کل کتب 21

دکھائیں
کتب
  • 1 #3739

    مصنف : ڈاکٹر محمود احمد غازی

    مشاہدات : 3802

    ادب القاضی

    (اتوار 08 نومبر 2015ء) ناشر : ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ آپ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد خلفاء راشدین سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے دور ِخلافت میں دور دراز شہروں میں متعدد قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات کو کتبِ احادیث میں نقل کیا ہے۔اوربعض اہل علم نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات قضا کےاصول آداب اور طریق کار پر متعد د کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ادب القاضی ‘‘ ڈاکٹر محمود احمد غازی ی‎﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔یہ کتاب عدالتی نظام اورعدالتی طریق کار کےاہم پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔موضوع سےمتعلق قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اور آثار صحابہ مربوط شکل میں پیش کرنے کے بعد فاضل مصنف نےاہم عدالتی دستاویزات ، نظام قضاء ،سماعت مقدمہ اور فیصلے لکھنے کا اسلامی طریق کار عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ مسلمانوں کے عدالتی نظام کےمعاون اداروں سے متعلق ہے۔یہ کتاب شبعہ قانون سے وابستہ جج صاحبان ،وکلاء کرام طلبہ قانون اور اسلامی شریعت کےمیدان میں کام کرنے والوں کولیے ایک عمدہ تحقہ ہے۔(م۔ا)

  • 2 #3683

    مصنف : ابن قیم الجوزیہ

    مشاہدات : 3386

    اسلام میں عدل کے ضابطے

    (جمعرات 22 اکتوبر 2015ء) ناشر : فاروقی کتب خانہ، ملتان

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام میں عدل کے ضابطے‘‘ امام ابن قیم ﷫ کی معروف کتاب ’’الطرق الحکمیۃ فی السیاسۃ الشرعیۃ‘‘ کااردوترجمہ ہے۔ اس کتا ب میں امام صاحب نےشرعی سیاست ،اسلامی نظام حکومت اور نظام حکومت اور نظام عدل ، اسلام کا عدالتی طریقہ کار ، اسلامی ضابطہ ہائے عدل وانصاف ، شرعی مناہج قضا جیسی مباحث کو بہترین اندازمیں بیان کیاہے ۔ یہ کتاب اسلامی شریعت کے نفا ذ کے لیے جدوجہد کرنے والوں خصوصاً علماء اور قانون دان حضرات کے لیے بہت فائدہ مند ہے ۔پاکستا ن کے وکلاء اور جج صاحبان کے لیے اس کا مطالعہ انتہائی مفید ہے۔فقہ اسلامی کےاردو ذخیرہ میں یہ کتاب ایک گرانقدر اضافہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم وناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائےاوراسے عوام الناس کےلیے باعث نفع بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • 3 #6678

    مصنف : ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

    مشاہدات : 1468

    اسلام میں قانون ٹارٹ کا تصور

    (جمعرات 05 جولائی 2018ء) ناشر : شریعہ اکیڈمی اسلام آباد

    لفظ ٹارٹ  لاطینی زبان کےلفظ TORTUM    سے ماخوذ ہے جس کے معنی ٹیڑھے کے ہیں ۔ٹارٹ سے مراد کسی ایسے  فرض کی خلاف ورزی ہے جو کسی معاہد ےکی بنا پر عائد نہ ہو  او رجس کےنتیجے  میں کسی ایسے قطعی فرض کی خلاف ورزی ہو جس کا کوئی دوسرا شخص حق دار ہو یا کسی شخص کے  کسی محدود ذاتی، شخصی ، خانگی حق کی خلاف ورزی کی وجہ سےخاص نقصان پہنچے یا اس خلاف ورزی کی وجہ سے  عام  افراد کو نقصان پہنچے۔فقہ اسلامی  میں  ٹارٹ کا متبادل لفظ جنایہ ہے اور جنایہ  سےمرادایسا گناہ اور جرم  ہےجس کے کرنے سے انسان پر اس دنیا میں سزا یا قصاص واجب  ہوجاتاہے اور آخرت میں بھی  مستحق عذاب ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اسلام میں قانون ٹارٹ کا تصور‘‘ جناب ڈاکٹر علی خان نیازی کی کاوش ہے۔ جس   میں انہوں نے   قانون ٹاٹ کے تصور کو فقہ اسلامی  اور  جدید قوانین کی روشنی میں  تفصیلاً بیان کیا ہے۔(م۔ا)

  • 4 #6676

    مصنف : حبیب الرحمن

    مشاہدات : 1459

    اسلام کا قانون قسامت

    (بدھ 04 جولائی 2018ء) ناشر : شریعہ اکیڈمی اسلام آباد

    قَسامَت کا مطلب یہ ہے کہ کسی جگہ مقتول پایا جائے اور قاتل کا پتہ نہ ہو اور اولیائے مقتول اہل محلہ پر قتل عمد یاقتل خطا کا دعویٰ کریں اور اہل محلہ انکار کریں تو اس محلے کے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ نہ ہم نے اس کو قتل کیا ہے اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں۔اسلامی شریعت میں انسانی جان کی حرمت اور تحفظ کے لیے جو احکام وضع کیے گئے ہیں قانون قسامت ان میں سے ایک ہے جو کہ دراصل جرمِ قتل کے ثبوت سے متعلق ہے جب قاتل نامعلوم ہو اور اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہ ہوں۔حافظ حبیب الرحمٰن صاحب  کی   زیر نظر کتاب ’’اسلام  کا قانون قسامت‘‘اسی موضوع سے متعلق فقہی آرا کے جائزے پر مشتمل ہے۔اسلام کا  نظام عقوبات  ہر لحاظ سے جامع ،ہمہ گیر  اور شریعت کے مقاصد سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ  تمام جدیدترین آراء اور جملہ ترقی یافتہ اصول  ونظریات   کو اپنے دامن میں رکھنے کے باوجود جدید قوانین کا مقام ومرتبہ اسلامی قانون کےمقابلہ میں انتہائی پست اورکمزور ہے ۔لیکن بدقسمتی سےاسلام کے قانون فوجداری سے  ناواقفیت کی وجہ سے یہ غلط تصور عام ہے کہ یہ قانون نہ دور ِجدید کے مطابق ہے اور نہ ہی آج کے  ترقی یافتہ دور میں ہوسکتا ہے ۔ حالانکہ  یہ تصور حقائق کے خلاف ہے کیونکہ عموماً قانون سے  وابستہ افراد کو اس کےبارے میں سرسری معلومات بھی نہیں ہیں ۔قانون دان طبقہ کی اس ضرورت کےپیش نظر شریعہ اکیڈمی ، اسلام  آباد نے اسلام کے قانون فوجداری کے تمام پہلوؤں کو اپنی حقیقی شکل وصورت میں پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے کتاب ہذا   ’’اسلام  کا قانون قسامت‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک  کاوش ہے ۔(م۔ا)

  • 5 #5790

    مصنف : تقی الدین احمد بن تیمیہ

    مشاہدات : 2049

    اسلام کا نظام حسبہ

    (بدھ 20 ستمبر 2017ء) ناشر : شریعہ اکیڈمی اسلام آباد

    اسلام اللہ کا وہ بہترین اور پسندیدہ مذہب ہے جو قیامت تک ساری دنیا کے لیے رشدوہدایت کا سبب ہے‘ وہی ذریعہ نجات ہے‘ رضائے الٰہی کا سبب ہے۔ اس عظیم کا مذہب کا مرجع ومصدر اور اس کی بنیادوہ وحی الٰہی ہے ۔ اوریہی ضابطۂ حیات ہے‘ قرآن وحدیث سے ہمیں اعمال پر محاسبہ کرنے کا واضح اشارہ ملتا ہے اور احادیث مین ایمان کے ساتھ احتساب کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اسلامی نظام زندگی میں عدل وانصاف کویقینی بنانے اور معاشرے کو منظم ومستحکم کرنے کے لیے بہت سے ادارے متعارف کروائے گئے جن میں سے ایک ادارہ احتساب ہے۔محاسبہ انفرادی ہو یا اجتماعی‘ اصلاح معاشرہ اور قیام عدل کے لیے نہایت ضروری ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  اسی موضوع( حسبہ/محاسبہ)  کو زیر بحث لایا گیا ہے۔امام ابن تیمیہ نے سب سبے پہلے الحسبہ فی الاسلام کے عنوان سے کتاب مرتب کی اور اس میں تمام ضروری ابحاث  کو جمع کر دیا۔یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں تالیف کی گئی جس کا شریعہ اکیڈمی نے اردو ترجمہ کیا اور ترجمہ نہایت سلیس اور عام فہم ہے۔ اس میں منقول احادیث وآثار کے واضح حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں اور حسبہ کے فکری وتاریخی پس منظر اور مؤلف کے مختصر تعارف کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام کا نظام حسبہ ‘‘ شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن تیمیہ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 6 #3487

    مصنف : سید عبد الرحمن بخاری

    مشاہدات : 2275

    اسلامی ریاست میں عدل نافذ کرنے والے ادارے

    (ہفتہ 15 اگست 2015ء) ناشر : مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور

    ایک زندہ انسانی وجود کو جتنی ضرورت آکسیجن کی ہوتی ہے تقریبا اتنی ہی ضرورت نفاذ اسلام میں قیام عدل کی ہے۔کیونکہ قیام عدل کے بغیر اسلامی نظام کا کوئی بھی جز اپنی صحیح صورت میں نشو و نما نہیں پا سکتا ہے۔اسی لئے قرآن مجید اور سنت رسول اللہ ﷺ میں عدل کو قائم کرنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔پاکستان میں عدل قائم کرنے کے راستے میں بے شمار دشواریاں اور رکاوٹیں ہیں۔ان رکاوٹوں میں سے  سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی تک وہ ادارے صحیح معنوں میں قائم نہیں ہو سکے ہیں جن کے توسط سے اسلام کا حقیقی نظام عدل قائم کیا جا سکے۔یہ کام قدرے صبر آزما اور دیر طلب بھی ہے ،اگر کوئی چاہتا ہے کہ چند مہینوں میں یہ کام ہو جائے تو اس کی یہ خواہش درست نہیں ہے۔تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس کا  م کو کٹھن سمجھ کر ہمت ہی ہار دی جائےاور کسی قسم کی پیش رفت ہی نہ کی جائے۔کام کرنا ہوگا اور محنت کرنا ہوگی ان شاء اللہ جلد یا بدیر کامیابی حاسل ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی ریاست میں عدل نافذ کرنے والے ادارے" محترم جناب سید عبد الرحمن بخاری صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ان خطوط کی نشاندہی کی ہے جن کی بنیاد پر نفاذ عدل کے اداروں کی تشکیل یا اصلاح کی جا سکتی ہے۔فاضل مقالہ نگار کا یہ مقالہ پہلےدیال سنگھ لائبریری سے شائع ہونے والے  سہ ماہی مجلے منہاج  کے اسلامی نظام  عدل نمبر شمارہ جنوری 1974ء میں شائع ہوا اور اہل علم نے اسے بہت پسند فرمایا۔لہذا مقالے کی افادیت کے پیش نظر اسے کتابچے کی شکل میں شائع کر دیا گیا جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 7 #3744

    مصنف : پروفیسر رفیع اللہ شہاب

    مشاہدات : 4481

    اسلامی ریاست کا عدالتی نظام

    (منگل 10 نومبر 2015ء) ناشر : قانونی کتب خانہ لاہور

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے۔اوربعض  اہل علم نے  نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات پرمشتمل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلامی ریاست کا عدالتی نظام ‘‘ پروفیسر رفیع اللہ شہاب کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں  انہوں نے  اسلام سے  قبل  عدالتی  نظاموں کو مختصرا پیش کرنے کے بعد دورِ رسالت سے لےک موجودہ دور تک اسلام کے  عدالتی نظام کی تفصیلات پیش کی ہیں ۔(م۔ا)

  • 8 #1979

    مصنف : قاضی مجاہد الاسلام قاسمی

    مشاہدات : 4514

    اسلامی عدالت

    (پیر 14 اپریل 2014ء) ناشر : ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ کراچی

    انسانی معاشرہ میں فسادکو ختم کرنے اور اور اللہ تعالی کی متعین کردہ حدود کو اس معاشرہ میں قائم رکھنے کا نام عدل ہے اسی عدل کے قائم کرنے والے کانام قضاء ہے قضاء کیا ہےقاضی کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں؟اور اسلامی عدالت میں کیا طریقہ کار ہونا چاہیے زیرنظر کتا ب اسلامی عدالت از مجاہد الاسلام قاسمی اس موضوع پر اردو دفعات پر مشتمل فقہ اسلامی کی پہلی کتاب ہے جو نہایت جامع اور مستند ہے اس کتاب کی ترتیب میں تمام ائمہ فقہ کی آراء سےاستفادہ کیا گیا ہے ۔(م۔ا)

     

     

  • 9 #3687

    مصنف : سید محمد متین ہاشمی

    مشاہدات : 2761

    اسلامی نظام عدل کا نفاذ مشکلات اور ان کا حل

    (ہفتہ 24 اکتوبر 2015ء) ناشر : مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور

    اسلام کا نظامِ عدل اپنے  تصور انسان ، صفتِ دوام ،مساوات، تصور آخرت وخوف  الہ ، نظام عقوبات ، تصور قضا ، شہادت کے معیار اور سیدھے سادے طریق کار کی بنا پر دنیا کےتمام نظامہائے عدل سے ارفع اور فائق ہے۔ مغرب کےنظامِ عدل کوترمیمات کےذریعہ اسلامی  نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔ اس لیے  کہ اسلام کے نظام ِ عدل میں تصور انسان دوسرا ہے اور مغرب کے نظام میں دوسرا اور  تصور انسان ہی وہ بنیاد ہے جس پر قوانین کی تدوین عمل میں آتی ہے۔اس لیے وطن عزیز میں  اسلامی  نظام عدل کو ہی نافذ کرنا چاہیے۔ اور یہ سمجھنا کہ اسلامی نظام  کےنفاذ کی ذمے داری صرف حکومت پر عائد ہوتی ہے غلط ہے بلکہ یہ پاکستان کے ہر باشندے کی ذمہ داری ہے  کہ جن بنیادوں پر اس مملکت کا  قیام ہوا تھا انہیں بہر صورت وبہر قیمت مستحکم کیا جائے  اور اس کام کی انجام دہی میں ہر شخص  حسبِ حیثیت اپنا فر ض ادا کرے ۔ جنرل ضیاء کےدور حکومت میں  پاکستان میں  اسلامی  نظام عدل کے نفاذ کی کوششیں کی  گئیں اور اس کے لیے عملی اقدامات بھی کیے گئے لیکن  یہ کوششیں بار آور نہ ہوسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلامی  نظام ِعدل کا نفاذ مشکلات ان کا حل‘‘مولاناسیدمحمد  متین ہاشمی ﷫ کی کاوش ہے اس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ اسلامی نظامِ عدل کی ایسی  چند امتیازی خصوصیات جو  دیگر نظامہائے عدل سے ممتاز کرنے  والی ہیں کو بیان کر کےبعد  پاکستان میں اسلامی  نظامِ عدل کے نقاذ میں مشکلات اوران کا  حل  کو  بڑے احسن انداز میں  بیان کیا ہے۔ اللہ  تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 10 #3112

    مصنف : محمد بن الفرج ابن الطلاح الاندلسی

    مشاہدات : 2403

    اقضیۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اردو ترجمہ )

    (اتوار 26 اپریل 2015ء) ناشر : ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام ِعدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیاتِ مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے  ۔اور کئی اہل علم  نے   اس سلسلے میں   کتابیں تصنیف کیں ان میں سے   زیر تبصرہ اہم  کتاب امام ابو عبد اللہ  محمدبن  فرج  المالکی   کی  نبی  کریم ﷺ کے  فیصلوں پر مشتمل   ’’اقضیۃ الرسول  ﷺ ‘‘ ہے  ۔ یہ کتاب  ان فیصلوں اورمحاکمات پر مشتمل ہے جو  نبی ﷺ نے اپنے 23 سالہ دور نبوت میں مختلف مواقع پر صادر فرمائے۔یہ  عظیم الشان کتاب   ڈاکٹر اعظمی صاحب  کی تحقیق سے قبل  ناباب تھی  قدیم رسم الخط میں اس کے چند نسخے دنیا کی مختلف لائبریریوں میں موجود تھے ۔لیکن ڈاکٹر ضیاء الرحمن  اعظمی ﷾نے جامعہ ازہر ،مصر میں اس  کتاب  گرانقدر کی تحقیق پر پی   ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے اس کتاب کو  نئی زندگی بخشی۔ موصوف نے  اس کی تحقیق وتدقیق میں انتہائی محنت اور جانفشانی  سے کام لیا  کتاب میں  وارد شدہ احادث  کی تخریج کی  اور فن  جرح تعدیل ک ےمسلمہ اصولوں کےمطابق ان  کی صحت وعدم صحت  و اضح کیا  اوراس کے ساتھ ساتھ  انہوں نے  ان احادیث سے مستنبط ہونے والے  فقہی اور قانونی احکام کے بارے  میں مختلف فقہی مسالک بھی بیان کردیے ہیں۔ او رکتاب کے آخر میں انہوں نے  استدراکات  کے عنوان سے آنحضور ﷺ کی مزید ان  احادیث وقضایا کا اضافہ بھی کردیا ہے  جو کسی وجہ  سے اصل کتاب میں شام  ہو نے  سے راہ گئے تھے ۔علاوہ ازیں انہوں نے کتاب کے شروع میں ایک مفصل مقدمہ لکھ اسلامی قانون کی اہمیت اور قانون نافذ کرنے  والے  اداروں اور افراد کے کردار او رذمہ داریوں پر بھی  تفصیل سے روشنی  ڈالی ہے ۔ کتاب کے آخر میں  مراجع، اعلام اور  عنوانات کی تفصیلی فہارس کا اضافہ کر کے اس کے  استفادہ کو زیادہ سے زیادہ آسان بنادیا ہے۔ یہ کتاب  قانون دان حضرات اور اسلامی آئین وقانون کے نقاذ سےدلچسپی رکھنے والے  احباب کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے  ادارہ   معارف اسلامی منصورہ نے  تقریبا  28  سال قبل اس کاترجمہ کر وا کر اسے  حسن ِطباعت سےآراستہ کیا ۔اللہ تعالیٰ مصنف ، محقق ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اس کو  وطن عزیز میں اسلامی آئین وقانون کی تدوین وتفیذ کا ایک  مؤثر ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1357
  • اس ہفتے کے قارئین 5221
  • اس ماہ کے قارئین 43615
  • کل قارئین49301234

موضوعاتی فہرست