دکھائیں کتب
  • 1 الشیعہ واہل بیت (اتوار 05 دسمبر 2010ء)

    مشاہدات:22745
    صحابہ کرام ، اہل بیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایک مؤمن کے دل کا جزو لا ینفک ہے۔ لیکن مسائل کی شروعات تب ہوئی جب ایک طبقے کی طرف سے  نہ صرف صحابہ کرام پر دشنام طرازی کا بازار گرم کیا گیا بلکہ اہل بیت کی محبت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے ایسا طرز عمل اختیار کیا جو خود اہل بیت کے نقطہ نظر ہی کے خلاف تھا۔ زیر مطالعہ کتاب میں علامہ احسان الہی ظہیر صاحب نے شیعہ حضرات کےدلفریب نعرے اہل بیت سے محبت کا خوب خوب پول کھولا ہے۔ علامہ صاحب نے شیعہ کے نامور علماء کی کتابوں کے حوالے دیتے ہوئے خلفائے راشدین کے بارے میں ان کے مؤقف پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیعیت کا اندروں کتنا تاریک ہے ۔ علاوہ ازیں علامہ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اہل بیت کی طرف منسوب شیعہ حضرات کے جھوٹوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے متعہ کے بارے میں قیمتی آراء کا اظہار کیا گیا ہے۔ کتاب کے آخر میں معتبر حوالوں کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے کہ شیعہ نہ صرف تمام اہل بیت اور صحابہ کرام کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں بلکہ اس کا تختہ مشق خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس بھی ہے۔

  • 2 امت کا بحران تکفیر، تدبیر اور عمل (پیر 22 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:500

    نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی بعثت مبارکہ اور روئے ارض پر ’امت وسط‘ کی حیثیت سے امت مسلمہ محمدیہ کو برپا ہوئے آج کم و بیش پندرہ سو سال گزر چکے ہیں۔ امت محمدیہ آج شدید بحران کا شکار ہے۔حیرت کی بات ہے کہ وہی مسلم ملت جس نے دنیا کو ترقی اور عروج کا سبق پڑھایا آج انحطاط کا شکار ہے۔ جس قوم نے علم و حکمت کے دریا بہا دیئے آج ایک ایک قطرے کے لئے دوسرے اقوام کی محتاج ہے۔ وہی قوم جو دنیا کی عظیم طاقت بن کر ابھری تھی آج ظالم اور سفاک طاقتوں کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ جب ہم دنیا کے موجودہ معاشی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تہذیبی منظرنامہ پر نظر ڈالتے اور پھر پیچھے مڑ کر اپنے ماضی کی تاریخ میں جھانکتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُسلوبِ حیات میں غیر معمولی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ ایسے تغیرات مسلسل رونما ہورہے ہیں جن کا قبل ازیں تصور بھی نہیں کیاجاسکتا تھا۔ ابلاغِ عامہ اور ترسیل معلومات کے ایسے ایسے ذرائع اور وسائل ایجاد ہو رہے ہیں جن سے ہماری گذشتہ نسلوں کو سابقہ پیش نہیں آیا۔امت مسلمہ آج سے ایک سو سال قبل جس نو آبادیاتی نظام میں جکڑی،بے بسی اور بے چارگی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔عالم کفر کی اس منہ زور یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی حکمت ِ عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہم خود اسی تکنیکی مہارت سے آراستہ ہو کر اپنی تہذیب و ثقافت کے توانا پہلوؤں کو دنیا کے سامنے نہیں لاتے۔ یہ اتنا بڑا تاریخی س...

  • 3 تدریب المعلمین یعنی رہنمائے مدرسین (ہفتہ 28 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:4747
    اس  پر فتن دور میں مبارک باد کے لائق ہیں وہ والدین  جو  اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرتے  ہیں ۔اور سعادت مند ہیں وہ بچے جو علم دین سےآراستہ ہو رہے  ہیں،  اور  لائق تحسین ہیں وہ قابل فخر اساتذہ کرام  جو خدمت  قرآن  میں مصروف ہیں۔کسی بھی دینی ادارے  کی  خیر  وخوبی انتظام و انصرام کا انحصار اس بات پہ ہوتا ہے  کہ وہاں حصول علم کےلیے  آنے والے  طلباء اور تعلیم دینے  والے  اساتذہ کرام کا باہمی تعلق آپس میں محبت یگانگت اور پڑہائی کے مسلمہ اصول  وقواعد کے مطابق ہو۔یہ اصول وقواعد کیا ہوں طالب  علم حصول علم کے لیے  کن امور کو پیش نظر رکھیں  ۔اساتذہ کن اصول وقواعد کو اختیار کریں۔ پڑہانے کا طریقہ کار کیا ہو؟ مدرسے میں رہن سہن کا طریقہ کیا ہو؟زیر تبصرہ کتاب میں انہی مذکورہ امورکو مد نظررکھتے  ہوئے   استاد القراء  مصنف کتب کثیرہ  قاری محمد ادریس العاصم ﷾ نے   اپنے تدریسی تجربہ و مشاہدات  اور اپنے   قابل صد احترام  اساتذہ عظام کے  ارشادات اور ان کی  کتب  سےاخذ شدہ   تعلیم وتعلم کے رہنما اصول وقواعد کو جمع  کردیا ہے۔اورکتاب میں   صرف ان امور کو  زیر بحث لائے  ہیں جو  ایک  طالب علم اور  استادکے لیے  نہایت ضروری  ہیں۔ نیز طلباء اور اساتذہ کے لیے  قابل مطالعہ کتب کے نام  بھی ذکر کر دیے   ہیں  تاکہ طلباء اوراساتذہ میں  مطالعہ کا ذوق پیدا ہو۔  اپنے موضوع پریہ ایک   منفرد اور مفید کتاب ہے  جس   میں  مذکور  اصول وضوابط کو  اختیا ر کر کے  ایک طالب علم مثالی  طالب علم اور ایک استاد  اچھا کامیاب  استاد بن  سکتاہے  ۔اللہ   ان کے علم و عمل میں برکت  فرمائے...
  • 4 سائنس کیا ہے (ہفتہ 21 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:2837

    آج ہر شخص سائنس اور سائنٹیفک کے الفاظ سے تقریبا تقریبا واقف ہے۔سب جانتے ہیں کہ موجودہ دور سائنس کا دور ہے۔اس کے باوجود اس سوال کا جواب بہت کم لوگ دے سکیں گے کہ سائنس کیا ہے؟عام لوگ ٹیلی ویژن،ریڈیو،ٹیلی فون،ہوائی جہاز،ایٹم بم اور اس قسم کی دوسری ایجادات کو سائنس سمجھتے ہیں،حالانکہ یہ سائنس نہیں ہیں،بلکہ سائنس کا حاصل اور پھل ہیں۔سائنس درحقیقت لاطینی لفظ (Scientia)سے مشتق ہے ،جس کے معنی ہیں غیر جانبداری سے حقائق کا ان کی اصل شکل میں باقاعدہ مطالعہ کرنا۔علت ومعلول اور ان سے اخذ شدہ نتائج کو ایک دوسرے سے منطبق کرنے کی کوشش کرنا یعنی فلاں حالات کے تحت فلاں نتیجہ ظاہر ہوگا۔ پرانے زمانے میں سائنسی عمل کو شخصی ملکیت سمجھا جاتا تھا ۔ آج کل اس کے معنی خاصے بدل گئے ہیں ۔ آج ہر سائنسی کھوج ہر سائنسی عمل اور ہر سائنسی معلومات بنی نوع انسان کا حق بن چکی ہے، سائنس کی ہر کھوج، ہر نتیجہ ہر منزل، ہر تجربہ دنیا کے کیلئے ہے ۔ آج کی سائنس کسی ایک سرکار یا کسی ایک ادارے کی جاگیر نہیں ۔ یہ تو علم کا بہتا دریا ہے جو چاہے دو گھونٹ پی لے اور اگر آدمی علم اور عقل رکھتا ہو اور عمل کو زندگی کا اصول بنانے کا قائل ہو تو اس بہتے دریا سے لگاتار پیتا جائے اور اپنی سوجھ بوجھ اور کھوج سے علم کے ایسے چشمے تلاش کرتا جائے جو اس کے شوق کی پیاس بجھا سکیں اور دوسروں کو بھی پیاس بجھانے کی دعوت دے سکیں ۔ زیر تبصرہ کتاب" سائنس کیا ہے؟" محترم سید قاسم محمود صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے سائنس کیا ہے؟سائنس  کی تعریف،سائنس کا طریقہ کار،سائنس کی وسعت،سائنس کی اقسام ،کائنات کا آغاز،...

  • 5 کونڈوں کی کہانی (جمعرات 29 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:1950

    ماہِ رجب کی 22 تاریخ کو خصوصا خواتین امام جعفر صادق ﷫ کے نام پر مٹی کے  چھوٹے چھوٹے پیالے  (کونڈے) حلوہ وغیرہ سےبھر کر گھروں میں تقسیم کرتیں ہیں اوراس کےفیوض وبرکات پر عجیب وغریب داستانیں سناتیں ہیں جبکہ حقیقت میں شریعت میں  ماہِ رجب میں اس قسم کی بدعات کا کوئی تصور نہیں او رنہ ہی اس طرح کی ماہ رجب میں دیگر رسومات جوموجودہ دور میں ہیں۔ اسلام نے انکا  کوئی تصور پیش کیا ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’کونڈوں کی کہانی ‘‘محترم مولانا محمد عظیم حاصلپوری﷾ کی ایک اہم تحریری  کاوش  ہے جس میں  انہوں نے مختصر طور پر کونڈوں کی کہانی  او رماہِ رجب میں کئے جانے والے افعال کا جائزہ  لیتے ہوئے  ان کی شرعی حیثیت کوواضح کیا ہے۔موصوف  اس کتابچہ کے علاوہ  بھی کئی کتب کےمترجم   ومصنف ہیں اور  ماہنامہ  ’’ندائے امت کےچیف ایڈیٹربھی ہیں۔اللہ تعالیٰ موصوف کی تدریسی ،دعوتی،تحقیقی  وتصنیفی اور صحافتی  خدمات  کوقبول فرمائے اور اس کتابچہ ہذا کو  عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

  • اسلام امن وسلامتی اور باہمی اخوت ومحبت کا دین ہے۔انسانی جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ اسلامی شریعت کے اہم ترین مقاصد اور اولین فرائض میں سے ہے۔کسی انسان کی جان لینا، اس کا ناحق خون بہانا اور اسے اذیت دینا شرعا حرام ہے۔کسی مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانا ایک سنگین جرم ہے اور اس کی سزاجہنم ہے۔ عصر حاضر میں مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں کے افراد کے خلاف ہتھیار اٹھانے ، اغوا برائے تاوان، خود کش دھماکوں اور قتل وغارت گری نے ایک خطرناک فتنے کی صورت اختیار کر لی ہے۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سارے جرائم اسلام اور جہاد کے نام پر کئے جارہے ہیں۔یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے ۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک ایک اینٹ ہلی ہوئی سی ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اب تب امت کے شاندار عمارت کی کہنہ دیوار پاش پاش ہو جائےگی۔ مسلمانوں کو ہی کافر قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اسلام میں کسی کو کافر قرار دینے کے اصول وضوابط موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مسئلۂ تکفیر اہل سنت اور گمراہ فرقوں کے ما بین ایک جائزہ‘‘ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف الحقانی﷾ کی تالیف ہے، اس کا اردو ترجمہ مولانا عنایت اللہ سنابلی مدنی صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب میں تکفیر کے اصولوں و ضوابط اور موانع،تکفیر باب میں اہل سنت و جماعت کا موقف اور آخر میں اہل قبلہ کی تکفیر میں لوگوں کے...

  • 7 مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط (جمعرات 02 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1260

    اسلام امن وسلامتی اور باہمی اخوت ومحبت کا دین ہے۔انسانی جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ اسلامی شریعت کے اہم ترین مقاصد اور اولین فرائض میں سے ہے۔کسی انسان کی جان لینا، اس کا ناحق خون بہانا اور اسے اذیت دینا شرعا حرام ہے۔کسی مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانا ایک سنگین جرم ہے اور اس کی سزاجہنم ہے۔ عصر حاضر میں مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں کے افراد کے خلاف ہتھیار اٹھانے ، اغوا برائے تاوان، خود کش دھماکوں اور قتل وغارت گری نے ایک خطرناک فتنے کی صورت اختیار کر لی ہے۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سارے جرائم اسلام اور جہاد کے نام پر کئے جارہے ہیں۔یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے ۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک ایک اینٹ ہلی ہوئی سی  ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اب تب امت کے شاندار عمارت کی کہنہ دیوار پاش پاش ہو جائےگی۔ مسلمانوں کو ہی کافر قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اسلام میں کسی کو کافر قرار دینے کے اصول وضوابط موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول وضوابط"جماعۃ الدعوہ کے مرکزی رہنما محترم مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول وضوابط پر گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ا...

  • اسلام امن وسلامتی اور باہمی اخوت ومحبت کا دین ہے۔انسانی جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ اسلامی شریعت کے اہم ترین مقاصد اور اولین فرائض میں سے ہے۔کسی انسان کی جان لینا، اس کا ناحق خون بہانا اور اسے اذیت دینا شرعا حرام ہے۔کسی مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانا ایک سنگین جرم ہے اور اس کی سزاجہنم ہے۔ عصر حاضر میں مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں کے افراد کے خلاف ہتھیار اٹھانے ، اغوا برائے تاوان، خود کش دھماکوں اور قتل وغارت گری نے ایک خطرناک فتنے کی صورت اختیار کر لی ہے۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سارے جرائم اسلام اور جہاد کے نام پر کئے جارہے ہیں۔یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے ۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک ایک اینٹ ہلی ہوئی سی  ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اب تب امت کے شاندار عمارت کی کہنہ دیوار پاش پاش ہو جائےگی۔ مسلمانوں کو ہی کافر قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اسلام میں کسی کو کافر قرار دینے کے اصول وضوابط موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول وضوابط"جماعۃ الدعوہ کے مرکزی رہنما محترم مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول وضوابط پر گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ا...

  • 9 موج کوثر (اتوار 22 فروری 2015ء)

    مشاہدات:2563

    شیخ محمد اکرام (1908۔1971ء)چک جھمرہ (ضلع لائل پور ) میں پیدا ہوئے۔ گورنمٹ کالج لاہور اور آکسفورڈ میں تعلیم پائی ۔ 1933ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے اور سوات ، شولا پور، بڑوچ اور پونا میں اعلٰی انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ آپ پونا کے پہلے ہندوستانی کلکٹر اور دسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے۔ قیام پاکستان کے بعد اطلاعات اور نشریات کے ڈپٹی سیکرٹری مقرر ہوئے۔ پھر وزارت اطلاعات و نشریات کے جائنٹ سیکرٹری اور بعد میں کچھ مدت کے لیے سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1955ء سے 1957ء تک مشرقی پاکستان میں متعین رہے ، پہلے کمشنر ڈھاکہ اور پھر ممبر بورڈ آف ریونیو کی حیثیت سے ۔1958ء تک محکمہ اوقاف کے ناظم اعلیٰ پاکستان مقرر ہوئے۔دفتری کاموں کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ ہندی مسلمانوں کی ثقافتی اور مذہبی تاریخ لکھی جو تین جلدوں میں شائع ہوئی۔ آب کوثر ، رود کوثر ، موج کوثر ، غالب اور شبلی کے سوانح بھی مرتب کیے۔ برصغیر پاک و ہند کی فارسی شاعری کا ایک مجموعہ ارمغان پاک مرتب کیا۔ جو1950 ء میں شائع ہوا۔  علمی خدمات کی بنا پر حکومت ایران نے آپ کو نشان سپاس اور حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز کے اعزازات عطا کیے۔ پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹر آف لٹریچر کی اعزازی ڈگری ملی۔ زیر تبصرہ کتاب’’ موج کوثر‘‘شیخ محمد اکرام  کی تصنیف ہے ۔اور یہ سلسلۂ کوثر کی تیسری او رآخری کڑی ہے  جوسن 1800ء سے  لے کر قیام پاکستان تک کی اہم مذہبی ،فکری  اور قومی تحریکوں اور ان کے زعماء وقائدین کے حالات کو کوائف پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے مسلمانانِ برصغیر پاک وہند کی گزشتہ ڈیڑھ سوسال...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1041
  • اس ہفتے کے قارئین: 13121
  • اس ماہ کے قارئین: 80373
  • کل مشاہدات: 40967321

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں