1941ء میں اوریئنٹل کالج لاہور میں داخلہ لیا اور فاضل عربی میں شیخ محمدعربی، جناب رسول خان صاحب، مولانا نورالحق جیسے اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ آپ نے 600 میں سے 512 نمبر لیکر پنجاب بھر میں پہلی پوزیش لیکر فاضل عربی کا امتحان پاس کیا۔علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت کے بعد 1942ء سے 1943ء دورہ حدیث مکمل کیا اور بعض دیگر کتب بھی پڑھیں۔1941ء میں جامعہ پنجاب سے بی۔اے کا امتحان اچھی پوزیشن سے پاس کیا۔ستمبر 1951ء میں جامعہ الازہر مصر میں داخلہ لیا ایم۔اے اور ایم۔فِل نمایاں پوزیشن حاصل کی ۔ یہاں آپ نے تقریباً ساڑھے تین سال کا عرصہ گزارا۔1981ء میں 63 سال کی عمر میں آپ وفاقی شرعی عدالت کے جج مقرر ہوئے اور 16 سال تک اس فرض کی پاسداری کرتے رہے۔ آپ نے متعدد تاریخی فیصلے کیے جو عدالتی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔7 اپریل 1998ء طویل علالت کے بعد آپ کا وصال ہوا۔سینکڑوں مشائخ اور علما ء نے نماز جنازہ میں شرکت فر مائی۔ آپ نے متعدد تصانیف لکھیں اور ماہنامہ ضیائے حرم جاری کیا ۔ آپ کی مایہ ناز تصنیف زیر تبصرہ کتاب ’’ تفسیر ضیا ء القرآن‘‘ ہے یہ تفسیر 3500 صفحات اور 5 جلدوں پر مشتمل ہے جسے آپ نے 19 سال کے طویل عرصہ میں مکمل کی۔اس کی پہلی جلد کا پہلا ایڈیشن ۱۹۶۵ء میں شائع ہوا۔ انھوں نے اپنی تفسیر میں عام فہم اسلوب اختیار کیا ہے۔ وہ ان مقامات کی تفسیر کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں جن کی تفسیر میں عام طور پر اختلاف ہے یا جن کی بنیاد پر بریلوی مکتبۂ فکر کی طرف شرک یا بدعت کی نسبت کی جاتی ہے۔ ایسے مقامات پر انھوں نے قرآن مجید پر براہِ راست غور کرکے کوئی راے قائم کرنے کے بجاے کسی روایت یا تفسیری قول ہی کو اپنی ترجیح کی بنیاد بنایا ہے۔ اسی طرح وہ معاصر تفاسیر سے بھی وسعت قلب کے ساتھ استفادہ کرتے ہیں۔اس تفسیر کے بعض حصے چونکہ یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں اس لیے   طلباء کے اصرار پر اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ہے ۔ تفسیر کے مندرجات سے ادار ے   کا کلی اتفاق ضرورری نہیں ہے۔ (م۔ا)

  • خالد ابو صالح

    انسان   کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک   کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں ۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’گناہوں کی دلدل میں ‘‘خالد ابو صالح کی عربی تصنیف کا ترجمہ ہےاردو قالب   میں ڈھالنے فرائض حافظ محمد عباس انجم گوندلوی ﷾ نےانجام دئیے ہیں۔تاریک زندگیوں کو تابناک اور پر نور لمحات میں بدلنے والے یہ مبارک لمحات ہی اس کتاب میں بیان کئے گئے ہیں۔اس کتاب میں ان لوگوں کی زندگیوں کانقشہ کھینچا گیا ہے کہ جنہوں نے اللہ اور اس کےرسول ﷺسے نافرمانی کی بنا پرجنگ چھیڑرکھی تھی۔ وہ مسلسل نافرمانی اور سیاہ کاری کی بنا پر جہنم کےکناروں تک پہنچ چکے تھے ، اور ان سے کوئی ایسا عمل سر زد ہوگیا کہ رحمت ایزدی جو ش میں آگئی ، ان کی ادا رب کریم کو پسند آگئی اوراس نے اپنی رحمت سے ان کی زندگی میں ایک خاموش عظیم انقلاب کے ذرائع پیدا کردیے ۔گناہوں کےسمندر میں ڈوبنے کےبعد ہدایت پانیوالوں کی روشن ایمان افروز اور دلوں کوتڑپا دینے والی داستانیں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ ہم کس طرح زندگی گزار رہے اور ہمیں کس طرح زندگی گزارنی چاہئے؟ کہ جس سے معاشرہ بھی ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھے، دنیا بھی ہر اعتبار سے کامیاب ہو ، آخرت میں جہنم سےنجات اور اللہ کی رضا وخوشنودی کاپروانہ بھی مل جائے ۔ گناہوں کےسمندر میں ڈوبنے کےبعد ہدایت پاکر ایمان کےساحلوں پر زندہ پہنچ جانےوالوں کی ایمان افروز داستانوں پر مشتمل یہ کتاب جنت چاہنے اور گناہوں سے بچنے خواہش مندوں کےلیے ایک تحفہ ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشر کی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔ اور اس کتاب کو اہل ایمان کی زندگیوں میں تبدیلی کا ذریعہ بنائے اور اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطافرمائےمحترم   محمد طاہر نقاش ﷾ کو اور ان کے علم وعمل ،کاروبار میں برکت او ران کو صحت وتندرستی والی زندگی عطائے فرمائے کہ انہوں نے   اپنے ادارے’’ دار الابلاغ‘‘ کی مطبوعات مجلس التحقیق الاسلامی   کی لائبریری اور کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے   ہدیۃً عنائت کی ہیں۔آمین(م۔ا)

  • ناصر بن عبد الکریم العقل
    یہود و ہنود اپنی بھرپور منصوبہ بندی اور اور بےانتہا وسائل کے ساتھ اپنی گندی اور زہریلی ثقافت کے ذریعے مسلمانوں پر عمومی یلغار کر چکے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمان اسی ظاہری چمک دمک سے مرعوب نظر آتے ہیں بلکہ اسے اپنانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں کو اغیار کی اندھی تقلید کرنے کرنے کے انجام سے خبر دار کیا جائے  اور انھیں مسلم تہذیب اختیار کرنے کے فوائد سے آگاہ کیاجائے۔  اسی سلسلہ میں ناصر بن عبدالکریم العقل نے ایک رسالہ ترتیب دیا جس کا اردو ترجمہ آپ کے سامنے ہے۔ ابو اسامہ محمد طاہر آصف نے اس کو اردو منتقل کرنے کے فرائض سرانجام دئیے۔ مصنف نے سب سے پہلے مشابہت کا صحیح مفہوم اور اس کے اصولوں پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد جن امور میں مشابہت سے روکا گیا ہےاور مشابہت کے احکام کو بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں مشابہت کفار سے متعلقہ دیگر اہم مضامین کو کتابچہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • ڈاکٹر فضل الٰہی

    اسلام ،دین فطرت ہے۔وہ ان تمام فطری جذبات کی قدرکرتاہے ،جوانسانی مزاج میں موجودہیں۔انہی میں سے ایک فطری جذبہ یہ بھی ہے کہ انسان خوشی کے تہوارمنانے میں دلچسپی رکھتاہے ۔اسلام  نے انسان کے اسی فطری داعیےکی تکمیل کے لیے دوتہوار(عیدالفطراورعیدالاضحٰی)عطاکیے ہیں ۔لیکن اس کے ساتھ اسلام کی یہ بھی خوبی ہےکہ وہ انسان کوشتربےمہارکی طرح آزادنہیں چھوڑتاکہ وہ خوشی کےنام پرجوچاہیے کرتارہے،بلکہ خوشی منانے کاسلسلہ بھی بتلاتاہے ۔زیرنظرکتاب میں عیدین کےمسائل کوموضوع بحث بنایاگیاہے اوران سے متعلقہ ہرمسئلے کوقرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیاہے ۔امتیازی خوبی یہ ہے  کہ صرف صحیح یاحسن احادیث سےاستدلال کیاگیاہے ۔عیدالفطرکی آمدآمدہے،فلہذاموقع کی مناسبت سے یہ کتاب ناظرین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے ۔

     

     

  • صالح بن عبد العزیز بن محمد آل شیخ
    جیسا کہ صاحب عقل و فہم جانتے ہیں کہ موجودہ دور فتنات کا دور ہے جس میں مسلمانوں کو ثقافتی، سیاسی اور سماجی سطح پر بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ نیکی اور بھلائی ایک اجنبی چیز سمجھے جانے لگے ہیں۔ ایسے میں اس بات کی شدت سے ضرورت ہے کہ ان فتنوں سے بچاؤ کی تدابیر کی جائیں۔ کیونکہ قرآن کی ایک آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب فتنے سر اٹھاتے ہیں تو صرف ظالم ہی اس کا شکار نہیں ہوتے بلکہ اس کے دائرہ میں سارے لوگ آ جاتے ہیں اور جب یہ فتنے برپا ہو جاتے ہیں تو کسی کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ زیر نظر مختصر سے کتابچہ میں فضیلۃ الشیخ صالح بن عبدالعزیز آل شیخ نے ایسے قواعد و ضوابط کو ترتیب کےساتھ بیان کر دیا ہے جو فتنہ اور فساد میں ایک مسلمان کے لیے مشعل راہ ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرحمٰن بن عبدالجبار الفریوائی نے نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ 48 صفحات پر مشتمل اس کتابچے پر طارق علی بروہی نے نظر ثانی کی ہے۔ کتابچہ میں فتنات سے بچاؤ کے لیے جو 9 قواعد بیان کیے گئے ہیں ان سے ہر خاص و عام کا مطلع ہونا بہت ضروری ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • ہارون یحییٰ
    مادہ پرستی(Materialism) آج کے دور کا سب سے بڑا شرک ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق اس کائنات کا کوئی خالق موجودنہیں ہے یعنی فرعون ونمرود کی طرح اس فلفسہ کے قائلین نے بھی اس کائنات کے رب وخالق ومالک و رازق ومدبرکا انکار کیا ہے اور مادہ (Matter)ہی کو اصل یا کل حقیقت قرار دیا ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق مادہ قدیم اور ہمیشہ سے ہے اور ہر دور میں اپنی شکلیں بدلتا رہا ہے ۔ پس اس کائنات یا انسان کا وجود ایک حادثہ ہے جس کے پیچھے کوئی محرک، مسبب الاسباب یا علۃ العلل موجود نہیں ہے۔مادہ پرستوں یا منکرین  خدا کی ایک الجھن ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کر دیں تو اہل مذہب کے بالمقابل اس کائنات اور انسان کے بارے کیا توجیہ پیش کریں کہ یہ انسان کہاں سے آیا ہے؟ کیسے پیدا ہوا ہے؟ یہ کائنات کیسے وجود میں آ گئی ہے؟واقعہ یہ ہے کہ ان سوالات کا کوئی جواب مادہ پرستوں کے پاس نہیں تھا یہاں تک کہ ڈاروان نے اپنا نظریہ ارتقا پیش کیا تو مادہ پرستوں کی تو گویا عید اور چاندی ہو گئی اور انہیں اس کائنات اور انسان کے وجود کے بارے ایک عقلی ومنطقی توجیہ ہاتھ آ گئی۔ ڈارون نے ارتقا کا جو نظریہ پیش کیا تھا وہ اس کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھا جبکہ آج کی سائنس اور سائنسی حقائق اس ڈارونی نظریہ ارتقا کی بنیادیں ہلا چکے ہیںاور اس نظریہ ارتقا کومستقل طور پر ردی کی ٹوکری میں پھینک چکے ہیں لیکن مادہ پرستوں کے لیے ڈاروان کے نظریہ ارتقا کی سائنسی تردید ، موت سے کم نہیں ہے کیونکہ نظریہ ارتقا کے غلط ثابت ہو جانے سے ان کی فلسفہ مادہ پرستی کی واحد عقلی ومنطقی توجیہ ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو خلا میں محسوس کرتے ہیں جہاں ان کے پاس کے اس کائنات اور انسان کے وجود کے بارے اہل مذہب کے بالمقابل کوئی توجیہ باقی نہیں رہتی اور اہل مذہب ان پر ہنس رہے ہوتے ہیں کہ عقل کے یہ پجاری اپنے وجودوماحول کی موجودگی کی بھی کوئی توجیہ کرنے سے قاصر ہیں۔
    ہارون یحی ترکی کے معروف قلم کار ہیں جو فری میسنری یہودی تحریک اور مادہ پرستی کی عالمی الحادی تحریک کے بہت بڑے ناقد ہیں۔ ہارون یحی نے اپنی اس کتاب میں ان تمام سائنسی حقائق اورمعروف سائنسدانوں کے اقوال کو جمع کیا ہے جو ڈارون کے نظریہ ارتقا کی سائنسی موت ثابت ہوئے ہیں۔ہارون یحی نے فوسل ریکارڈ سے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ اس کائنات پر تخلیق کی ابتدا اچانک ہوئی ہے نہ کہ ارتقاء اً۔اشتراکیت کے بانی کارل مارکس کو بھی اپنی الحادی فکر کے لیے جائے پناہ ڈارون کے نظریہ ارتقا میں ملی اور اس نے ’داس کیپیٹل‘ کے جرمن ایڈیشن کا انتساب ڈارون کے نام کیا ہے۔ آج یہ نظریہ بیالوجی اور حیاتیات کے نام سے لاشعوری پر انسانوںکے ذہنوں میں راسخ کرتے ہوئے انہیں انکار خدا کی طرف مائل کیا جا رہاہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ ہارون یحی نے ڈارون کے نظریہ ارتقا کے فروغ میں مادہ پرستوں اور منکرین خدا کے مکر وفریب کی دھجیاں بکھیردی ہیں۔ بہر حال ڈارونی نظریہ ارتقا کے حاملین ملحدین، منکرین خدا اور مادہ پرستوں کی رات کی نیندیں اڑانے کے لیے عقلی، منطقی اور سائنسی دلائل پر مبنی ایک بہترین کتاب ہے۔ کتا ب کی طباعت اور کاغذ کا معیار نہایت ہی عمدہ اور معیاری ہے۔
    نوٹ
    ہارون یحیی کے عقیدہ میں کچھ شدمد نظر آتی ہے۔کتاب کا جب مطالعہ کیا گیا تو عبارت خاصی الجھی ہوئی نظرآئی کتاب میں یہ جملہ ہے کہ اللہ اس کائنات کو عدم سے وجود میں لایا جس سے وحدت الوجود کی نفی ہوتی ہے البتہ یہ جملہ بھی آخر میں ہے کہ ہم جس طرف بھی رخ کریں اللہ ہی کو موجود پائیں گے۔اس سے شبہ ہوتا ہے۔کہ مصنف عقیدہ وحدت الوجود سے متأثر لگتا ہے۔ بہرحال کتاب کے بعض مندرحات سے اختلاف ممکن ہے۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39752841

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں