• #3374
    رانا محمد شفیق خاں پسروری

    1 فوٹو گرافی کا جواز

    عصر حاضر کے جدید مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ فوٹو گرافی یا عکسی تصاویر کا بھی ہے، جسے عربی زبان میں صورۃ شمسیہ  کہا جاتا ہے، جو دور حاضر میں انسانی زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔آج کوئی بھی شخص جو فوٹو گرافی کو جائز سمجھتا ہو یا ناجائز سمجھتا ہو ،بہر حال اپنی معاشی ،معاشرتی اور سماجی تقاضوں کے باعث فوٹو بنوانے پر مجبور ہے۔اس مسئلہ میں اگر افراد کے اذہان ورجحانات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دو متضاد انتہاؤں پر پائی جاتی ہے۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر قسم کی تصاویر ،عکسی تصاویر اور مجسموں کو سجاوٹ اور (مذہبی اور غیر مذہبی)جذباتی وابستگی کے ساتھ رکھنے اور آویزاں کرنے میں کوئی مضائقہ اور کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ہیں۔ان میں عام طور پر وہ لوگ شامل ہیں جن کا دین سے کوئی بھی تعلق برائے نام ہی ہے۔جبکہ دوسری انتہاء پر وہ لوگ پائے جاتے ہیں ،جو ہر قسم کی تصاویرخواہ وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا مشین اور کیمرے کے ذریعے سے،انہیں مطلقا حرام سمجھتے ہیں ،مگر اس کے باوجود قومی شناختی کارڈ،پاسپورٹ ،کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کا فارم اور بعض دیگر امور کے لئے بھی عکسی تصاویر بنواتے اور رکھتے ہیں۔ زیر تبصرہ مضمون " فوٹو گرافی کا جواز "مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرکزی راہنما محترم رانا محمد شفیق خان پسروری صاحب  کی کاوش ہے جس میں انہوں تصویر سازی سے متعلق ایک شاندار بحث کی ہے  اور اس موضوع کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ان کے مطابق بعض تصاویر حرام ،بعض مکروہ اور بعض مباح یعنی جائز ہیں ۔اور پھر ہر قسم پر قرآن وحدیث سے استدلال کیا ہے۔یہ اپنے موضوع پر ایک مفید بحث ہے۔اللہ تعالی اس کے مولف کو جزائے خیر سے نوازے۔(راسخ)

  • #3367
    منظور احسن عباسی

    2 جرم ارتداد اور اس کی اسلامی سزا

    تمام حدود اللہ رب العزت کی طرف سے عائد کردہ ہیں جو اپنے بندوں پر ساری کائنات میں سب سے زیادہ مہربان ہے۔ان حدود کے نفاذ کا سب سے بڑا  مقصد اسلامی حکومت میں بسنے والے ہر فرد کی عزت وآبرو اور جان ومال کا تحفظ اور انسانیت کی تکریم ہے ۔پھر یہ کہ یہ حدود اندھا دھند نافذ نہیں کر دی جاتیں بلکہ ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے شریعت اسلامیہ  میں کئی شرائط،لوازم،حد درجہ احتیاط اور کڑا معیار شہادت مقرر ہے۔انہی حدود میں سے ایک حد ارتداد ہے۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ : «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ»(بخاری:3017)"جو اپنا دین(اسلام) بدل لے اسے قتل کردو۔"اور تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔لیکن دشمنان اسلام ہر وقت اسلام کی مقرر کردہ ان حدود پر شبہات واعتراضات کی بوچھاڑ جاری رکھتے ہیں اور عامۃ الناس کے قلوب واذہان میں اسلام کے خلاف شکوک پیدا کرتے رہتے ہیں۔انہی مخالفین اور اسلامی حدود سے ناآشنا لوگوں میں سے ایک  سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق قاضی جناب شیخ ایس اے رحمان ہیں ،جنہوں نے ملت اسلامیہ کے سواد اعظم سے اختلاف کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ مرتد کو قتل کی سزا دینا یا کوئی اور تعزیر اس پر لاگو کرنا  نہ صرف نص قرآن بلکہ اصولا آزادی ضمیر کے بھی خلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " جرم ارتداد اور اس کی اسلامی سزا "محترم منظور احسن عباسی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے  موصوف قاضی صاحب کے اس غیر اسلامی خیال کی پرزور تردید کی ہے۔اور عقلی ونقلی دلائل سے اس خیال کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3176
    ارشاد الحق اثری

    3 مسئلہ رفع الیدین پر ایک نئی کاوش کا تحقیقی جائزہ

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے '' نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو'' (بخاری) نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام   کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ   نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 5 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔زیر نظر کتاب '' مسئلہ رفع الیدین پر ایک نئی کاوش کا تحقیقی  جائزہ "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین،محقق اور سکالر مولانا ارشاد الحق اثری صاحب ﷾کی تصنیف ہے ۔ جوانہوں نے گوجرانوالہ کے ایک حنفی  فقیہ مولانا سرفراز خاں صاحب کے ایک تلمیذ کی کتاب"نور الصباح" کے جواب میں لکھی ہے،اور اس کے پیش کردہ مغالطات  وادعات کا بھرپور جواب دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف ﷾کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #2610
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    4 مشکوۃ المصابیح جلد دوم

    اللہ تعالی کی رسی یعنی  قرآن کریم  کے ساتھ انسان کا  تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب  تک  قرآن کریم کی  تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی  آپ کے طریقہ سے نہ ہو  اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے  جب تک اس علم پر عمل  نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں  سے   ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘  کے نام سے معروف    ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے  امام بغوی  نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ  خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔  اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔اس  کتاب کی افادیت کے پیش نظر اس  کے متعدداردو تراجم کیے گئے  اور  جید علماء کرام  نے اس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا  ہے ۔ یہ  مجموعہ جہاں دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے  تووہیں یہ عام پرھے لکھے افراد کےلیے  بھی  روشنی کامینارہ  ہے۔ اصولی طور پر اگر اس کی اہمیت کودیکھا جائے تواحادیث کا یہ  ایسا ذخیرہ ہے  کہ جوہر  ایک  مسلمان گھرانے کی ضرورت ہے  کیونکہ اس میں دین ِاسلام کےتقریبا ہر قسم کے مسائل درج ہیں کہ جن کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کادینی فریضہ ہے ۔زیرتبصرہ   مشکوٰۃ المصابیح کا نسخہ   سیدمحمد  عبداللہ   غزنوی کے   فرزند جلیل   سید محمد عبدالاول غزنوی کا ترجمہ وفوائد   پانچ مجلدات پر مشتمل ہےاور اس میں احادیث کی تخریج  کےساتھ ساتھ شیخ ناصرالدین البانی کی  طرف سے حکم الحدیث کے عنوان  سے صحت وضعف کا حکم  لگا کر حدیث کی اہمیت کو واضح کیاگیاہے ۔محترم  حافظ عبد لخبیر اویسی اور  پروفیسر ابو انس محمدسرور گوہر نے  اس میں  تسہیل ترجمہ وحواشی کا  کام  انتہائی خوش اسلوبی سے کیا  ہے ۔جس  کی وجہ سے  قاری کےلیے     سید عبد الاول غزنویکے ترجمہ وفوائد سے  استفادہ کرنا آسان ہوگیا ہے ۔ اللہ  تعالیٰ اس کتاب کی تیاری میں شامل تمام احباب کی مساعی جمیلہ کو شرف ِقبولیت سے  نواز ے ۔جلد اول  کے  شروع میں  ائمہ  محدثین  کے  حالات واحوال پر  مشتمل  طویل  مقدمہ اور  جلد پنجم کے  آخر میں’’ الاکمال فی اسماء الرجال ‘‘کا ترجمہ بھی شامل  اشاعت  ہے  جو کہ طالبانِ حدیث کے لیے  انتہائی مفید ہے ۔(آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1142
    محمد یوسف اصلاحی

    5 شعور حیات

    شعور حیات محمد یوسف اصلاحی صاحب کی تصنیف ہے جو ماہنامہ ’ذکری‘ کے ابتدائی سالوں کے اداریوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے متفرق موضوعات پر چھوٹی چھوٹی ایسی تحریریں جمع کر دی ہیں جو تربیت و تزکیہ اور اصلاح و انقلاب کے لیے مفید ہیں۔ اس کتاب کا اصل مقصود یہ ہے کہ ایک داعی کے دل میں موجود اصلاح کی آنچ اور چنگاری کو بجھنے نہ دے اور فرد سے لے کر جماعت تک کے قلب و ذہن میں اس زندگی کا شعور بیدار کر دے۔ ہمارے ہاں مذہبی زندگی ہو یا غیر مذہبی، لوگوں کی اکثریت لاشعوری طور اس دنیا میں اپنی زندگی کے دن پوری کر رہی ہوتی ہے مثلا مذہبی افراد کے لیے عبادات اور معاملات ایک رسم، روٹین اور عادت کا درجہ بن جاتی ہیں جبکہ دنیادار طبقے کے ہاں تو اس مادی زندگی کی لذات اور آسائشوں کے علاوہ کسی شیئ کی اہمیت ہی نہیں ہے۔ اخروی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے انسان کے پاس صرف ایک ہی موقع ہے اور یہ اس دنیا کی حیات مستعار ہے جو صرف ایک ہی بار ملتی ہے۔ یہ حیات مستعار وہ واحد پونجی ہے جو اگر ضائع ہو گئی توپھر دوبارہ نہیں ملے گی۔ اس اعتبار سے اس زندگی کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اس فانی زندگی کو کس طرح صحیح رخ پر لگا کر ہم اخروی فوز و فلاح حاصل کر سکتے ہیں، اس بارے اس کتاب میں مفید رہنمائی کی گئی ہے۔ اس کتاب کے متفرق مضامین میں اگرچہ کوئی منطقی ربط تو موجود نہیں ہے لیکن ایک چیز جامع ہے کہ اس کتاب کے ہر موضوع کا مقصود انسان میں شعوری بیداری پیدا کرنا ہے کہ وہ جب بھی کسی کام کو کرے تو سوچ سمجھ کر اور پورے شعور کے ساتھ سر انجام دے اور یہی شعوری بیداری اس کی اس فانی زندگی کو کامیاب بنا سکتی ہے۔(ت۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #517
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    6 فتاوی اسلامیہ جلد 2

    شرعی  احکام اور مسائل دینیہ سے آگاہی  ہر مسلمان مرد اور عورت کی ضرورت ہے اور اس روحانی تشنگی کی سیرابی کے لیے شروع اسلام سے عامۃ الناس کی راہنمائی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سائلین کا خود تشفی بخش جواب دیتے ۔بعض اوقات مسائل کی پیچیدگیوں کی عقدہ  کشائی کے لیے  وحی کا نزول ہوتا ۔پھر صحابہ کرام ،تابعین ،تبع تابعین اور علماء و محدثین نے اس ذمہ داری کو نہایت اچھے انداز سے نبھایا۔اگرچہ قدیم علماء کے فتاویٰ کافی تعداد میں  موجود ہیں لیکن ہر دور میں فتویٰ طلبی  اور نت نئے مسائل جنم لینے کی وجہ سے ایسے مسائل کی وضاحت کی اہمیت برقرار رہی بلکہ فتویٰ طلبی کی ضرورت او رافتاء کی اہمیت میں اضافہ ہوتا رہا ہے ۔پاکستان  میں کئی جید علماء اپنے طور یاکسی جماعت کے پلیٹ فارم پر عوام الناس کے دینی مسائل کے جوابات قلمبند کر رہے ہیں اور کئی علماء کے فتاویٰ منصہ شہود پر آکر داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔لیکن زیر نظر فتاویٰ اسلامیہ کا اسلوب عام فتاویٰ سے جداگانہ ہے کیونکہ یہ فتاویٰ جات مختلف نامور عرب علماء کے ہیں کہ جن کی علمی حیثیت کو دنیا تسلیم کرتی ہے اور عرب علماء کے پینل کے فتاویٰ میں علمی رسوخ اور پختگی تنہا عالم سے کہیں زیادہ ہے۔پھر عرب علماء کا  طریقہ استدلال انتہائی جانشین اور انداز بیان انتہائی شائستہ اور عام فہم ہے ایک عام قاری کو بھی ان فتاویٰ کے سمجھنے میں ذرا دقت نہیں ہوتی ۔پھر سونے پہ سہاگہ کہ  اس  کا ترجمہ نشرو اشاعت کے عالمی مسلمہ ادارے دارالسلام کی طرف سے کیاگیا ہے جس کی کتب کی طباعت و شستہ تحریر کے اپنے اور بے گانے سبھی معترف ہیں ۔مترجم فتاویٰ چار جلدوں پر مشتمل ہے مترجم کی سلاست روانی قاری کو پریشان نہیں ہونے دیتی اور مترجم نے مفتیان کی تحریروں کی ایسی جاندار ترجمانی کی ہے کہ یہ ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا۔یہ کتاب علمی ،فنی ،تکنیکی ہر اعتبار سے بے مثال ہے جو زندگی کے تمام مسائل،عقائد،نظریات،عبادات ،آداب و معاشرت الغرض زندگی  میں پیش آمدہ مسائل کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے ۔لہذا صاحب استطاعت لوگوں اور علمی  ذوق کے حامل افراد کا اس کتاب کو خریدنا، گھر پر رکھنا اور زیر مطالعہ لانا از حد ضروری ہے ۔(وما توفیقی الا  باللہ )

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39798441

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں