• عبد المحسن بن محمد القاسم

    ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے  ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا  حکم دینا اور  نہی عن المنکر کا مطلب ہے  برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے  کہ اللہ تعالیٰ  نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے  لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ  تعالیٰ  یہ بھی  چاہتے ہیں کہ  دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ  ہوں او ر نیکی کا   غلبہ رہے۔ برے  لوگ کم ہوں  اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے  اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی  سے بچنے کا حکم ہی  نہیں دیا  بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور  برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے  حکمرانوں ،علماء وفضلاء  کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن  وحدیث  میں اس  فریضہ  کواس قد ر اہمیت دی  گئی ہے کہ  تمام مومن مردوں اورتمام مومن عورتوں پر اپنے  اپنے  دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کےمطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکرپر عمل کرنا واجب ہے ۔اوراللہ تعالیٰ  نےقرآن کریم کی ایک ایت کریمہ  میں حکمرانوں کوبھی نیکی کا حکم دینے  اور برائی سے روکنے کامکلف ٹھہرایا ہے۔   نیز ان  حکمرانوں سےمدد کا وعدہ فرمایا ہے جو حکومت کی قوت اور طاقت سے نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔اسلام صرف عقائد کانام نہیں  ہے۔بلکہ مکمل نظام حیات ہے جس میں اوامر بھی  ہیں اور نواہی بھی۔ بعض اوامر ونواہی  کا تعلق تبلیغ ،تذکیر اوروعظ ونصیحت کے ساتھ ہے جس پر عمل کرنا والدین ، اساتذہ کرام، علماء وفضلاء اور معاشرے کے دیگر افراد پر واجب ہے جس سے افراد میں ایمان، تقویٰ ،خلوص، خشیت الٰہی جیسی صفات پیدا کر کے  روح کا تزکیہ اور تطہیر مطلوب ہے ۔ بعض اوامر ونواہی کا تعلق حکومت کی  طاقت اور قوتِ نافذہ کے ساتھ ہے ۔ مثلاً نظام ِصلاۃ ، نظام ِزکاۃ ،اسلامی نظامِ معیشت، اسلامی نظامِ عفت وعصمت اور قوانین حدود وغیرہ جس سے سوسائٹی میں امن وامان ، باہمی عزت واحترام اور عدل وانصاف جیسی اقدار کو غالب کر کے پورے معاشرے کی تطہیر اور تزکیہ مطلوب  ہے۔ جب تک اوامرونواہی کے ان دونوں ذرائع کو موثر طریقے  سےاستعمال نہ کیا جائے معاشرے کا مکمل طور پر تزکیہ اور تطہیر ممکن نہیں ۔عہد نبویﷺ میں  رسول اللہ  کی ذات مبارک خود بھی شریعت کے اوامر ونواہی  پر عمل کرنے  میں سب سے آگے تھی ۔ فرد اور پوری سوسائٹی کے تزکیہ اورتطہیر کے اعتبار سے آپ ﷺ کا عہد مبارک تمام زمانوں سے افضل اوربہتر  ہے ۔رسول اکرمﷺ کی وفات  کے بعد عہد صدیقی میں شدید فتنے اٹھ کھڑے ہوئے ۔  حضرت ابوبکر صدیق   نے بڑی فراست ،دوراندیشی اور استقامت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہو کر تمام فتنوں کا استیصال  فرمایا۔ اوراسی طرح سیدنا عمر فاروق   نے بھی بعض دوسرے سرکاری محکموں کی طرح نظام احتساب اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کابھی باقاعدہ محکمہ قائم فرمایا۔ حضرت عثمان   اور حضرت علی  نےبھی اپنے عہد میں اس  نظام کو مضبوط بنایا  لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نےنظام احتساب کے حوالے سے ایک بار پھر حضرت عمر بن خطاب  کی یاد تازہ کردی۔اموی ،عباسی اوربعد میں عثمانی خلفاء کےادوارمیں بھی امر بالمعروف عن المنکر کانظام کسی نہ کسی صورت میں قائم رہا ۔دین کے مرکز حجاز یعنی سعودی عرب میں آج بھی نظام احتساب کا ادارہ  الرئاسة العامة لهئية  الامربالمعروف والنهى عن المنكر کے  نام سے  بڑا موثر کردار  کررہا ہے ۔روزانہ پانچ نمازوں کے اوقات میں  تمام چھوٹی بڑی مارکیٹوں کے کاروبار بند کروانا گلی گلی محلے محلے  نمازوں کے اوقات میں گھوم پھر کر لوگوں کونماز کےلیے مسجد میں آنے کی دعوت دینا، بے نمازوں کوتلاش کرنا ، انہیں پکڑ کر تھانے لانا چوبیس گھنٹے تک انہیں وعظ ونصیحت کرنا اورنماز پڑھنے کا وعدہ لے کر رہا کرنا ادارہ امربالمعروف  ونہی عن المنکر کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔اور اسی طرح  زکاۃ کی ادائیگی کے بغیر کوئی کمپنی  سعودی عرب میں  اپنا کاروبار نہیں کرسکتی، رمضان المبارک کے مہینے  میں غیر مسلموں پر بھی رمضان کااحترام کرنا واجب ہے ۔ ہر سال احترام رمضان کے بارے  میں رمضان سےقبل شاہی فرمان جاری ہوتا ہے اگر کوئی نام نہاد مسلمان یا غیر مسلم احترام ِرمضان کےفرمان کی پابندی نہ کرے  تو اس کا ویزہ منسوخ کر کے  اسی وقت اسے ملک بدر کردیا جاتا ہے ۔سعودی  عرب میں رہائش پذیر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مملکت میں واقعی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ موجود ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دے رہا ہے۔سعودی حکومت دیگر اداروں کی طرح  امربالمعروف وعن المنکر اوردینی کی اشاعت وترویج  میں مصروف عمل اداروں کو اسی طرح سالانہ بجٹ میں فنڈ مہیا کیے جاتے ہیں جس  طرح مملکت کے دیگراداروں کومہیا کیے جاتے۔بلاشبہ سعودی  حکومت اس معاملے میں تمام اسلامی ممالک کےمقابلہ میں ایک   امتیازی شان رکھتی ہے۔  اور قرآن وحدیث کی روسے تمام اسلامی ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے  ادارے قائم کریں اوراسلامی ریاست کو غیر اسلامی ممالک کے سامنے پورے اعتماد کے ساتھ ایک ماڈل کی  حیثیت سے پیش کریں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’دین کا ایک اہم رکن امر بالمعروف نہی عن المنکر ‘‘ مسجد نبوی  کے مشہور امام  وخطیب عبد المحسن  القاسم کےمرتب  شدہ عربی رسالہ ’’ الأمر باالمعروف والنهي عن المنكر أصل من أصول الدين‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔ یہ کتابچہ  اگرچہ مختصر ہے  لیکن اپنے  موضوع پر بہت  مفید اور جامع  ہے جس میں  شیخ محترم  نے موضوع کے اہم  نکات کو نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کیا ہے ۔جناب محمد عمران سلفی صاحب نے  عربی رسالہ کو اردو میں منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ اس رسالہ میں مذکور احادیث کی مکمل تخریج بھی کی ہے  جس سے  اس رسالے کی افادیت  دو چند ہوگئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ  اس رسالے کو  امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے اور مصنف ،مترجم وناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) م۔ا) 

  • سلطان احمد اصلاحی

    سماجی ناہمواری آج کی ترقی یافتہ دنیا کا  ایک بڑا اہم مسئلہ ہے ۔انسانی معاشرہ شدید انتشار اور بحران  کا شاہکار ہے ۔ اخلاقی قدریں پامال ہورہی ہیں اورباہمی تعلقات خود غرضی اور مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں ۔ حتیٰ کہ خاندان کا ادارہ بھی اس لپیٹ میں آگیا ہے ۔افراد خاندان جن کے درمیان عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ قریبی تعلقات ہونے  ہیں اور انہیں ایک  دوسرے کےہم درد وغم گسار ہوناچاہیے وہ نہ صرف یہ کہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی سے بے پروا ہیں بلکہ ان پر ظلم ڈھانے اور ان کے حقوق غصب کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔جس کی وجہ سے  انسانی معاشرہ حیوانی سماج کا  منظر پیش کررہا ہے ۔یہی صورت عالمی سطح پر بھی ہے۔اس صورت حال میں اسلام انسانیت کے حقیقی ہم درد کی حیثیت سے سامنے آتا ہے ۔ وہ سماج کے تمام افراد کے حقوق بیان کرتا ہے اور ان کی ادائیگی پر زور دیتا ہے  خاص طور سے  وہ افراد خاندان کے درمیان الفت ومحبت کے جذبات  پر  پروان چڑھاتا ہے  اور اسے مستحکم رکھنے کی تدبیر بتاتا ہے ۔ اسلام کی بتائی ہوئی تدابیرپر عمل کر کے پہلے بھی ایک پاکیزہ اور مثالی معاشرہ وجود میں آچکا ہے اور موجودہ دور میں بھی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر سماجی اور خاندانی انتشار  واضطراب کودور کیا جاسکتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’عصرِ حاضر کا سماجی انتشار اور اسلام کی رہنمائی‘‘  مولانا سلطان احمد اصلاحی کی  تصنیف ہے  انہوں نے اس کتاب میں موجود سماجی اور خاندانی انتشار  واضطراب پر شرح وبسط کے ساتھ  اظہار خیال کیا ہے۔ انسانی  سماج کےمختلف پہلوؤں کی منظر کشی اعداد وشمار اور واقعات کی روشنی میں کی گئی ہے ۔ان میں  بے اعتدالی، فساد اوراننشار کو نمایاں کیا گیا ہےاور اس کی اصلاح اوردرستگی کے لیے اسلامی تعلیمات پیش کی  ہیں۔ اور عام انسانی سماج کے ساتھ خاندان کو بھی خاص طور پر موضوع ِ بحث بنایاگیا ہے او رموجودہ دور میں اس کی ابتری اور انتشار واضح کرنے کے ساتھ ساتھ  اسلام کے مطلوبہ نظامِ خاندان کے خدّول خال نمایاں کیے گئے ہیں۔(م۔ا) 

     

  • ڈاکٹر قاری محمد طاہر

    شریعت کے قوانین انسان کے تمام شعبوں ؛ عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق سب کو حاوی ہیں، شریعت کے قوانین میں وہ تقسیم نہیں جو آج کی بیشتر حکومتوں کے دستوروں میں پائی جاتی ہے، کہ ایک قسم کو پرسنل لاءیعنی احوالِ شخصیہ کا نام دیا جاتا ہے، جو کسی انسان کی شخصی اور عائلی زندگی سے متعلق ہوتی ہے، اور اس کے متعلق یہ غلط تأثر دیا جاتا ہے کہ اس کے کرنے یا نہ کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے، اسی تأثر کا یہ اثر ہے کہ آج جن لوگوں کو مسلم دانشور کہا جاتا ہے، وہ یہ کہتے ہوئے ذرا نہیں جھجکتے کہ مذہب میرا اپنا ذاتی معاملہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میں چاہوں تواس پر عمل کروں اور چاہوں تو نہ کروں؛ حالاں کہ اُن کی یہ سمجھ غلط ہے؛ کیوں کہ مسلمان کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں شریعتِ اسلامی کا پابند ہے، مختار نہیں۔قرآن وحدیث میں عائلی  مسائل  کی اہمیت  کا اندازہ صرف اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے  کہ قرآن کا کثیر حصہ انہی امور سے متعلق ہے  او ر نساء کے نام سے مستقل سورۃ کا نزول اس بات کی علامت ہے کہ خانگی امور ، اسلامی معاشرہ میں بے پناہ اہمیت  کے حامل  ہیں ۔پاکستان کی تاریخ میں عائلی قوانین کی تدوین وتنقید نے سیاسی ، سماجی اور معاشرتی افق پر بہت سے مدوجزر پیدا کئے ۔اسی مدوجزر نے مستقبل میں پاکستان کے معروضی حالات پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر صاحب  کا مقالہ بعنوان ’’ عائلی قوانین اور پاکستانی سیاست‘‘ انہی نقوش وحالات کی قلمی تصویر ہے ۔جس میں عمل تحقیق  کی  مدد سے نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔فاضل مقالہ نگار  نے اس تحقیقی مقالہ میں عائلی قوانین کےارتقاء اور جس پس منظر میں ان قوانین کا نفاذ ہوا ان پر روشنی ڈالی ہے۔اس بارے میں میں موافقانہ اور مخالفانہ کوششوں کابھی سیر حاصل جائزہ پیش کیا ہے ۔ یہ  تحقیقی مقالہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے ۔ باب اول عائلی قوانین کی معاشرتی ومعاشی اہمیت پر ہے  جس میں مختلف عنوانات کے تحت قرآنی آیات اور احادیث کوجمع کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں عائلی قوانین کی تدوین کا تذکرہ ہے ۔تیسرا باب طبقاتی ردّ عمل سے متعلق ہے جس میں ملک کے  مختلف طبقوں مثلاً  حکومت  خواتین ، علماء اور دانشورں کے انفرادی اور اجتماعی رد عمل کا جائزہ لیا گی ہے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ  ان اثرات کا کھوج لگانے کی کوشش بھی گئی ہے  جو معاشرے کےمختلف اطراف وجوانب پر مرتب ہوئے اور ان فقہی مباحث کا تذکرہ بھی ہے جو ان قوانین کی وجہ سے پیدا ہوئیں۔چوتھے باب میں  ان علمی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے  جو عائلی قوانین کے نتیجہ میں  ظہور پذیر ہوئے  مثلاً  وہ کتب جو علماء اور دانشوروں نےاس سلگتے ہوئے موضوع پر  لکھیں اور وہ مضامین جو اس عنوان کےحوالے سے مختلف علمی جرائد میں وقتاًفوقتا طبع ہوتے رہے۔اور پانچواں باب  عائلی قوانین کے بارے  میں تنقیدی جائزے اور تجزئیے پر مشتمل ہے۔(م-ا)

  • محمد بشیر جمعہ

    زندگی کل کے انتظار کیلئے بہت چھوٹی ہے۔ اکثر ہم اپنے روزمرہ کے مشکل کاموں کو کل پر ملتوی کر کے ان سے جان چھڑانے کی بیکار کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں جان لینا چاہئے کہ اس طرح کام سے جان نہیں چھوٹتی بلکہ یہ محض وقت کا ضیاع ہو تا ہے ۔ اس لئے ہمیں آج کا کام کل پر چھوڑنے کی غلط عادت کی اصلاح کر لینی چاہئے کیونکہ زندگی میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو وقت کی قدر کرتا ہے اور مشکل ترین حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔اداروں کے ذمہ داران ؍نگران  حضرات  کو اپنے ماتحت  کام کرنےوالےافراد اور  والدین کو اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے انہیں آج کا کام آج ہی کرنے جیسی اچھی عادت اپنانے کی تلقین بھی کرنی چاہئے۔ اس سے نہ صرف انہیں وقت کی قدر کرنا آئے گی بلکہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کی جرأت بھی پیدا ہو گی جو انہیں کامیابی کی راہ پر گامزن ہونے میں مدد دے گی۔ معروف سکالر  جناب محمد بشیر جمعہ نے زیر نظر کتاب ’’ آج نہیں تو کبھی نہیں ‘‘ میں بڑے احسن  انداز میں    مذکورہ بالا مسئلہ کی  طرف توجہ دلائی ہے اور انسان  کے  اندر پائی جانے  والی سستی ، کاہلی اور تن آسانی  کی وجوہات   ، اسباب  اور اس کا  علاج پیش کیا ہے (م۔ا) اصلاح معاشرہ 

  • عبدالغفار حسن عمرپوری

    رسول اکرم ﷺ کے قول وعمل اور تقریر کوحدیث کہتے ہیں ۔ یہ وہ الہامی ذخیرہ ہے جو بذریعہ وحی نطق رسالت نے پیش فرمایا۔ یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن فہمی ناممکن ،فقہی استدلال فضول اور راست دینی نظریات عنقا ہوجاتے ہیں۔یہ اس شخصیات کے کلماتِ خیر ہیں جنہیں مان کر ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور رب ذوالجلال نے اسے  کے خطاب سے نوازا۔ یہ وہ علم ہےجس کاصحیح فہم حاصل کرکے ایک عام مسلمان ،امامت کےدرجے پر فائز ہوجاتاہے ۔ جس طرح کہ قرآن کریم تمام شرعی دلائل کا مآخذ ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے ،اور اسی نےحدیث نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے مصدر شریعت اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ حدیث نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو حدیث کو محفوظ کرنے کے لیے   احادیث نبویہ کو زبانی یاد کرنے اوراسے لکھنے کی ہدایات فرمائیں ۔ اسی لیے مسلمانوں نے نہ صرف قرآن کی حفاظت کا اہتمام کیا بلکہ حدیث کی حفاظت کے لئے بھی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں، ائمہ محدثین نے بھی حفظ احادیث اور کتابت حدیث کےذریعے   حفاظت ِحدیث کا عظیم کارنامہ انجام دیا اور ان احادیث پر عمل کرنے کی راہِین ہموار کی گئی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس میں  تربیت اخلاق اور تعمیر سیرت کے لیے پوری طرح موزوں اور مفید مضامین کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔اس کتاب میں احادیث کے انتخاب میں انفرادی اور اجتماعی سیرت واخلاق سے متعلق انسانی زندگی کے تمام گوشے سنت رسولﷺ کی روشنی میں اُجاگر ہو جائیں  اور اس لحاظ سے کوئی اہم پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔اس میں بالعموم ان اخلاقی ہدایات اور فقہی تصریحات کو سمویا گیا ہے جو پوری ملتِ اسلامیہ میں متفق علیہ ہیں حتی الامکان اختلافی مسائل کی تفصیل سے احتراز کیا گیا ہے۔صالح سیرت اور پاکیزہ اخلاق‘ صحیح عقائد وافکار سے وجود میں آتے ہیں اس لیے پہلے ان مضامین کو بیان کیا گیا ہے۔ ترجمہ وتشریح میں زبان سادہ اور اندازِ بیان عام فہم اختیار کیا گیا ہے اور مطالب وہی ذکر کیے گئے ہیں جو فلسفہ وکلام کے اُلجھاؤ اور پیچدگی سے پاک ہوں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ انتخاب حدیث ‘‘مولانا عبد الغفار حسن پوری کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • ابو جابر عبد اللہ دامانوی

    جیسے جیسے قیامت کا وقت قریب آرہا ہے گمراہ فرقے جنگل میں آگ کی طرح پھیلتے جارہے ہیں۔اور اپنے دام ہم رنگ زمانہ میں ناسمجھ مسلمین کو پھنسا رہے ہیں۔قدیم زمانے میں نجد عراق میں کوفہ کا شہر گمراہ فرقوں کی جنم بھومی اور آماجگاہ تھا۔مثلا خوارج ،روافض ،جہمیہ ،مرجئہ ،معتزلہ وغیرہ ۔انہی فرقوں میں سے ایک  نام نہاد جماعت المسلمین بھی ہے جوکراچی کی پیداوار ہے ۔اس جماعت کے بانی مبانی مسعود احمد صاحب  بی ایس سی ہیں۔اس فرقے نے "جماعت المسلمین " کا خوبصورت لقب اختیار کر رکھا ہے جس طرح لبنان میں  رافضیوں نے "حزب اللہ "کا نام اختیار کر رکھا ہے۔یہ فرقہ اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو گمراہ سمجھتا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا قائل نہیں ہے۔جو شخص ا س کے بانی مسعود احمد  صاحب کی بیعت نہیں کرتا وہ ان کے نزدیک مسلمان نہیں ہے،چاہے وہ قرآن وحدیث کا جتنا بڑا عالم وعامل ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے امام ابن حجر﷫سمیت متعدد محدثین کی تکفیر کی ہے۔
     زیر تبصرہ کتاب " الفرقة الجديدة " ابو جابر عبد اللہ دامانوی کی ہے۔جس میں فرقہ کا معنیٰ و مفہوم، مسعودیہ  اور اہل حدیث، مسعودصاحب کے اہل سنۃ پر چند اعتراضات  کو بیان کیا ہے۔اس کتاب میں جماعت المسلمین کے تمام باطل نظریات کا مدلل رد کیا  گیاہے اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(فیق الرحمن)

  • امام ابن تیمیہ

    آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا وغیرہ ایسے اعمال جو شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ قبروں کی زیارت اور صاحب قبر سے فریاد ‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی تالیف کا ثمر صادق احمد حسین نے اردو ترجمہ کیا ہے۔یہ کتاب درحقیقت رد قبر پرستی کے موضوع پر لکھے گئے ان کے متعدد مضامین کا مجموعہ ہے۔ اور ان دلائل کا مختصراً جائزہ لیا گیا ہے جو قبرپرستی جیسے شرکِ صریح کے جواز میں بالعموم بریلوی علماء یا ان کے ہمنوا اہل قلم کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں ۔ اور اس کے متعلق شیطان اور اس کے نمائندوں کی طرف سے پھیلائے گئے شکوک وشبہات اور تاویلات فاسدہ کی حقیقت قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کر کے ان کا خوب بطلان کرتے ہوئے احقاق حق کا فریضہ سرانجام دیا ہے ۔ اللہ تعالی مولف کی فروغ دین کی ان تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • شفیق الرحمٰن الدراوی

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مقالات توحید ‘‘ پیر زادہ شفیق الرحمٰن شاہ الدراوی ﷾ کے توحید کے موضوع پر 13 مقالات کا مجموعہ ہے ۔یہ مقالات اسلام ؛ ایمان اور احسان ، مقصدتخلیق انسانیت ، عبادت کی اقسام ومفہوم ، توحید کا معنیٰ فوائد اور اقسام ، لا إلہ إ لا الله كا معنیٰ ومفہوم ،رد شرک،شرک کا معنیٰ اور اس کی اقسام ،شرک اکبر کی اقسام ،بعض شرکیہ امور پر ردّ، شرک قباحت اور سزا، مشرکین کے شبہات پر ردّ جیسے عنوانات پر مشتمل ہیں ۔فاضل مصنف نے ہر بات کتاب وسنت کی دلیل کے ساتھ پیش کی ہےاور براہ راست کسی کو مخاطب کرنے کی بجائے عمومی مرض کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کا علاج بھی بتایا ہے اور اس کے متعلق شکوک وشبہات کا ازالہ بھی حتی الامکان کردیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے او ر اس کتاب کو عوام الناس کے عقائد کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین)(م۔ا)

  • ڈاکٹر محمد امین

    امت مسلمہ تاریخ کے ہر دور میں دشمنان اسلام کا ہدف بنی رہی ، دشمن اس پر مسلسل یلغار کرتا رہا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے پر تلا رہا ، تاریخ میں کئی مواقع ایسے آے کہ محسوس ہونے لگا کہ اب یہ امت زندگی کے افق سے غائب ہو جاے گی ، مگر ہر بار اس نے سنبھالا لیا اور تازہ دم ہو کر تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ نمودار ہوئی ، پچھلی دو تین صدیوں کے حالات کاجا ئزہ لیا جاتا ہے تو اس امت کے جسم سے مسلسل خون ٹپکتا ہوا نظر آتا ہے ، کبھی وہ بے حد کمزور ، نڈھال اور شکست و ریخت سے دو چار ہوتی نظر آتی ہے ، مگر یکا یک ہمتیں جٹاتی ہے اور افق عالم میں تازہ دم اور بلند عزائم و ارادوں سے مالا مال نمودار ہوتی ہے۔مگر تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، جب ہم پچھلی دو صدیوں کے زوال وانحطاط، اور اپنی ذہنی وجسمانی غلامی کی تاریخ کا آج کی صورتحال سے موازنہ کرتے ہیں تو امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کے روشن امکانات نظر آنے لگتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" مغرب کا زوال اور مسلم نشاۃ ثانیہ کے روشن امکانات "محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مغرب کے زوال کی پیشین گوئی کرتے ہوئے امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں  قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو متحد اور امت مسلمہ کی  نشاۃ ثانیہ کی راہ کو ہموار فرمائے۔آمین(راسخ)

  • پروفیسر صفدر علی

    کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " معروضیات اسلامیات " محترم پروفیسر صفدر علی، گورنمنٹ کالج فتح گڑھ کی کاوش ہے جو انہوں نے ایم اے اسلامیات سال دوم کےطلباء کے لئے 2015ء کے ترمیم شدہ نصاب کے عین مطابق بڑی محنت  سے تیار کی ہے۔آپ  نے اس کتاب کو معروضی انداز میں سوالا جوابا تیار کیا ہے۔ امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس گائیڈ سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39752842

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں