• مختلف اہل علم

    امت مسلمہ مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام پر ہر دور میں متفق رہی ہے ۔لیکن مرزا قادیانی کے کچھ نفس پرستوں نے خود ساختہ عقلی دلائل کا سہارا لے کر مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام پر امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اور الحمد اللہ ہمارے بزرگان دین اور علماءکرام نے ایسے فتنوں کا پوری طرح تعاقب کیااور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جب یہود نے عیسی علیہ السلام کو صلیب دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تو قرآن نے جو فرمایا کہ 'اللہ نےانہیں اپنی طرف بلند کردیا 'وہ حقیقت میں انہیں بلند نہیں کیا گیا تھا بلکہ انکے درجات بلند کردیے گئے تھے ، اس جگہ پر درجات کے بلند ی کا یہ فیدہ ہوا کہ صلیب پر وہ زندہ رہے اور یہود کو شبہ لگ گیا کہ وہ وفات پاچکے ہیں اور وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے، عیسی پھر کسی اور علاقہ میں چلے گئے وہاں تقریبا نصف صدی حیات رہے پھر طبعی وفات پائی اور انکی قبر کشمیر میں ہے۔یہی عقیدہ تھوڑی سی کمی پیشی کیساتھ غامدی صاحب کا بھی ہے ، یہ بھی ان قادیانیوں کی طرح وفات عیسی کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن کہانی تھوڑی سی مختلف بیان کرتے ہیں۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کو صلیب کے قریب ہی موت دی گئی پھر انہیں کہیں دفن کرنے کے بجائے انکا جسم آسمان پر اٹھا لیا گیااور اب وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ حیات عیسی بن مریم علیہ السلام"میں 24 کبار علماء کرام کے فتاوی کی روشنی میں مسئلہ حیات عیسی بن مریم کو ثابت کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مفتی علماء کرام اورمرتب کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • نا معلوم

    تفسیر کا معنی بیان کرنا یا کھولنا یا کسی تحریر کےمطالب کوسامعین کےقریب ِفہم کردینا ہے ۔قرآن مجید ایک کامل ومکمل کتاب ہے مگر اس کوسمجھنے کےلیے مختلف علوم کی ضرورت ہے ۔قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کرنا اور ان کامطلب بیان کرنا علم تفسیر ہے اور علم تفسیر وہ علم ہے جس میں الفاظِ قرآن کی کیفیت ،نطق،اور الفاظ کے معانی اور ان کےافرادی ترکیبی حالات اور ان کے تتمات کا بیان ہوتاہے ۔ قرآن کلام الٰہی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ میں ایسی قابلیت پیدا کردی تھی کہ آپ منشاء الٰہی کو سمجھ جاتے تھے   اور آپ کو وحی جلی اور وحی خفی کے ذریعہ سےاحکام سے آگاہ بھی کردیاجاتا تھا ۔جو سورت یاآیت نازل ہوتی آپ مسلمانوں کو اس کامطلب سمجھادیتے تھے ۔اس لیے قرٖٖآن مجید کےمفسر اول حضور ﷺ اور پہلی تفسیر حدیث ِرسول ﷺہے ۔آپ ﷺ نے قرآن کی جو تفسیر بیان کی اس کا کچھ حصہ آپ کی حیات ِمبارکہ میں ہی ضبط تحریر میں آیا او رکچھ حصہ صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ رہا جو اس عہد کے بعد ضبطِ تحریر میں آیا ۔عہد خلافت راشد ہ میں مسلمانوں کی زیادہ توجہ حفظ قرآن اور تدوین حدیث اور ملکی معاملات پر رہی اس لیے تفسیر کے نام سے سوائے تفسیر ابی بن کعب اور تفسیر ابن عباس کےاورکوئی تفسیر کی کتاب مرتب نہیں ہوئی۔ اس کے بعد عصر حاضر تک قرآن کریم کی ہزاروں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں اور ہر صدی میں متعدد کتب تفسیر کی کئی لکھی گئیں۔اس کے علاوہ قرآن کریم کےمتعدد پہلوؤں پر علمی و تحقیقی کام موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن مجید کی تفسیریں چودہ سو برس میں ‘‘خدابخش لائبریری، انڈیا کےزیر اہتمام 1989ء میں قرآنیات کے موضوع پر ہونے والے ایک سیمنار میں نامور 41 اہل علم کے   تفسیر، تاریخ تفسیر،تذکرہ مفسرین اور علوم قرآن پر پیش کیےگئے مضامین ومقالات کامجموعہ ہے۔ جسے خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری آف پٹنہ کی انتظامیہ نے مرتب کر کے کتابی صورت میں شائع کیا۔ یہ کتاب اہل علم اورطالبان ِعلوم نبوت کے لیے مفسرین اور کتب تفاسیر کے تعارف کے حوالے سے قیمتی تحفہ ہے اللہ تعالی ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔اسلام نے اپنی پوری تاریخ میں ریاست کی اہمیت کوکبھی بھی نظر انداز نہیں کیا۔انبیاء کرام﷩ وقت کی اجتماعی قوت کواسلام کےتابع کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی دعوت کا مرکزی تخیل ہی یہ تھا کہ اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کےلیے خالص ہو جائے اور شرک اپنی ہر جلی اور خفی شکل میں ختم کردیا جائے ۔قرآن کےمطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ،حضرت موسی، حضرت داؤد،﷩ اور نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ اسلامی ریاست قائم بھی کی اور اسے معیاری شکل میں چلایا بھی۔اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا اور کا اسی کانتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی ریاست کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں جس طرح اخلاق اور حسنِ کردار کی تعلیمات موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت،تمدن اور سیاست کے بارے میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی ریاست ‘‘ معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ﷫ کی تصنیف ہے اس کتاب میں مملکت کےنظم ونسق ، مالیاتی نظام ، قانون سازی عدالتی نظام، نظام تعلیم، تبلیغ اور بین الاقوامی قانون سے تعلق رکھنے والے متعدد مسائل پرعہد رسالت کےطرز عمل سے استشہاد کیا گیا ۔اس کتاب کے بعض مضامین مصنف موصوف کےبعض فی البدیہہ خطبات اور ان کےضمن میں اٹھنے والے فکر انگیز سوالوں کے عالمانہ جوابات پر مشمتل ہیں۔(آمین)(م۔ا)

  • حافظ غلام حسین

    اسلام انسانی مساوات، اخوت اور ہمدردی کا مذہب ہے۔ اسلام دنیا میں اﷲ تعالیٰ کے آخری اور مکمل پیغام کی صورت میں دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔ اسلام کے اصولوں نے ہر مسلمان کو یہ سکھایا ہے کہ وہ بلا لحاظ رنگ و نسل اپنے پڑوسیوں اور اقلیتوں کی حفاظت کرے اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مسلمانوں کو غیر مذاہب کے لوگوں کے لیے رواداری کا سلوک کرنے کی تلقین کی ہے بلکہ انھیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ ان کی حفاظت میں غیر مسلموں کی جو عبادت گاہیں ہیں ان کا تحفظ ان کا فرض ہے۔اسلام کی خصوصیت اور وصف یہ ہے کہ وہ دین رحمت ہے، دین حیات ہے، دین انسانیت ہے، دین الٰہی ہے، دین معرفت ہے، اس بنا پر اگر اسلام ان موضوعات کا نام ہے تو یہ حقیقت بھی بالکل واضح ہے کہ معاشرے میں ہر مذاہب اور فرقے کے انسان رہتے ہیں اور اکثر اوقات انسان کا ایک دوسرے سے واسطہ رہتا ہے، انسان معاشرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔غیر مسلموں کے لیے ہمارے دین اسلام میں کتنی رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم ہے، اس بات کا اندازہ کرنا ہو تو نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پر ایک نظر ڈالیں، ساری شکایتیں دور ہو جائیں گی۔ آپؐ نے غیر مسلموں کے ساتھ جو احسان و ہمدردی اور خوش اخلاقی کے معاملات کیے، ان کی دنیا جہان میں نظیر ملنا مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی حکومت میں اقلیتیں "محترم حافظ غلام حسین صاحب  ریسرچ آفیسر مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے اسلامی حکومت میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق پر تفصیلی گفتگو کی ہے،اور دشمنان اسلام کے منہ بند کر دئیے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • وحید الدین خاں

    اللہ تعالیٰ  نے انسان  کی فطرت  کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی  کو اختیار کرنے  اور بدی  سے  بچنے کی خواہش ودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو  لوگوں  تک پہنچایا اوران کو شیطان  سے  بچنے اور رحمنٰ  کے راستے   پر چلنے کی دعوت  دی ۔دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے،امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے۔  اور دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغامِ حق ہر فرد تک پہنچانے  کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، منہج  دعوت  اور اصول  دعوت  کے حوالے  سے   اہل  علم  نے عربی اور اردو  زبان  میں کئی کتب تصنیف کی  ہیں  ۔ان میں سے ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی  کتب قابل ذکر ہیں  جوکہ آسان فہم  او ردعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پیدا کرنے میں ممد و معاون ہیں۔ زیرتبصرہ  کتاب   ’’دعوت ِ ااسلام ‘‘ از مولانا وحید الدین خاں بھی اسی سلسلہ کی  کڑی ہے۔ مصنف موصوف نے  دعوت کے مختلف پہلوؤں کو اس کتاب میں حسب ذیل  عنوانات وابواب(پیغام دعوت ،  عمل دعوت ،  واقعاتِ دعوت،امکاناتِ دعوت  ،آداب ِ دعوت )کے تحت واضح کیاہے ۔ اللہ  تعالی ٰاس  کتاب کو  مسلمانوں  میں جذبۂ  دعوت پیدا  کرنے کا ذریعہ  بنائے  (آمین)  (م۔ ا)

  • مسعود عالم ندوی

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "الترجمۃ العربیۃ" محترم مولانا مسعود عالم ندوی﷫ اور محترم مولانا محمد عاصم الحداد﷫ کی مشترکہ کوشش ہے۔ جسے ڈاکٹر محمد اقبال نکیانہ صاحب کے زیر اشراف عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق منفرد انداز میں طبع کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے تین حصے ہیں جن میں سے دو حصے اس جلد میں شامل ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے عربی گرائمر کے اصول وضوابط مشقی انداز میں بیان کئے ہیں تاکہ اردو دان طبقہ اس کتاب کی مدد سے عربی پڑھنے، بولنے،لکھنے اور ترجمہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو سکیں۔اللہ تعالی سے دعا کہ وہ اس کتاب کے مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ شام کے معروف عالم دین  ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی﷾ ظہران یونیورسٹی سعودی عرب کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔اب تک وہ چاروں خلفاءے راشدین  کی فقہ کے علاوہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن مسعود   اور جلیل القدر فقیہ سیدنا امام ابراہیم نخعی ﷫کی فقہ پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا مرتب کر چکے ہیں اور شاید ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ اس سلسلے کو دیگر ائمہ و فقہاء تک لے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہ حضرت علی  " اسی انسائیکلو پیڈیا کی چوتھی جلد اور چوتھی کڑی ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد القیوم صاحب﷾ نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • نواب صدیق الحسن خاں

    برصغیر  میں علومِ اسلامیہ،خدمت ِقرآن اور عقیدہ سلف کی نصرت واشاعت کےسلسلے میں نواب صدیق حسن خاں﷫ (1832۔1890ء) صدیق حسن خان قنوجی رحمہ اللہ کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ علامہ مفتی صدر الدین ، شیخ عبد الحق محدث بنارسی ، شیخ قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی ـ شیخ یحیی بن محمد الحازمی ، قاضی عدن ، علامہ سید خیر الدین آلوسی زادہ جیسے اعلام اور اعیان سے کسب ِفیض کیا۔آپ کی مساعی جمیلہ روزِروشن کی  طرح عیاں ہیں ۔ عربی ، فارسی ، اردو تینوں زبانوں میں دو سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں او ردوسرے  علماء کو بھی تصنیف وتالیف کی طرف  متوجہ کیا،ان کے لیے  خصوصی وظائف کا بندوبست کیا او راسلامی علوم وفنون کے اصل مصادر ومآخذ کی از سرنو طباعت واشاعت کاوسیع اہتمام کیا۔نواب  محمدصدیق  حسن خان﷫ نے علوم ِاسلامیہ کے تقریبا تمام گوشوں سے متعلق مستقل تالیفات رقم کی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا دینی  وعلمی  موضوع ہو جس پر نواب صاحب نے کوئی مستقبل رسالہ یا کتاب نہ  لکھی  ہو۔حدیث پاک کی ترویج  کا ایک انوکھا طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ کتب ِاحادیث کے حفظ کا اعلان کیا ـ اور اس پر معقول انعام مقرر کیاـ چنانچہ صحیح بخاری کے حفظ کرنے پر ایک ہزار روپیہ اور بلوغ المرام کے کے حفظ کرنے ایک سو روپیہ انعام مقرر کیا ـجہاں نواب صاحب نے خود حدیث اور اس کے متعلقات پر بیش قیمت کتابیں تصنیف کیں وہاں متقدمین کی کتابیں بصرف کثیر چھپوا کر قدردانوں تک مفت پہنچائیں ـدوسری طرف صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک کے اردو تراجم و شروح لکھوا کر شائع کرانے کا بھی اہتمام کیا ـ تاکہ عوام براہ راست علوم سنت سے فیض یاب ہوں۔ زیر نظرکتاب’’ابقاء المنن بإلقاء المحن  ‘‘ سید نواب صدیق حسن خان قنوجی کی خود نوشت سوانح حیات ہے  جسے  نواب صاحب  نے  بعض جليل القدر اسلاف  کے تتبع میں مرتب  کیا  جس کی انہوں نے آغاز میں صراحت  کی  ہے ۔  مولانا محمد عطاء اللہ حنیف  ﷫ کے ایما  پر  مولانا خالد سیف   ﷾ نے اس کی تسہیل اور    قاری نعیم الحق نعیم ﷫نے  تنقیح وتصحیح اور نظر ثانی  کا کام  بڑی محنت اور لگن سے  سرانجام دیا ۔نواب صاحب  کی اس تسہیل شدہ  خودنوشت سوانح حیات کو دار الدعوۃ السلفیہ  نے تقریبا تیس سال قبل  طباعت سے آراستہ کیا  ۔ یہ کتاب  عوام وخواص ، اہل علم واہل دانش ،اہل دین واہل دنیا، حاکم ومحکوم، علماء وطلباء اور راعی ورعایا سب کےلیے یکساں مفید اورنہایت نصیحت آموز ہے ۔اس کتاب  کے حصہ دوم میں  میں نواب صاحب سےمتعلق دوسری کئی مفید اوراہم چیزیں بھی شامل اشاعت ہیں۔اللہ تعالیٰ نواب صاحب کی  تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے ،  ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے  او ر انہیں میں جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • عبد الصمد صارم

    تفسیر  کا معنی بیان کرنا یا کھولنا  یا کسی تحریر کےمطالب کوسامعین کےقریب ِفہم کردینا ہے ۔قرآن مجید ایک کامل ومکمل کتاب ہے  مگر اس کوسمجھنے کےلیے  مختلف علوم کی  ضرورت ہے ۔قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کرنا اور ان کامطلب بیان کرنا علم تفسیر ہے  اور علم  تفسیر وہ  علم ہے جس میں الفاظِ قرآن کی کیفیت ،نطق،اور الفاظ کے معانی اور ان کےافرادی ترکیبی حالات اور ان کے تتمات کا بیان ہوتاہے ۔ قرآن کلام الٰہی ہے  جو رسول اللہ  ﷺ پر نازل ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے  نبی کریم ﷺ میں ایسی قابلیت پیدا کردی تھی کہ آپ منشاء الٰہی کو سمجھ جاتے تھے   اور آپ کو وحی جلی اور وحی خفی کے  ذریعہ سےاحکام سے آگاہ بھی کردیاجاتا تھا ۔جو سورت یاآیت نازل ہوتی  آپ مسلمانوں کو اس کامطلب سمجھاتےدیتے تھے ۔اس لیے  قرٖٖآن مجید کےمفسر اول حضور ﷺ اور پہلی تفسیر حدیث ِرسول ﷺہے ۔آپ ﷺ نے قرآن کی  جو تفسیر بیان کی اس کا  کچھ حصہ آپ کی حیات ِمبارکہ میں ہی ضبط تحریر میں  آیا او رکچھ  حصہ صحابہ کرام کے  سینوں میں محفوظ رہا جو اس عہد کے بعد ضبطِ تحریر میں آیا ۔عہد خلافت راشد ہ میں  مسلمانوں کی زیادہ توجہ حفظ قرآن اور تدوین حدیث اور ملکی معاملات پر رہی  اس لیے تفسیر کے نام سے  سوائے  تفسیر ابی بن کعب  اور تفسیر ابن عباس کےاورکوئی تفسیر کی  کتاب مرتب نہیں ہوئی۔ اس کے  بعد  عصر حاضر تک قرآن کریم کی ہزاروں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں اور  ہر صدی میں  متعدد  کتب تفسیر کی کئی  لکھی گئیں ۔اس کے علاوہ قرآن کریم کےمتعدد پہلوؤں پر علمی و تحقیقی کام موجود ہے ۔ زیر نظر کتاب  ’’تاریخ التفسیر‘‘ عبد الصمد صارم الازہری کی  تصنیف ہے جس  میں انہوں نے  عہدِ رسالت سے  لے  کرچودویں صدی ہجری    تک   لکھی  جانےوالی کتب تفسیر اور مفسرین  کا مختصراً تذکرہ کرنےکےبعد   حدیث وتفسیر کی بعض اصطلاحات ، طبقات المفسرین اور ایک مفسر کےلیے جن  کاعلوم کا جاننا ضروری ہے ان کوبھی بالاختصار  تحریر کیا ہے ۔ یہ کتاب اہل علم او رطالبان  ِعلوم نبوت کے لیے  مفسرین  اور   کتب تفاسیر کے تعارف  کے حوالے  سے  قیمتی  تحفہ ہے  اللہ   تعالی  مؤلف اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • ام عبد منیب

    حدوداللہ  سےمراد وہ امور ہیں جن کی  اللہ تعالیٰ نے حلت وحرمت بیان کردی ہے  اوراس  بیان کے بعد اللہ کے  احکام اورممانعتوں سے تجاوز درست نہیں ۔   اللہ تعالیٰ کی  قائم کردہ حددو سے  تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے   اپنے  آپ پر ظلم کرنے والا قرار دیا ہے اور ان کے لیے   عذاب مہین کی  وعید  سنائی ہے ۔زیر نظر کتاب ’’حددو کی حکمت  نفاذ اور تقاضے‘‘معروف  مبلغہ ،مصلحہ،مصنفہ اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے حد کی لغوی واصطلاحی تعریف، قوانین شرعیہ میں حدود کامفہوم، حدود آرڈیننس اور اسلامی جہوریہ پاکستان، حدود آرڈیننس اور خواتین،اسلامی حدودکے نفاذ کی برکات   وغیرہ جیسے موضوعات کو  آسان فہم انداز میں  بیان کیا  ہے ۔۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام  تدریسی  وتصنیفی اور دعوتی  خدمات کو  قبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ  بنائے (آمین)محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن،لاہور میں  بمع فیملی  مقیم رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39752839

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں