کل کتب 98

دکھائیں
کتب
  • 76 #6748

    مصنف : مشتاق اے چوہدری

    مشاہدات : 746

    مسلمانوں کا بلدیاتی نظام

    (پیر 20 اگست 2018ء) ناشر : پاک عرب علمی فاؤنڈیشن لاہور
    #6748 Book صفحات: 162

    کسی بھی مضبوط جمہوری نظام میں بلدیاتی اداروں کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد 1959ء میں پہلی بار جنرل ایوب خان کے دور میں بلدیاتی جمہوریتوں کا نظام متعارف کرایا گیا۔ جسے بعدازاں 1962 ء کے دستور میں شامل کیا گیا۔ بنیادی جمہوریتوں کے اس نظام پر دس ہزار کی آباد ی پر مشتمل یونین کونسل سب سے نچلے درجے کی مقامی کونسل تھی۔ یونین کونسل کے ارکان میں دس منتخب اور 5 نامزد ہوتے تھے جنہیں بی ڈی ممبر کہا جاتا تھا۔ یونین کونسل کا سربراہ چیئرمین کہلاتا تھا۔ یونین کونسل کے دائرہ کار میں مقامی سطح پر امن و امان کے قیام اور زراعت کی ترقی میں کردار ادا کرنا اور مقامی آبادی کے مختلف مسائل حل کرنا تھے ۔ مقامی منصوبوں کیلئے یونین کونسل ٹیکس عائد کرنے کی مجاز ہوتی تھی ۔ صدر پاکستان کے انتخابات کیلئے یہی ارکان ووٹ ڈالتے تھے ۔ اسی طرح تحصیل کونسل اور ضلع کونسل کے ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں کام کرتےتھے۔ 1969ء میں ایوب خان کی حکومت کی رخصتی کے ساتھ یہ نظام بھی رخصت ہو گیا۔ دوسری بار لوکل گورنمنٹ سسٹم جنرل ضیاء الحق نے 1979ء میں نافذ کیا جس کے مطابق شہری اور دیہی دو طرح کے ا...

  • 77 #6804

    مصنف : ڈاکٹر حسن ابراہیم حسن

    مشاہدات : 1242

    مسلمانوں کا نظم مملکت

    (پیر 12 نومبر 2018ء) ناشر : دار الاشاعت، کراچی
    #6804 Book صفحات: 331

    مسلمانوں کا نظم مملکت  تاریخ کا ایک نہایت  اہم موضوع ہے اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستورِ حیات ہے اسلام  نےجہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کیے ہیں  جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتے ہیں اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ  ماوردی  کہتے  ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔ اسلامی فکر م...

  • 78 #4151

    مصنف : پروفیسر رشید احمد

    مشاہدات : 3114

    مسلمانوں کے سیاسی افکار

    (جمعہ 26 فروری 2016ء) ناشر : ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور
    #4151 Book صفحات: 354

    دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالی کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی ‏کے نظریہ کومغربی اصطلاح میں سیکولرازم بھی کہا جاتا ہے، جو کلیسا کے منحرف دین کے خلاف یورپ کی الحادی بغاو...

  • 79 #2019

    مصنف : فاروق احمد

    مشاہدات : 2817

    مصطفوی ﷺ مدنی عالمی ریاست ماضی ، حال اور مستقبل

    (پیر 05 مئی 2014ء) ناشر : مجلس التحقیق والنشر الاسلامی لاہور
    #2019 Book صفحات: 692

    سیرت سرور کائنات وہ سدا بہار،پاکیزہ ،ہر دلعزیز موضوع ہے جسے شاعر اسلام سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گااس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔انبیاء کرام اور نبی کریم ﷺ کی بعثت کا اولین مقصد لوگوں کو عقیدہ توحید کی دعوت اور ان کاتزکیہ کرنا او رلوگوں کو احکام الٰہی کی تعلیم دینا ہے اور پھر اسلامی حکومت قائم کرکے حدود اللہ کانفاذ او ردین الہی کو غالب کرنا ہے ۔ زیر نظر کتاب '' مصطفویﷺ مدنی عالمی ریاست'' میں فاضل مصنف جناب فارروق احمد صاحب نے سیرت نبویﷺ کے مختلف گوشوں میں سے نبی کریم ﷺ کے فریضہ اقامت دین اور اسلامی حکومت کے قیام اور اس کو وسعت دنیے کے لیے نبیﷺ او رآپ کےجانثار صحابہ کرام ﷢ کی جدوجہد او رکوششوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے آخر ی باب میں کیا دور حاضر میں اسلامی ریاست کا قیام ممکن ہے کے موضوع پر بحث کی ہے فاضل مصنف کا اسلوب سادہ،سلیس،عام فہم ،دل نشیں اور دلوں کوگر...

  • 80 #1814

    مصنف : ڈاکٹر مستفیض احمد علوی

    مشاہدات : 6269

    مغربی جمہوریت حقیقت اور سراب

    (ہفتہ 14 ستمبر 2013ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور
    #1814 Book صفحات: 204

    مذہب سے اظہاربیزاری کرکےاپنی عقل کی بنیادپرجو سیاسی نظام انسان  نے وضع کیاہےاس دورجدیدمیں اسے جمہوریت کہتےہیں ۔ جمہوریت کو اساس اہل یورپ نےفراہم کی ۔پھربعد میں مسلمانوں نے اسےاپنایا۔مسلمانوں جب اسے اپنایاتو اس میں بنیادی طور پر تین طرح کی آراتھیں ۔پہلی یہ کہ اسے مکمل رد کردیاجائےدوسری یہ تھی کہ اسےمکمل قبول کرلیاجائے جبکہ بعض کےہاں اسے قبول توکیا جائے لیکن ترمیم و اضافےکےساتھ ۔زیرنظرکتاب اولیں نقطہ کی حامل ہے جس میں مصنف نے عقلی ،فطری ،اخلاقی اور شرعی بنیادوں پر اس کاکھوکلا پن ثابت کرکےدکھادیاہے۔موصوف کاکہناہےکہ گزشتہ دوصدیوں سے دنیاجمہوریت کاتجربہ کررہی ہے ۔جس میں اسے مسلسل ناکامی کا سامناکرناپڑرہاہے۔اور آئندہ بھی اس کی کامیابی کوئی امکانات نظر نہیں آرہےسو بہتر یہی ہےکہ اسلام کا دیاہوانظام خلافت جوکہ ایک فطر ی نظام ہےمسلمانوں کو چاہیےکہ اسے اپنائیں۔کیونکہ اس میں ہی ان کی کامیابی کاراز ہے۔اس کےعلاوہ یہ ہےکہ دنیاکی دیگر اقوام کو اگرظاہر ی طورپر کچھ کامیابی مل بھی جاتی ہےاس سے یہ دوکھانہیں کھاناچاہیےکہ مسلمانوں کو بھی اس سے کامیابی ممکن ہوکیونکہ اس امت کی اساس ہی دیگرہے۔(ع۔ح)

  • 81 #4336

    مصنف : محمد خلیل الرحمن قادری

    مشاہدات : 2300

    ممتاز قادری کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی شرعی حیثیت

    (پیر 21 مارچ 2016ء) ناشر : نا معلوم
    #4336 Book صفحات: 27

    نبی  کریمﷺکی عزت، عفت، عظمت اور حرمت اہل ایمان کاجزوِلاینفک ہے اور حب ِرسولﷺایمانیات میں سے ہے اور آپ کی شانِ مبارک پر حملہ اسلام پر حملہ ہے۔عصر حاضر میں کفار ومشرکین کی جانب سے نبوت ورسالت پر جو رکیک اور ناروا حملے کئےجارہے ہیں، دراصل یہ ان کی شکست خوردگی اور تباہی و بربادی کے ایام ہیں۔گستاخ رسول کی سزا ئے موت ایک ایسا بین  امر ہے کہ جس کے ثبوت کے لئے قرآن و حدیث میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دور صحابہ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنیوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی ہے۔ خود نبی رحمت ﷺ نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو (خصوصا فتح مکہ کے موقع پر)معاف فرمادینے کیساتھ ساتھ ان چند بدبختوں کے بارے میں جو نظم و نثر میں آپ ﷺ کی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے، فرمایا تھا کہ:اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو انہیں واصل جہنم کیا جائے۔اور گستاخ رسول کو قتل کرنے والے کو شرعا کوئی سزا نہی...

  • نبی کریم ﷺ کے فیصلے

    (جمعہ 18 نومبر 2016ء) ناشر : اعتقاد پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی
    #4931 Book صفحات: 224

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں۔ تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔ اور اسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کے درمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی، مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ آپ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں ک...

  • 83 #2122

    مصنف : مفتی ضیاالرحمن فاروقی

    مشاہدات : 2929

    نظام جاسوسی ایک جائزہ اور اس کا شرعی حکم

    (جمعرات 05 جون 2014ء) ناشر : مکتبہ عمر فاروق، کراچی
    #2122 Book صفحات: 162

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے کی وجہ سے زندگی کے ہر شعبہ میں اصول فراہم کرتا ہے ، جاسوسی کے موضوع پر بھی اسلام نے راہنمائی فرمائی ہے۔ عام طور پر ہر چیز کے جواز عدمِ جواز کے حوالے سے دو جہت ،دو پہلو ہوتے ہیں چنانچہ جاسوسی کے بھی دو پہلو ہیں ایک جائز او ردوسرا ناجائز۔جائز پہلو یہ ہے کہ اسلامی ملک کونقصان دینے اور اس کو کمزور کرنے والے شرپسند عناصر کا کھوج لگانا اور ان کے منصوبوں کوناکارہ کرنا او ران کے غلط عزائم سے حکام کو اطلاع دینا یہ جائز ہے اور ناجائز پہلو یہ کہ مسلمانوں کی نجی زندگی میں کھوج لگانا اور ان کے بھید معلوم کرنا اس پہلو کوشریعت مطہرہ نے گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے ۔زیر نظر ''کتاب نظام جاسوسی ایک جائزہ اور اس کا شرعی حکم '' جاسوسی کے موضوع پر ایک اچھی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس میں سب سے پہلے جاسوس کی لغوی واصطلاحی تحقیق اور جاسوسی کی تاریخ ،جاسوسی اصطلاحات اور پھر دورِ حاضر کی بین الاقوامی انٹیلی جنس ایجنسیوں کامختصراً تذکرہ کرنے کے بعد آخر میں جاسوسی کےحوالے سے شرعی نقطہ نظر کی وضاحت کی ہے اللہ تعالی مؤلف کی اس کاوش کو شرف قبولی...

  • 84 #6948

    مصنف : علامہ عبد الحئی کتافی

    مشاہدات : 1897

    نظام حکومت نبویہ اردو ترجمہ التراتيب الإدارية

    (جمعرات 02 مئی 2019ء) ناشر : فرید بک سٹال لاہور
    #6948 Book صفحات: 679

    جس طرح اسلام عقائد وایمانیات اورعبادات  یعنی  اللہ تعالیٰ  اوراس کے بندوں کے درمیان تعلقات  کا نظام پیش کرتاہے اسی طرح دنیاوی معاملات یعنی بندوں کے باہمی تعلقات کا نظام بھی عطا کرتا ہے ۔انسانی معاملات وتعلقات اگرچہ باہم مربوط  متحد ہیں تاہم تفہیم وتسہیل کے لیے  ان کو سیاسی،سماجی ،اقتصادی اورتہذیبی نظاموں  کے الگ الگ خانوں میں تقسیم  کیا  جاتا ہے ۔ان میں سے  بشمول نظامِ حکومت  اور  ہر ایک نظام کے لیے اسلام نے تمام ضروری اور محکم اُصول بیان کردیئے  ہیں۔اُسوۂ نبوی نے ان کی عملی فروعات  بھی تشکیل دے دی  ہیں او ر صحابہ کرام ﷢ اور خلفاء عظام اور ان  کے بعد  اہل  علم نے  ان  پرعمل کر کے بھی دکھایا ہے ۔عہد نبوی کا نظام حکمرانی یا اسلامی  نظام ِحکومت کے  متعلق متعدد کتب موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ نظامِ حکومت نبویہ ‘‘ علامہ عبد الحی الکتانی کی  عہد نبوی  کے نظام ِحکمرانی  کے متعلق م...

  • 85 #3632

    مصنف : قاضی عبد الکریم

    مشاہدات : 1802

    نفاذ شریعت اور پاکستان

    (جمعہ 09 اکتوبر 2015ء) ناشر : شعبہ نشر و اشاعت نجم المدارس ڈیرہ اسماعیل خان
    #3632 Book صفحات: 195

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔نظریہ پاکستان کے بارے میں واضح رہنا چاہئے کہ قرار داد مقاصد 1949ء اور 1973ء کے متفقہ آئین میں واضح طورپر یہ قرار دیا جاچکا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کتاب وسنّت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس دستور کو عوام پاکستان کے منتخب نمائندے منظور کرچکے ہیں، عدالتیں اس کی بناپر فیصلہ کرتی ہیں اور یہ جمہوری اساسات پر ایک مسلمہ بن چکا ہے کہ پاکستان میں اسلام نظام کو قائم کیا جائے گا۔ایک اسلامی ریاست کا قیام ہندوستان کے مسلمانوں کا صدیوں پرانا خواب تھا۔جس کے شواہد مغلیہ خاندان کے زوال کے بعد ہماری پوری تاریخ میں پھیلے ہوئے ہیں۔اسی نفسیات اورمسلمانوں کے دیرینہ خواب کو سمجھتے ہوئے قائداعظم نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تو اسی روزمعرضِ وجود میں آگیا جس روز ہندوستان کی سرزمین پرپہلے مسلمان نے قدم رکھا۔ پھر کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، میں نے فقط یہ کیاکہ جو بات آپ کے دلوں اور ذہنوں میں تھی، اسے طشت ا...

  • 86 #3633

    مصنف : حافظ محمد سعد اللہ

    مشاہدات : 2115

    نفاذ شریعت میں تدریج

    (جمعہ 09 اکتوبر 2015ء) ناشر : مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور
    #3633 Book صفحات: 70

    کسی بھی نظام کو نافذ کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔انقلابی یا ارتقائی۔اگر کسی نظام کو انقلابی طریقوں سے نافذ کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے اثرات کا ظہور فورا قبول کر لیا جاتا ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے نے اس نظام کو پوری طرح قبول کر لیا ہے۔حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ہے ، کیونکہ ہر وہ نظام جو معاشرے پر زبر دستی ٹھونسا جائے ، اس کے مخالفانہ جذبات وقتی طور پر دبے رہتے ہیں  اور جوں ہی کوئی موقع ملتا ہے وہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نمودار ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ارتقائی طریقہ ذرا سست رفتار ہوتا ہے ، اس کے اثرات کا ظہور فوری طور پر نہیں ہوتا ہے۔لیکن اس طریقے میں نظام کی اقدار معاشرے کے باطن میں رس رس کر پیوست ہو جاتی ہیں، اور انسانی ضمیر کی تہہ میں بیٹھ جاتی ہیں پھر انہیں نکالنا کسی طرح بھی ممکن نہیں رہتا ہے۔نظام اسلام کا طریقہ ابتدائے اسلام میں ارتقائی ہی رہا اور یہ بہت مفید اور موثر ثابت ہوا۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ شدید خواہش رکھتے تھے کہ تمام لوگ اسلام قبول کر لیں ، لیکن آپ ﷺ نے کسی پر جبر نہیں کیا اورقرآن مجید نے تو صریح ال...

  • 87 #4354

    مصنف : ملی مجلس شرعی اقبال ٹاؤن لاہور

    مشاہدات : 1693

    نفاذ شریعت کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام کے متفقہ پندرہ نکات

    (اتوار 27 مارچ 2016ء) ناشر : ملی مجلس شرعی اقبال ٹاؤن لاہور
    #4354 Book صفحات: 33

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔نظریہ پاکستان کے بارے میں واضح رہنا چاہئے کہ قرار داد مقاصد 1949ء اور 1973ء کے متفقہ آئین میں واضح طورپر یہ قرار دیا جاچکا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کتاب وسنّت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس دستور کو عوام پاکستان کے منتخب نمائندے منظور کرچکے ہیں، عدالتیں اس کی بناپر فیصلہ کرتی ہیں اور یہ جمہوری اساسات پر ایک مسلمہ بن چکا ہے کہ پاکستان میں اسلام نظام کو قائم کیا جائے گا۔ایک اسلامی ریاست کا قیام ہندوستان کے مسلمانوں کا صدیوں پرانا خواب تھا۔جس کے شواہد مغلیہ خاندان کے زوال کے بعد ہماری پوری تاریخ میں پھیلے ہوئے ہیں۔اسی نفسیات اورمسلمانوں کے دیرینہ خواب کو سمجھتے ہوئے قائداعظم نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تو اسی روزمعرضِ وجود میں آگیا جس روز ہندوستان کی سرزمین پرپہلے مسلمان نے قدم رکھا۔ پھر کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، میں نے فقط یہ کیاکہ جو بات آپ کے دلوں اور ذہنوں میں تھی، اسے طشت ا...

  • 88 #1375

    مصنف : حافظ عبد الرحمٰن مدنی

    مشاہدات : 14598

    پارلیمنٹ اور تعبیر شریعت

    (اتوار 01 جولائی 2012ء) ناشر : مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور
    #1375 Book صفحات: 76

    ادارہ تحقیقات اسلامی نے اسلام آباد انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ایک سہ روزہ پروگرام کاانعقاد کیا۔ جس کا موضوع ’اجتماعی اجتہاد، تصور، ارتقاء اور عملی صورتیں‘ تجویز ہوا۔ اس سیمینار میں حافظ حافظ عبدالرحمٰن مدنی حفظہ اللہ نے ’پارلیمنٹ اور تعبیر شریعت‘ کے نام سے مقالہ پیش کیا۔ یہی مقالہ اس وقت کتابی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔ جس میں حافظ صاحب نے نفاذ شریعت سے متعلق امت کے چار مشہور نظریات پر تبصرہ کیا ہے۔ سب پہلے علامہ اقبال کے نظریہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس حوالہ سے دوسرے نظریہ کے طور پر انہوں نے انقلاب ایران اور طالبانی طرز فکر کو لیا ہے۔ تیسرا نظریہ پاکستان کے آزاد خیال اہل علم اور دینی سیاسی جماعتوں کا ہے، اس پر بھی حافظ صاحب نے سیر حاصل اور مدلل بحث پیش کی ہے۔ چوتھا اور آخری نظریہ وہ ہے جو عالم اسلام کے بعض ممالک میں شریعت کی عمل دار ی کی حد تک عرصہ سے رائج ہے۔ تعبیر شریعت کے حوالے سے یہ کتابچہ ایک علمی دستاویز ہے۔ (ع۔م)
     

  • 89 #207

    مصنف : منیر احمد

    مشاہدات : 15270

    پاکستان میں انٹیلی جینس ایجنسیوں کا سیاسی کردار

    (جمعہ 01 جنوری 2010ء) ناشر : گورا پبلشرز،لاہور
    #207 Book صفحات: 394

    زیر نظر کتاب ''پاکستان میں انٹیلی جنس ایجنسوں کا سیاسی کردار''اپنی نوعیت کی پہلی اور اہم کتاب ہے جس میں پاکستان کے معروف صحافی منیر احمد نے خفیہ سروس کے ادارے کی خامیوں اور خوبیوں کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے ایسے حکمرانوں کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے خفیہ اداروں کا غلط استعمال کیا- کتاب میں ایسے خفیہ ہاتھوں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے جن کے ہاتھوں میں ہمارے سیاستدان کٹھ پتلیاں بنے ہوئے ہیں-اس کے علاوہ آپ کو اس کتاب میں بھٹو نے خفیہ اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کیا اور قائد اعظم سے آج تک خفیہ ادارے کس حد تک ملک کے سیاہ وسفید کے مالک رہے، کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے- کتاب کے مطالعے سے آپ کو قدم قدم پر ایسے حیرت انگیز اور چشم کشا انکشافات ملیں گے جن سے آپ کبھی بھی واقف نہ تھے-
     

  • 90 #6584

    مصنف : سلمان عابد

    مشاہدات : 1279

    پاکستان میں جمہوریت کے تضادات

    (ہفتہ 01 ستمبر 2018ء) ناشر : جمہوری پبلیکیشنز لاہور
    #6584 Book صفحات: 297

    جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے یعنی عوام کی اکثریت کی رائے سے حکومت کا بننا اور اس کا بگڑنا۔ اس نظام میں انفرادی آزادی اور شخصی مساوات کے تصورات کو جو اہمیت دی گئی ہے اس کی وجہ سے عہد حاضر میں اس کی طرف لوگوں کا میلان زیادہ ہے۔اگرچہ بہت سے مسلم دانشور اس طرزِ حکومت کے حامی ہیں۔لیکن ہر دور میں اصحابِ علم کی ایک بڑی تعداد نے جن میں مسلمان بھی شامل ہیں، جمہوریت کو ناپسند کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس میں عوام کی حاکمیت اور مطلق آزادی کا تصور غیر عقلی اور باعثِ فساد ہے۔پاکستان میں جمہوری نظام کے قیام کی خواہش کا فی مستحکم نظر آتی ہے لیکن سیاسی اور معاشرتی عمل میں اتنے تضادات موجود ہیں کہ جمہوریت میں ابھی تک تسلسل پیدا نہ ہوسکا اور نہ پائیداری۔جمہوریت کی خواہش اور کوشش کے باوجود جمہوریت کا پر وان نہ چڑھنا جمہوری عمل کے نازک اور مشکل ہونے کا ثبوت ہے ۔
    زیر نظر کتاب ’’پاکستان میں جمہوریت کے تضادات‘‘ پاکستان کے معروف سیاسی تجزیہ نگار جناب سلمان عابد صاحب کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے عام فہم اور مؤثر اندازمیں پاکستان میں جمہوریت کو درپیش مشکلات...

  • 91 #6722

    مصنف : ڈاکٹر سید تنویر بخاری

    مشاہدات : 1642

    پاکستان میں سیاسی جماعتیں اور پریشر گروپ

    (جمعہ 03 اگست 2018ء) ناشر : ایورنیو بک پیلس لاہور
    #6722 Book صفحات: 520

    سیاسی جماعت  اس تنظیم کو کہتے ہیں جو بعض اصولوں کےتحت منظّم کی جائے اور جس کا مطمح نظر آئینی اور دستوری ذریعوں سے حکومت  حاصل  کر کے  ان اصولوں کو بروئے کار لانا ہو جن کی غرض سے اس جماعت کو منظّم کیا گیا ہو۔ پاکستان کی سب سے پہلی سیاسی جماعت مسلم لیگ تھی جس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔اس کے بعد بے شمار جماعتیں وجود میں آتی گئیں۔پاکستان میں   اس وقت بیسیوں سیاسی جماعتیں موجود ہیں ۔ پاکستان میں سب ہی سیاسی جماعتیں جمہوریت مضبوط کرنے کی دعویدار تو ہیں، تاہم ایک آدھ سیاسی جماعت کے علاوہ کوئی ایسی پارٹی نہیں  جو اندرونی طور پر جمہوریت پر عمل پیرا ہو۔یہاں ہر سیاسی جماعت کو ایک دوسرے سے مِل کر کام کرنا پڑتا ہے ۔ اس وقت کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جو اکیلے ہی حکومت سازی کر سکے بلکہ صرف مخلوط حکومت ہی ممکن ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکستان میں  سیاسی جماعتیں اور پریشر...

  • 92 #4966

    مصنف : ابو ذوق قدرت اللہ فوق

    مشاہدات : 2158

    پاکستان میں نفاذ شریعت، اہمیت، ضرورت اور طریقہ کار

    (پیر 05 دسمبر 2016ء) ناشر : مکتبہ ناصریہ، فیصل آباد
    #4966 Book صفحات: 200

    ارشاد ربانی کےمطابق دین اسلام ایک ایسا دین ہے کہ جو شخص بھی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتا ہے تو اس سے ہر گزقبول نہیں کیا جائے گا۔ او روہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔اور نبی کریمﷺ کا فرمان ہے ’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں جو شخص بھی میری بابت سن لے کہ وہ یہودی ہویا عیسائی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘ اس اعتبار سے امت مسلمہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلا م کا پیغام ہر جگہ پہنچائیں اور کراہتی سسکتی انسانیت کو امن وسکون اور نجات سے ہمکنار کریں جیسے پیغمبر اسلام سید نا حضرت محمدﷺً اوران کے اولین پیروکاروں نے دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کر کے عدل وانصاف کا نظام قائم کیا، کفر وشرک کی تاریکیوں کو مٹاکر توحید و سنت کی شمعیں روشن کیں اور اخلاقی زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر انسانیت کوسیرت و کردار کی بلندیوں سے آشنا کیا۔ ٖآج انسانیت پھر سے ظلم وستم کا شکار ہے وہ دوبارہ کفر وشرک کی تاریکیوں میں گھری ہوئی اور اخلاقی پستی میں پھنسی ہوئی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گی...

  • 93 #126

    مصنف : حافظ عبد السلام بن محمد

    مشاہدات : 15901

    چوری کے متعلق قانون الٰہی اور قانون حنفی

    (منگل 24 مارچ 2009ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور
    #126 Book صفحات: 71

    چوری ایک ایسا قبیح فعل ہے جو دنیا کے ہر قانون میں جرم سمجھا جاتا ہے۔ جس کے اخلاقاً اور شرعاً جرم ہونے پر کوئی دو رائے نہیں۔ اس لئے اس گناہ کبیرہ کے مرتکب کی عبرت ناک سزا بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ تو چوری ثابت ہونے پر اپنی بیٹی فاطمہ ؓ کو بھی سزا سے مستثنٰی کرنے پر تیار نہیں لیکن دوسری طرف فقہائے احناف نے مختلف حیلوں بہانوں سے اس گھناؤنے جرم کے مرتکب کو حد سے بچانے کی سر توڑ کوشش کی ہے۔ اور قانون الٰہی میں بھی تغیر و تبدل سے گریز نہیں کیا مثلاً شیشہ، کتاب اور کفن چور پر حد نہیں ہے۔ مسجد سے چوری پر حد نہیں ہے ۔ وغیرہ۔ جبکہ چوری اس نوعیت کا جرم ہے کہ عدالت میں مقدمہ پیش ہونے کے بعد متاثرہ شخص کے معاف کر دینے سے بھی حد ساقط نہیں ہوتی۔ لیکن صد افسوس ہے کہ فقہ حنفی چوروں کو بھی عدالت اسلامی کے کٹہرے سے نکال کر تقلیدی دامن عافیت میں پناہ دیتی نظر آتی ہے۔ زیر نظر کتاب میں انہی حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو جہاں قابلِ غور ہے وہاں دعوت فکر بھی دیتی ہے۔
     

  • 94 #126

    مصنف : حافظ عبد السلام بن محمد

    مشاہدات : 15901

    چوری کے متعلق قانون الٰہی اور قانون حنفی

    (منگل 24 مارچ 2009ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور
    #126 Book صفحات: 71

    چوری ایک ایسا قبیح فعل ہے جو دنیا کے ہر قانون میں جرم سمجھا جاتا ہے۔ جس کے اخلاقاً اور شرعاً جرم ہونے پر کوئی دو رائے نہیں۔ اس لئے اس گناہ کبیرہ کے مرتکب کی عبرت ناک سزا بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ تو چوری ثابت ہونے پر اپنی بیٹی فاطمہ ؓ کو بھی سزا سے مستثنٰی کرنے پر تیار نہیں لیکن دوسری طرف فقہائے احناف نے مختلف حیلوں بہانوں سے اس گھناؤنے جرم کے مرتکب کو حد سے بچانے کی سر توڑ کوشش کی ہے۔ اور قانون الٰہی میں بھی تغیر و تبدل سے گریز نہیں کیا مثلاً شیشہ، کتاب اور کفن چور پر حد نہیں ہے۔ مسجد سے چوری پر حد نہیں ہے ۔ وغیرہ۔ جبکہ چوری اس نوعیت کا جرم ہے کہ عدالت میں مقدمہ پیش ہونے کے بعد متاثرہ شخص کے معاف کر دینے سے بھی حد ساقط نہیں ہوتی۔ لیکن صد افسوس ہے کہ فقہ حنفی چوروں کو بھی عدالت اسلامی کے کٹہرے سے نکال کر تقلیدی دامن عافیت میں پناہ دیتی نظر آتی ہے۔ زیر نظر کتاب میں انہی حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو جہاں قابلِ غور ہے وہاں دعوت فکر بھی دیتی ہے۔
     

  • 95 #6448

    مصنف : عارف میاں

    مشاہدات : 1057

    کیا سیاست عقیدہ اکٹھے رہ سکتے ہیں ؟

    (جمعرات 18 اکتوبر 2018ء) ناشر : نیڈ کونسل پبلیکیشنز
    #6448 Book صفحات: 170

    سیاست اور عقیدہ  یا سیاست اور اسلام   دونوں الگ الگ نہیں ہیں بلکہ سیاست بھی اسلام  اور عقیدہ کا حصہ ہے عقیدہ دراصل لفظ "عقد" سے ماخوذ ہے ، جس کے معنیٰ ہیں کسی چیز کو باندھنا یعنی عقیدہ سے مراد کسی چیز کو حق اور سچ جان کر دل میں مضبوط اور راسخ کر لینا ہےعقیدہ انسان کے کردار و اعمال کی تعمیر میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ انسان کے تمام اخلاق و اعمال کی بنیاد ارادے پر ہے، اور ارادے کا محرک دل ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ دل انہی چیزوں کا ارادہ کرتا ہے جو دل میں راسخ اور جمی ہوئی ہوں، اس لئے انسان کے اعمال و اخلاق کی درستگی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے دل میں صحیح عقائد ہوں لہذا عقیدے کی اصلاح ضروری ہے۔سیاست  Politics’’ساس‘&lsqu...

  • 96 #1770

    مصنف : حامد محمود

    مشاہدات : 6134

    کیا ووٹ مقدس امانت ہے؟

    (بدھ 31 جولائی 2013ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان
    #1770 Book صفحات: 84

    مغربی تہذیب اور افکار و نظریات کی مشرق میں آمد کے بعد مسلمانوں کے اندر بالخصوص  بنیادی طور پر تین طرح کے طبقات آئے ہیں ۔ پہلا وہ جو مغربی فکر و تہذیب کی مکمل تردید کرتا ہے اور دوسرا وہ جو مکمل تائید کرتا ہے اور تیسرا اور  آخری گروہ ان لوگوں کا ہے جو پیوند کاری  کرتا ہے ۔ مغرب کے ان گوناگو افکار و نظریات اور تہذیب و تمدن کی دنیا میں ایک جمہوریت بھی ہے چناچہ اس کے بارے میں فطری طور پر مذکورہ بالا تین طرح کی ہی آراء سامنے آئی ہیں ۔ بعض لوگ جمہوریت کی بالکلیہ تردید ، بعض تائید اور بعض بین بین رائے اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس سلسلے میں زیر نظر کتاب اول الذکر گروہ کی نمائندگی کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔ فاضل مصنف نے زیر بحث کتاب میں جہاں جمہوری نظام کے مفاسد کا ذکر کیا ہے وہاں ساتھ ساتھ بالخصوص ان لوگوں کی آراء اور دلائل کو چھانٹے کی کوشش کی ہے جو مسلمانوں میں سے جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اگر غیرجانبدارنہ طور پر دیکھا جائے تو کتاب اپنے اندر کئی ایک حقائق کو بھی سموئے ہوئے ۔ اللہ ہماری صحیح رہنمائی فرمائے ۔ آمین۔(ع۔ح)
     

  • 97 #1012

    مصنف : ملا عبد السلام ضعیف

    مشاہدات : 19800

    گوانتاناموبے کی کہانی ملا ضعیف کی زبانی

    (پیر 21 نومبر 2011ء) ناشر : کتاب دوست پبلیکشنز لاہور
    #1012 Book صفحات: 98

    ملا عبدالسلام ضعیف طالبان دور حکومت میں پاکستان میں افغان سفیر تھے ،لیکن  نائن الیون کے بعد طالبان کے حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی پاکستانی حکمرانوں نے بغیرتی کا لبادہ اوڑھا،شرم وحیا کی چادر تار تار کی اور سفلت اور کمینگی کے اس درجہ کو جا پہنچے کہ ڈالروں کی خاطر اپنے ہی ہم دین وہم وطن افراد کی بیوپاری شروع کر دی ۔اور نیٹو اور امریکہ کے مطالبات پر عرب وافغان مجاہدین اور پاکستانی درد دل رکھنے والے افراد کو قندھار جیل اور گوانتاناموبے جیسے بدنام ترین عقوبت خانوں میں جھونکنا شروع کیا۔حتی کہ سفیروں کا تحفظ جو ازلی اور بین الاقوامی قانون ہے اسے بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے ملا عبدالسلام ضعیف افغان سفیر کو امریکہ کے حوالے کر دیا اور انہیں شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ملا موصوف نے زیر نظر کتاب میں امریکیوں کے قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک ،مغرب کی اسلام دشمنی اور پوری دنیا پر عیسائیت کے غلبہ کی فکر کو کھول کر بیان کیا۔اور مغرب کا اصل کردار ،اسلام کی بیخ کنی اور اہل اسلام کی تذلیل پر سیر حاصل گفتگو کی ہے ۔زیر تبصرہ کتاب میں امریکہ ویورپ کا مکروہ چہرہ اور مذموم عزائم کی قلعی کھول دی ہے...

  • 98 #6779

    مصنف : ڈاکٹر رفیق زکریا

    مشاہدات : 1309

    ہندستانی سیاست میں مسلمانوں کا عروج

    (پیر 15 اکتوبر 2018ء) ناشر : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی
    #6779 Book صفحات: 578

    ہندوستان دنیا کا قدیم ترین ملک ہے ۔ اس ملک  کوو ہی قدامت حاصل ہےجو دنیا کے کسی پرانے سے پرانے ملک  کو حاصل ہوسکتی ہے۔ ہندوستان کےبارے میں مؤرخوں کی رائے  ہے کہ  اس  ملک کی تہذیب او ر تمدن یونان سے بھی قدیم ہے۔ہندوستان ابتداء ہی ایک نہایت زرخیز ملک ہے ۔ لیکن اس کی زرخیزی اس ملک کے باشندوں کےلیے  ہمیشہ مصیبت بنی ر ہے ۔ چنانچہ ہندوستان کے گرد وپیش  جب بھی کسی قوم کو ذرا بھی اقتدار حاصل ہوا   وہ ہندوستان پر چڑھ دوڑی تاکہ ہندوستان کی زرخیزی سے مالا مال ہو سکے ۔ ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے،...

< 1 2 3 4 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2139
  • اس ہفتے کے قارئین 11417
  • اس ماہ کے قارئین 20155
  • کل قارئین51549190

موضوعاتی فہرست